مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت نے 10 فیصد کے بقدر عالمی 6جی پیٹنٹس اور اسٹینڈرڈس کا ہدف مقرر کیا ہے: مواصلات کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر چندر شیکھر پیماسانی


ڈاکٹر پیماسانی کی 10 سے 20 اہم درآمداتی نیٹ ورک ٹیکنالوجیز کے ہندوستانی متبادل تیار کرنے کی اپیل

پچھلی دہائی ڈیجیٹل انڈیا کی تھی؛ ہمارا مقصد آئندہ دہائی کو ایک 'ذہین بھارت' کی دہائی بنانا ہے: ڈاکٹر چندر شیکھر پیماسانی

مرکزی وزیرِ مملکت نے کوانٹم کمیونیکیشنز، اے آئی-نیٹیو نیٹ ورکس اور ٹیلی کام سکیورٹی کو آگے بڑھانے پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 OCT 2026 8:01PM by PIB Delhi

مواصلات اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر مملکت، ڈاکٹر چندر شیکھر پیماسانی نے آج ٹیلی کام انڈسٹری کے اسٹیک ہولڈرز سے خطاب کرتے ہوئے، گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ٹیلی کام کے شعبے میں بھارت کی کامیابیوں پر روشنی ڈالی اور آنے والے برسوں کے لیے ترجیحات کا خاکہ پیش کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261008200218_fae3f2.jpg

آئی ایم سی2026  کے موقع پر منعقدہ سیشن "شیپنگ دی انٹیلیجنٹ انفراسٹرکچر فار 6جی: اے ٹیکنالوجی لیڈرشپ ڈائیلاگ، سی ٹی او راؤنڈ ٹیبل" سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان نے ایک ارب سے زیادہ لوگوں کو آپس میں جوڑا ہے، تقریباً 5.6  لاکھ بیس ٹرانسیور اسٹیشنز (بی ٹی ایس) کے ذریعے ہر ضلع کو 5جی سے منسلک کیا ہے، دیہاتوں کو 4جی سے جوڑا ہے اور اپنا خود کی دیسی 4جی تکنالوجی تیار کی ہے۔ انہوں نے ان کامیابیوں کو ممکن بنانے میں انڈسٹری کے شراکت داروں کی محنت کا اعتراف کیا۔

گزشتہ ایک سال کے دوران شعبہ مواصلات کی مضبوطی کا حوالہ دیتے ہوئے، ڈاکٹر پیماسانی نے واضح کیا کہ ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ، 2023 کے تحت زیادہ تر قوانین کو اب نوٹیفائی کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد ایک ایسا ریگولیٹری فریم ورک بنانا ہے جو آسان ہو، ٹیکنالوجی-نیوٹرل ہو اور جدید ٹیکنالوجی کے دور کی ضروریات کے مطابق ہو۔ انہوں نے بھارت نیٹ اور 4جی سیچوریشن منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی جن کا مقصد ہر گاؤں اور ہر گھر تک تیز رفتار فائبر اور کنیکٹیویٹی پہنچانا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261008200228_e9c1fe.jpg

وزیرِ مملکت نے مزید کہا کہ ٹیلی کام ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ فنڈ (ٹی ٹی ڈی ایف) کے تحت تقریباً 500 کروڑ روپے کی مالیت کے تقریباً 136 تحقیق و ترقی کے منصوبوں کو فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ منصوبے 5جی، 6جی، کوانٹم کمیونیکیشنز، غیر ارضیاتی نیٹ ورکس، ایڈوانسڈ آپٹیکل سسٹمز، دیسی کور اور ٹیلی کام سکیورٹی پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں قائم 5جی ٹیسٹ بیڈز پر بھی روشنی ڈالی تاکہ طلباء، محققین اور اسٹارٹ اپس تجربات کر سکیں اور نئی چیزیں تیار کر سکیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261008200238_e4775b.jpg

آنے والی ترجیحات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے، ڈاکٹر پیماسانی نے ایسی 10 سے 20 اہم نیٹ ورک ٹیکنالوجیز کی نشاندہی کرنے کا مطالبہ کیا جو فی الحال درآمد کی جا رہی ہیں، تاکہ ان کے ہندوستانی متبادل تیار کیے جا سکیں، بالخصوص پرزہ جات کی مینوفیکچرنگ، چِپ سیٹس، ریڈیوز، راؤٹرز اور آپٹیکل سسٹمز کے شعبوں میں۔

6جی ٹیکنالوجی میں دنیا کی قیادت کرنے کے عزم کو دہراتے ہوئے، وزیرِ مملکت نے عالمی سطح پر 6جی کے کم از کم 10 فیصد پیٹنٹس اور معیارات حاصل کرنے کے ہدف پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بڑی ٹیلی کام کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ صنعت کے ساتھ باہمی تعاون کے ساتھ ساتھ، بین الاقوامی معیارات، اسٹینڈرڈ-ایسینشل پیٹنٹس (ایس ای پی) اور یونیورسٹی ریسرچ میں اپنے تعاون کے لیے باقاعدہ سالانہ اور سہ ماہی اہداف مقرر کریں۔

کوانٹم کمیونیکیشنز کے حوالے سے، انہوں نے زور دیا کہ سی-ڈاٹ کو ان ٹیکنالوجیز کو صرف تحقیقی تجربہ گاہوں تک محدود رکھنے کے بجائے، اہم روابط پر کوانٹم سیف انکرپشن اور جہاں بھی معاشی طور پر موزوں ہو وہاں کوانٹم کی ڈسٹری بیوشن (کیو کے ڈی) سمیت حقیقی آپریٹر ٹرائلز شروع کرنے چاہئیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261008200249_746e32.jpg

وزیر مملکت نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے چلنے والے نیٹ ورکس سے اے آئی نیٹیو نیٹ ورکس کی طرف منتقلی پر بھی زور دیا۔ انہوں نے قومی سلامتی، آلات کی حفاظت، سپلائی چین کی سکیورٹی، دھوکہ دہی کی روک تھام اور اہم ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے تحفظ پر زیادہ توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔

ڈاکٹر پیماسانی نے مزید حکومت، آپریٹرز، آلات بنانے والوں  اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان قریبی تعاون پر زور دیا۔ انہوں نے انڈسٹری کے شراکت داروں کو دعوت دی کہ وہ اپنی خواہشات کی فہرست پیش کریں، بالخصوص ان شعبوں کے حوالے سے جن میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے مطابق طریقوں کو آسان بنانے اور پالیسی میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر چندر شیکھر پیماسانی نے کہا، ’’گذشتہ دہائی ڈیجیٹل انڈیا کی تھی۔ ہمارا مقصد آئندہ دہائی کو ذہین بھارت کی دہائی بنانا ہے۔‘‘

**********

 

(ش ح –ا ب ن)

U.No:4873


(ریلیز آئی ڈی: 2321064) وزیٹر کاؤنٹر : 2
یہ ریلیز پڑھیں: English