ٹیکسٹائلز کی وزارت
مرکزی وزیر مملکت پبترا مارگریٹا نے آسام کےجورہاٹ میں جدید ترین ریشم کے کیڑے کے بیج کی بنیادی سہولت کا افتتاح کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 OCT 2026 5:15PM by PIB Delhi
شمال مشرقی خطے میں ریشم کے کیڑوں کی پرداخت کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور دیہی روزگار کے ذرائع کو مضبوط کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم کے طور پر، ٹیکسٹائل کے مرکزی وزیر مملکت پبترا مارگریٹا نے آسام کے جورہاٹ میں روڑیہ واقع مرکزی ریشم بورڈ کے ریشم کے کیڑے کے بیج کی پیداوار مرکز (ایس ایس پی سی) میں نو تعمیر شدہ گرینج عمارت اور کولڈ اسٹوریج سہولت کا افتتاح کیا۔اس موقع پر قازیرنگا سے رکن پارلیمنٹ کامکھیا پرساد تاسا، جورہاٹ سے رکن اسمبلی ہتیندر ناتھ گوسوامی،وائس چانسلر ڈاکٹر دیپ جیوتی راج کھووا، آسام حکومت کی ڈائریکٹر سیریکلچر محترمہ لکشمی دتہ اور مرکزی ریشم بورڈ کے رکن سکریٹری پی شیوکمار کے علاوہ ٹیکسٹائل کی وزارت کے تحت مختلف تنظیموں کے سربراہان اور دیگر سینئر افسران موجود تھے۔


شمال مشرقی خطے کے ٹیکسٹائل فروغ کی اسکیم (این ای آر ٹی پی ایس) کے تحت قائم کی گئی اس جدید ترین سہولت میں ہر سال شہتوت کے ہائبرڈ بیج کی 30 لاکھ بیماری سے پاک شاخیں (ڈی ایف ایل) تیار کرنے اور ایک کروڑ تک ڈی ایف ایل محفوظ رکھنے کی صلاحیت ہے۔ یہ بنیادی ڈھانچہ خطے میں معیاری ریشم کے کیڑے کے بیج کی بروقت دستیابی یقینی بنانے اور بیج کی پیداوار کی کارکردگی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ امید ہے کہ جدید سہولت خطے میں ریشم کے کیڑوں کی پرداخت کی ویلیو چین کو مزید مضبوط کرے گی، روزگار کے مواقع پیدا کرے گی اور مقامی سپلائرز اور تاجروں کے لیے کاروباری مواقع پیدا کرے گی، جس سے ریشم بانی سے وابستہ کسانوں کی سماجی و اقتصادی ترقی میں بھی تعاون ملے گا۔


تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹیکسٹائل کے مرکزی وزیر مملکت پبترا مارگریٹا نے اس بات پر زور دیا کہ معیاری ریشم کے کیڑے کا بیج، جدید بنیادی ڈھانچہ، ٹیکنالوجی اور ہنرمندی کی ترقی ایک پیداواری اور پائیدار ریشم بانی کے شعبے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے شہتوت اور وانیا، دونوں شعبوں پر محیط مرکزی ریشم بورڈ کے مضبوط بیج پیداوار نیٹ ورک کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سی ایس بی-این ایس ایس او شہتوت کے بیج کے شعبے کی ضروریات پوری کرتا ہے، جبکہ بی ٹی ایس ایس او اور ایم ای ایس ایس او وانیا بیج کے شعبے کو تعاون فراہم کرتے ہیں۔آسام کے ریشم کی بھرپور وراثت اور شمال مشرقی خطے کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ملک کی تقریباً 79 فیصد موگا ریشم اور 74 فیصد ایری ریشم کی پیداوار آسام میں ہوتی ہے۔ مالی سال 2026-27 کے دوران اپریل سے جولائی تک آسام میں کچے ریشم کی پیداوار شہتوت ریشم کی 9 میٹرک ٹن، ایری ریشم کی 2131 میٹرک ٹن اور موگا ریشم کی 73 میٹرک ٹن رہی۔ اسی مدت کے دوران شمال مشرقی خطے میں شہتوت ریشم کی 142 میٹرک ٹن، ٹسر ریشم کی 3 میٹرک ٹن، ایری ریشم کی 2890 میٹرک ٹن اور موگا ریشم کی 87 میٹرک ٹن پیداوار ریکارڈ کی گئی۔ پیداوار کے یہ رجحانات آسام اور شمال مشرقی خطے میں ریشم بانی کے ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔انہوں نے اس شعبے میں روزگار کے وسیع امکانات کو بھی اجاگر کیا اور بتایا کہ 2025-26 کے دوران ریشم بانی سے تقریباً 29.50 لاکھ افراد کے لیے روزگار پیدا ہونے کا اندازہ ہے۔ انہوں نے وانیا ریشم کی پیداوار میں خطے کی مضبوط صلاحیت اور ہندوستان کی ریشم معیشت میں اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’مشن سنیہ جوری‘ جیسی پہل موگا ریشم کو عالمی سطح کی اعلیٰ قدر والی مصنوعات میں تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کسانوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے، دیہی روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ’آتم نربھر شمال مشرق‘ کو مضبوط بنانے کے لیے کاروباری سرگرمیوں اور تمام متعلقہ فریقوں کے باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مرکزی ریشم بورڈ، ریاستی حکومت، تحقیقی اداروں، کسانوں، صنعت کاروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان مزید مضبوط تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ’وکست آسام‘ اور اس کے نتیجے میں ’وکسِت بھارت‘ کی تعمیر میں مدد ملے گی۔


پروگرام کے ایک حصے کے طور پر متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے کو فروغ دینے اور ریشم کے کیڑوں کی پرداخت کے شعبے سے متعلق امور پر غور و خوض کے لیے ایک باہمی گفت و شنید پر مبنی ’سیری اسٹیک ہولڈر میٹ‘ کا انعقاد کیا گیا۔ ترقی پسند ریشم بانی کسانوں کو اعزاز سے نوازا گیا، جبکہ پی ون بیماری سے پاک شاخیں براہ راست ریشم کے کیڑوں کی پرداخت کرنے والے کسانوں میں تقسیم کی گئیں۔ ٹیکسٹائل کی وزارت کی اہم ’سامرتھ اسکیم‘ کے تحت تربیت کامیابی سے مکمل کرنے والے تربیت یافتگان کو بھی سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے، جس کا مقصد ٹیکسٹائل اور ریشم کے کیڑوں کی پرداخت کے ماحولیاتی نظام میں ہنرمندی کی ترقی اور صلاحیت سازی کو فروغ دینا ہے۔

یہ افتتاح آسام اور شمال مشرقی خطے میں مرکزی ریشم بورڈ کی جانب سے ریشم کے کیڑے کے بیج کی پیداوار کے نظام کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے، جس کے تحت کسانوں کو معیاری بیج، جدید بنیادی ڈھانچہ اور بہتر روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
*****
ش ح۔ ک ح ۔ ج
uno-4848
(ریلیز آئی ڈی: 2320909)
وزیٹر کاؤنٹر : 6