خلا ء کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

خلائی شعبے کو نجی اداروں کے لیے کھولنے سے باصلاحیت افراد کے بیرون ملک جانے کا رجحان کم ہوا اور نوجوان صلاحیتوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ


ہندوستان کا خلائی نظام اب صرف سرکاری شعبے تک محدود نہیں؛ اسٹارٹ اپس اور نجی ادارے ملک کے اندر نوجوان انجینئروں کے لیے مواقع پیدا کر رہے ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

’’الگ الگ دائرۂ کار کا دور ختم ہو چکا ہے‘‘: ہندوستان کی سائنسی طاقت کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت، صنعت، اسٹارٹ اپس اور تعلیمی اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

خلائی ٹیکنالوجی اب صرف راکٹوں اور مشنوں تک محدود نہیں؛ آفات سے نمٹنے اور بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کے ذریعے روزمرہ زندگی کو آسان بنا رہی ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہندوستان دنیا کی پیروی کرنے سے آگے بڑھ کر دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے مرحلے میں پہنچ گیا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 OCT 2026 5:12PM by PIB Delhi

سائنس اور ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنس کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور پی ایم او ، عملہ ، عوامی شکایات اور پنشن ، جوہری توانائی اور خلا کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ

سائنس اور ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنس کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور پی ایم او ، عملہ ، عوامی شکایات اور پنشن ، جوہری توانائی اور خلا کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ ہندوستان کے خلائی شعبے کو نجی شعبے کے لیے کھولنے سے ملک کے اندر نوجوان سائنسی اور تکنیکی صلاحیتوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور روزگار کے لیے بیرونِ ملک جانے کی ضرورت میں کمی آئی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے وارانسی کے رودراکشی بین الاقوامی تعاون اور کنونشن مرکز میں منعقدہ ’نمو بک فیسٹ‘ کے دوران طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ دو روزہ یہ میلہ 7 اور 8 اکتوبر کو منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں مختلف مصنفین کی جانب سے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی زندگی، قیادت اور عوامی خدمت کے مختلف پہلوؤں پر لکھی گئی کتابوں کے ذریعے حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی 25 سالہ خدمات کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ اس میلے کی نگرانی سینئر صحافی اشوک شریواستو نے کی۔

بعد ازاں سوال و جواب کے سیشن کے دوران طلبہ سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ماضی میں ملک کے اندر خلائی شعبے کے محدود مواقع کے باعث بہت سے نوجوان پیشہ ور افراد بیرون ملک  کا رخ کرتے تھے، جبکہ اس شعبے کو نجی اداروں کے لیے کھولنے سے زیادہ سے زیادہ باصلاحیت افراد کو ملک میں رہ کر ہندوستان کے تیزی سے ترقی کرتے خلائی شعبے میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملا ہے۔ اسکائی روٹ سمیت نجی خلائی اسٹارٹ اپس کے ابھرنے سے ملک کے نوجوان انجینئروں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

وزیر موصوف کے تعارفی خطاب کے بعد طلبہ کے ساتھ ایک گھنٹے تک تبادلۂ خیال اور پینل مذاکرہ ہوا۔ پینل میں بنارس ہندو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر چترویدی، اوقیانوسی علوم کے ڈاکٹر سنیل کمار، سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے کی ڈاکٹر ایکتا، حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے محکمے کی ڈاکٹر گیتا اور خلائی شعبے کے ڈاکٹر جے جیسوال شامل تھے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ خلائی شعبے کی توسیع ہندوستان کے سائنسی نظام میں ایک بنیادی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’الگ الگ دائرۂ کار کا دور ختم ہو چکا ہے‘‘ اور اس بات پر زور دیا کہ سرکاری اداروں، نجی صنعت، اسٹارٹ اپس، تعلیمی اور تحقیقی اداروں کو مل کر ایسی صلاحیتیں پیدا کرنی ہوں گی جو عالمی سطح پر مسابقت کر سکیں۔ اس شعبے کو کھولنے سے خلاء کا شعبہ بنیادی طور پر حکومت کی قیادت والے شعبے سے ایک وسیع تر  ایکونظام میں تبدیل ہو گیا ہے، جس میں نوجوان پیشہ ور افراد اور نجی ادارے بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ تبدیلی کے اثرات ہندوستان کی خلائی معیشت کی ترقی میں پہلے ہی نمایاں نظر آ رہے ہیں، جو تقریباً 9 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو اگلے 8 سے 10 برسوں میں یہ 45 سے 46 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے اس توسیع کا سہرا خلائی شعبے کو کھولنے اور مختلف شعبوں سے وابستہ مزید متعلقہ فریقوں کو ہندوستان کے خلائی سفر میں شامل کرنے کو دیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے طلبہ کو یہ بھی بتایا کہ ہندوستان کی خلائی کہانی اب صرف راکٹوں اور خلائی پروازوں تک محدود نہیں رہی ہے۔ بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی، پروجیکٹوں  کی نگرانی اور آفات سے نمٹنے سمیت روزمرہ زندگی کو آسان بنانے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مصنوعی سیارے نیپال، بنگلہ دیش، میانمار اور سری لنکا جیسے پڑوسی ممالک کو بھی معلومات فراہم کر رہے ہیں، تاکہ وہ سیلاب اور دیگر آفات سے نمٹنے کے لیے بہتر تیاری کر سکیں۔

وزیر موصوف نے طلبہ کو ہندوستان میں ہونے والی وسیع تر سائنسی تبدیلی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 12 سے 13 برس ہندوستان میں ’’سائنس کے دور‘‘ کے طور پر گزرے ہیں، اس دوران ٹیکنالوجی کو پالیسی میں اعلیٰ ترجیح دی گئی ہے اور لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے اس کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں کئی دہائیوں سے سائنسی صلاحیت اور انسانی وسائل موجود رہے ہیں، لیکن اس صلاحیت کو قومی استعداد میں تبدیل کرنے کے لیے درکار سازگار پالیسی ماحول حالیہ برسوں میں نمایاں طور پر مضبوط ہوا ہے۔

وزیر نے گہرے سمندر کا مشن، کوانٹم مشن، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن سمیت ان اقدامات کا ذکر کیا جو ابھرتے ہوئے سائنسی شعبوں میں صلاحیتیں پیدا کر رہے ہیں۔ گہرے سمندر کے مشن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنے سمندروں کی بے پناہ سائنسی اور اقتصادی صلاحیت کو تلاش کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، جس میں ایسے وسائل بھی شامل ہیں جن کی اب تک بڑے پیمانے پر کھوج نہیں کی جا سکی ہے۔

حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے حوالے سے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہندوستان کی اس مخصوص پالیسی کے فریم ورک کا حوالہ دیا، جس کی توجہ ’’معیشت، ماحولیات اور روزگار کے لیے حیاتیاتی ٹیکنالوجی‘‘ پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کووڈ-19 کے خلاف دنیا کی پہلی ڈی این اے ویکسین کی تیاری اور ’جینوم انڈیا‘ پہل کو ملک کی بڑھتی ہوئی مقامی صلاحیتوں اور طب کے ایک ایسے دور کے لیے تیاری کی مثالوں کے طور پر پیش کیا، جس میں علاج کو جینیاتی خصوصیات کے مطابق زیادہ درست اور مؤثر بنایا جائے گا۔

چندریان-3 کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان نے غیر معمولی کم لاگت میں پیچیدہ خلائی مشن انجام دینے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک اب اس ابتدائی مرحلے سے آگے بڑھ چکا ہے، جب وہ بڑی حد تک دنیا کے دیگر ممالک میں ہونے والی پیش رفت کی پیروی کرتا تھا، اور اب دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھ رہا ہے، بلکہ کئی شعبوں میں ہندوستان پہلے ہی سبقت حاصل کرچکا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جوہری شعبے کو نجی شعبے کی شرکت کے لیے کھولنے اور 2047 تک جوہری توانائی کی صلاحیت کو 100 گیگاواٹ تک پہنچانے کے ہندوستان کے ہدف کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جوہری توانائی مستقبل کی ضروریات، بشمول مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا مراکز کے لیے ایک اہم صاف توانائی کے ذریعے کے طور پر ابھر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کو دی جانے والی بڑھتی ہوئی ترجیح کا اظہار تحقیق و ترقی پر مجموعی ملکی اخراجات (جی ای آر ڈی) میں اضافے سے بھی ہوتا ہے، جو 2013-14 میں تقریباً 46,000 سے 47,000 کروڑ روپے سے بڑھ کر اب تقریباً 2 سے 2.5 لاکھ کروڑ روپے ہوگئے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے حوالے سے طلبہ کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے انہیں آزادانہ سوچ اور جستجو کو برقرار رکھتے ہوئے اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا، ’’مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے آپ کو اتنا ذہین ہونا ہوگا‘‘، اور اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو انسانی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا چاہیے، نہ کہ سائنسی دریافتوں کو آگے بڑھانے والی جستجو کی جگہ لے لینی چاہیے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کی سائنسی ترقی نے ایک نیا خوداعتماد پیدا کیا ہے، جس کی عکاسی عالمی سطح پر ملک کے بڑھتے ہوئے مقام اور نوجوانوں کے لیے دستیاب نئے مواقع سے ہوتی ہے۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے پیغام ’’ہم یہ کر سکتے ہیں‘‘ کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان اس دور سے آگے بڑھ چکا ہے جب دنیا تجربات کرتی تھی اور ہندوستان اس کی پیروی کرتا تھا۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ ہندوستان میں بھی دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ سائنسی پیش رفت ہو رہی ہے اور ملک کئی شعبوں میں سبقت حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے کی کامیابی مسلسل تعاون، نوجوان صلاحیتوں کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے اور سائنسی صلاحیت کو مسلسل اختراع، معاشی مواقع اور روزمرہ زندگی کے مسائل کے حل میں تبدیل کرنے پر منحصر ہوگی، کیونکہ ہندوستان ’وکست بھارت‘ کی جانب آگے بڑھ رہا ہے۔

*************

 

( ش ح ۔ ش آ ۔ن ع )

U.No. 4849


(ریلیز آئی ڈی: 2320908) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी