زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قدرتی کاشت کاری میں مجوزہ پی جی اور پی ایچ ڈی پروگراموں پر آئی سی اے آر نے صنعت اور تعلیمی ماہرین سے مشاورت کی


فریقین کی مشاورت میں این ای پی 2020 کے مطابق کثیر شعبہ جاتی، اہلیت پر مبنی اور صنعت پر مرکوز نصاب کی تیاری پر زور

قدرتی کاشت کاری میں پی جی اور پی ایچ ڈی پروگرام مستقبل کی ضروریات کے مطابق، عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ اور کسانوں، صنعت اور معاشرے سے گہرے طور پر مربوط ہونے چاہئیں: ڈاکٹر ایم ایل جاٹ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 OCT 2026 6:01PM by PIB Delhi

ہندوستانی زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر) کے زرعی تعلیم ڈویژن نے آج قدرتی کاشت کاری میں مجوزہ پوسٹ گریجویٹ (پی جی) اور پی ایچ ڈی پروگراموں کے سلسلے میں صنعت کے ماہرین اور تعلیمی شعبے کے متعلقہ فریقوں کے ساتھ ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس کی صدارت محکمہ زرعی تحقیق و تعلیم (ڈی اے آر ای) کے سکریٹری اور ہندوستانی زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم ایل جاٹ نے کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261007180202_5f3e64.jpg

یہ مشاورت صنعت اور تعلیمی شعبے سے تجاویز حاصل کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی، تاکہ مجوزہ نصاب کو مزید مؤثر بنانے اور حتمی شکل دینے کے ساتھ ساتھ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پروگراموں میں قدرتی کاشت کاری، کسانوں اور وسیع تر زرعی شعبے کی ابھرتی ہوئی ضروریات کو مؤثر طور پر شامل کیا جائے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ایم ایل جاٹ نے زور دیا کہ قدرتی کاشت کاری میں مجوزہ پی جی اور پی ایچ ڈی پروگرام مستقبل کی ضروریات کے مطابق، عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ اور کسانوں، صنعت اور معاشرے سے قریبی طور پر مربوط ہونے چاہئیں۔ انہوں نے نصاب میں حیاتیاتی زرعی مداخل، مٹی کی صحت، تصدیق، قدر کی زنجیر، مارکیٹنگ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور صنعت کاری جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈاکٹر جاٹ نے کیمیائی مادوں سے پاک کاشت کاری کے مختلف طریقوں اور اس کے مختلف شعبوں کے بارے میں تصوراتی وضاحت پیدا کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا، تاکہ طلبہ اور محققین قدرتی کاشت کاری کے اصولوں، طریقۂ کار اور ابھرتے ہوئے مختلف پہلوؤں کو جامع انداز میں سمجھ سکیں۔

اس سے قبل، آئی سی اے آر کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (زرعی تعلیم) ڈاکٹر یشپال سنگھ ملک نے قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے مطابق کثیر شعبہ جاتی، اہلیت پر مبنی اور صنعت پر مرکوز نصاب تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے قدرتی کاشت کاری کے شعبے میں پیدا ہونے والے نئے مواقع کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس شعبے کی بدلتی ہوئی ضروریات سے نمٹنے کے لیے طلبہ کو متعلقہ علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا ضروری ہے۔

گجرات نیچرل فارمنگ سائنس یونیورسٹی (جی این ایف ایس یو) کے وائس چانسلر اور نصاب تشکیل کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر سی کے ٹمباڈیا اور آئی سی اے آر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل (تعلیمی معیار کی یقین دہانی اور اصلاحات) ڈاکٹر اے ایس یادو نے متعلقہ فریقوں کے سامنے مجوزہ ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی نصاب پیش کیا۔

صنعت کے ماہرین اور تعلیمی شعبے سے وابستہ متعلقہ فریقوں کی قیمتی تجاویز کے ساتھ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ ان تجاویز سے قدرتی کاشت کاری میں مجوزہ پی جی اور پی ایچ ڈی پروگراموں کو بروقت حتمی شکل دینے اور ان کے نفاذ میں مدد ملے گی۔

**********

) ش ح –ع و-  ش ہ ب )

U.No. 4787


(ریلیز آئی ڈی: 2320308) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English