مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مواصلات اور شمال مشرقی خطے کی ترقی کے مرکزی وزیر جناب جیوترادتیہ سندھیا کی تصوریت اور پائیدار کوششوں نے گوالیار میں نئے صنعتی دور کے لیے اسٹیج تیار کی


جناب سندھیا کی دعوت پر، مرکزی وزیرِ داخلہ جناب امت شاہ 29 اکتوبر 2026 کو گوالیار میں ایشیا کے اولین 'ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون'  (ٹی ایم زی) کے بھومی پوجن کی تقریب میں شرکت کریں گے

جناب سندھیا کی پہل اور مسلسل کوششوں کی بدولت ایشیا کا اولین 'ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون' گوالیار میں قائم ہو رہا ہے، جس میں 24 سے زائد عالمی کمپنیاں ایک ساتھ بھومی پوجن کی تقریب میں شرکت کرنے کے لیے تیار ہیں

ٹی ایم زی  5,500 کروڑ روپے سے زائد کی یقینی سرمایہ کاری حاصل کر چکا ہے، جس میں 18,000 سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 06 OCT 2026 7:40PM by PIB Delhi

وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے 'آتم نربھر بھارت' کے وژن کو عملی جامہ پہنانے اور بھارت کی ٹیلی کام مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک بڑے قدم کے طور پر، ٹیولی مواصلات اور شمال مشرقی خطے کی ترقی کے مرکزی وزیر، جناب جیوترادتیہ سندھیا کی پہل اور مسلسل کوششیں مدھیہ پردیش کے شہر گوالیار میں ایشیا کے پہلے 'ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون' (ٹی ایم زی) کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261006194057_15234c.jpg

اس تاریخی منصوبے کے لیے بھومی پوجن کی تقریب 29 اکتوبر 2026 کو گوالیار میں منعقد ہوگی جس میں مرکزی وزیرِ داخلہ جناب امت شاہ شرکت کریں گے۔ مرکزی وزیر داخلہ جناب امت  شاہ نے جناب سندھیا کی دعوت قبول کر لی ہے اور تقریب میں اپنی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

گوالیار کے لیے ایک انقلابی صنعتی پہل کے طور پر تصور کیا گیا یہ ٹی ایم زی ، محکمہ ٹیلی کام (وزارتِ مواصلات، حکومتِ ہند)، حکومتِ مدھیہ پردیش اور متعلقہ صنعت کے ساتھ جناب سندھیا کے مسلسل رابطے کا نتیجہ ہے۔ جناب سندھیا کی 2 سال سے زائد کی انتھک کوششوں کا محور اس خیال کو ایک عالمی معیار کے ٹیلی کام مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم میں تبدیل کرنے کے لیے مطلوبہ زمین، بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاری اور صنعت کی شراکت داری کو ایک جگہ جمع کرنا رہا ہے۔

گوالیار میں 'شریمنت مادھو راؤ سندھیا کاؤنٹر میگنیٹ سٹی' (ایس اے ڈی اے) میں مجوزہ، اس ٹی ایم زی کو ٹیلی کام مینوفیکچرنگ کے ایک بڑے مرکز کے طور پر تصور کیا گیا ہے، جو مینوفیکچرنگ یونٹس، تکنیکی جدت طرازی، تحقیق و ترقی، ٹیسٹنگ اور جدید ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو ایک ہی ایکو سسٹم کے تحت یکجا کرے گا۔

مرکزی وزیر جناب سندھیا محکمہ ٹیلی کام اور حکومت مدھیہ پردیش کے اعلیٰ حکام کے ساتھ باقاعدہ جائزوں اور ہم آہنگی کے ذریعے ذاتی طور پر اس منصوبے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ زمین کی نشاندہی کرنے اور اسے حاصل کرنے، بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے سے لے کر سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور صنعت کی ضروریات کو پورا کرنے تک، انہوں نے اس منصوبے کو تصور سے نکال کر اب 29 اکتوبر 2026 کو بھومی پوجن کی تقریب کے ساتھ عملی شکل دینے پر مسلسل توجہ برقرار رکھی ہے۔

گوالیار میں مجوزہ ٹی ایم زی  سائٹ کے اپنے حالیہ معائنے کے دوران، مرکزی وزیر جناب سندھیا نے اس بات پر زور دیا تھا کہ یہ منصوبہ محض ایک صنعتی علاقہ نہیں ہے، بلکہ گوالیار میں ایک مکمل ٹیلی کام مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم قائم کرنے کا ایک اسٹریٹجک موقع ہے، جو ٹیلی کام کے شعبے سے وابستہ 24 سے زائد مینوفیکچرنگ یونٹس اور کمپنیوں کو ایک جگہ جمع کرے گا۔

ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون کیا ہے؟

ایک اسپیشل اکنامک زون (ایس ای زی) کے کام کرنے کے طرز پر ہی، گوالیار کے 'ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون' کو ایک خصوصی 'پلگ اینڈ پلے'  ماڈل کے تحت تیار کیا جا رہا ہے۔ اس ماڈل کے تحت، کمپنیوں کو تیار بنیادی ڈھانچے، مشترکہ سہولیات اور سازگار صنعتی ماحول تک رسائی حاصل ہوگی، جس سے وہ انتہائی کم وقت میں اپنی مینوفیکچرنگ کی سرگرمیاں شروع کر سکیں گی۔

ٹی ایم زی ٹیلی کام کے آلات اور پرزہ جات کی مینوفیکچرنگ میں مدد فراہم کرے گا، جبکہ ڈیزائننگ، تحقیق و ترقی، ٹیسٹنگ اور جدت طرازی کے شعبوں میں بھی صلاحیتیں پیدا کرے گا۔ یہ زون آپٹیکل فائبر، سیمی کنڈکٹرز اور 5جی اور 6جی جیسی جدید ترین تکنالوجیوں سے وابستہ صنعتوں کو ایک پلیٹ فارم بھی فراہم کرے گا۔

اس پہل کا مقصد بھارت کی مقامی ٹیلی کام مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کو مضبوط بنانا، ٹیلی کام کی مصنوعات میں خود انحصاری کو فروغ دینا اور عالمی مینوفیکچرنگ و ٹیکنالوجی ویلیو چینوں میں بھارت کی شرکت کو بڑھانا ہے۔

مرکزی وزیر جناب سندھیا کی سرمایہ کاروں تک رسائی کی مہم 5,500 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی تجاویز لائی ہے۔ مرکزی وزیر جناب سندھیا کی کوششوں کا ایک اہم ستون گوالیار ٹی ایم زی میں سرمایہ کاری لانے کے لیے سرمایہ کاروں اور صنعتی رہنماؤں کے ساتھ ان کا براہ راست رابطہ رہا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261006194106_9f4437.jpg

کاؤنٹر میگنیٹ سٹی ایریا، گوالیار میں ٹی ایم زی  کا مجوزہ داخلہ (تصوراتی خاکہ)

منصوبے کی طرف صف اول کی کمپنیوں کو راغب کرنے کے مقصد سے، شری سندھیا نے دہلی، ممبئی اور بنگلورو میں انویسٹر انگیجمنٹس اور روڈ شوز کی قیادت کی، جس میں انہوں نے منصوبے کی صلاحیت، بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کے مواقع کو پیش کیا۔

جولائی 2026 میں محکمہ ٹیلی مواصلات اور حکومت مدھیہ پردیش نے ٹی ایم زی کے قیام کے لیے ایک مفاہمتی عرضداشت پر دستخط کیے۔ اس کے بعد انویسٹر روڈ شوز کا اہتمام کیا گیا جن کی قیادت جناب سندھیا اور مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کی۔

دہلی روڈ شو کے نتیجے میں تقریباً 3,500 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل ہوئے، جس میں تقریباً 14,000 روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ 4 اگست کو منعقدہ ممبئی روڈ شو میں، کمپنیوں نے تقریباً 2,000 کروڑ روپے کے سرمایہ کاری کے وعدوں کا اظہار کیا، جس میں تقریباً 4,000 ملازمتیں پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261006194115_0a4475.jpg

حال ہی میں، جناب سندھیا نے بنگلورو میں ٹیلی کام، الیکٹرانکس، سیمی کنڈکٹر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کے ساتھ سرمایہ کاروں کا ایک اجلاس طلب کیا۔ اس باہمی گفتگو نے منصوبے میں مزید دلچسپی پیدا کی، جس کے نتیجے میں تقریباً 700 سے 800 کروڑ روپے کی اضافی سرمایہ کاری کی تجاویز سامنے آئیں۔

ان مسلسل کوششوں کے نتیجے میں، ٹی ایم زی اب 5,500 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی تجاویز حاصل کر چکا ہے، جس میں 18,000 سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261006194122_abaa62.jpg

مرکزی وزیر جناب سندھیا کی سرمایہ کاروں تک رسائی کی مہم نے ٹی ایم زی کو پورے گوالیار-چنبل خطے میں صنعتی ترقی اور اقتصادی سرگرمیوں کے ایک بڑے محرک کے طور پر پیش کرنے میں مدد کی ہے۔

مرکزی حکومت 493 کروڑ روپے کے بقدر کا 100 فیصد مالی تعاون فراہم کرے گی

حکومتِ ہند اس منصوبے کے پہلے مرحلے کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے 493 کروڑ روپے کی 100فیصد مالی امداد فراہم کر رہی ہے۔ حکومتِ مدھیہ پردیش نے اس منصوبے کے لیے تقریباً 170 ایکڑ زمین بلا معاوضہ فراہم کی ہے۔

منصوبے کے نفاذ کے لیے، ایک 'اسپیشل پرپز وہیکل' تشکیل دی گئی ہے جس میں حکومتِ مدھیہ پردیش کی 51 فیصد اور محکمہ ٹیلی کام کی 49 فیصد ایکویٹی شامل ہے۔

مقررہ وقت میں نفاذ، صنعتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور سرمایہ کاروں کو ضروری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مرکز اور ریاست کی یہ شراکت داری ایک کلیدی کردار ادا کرے گی۔

مقررہ مدت کے اندر عملی آوری  کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی وزیر جناب سندھیا کا مسلسل جائزہ

مرکزی وزیر جناب سندھیا نے حال ہی میں محکمہ ٹیلی مواصلات اور حکومت مدھیہ پردیش کے اعلیٰ حکام کے ساتھ 'شریمنت مادھو راؤ سندھیا کاؤنٹر میگنیٹ سٹی' (ایس اے ڈی اے) میں ٹی ایم زی کے لیے مختص کی گئی زمین کا تفصیلی معائنہ کیا۔

دورے کے دوران، انہوں نے منصوبے کی پیش رفت، زمین کی دستیابی، ممکنہ سرمایہ کاروں کی ضروریات اور مستقبل کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اعلیٰ حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ منصوبے سے متعلق تمام کام مقررہ وقت کے اندر آگے بڑھیں اور سرمایہ کاروں کے لیے مطلوبہ بنیادی ڈھانچے اور سہولیات کو بغیر کسی تاخیر کے قائم کیا جائے۔

یہ منصوبہ جناب سندھیا کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدگی سے جائزے لیے جا رہے ہیں کہ گوالیار کے ٹیلی کام مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کا وژن زمین پر حقیقت کا روپ دھار سکے۔

گوالیار کی صنعتی نمو میں ایک نیا باب

جناب سندھیا کے وژن اور مسلسل کوششوں سے شروع ہونے والے، گوالیار میں ایشیا کے اس پہلے مجوزہ 'ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون'  میں اس خطے کو ٹیلی کام مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کے ایک اہم مرکز میں تبدیل کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔

سرمایہ کاری سے ہٹ کر، اس منصوبے سے مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار، تکنیکی مہارتوں، جدت طرازی اور صنعت کاری میں نئے مواقع پیدا ہونے کی امید ہے، جبکہ یہ گوالیار-چنبل اور مدھیہ پردیش کے صنعتی نظام کو بھی مضبوط بنائے گا۔

وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے 'آتم نربھر بھارت' اور 'میک ان انڈیا، میک فار دی ورلڈ' کے وژن کے عین مطابق، یہ ٹی ایم زی بھارت کو ٹیلی کام مینوفیکچرنگ کے ایک عالمی مرکز کے طور پر قائم کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔

جو جناب سندھیا کی جانب سے پیش کیے گئے ایک پرجوش وژن کے طور پر شروع ہوا تھا، وہ اب بڑی صنعتی شراکت داری، نمایاں سرمایہ کاری کی دلچسپی اور نفاذ کے ایک واضح لائحہ عمل کے ساتھ زمین پر ٹھوس شکل اختیار کر رہا ہے۔ گوالیار ٹیلی کام مینوفیکچرنگ زون مرکز-ریاست تعاون، صنعت کی قیادت میں ہونے والی ترقی، اور ٹیلی کام کے صرف استعمال سے نکل کر ٹیلی کام مینوفیکچرنگ اور عالمی ٹیکنالوجی کی قیادت کی طرف بھارت کی منتقلی کی ایک تاریخی مثال بننے کے لیے تیار ہے۔

 

مزید تفصیلات کے لیے محکمہ مواصلات کے سوشل میڈیا ہینڈلز کو فالو کریں:-

X - https://x.com/DoT_India

Insta- https://www.instagram.com/department_of_telecom?igsh=MXUxbHFjd3llZTU0YQ==

Fb - https://www.facebook.com/DoTIndia

Youtube: https://youtube.com/@departmentoftelecom?si=DALnhYkt89U5jAaa

 

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:4731


(ریلیز آئی ڈی: 2319852) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी