سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
ایک دہائی کے دوران کائناتی چمک میں اتار چڑھاؤ سے نایاب دیوہیکل دوہرے بلیک ہول کے نظام کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 OCT 2026 2:32PM by PIB Delhi
منفرد بلیزر اوجے 287 کی 10 سال تک بدلتی ہوئی چمک اور رنگت کی نگرانی پر مبنی ایک نئی تحقیق سے اس کے طاقتور اخراج اور اس کے مرکز میں موجود بلیک ہولز کے رویے کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔
اوجے 287 زمین سے تقریباً 4 ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ایک نایاب فلکیاتی جرم ہے، جس کے مرکز میں دو انتہائی جسیم بلیک ہولز (ایس ایم بی ایچ) موجود ہیں۔ یہ دونوں 12 سالہ مداری دورانیے کے ساتھ ایک دوسرے کے ارد گرد گردش کرتے ہیں اور ایک دوہرے نظام کی تشکیل کرتے ہیں۔ انتہائی جسیم بلیک ہولز کی کمیت سورج کی کمیت سے لاکھوں سے اربوں گنا تک ہو سکتی ہے۔ اوجے 287 ایک بلیزر ہے، جو تقریباً روشنی کی رفتار سے زمین کی سمت میں طاقتور پلازما جیٹس خارج کرتا ہے۔ بلیزر برقی مقناطیسی طیف میں ریڈیو لہروں سے لے کر گاما شعاعوں تک شدید اور انتہائی تیزی سے تبدیل ہونے والا اخراج، ظاہر کرتے ہیں۔ جب بلیک ہول کے گرد موجود مادہ انتہائی توانائی کے ساتھ گردش کرتا ہے تو اس سے آئنائزڈ مادے اور تابکاری کی ایک طاقتور دھار خارج ہوتی ہے۔ جب اس طاقتور جیٹ کا رخ براہِ راست زمین کی طرف ہوتا ہے تو یہ انتہائی روشن دکھائی دیتا ہے، جسے ہم بلیزر کہتے ہیں۔
یہ بلیزر وقت کے ساتھ اپنی چمک میں دوہری بلندیوں والا ایک مخصوص پیٹرن ظاہر کرتا ہے۔ اس پیری اوڈک رویے کی دریافت1988 میں فن لینڈ کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے 1880 سے تقریباً100 برس کے بصری مشاہدات کی بنیاد پر کی تھی۔ تب سے دنیا بھر کے ماہرینِ فلکیات اوجے 287 کا مسلسل مشاہدہ کر رہے ہیں تاکہ اس کے 12 سالہ دورانیےکے دوران ہونے والی دوہری بلندیوں والی شدید چمک کا مطالعہ کیا جا سکے اور مدارمیں اس کی حرکت کی مکمل تصویر حاصل کی جا سکے۔
آریہ بھٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف آبزرویشنل سائنسز (اے آر آئی ای ایس)، نینی تال کے،جوسائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) محکمۂ کا ایک خود مختار ادارہ ہے، سائنس دانوں کی نگرانی میں ایک کثیر ادارہ جاتی مطالعہ کیا گیا، جس کا مقصد 2015 سے 2019 کے درمیان حالیہ 12 سالہ بصری روشنی کے شدید اخراج (دوری/نیم دوری پیٹرن) کا مشاہدہ کرنا تھا۔
اے آر آئی ای ایس کے ڈاکٹر آلوک سی گپتا کی قیادت میں کیے گئے اس مطالعے میں 18 ممالک (بھارت، بلغاریہ، چلی، چین، کریمیا، فن لینڈ، جارجیا، جرمنی، اٹلی، جاپان، روس، سربیا، اسپین، سویڈن، تاجکستان، برطانیہ، امریکہ اور ویسٹ انڈیز) کے 106 سائنس دانوں اور 48 تحقیقی اداروں/یونیورسٹیوں کی ٹیم نے حصہ لیا۔ مذکورہ ٹیم نے 2015 سے 2025 تک دو درجن دوربینوں کا استعمال کرتے ہوئے اے 287 کا بصری مشاہدہ کیا

شکل 1: او جے 287 میں موجود دوہرے بلیک ہول کے نظام کی فنکارانہ عکاسی۔
کریڈٹ: لنکیشور ڈے اور دیگر،2018
مختلف زمینی اور خلائی دوربینوں کے ذریعے برقی مقناطیسی(ای ایم) طیف کے دیگر حصوں میں کیے گئے مشاہدات سے معاونت یافتہ ایک دہائی پر محیط بصری مشاہداتی مہم کے نتیجے میں او جے 287 کے بصری وقت کے ساتھ تبدیلی کے ایسے اعداد و شمار حاصل ہوئے، جو گزشتہ 150 برسوں کے دوران حاصل کیے گئے اس جرم کے سب سے وسیع اور کثیف طور پر نمونہ بند، ٹائم سیریز ڈیٹا ہیں۔
ان اعداد و شمار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اوجے 287 مختلف زمانی پیمانوں پر کس طرح تبدیل ہوا، جس میں برسوں پر محیط طویل مدتی تبدیلیوں سے لے کر انتہائی مختصر مدت میں رونما ہونے والی تیز رفتار تبدیلیاں شامل ہیں۔ یہ مطالعہ اس منفرد فلکیاتی جرم کے لیے دستیاب سب سے وسیع کثیر بینڈ بصری ڈیٹا سیٹ فراہم کرتا ہے۔
مکمل برقی مقناطیسی (ای ایم) طیف سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار نے کئی اہم مسائل کے حل میں مدد کی ہے، مثلاً مختلف اوقات میں دونوں بلیک ہولز ایک دوسرے کے مقابلے میں کہاں واقع ہیں، یہ سمجھنا کہ مختلف زمانی پیمانوں پر او جے 287 کی چمک، طیف اور پولرائزیشن میں کس طرح تبدیلی آتی ہے، چھوٹے بلیک ہول سے ہونے والے اخراج کے شواہد دریافت کرنا اور اس منفرد دوہرے بلیک ہول کے نظام کی نوعیت اور رویے کا جائزہ لینا۔
مذکورہ مطالعے سے قبل ڈاکٹر اے سی گپتا اور فن لینڈ کی یونیورسٹی آف تروکو کے پروفیسر موری جے۔ والٹونن کی قیادت میں2017 سے کئی تحقیقی مقالے شائع کیے جا چکے ہیں۔

شکل 2: ایک دوسرے کے گرد مدار میں گردش کرتے ہوئے بلیک ہولز۔ دونوں بلیک ہولز سے منسلک جیٹس موجود ہیں: بڑے بلیک ہول سے سرخی مائل رنگ کا جیٹ، جبکہ چھوٹے بلیک ہول سے زرد مائل رنگ کا جیٹ وابستہ ہے۔
کریڈٹ: NASA/JPL–Caltech/R. Hurt (IPAC) اور M. Mugrauer (AIU Jena)
21 اکتوبر 2017 سے 22 نومبر 2017 کے درمیان امریکہ کی اسٹیورڈ آبزرویٹری سے اوجے287 کی کم شعاعوں کے بہاؤ والی حالت میں حاصل کیے گئے آٹھ بصری اسپیکٹراکا استعمال کرتے ہوئے [او III] اخراجی لکیر کی چوڑائی کی بنیاد پر، مرکزی بلیک ہول کی کمیت کا تخمینہ لگایا گیا۔ اس کے مطابق اس کی کمیت کم از کم 3.89 ارب شمسی کمیت ہے۔ مطالعے میں اس دوہرے بلیک ہول کے نظام کے اخراج کے عمل اور کثیر پیغامی فلکیات کے لیے اس کی اہمیت کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی گئیں۔ کثیر پیغامی فلکیات میں مختلف زمینی اور خلائی مشاہداتی مراکز سے ایک ہی منبع سے حاصل ہونے والے مختلف سگنلزجیسے روشنی، ثقلی لہریں، نیوٹرینوز اور کائناتی شعاعوںکا بیک وقت مربوط مشاہدہ اور مطالعہ کیا جاتا ہے۔ ان نتائج نے اوجے 287 کے سائنسی مطالعے کا دائرہ اس کی دوہری نوعیت کے مطالعے سے بھی آگے بڑھا دیا ہے۔
ایک دہائی پر محیط بصری مشاہدات کے ساتھ یہ مطالعہ اے 287 کو ایک متحرک اور انتہائی غیر معمولی کائناتی تجربہ گاہ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ مختلف طول موجوں پر اس جرم کی مسلسل نگرانی سے سائنس دانوں کو اضافیت پسند جیٹس کی طبیعیات، انتہائی جسیم دوہرے بلیک ہولز کے رویے اور برقی مقناطیسی اور ثقلی لہروں کے سگنلز کے درمیان ممکنہ تعلقات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اشاعت کا لنک: DOI: 10.3847/1538-4365/ae8795
*****
ش ح۔ ش م۔اش ق
U. No- 4705
(ریلیز آئی ڈی: 2319667)
وزیٹر کاؤنٹر : 8