سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
بھارت – سوئٹزر لینڈ تحقیقی فریم ورک دو دہائیوں پر محیط سائنسی تعاون کو نئی رفتار دے گا اور مشترکہ تحقیق و اختراع کے لیے امکانات کے نئے دروازے کھولے گا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
فلیگ شپ تقریب میں بھارت-سوئٹزرلینڈ شراکت داری کے دو دہائیوں کا جشن، مزید گہرے، منظم اور طویل مدتی تعاون کا لائحہ عمل پیش
نیا فریم ورک تحقیقی نیٹ ورکس، محققین کی آمدورفت، علم کے تبادلے اور تعلیمی اداروں و صنعت کے درمیان روابط کو مضبوط کرے گا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
ایکسپلور اور تعلیمی اداروں و صنعت کے درمیان تربیتی پروگرام محققین، اختراع کاروں اور اسٹارٹ اپس کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گے
ڈی ایس ٹی-ایس این ایس ایف اقرار نامہ اور ڈی ایس ٹی-زیڈ ایچ اے ڈبلیو نفاذ کا طریقہ کار سائنس و ٹیکنالوجی دو طرفہ شراکت داری کے نئے مرحلے کا آغاز
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 OCT 2026 3:45PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ بھارت-سوئٹزرلینڈ تحقیقی فریم ورک،بھارت-سوئٹزرلینڈ کے دیرینہ سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبے میں تعاون کو نئی رفتار دے گا اور دو طرفہ تعاون کو نئے اور ابھرتے ہوئے شعبوں تک وسعت دینے کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔
نئی دہلی میں منعقدہ افتتاحی ہند-سوئس ریسرچ فلیگ شپ ایونٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ تقریب نہ صرف دو دہائیوں سے جاری خوشگوار اور مسلسل وسعت پذیر تعاون کا جشن منانے کا موقع ہے، بلکہ سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے ابھرتے ہوئے شعبوں میں شراکت داری کو متنوع بنا کر اور دونوں ممالک کے محققین و اختراع کاروں کے لیے مزید مواقع پیدا کرکے مستقبل کے تعاون کی سمت طے کرنے کا بھی موقع ہے۔
نئی دہلی میں منعقدہ اس فلیگ شپ تقریب میں سوئس کنفیڈریشن کے صدر عزت مآب گی پاہملاں ، بھارت اور بھوٹان میں سوئٹزرلینڈ کی سفیر عزت مآب مایا تیسافی، تعلیم، تحقیق و اختراع کی ریاستی سکریٹری ڈاکٹر مارٹینا ہیرایاما، محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے سکریٹری پروفیسر امیش وی. واگھمارے، اور تحقیقی اداروں، فنڈ فراہم کرنے والی ایجنسیوں، یونیورسٹیوں اور وسیع تر اختراعی نظام کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔
اس پروگرام کو دو وسیع موضوعات کے تحت ترتیب دیا گیا تھا: ”اثرات اور عمدگی کے 20 سال پر نظرِ ثانی“ اور ”مستقبل کی جانب: مل کر کل کو تبدیل کرنا“، جو شراکت داری کی کامیابیوں اور اس کی مستقبل کی سمت دونوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یاد دلایا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھارت-سوئٹزرلینڈ تعاون کی باضابطہ بنیاد 2003 میں بین الحکومتی معاہدے پر دستخط کے ساتھ رکھی گئی تھی، جس کے بعد شراکت داری کے وقتاً فوقتاً جائزے اور اسے وسعت دینے کے لیے مختلف طریقۂ کار وضع کیے گئے۔ 2005 میں شروع کیا گیا ہند-سوئس مشترکہ تحقیقی پروگرام اس کے بعد سے دونوں ممالک کے اساتذہ اور نوجوان محققین کو باہمی اسٹریٹجک اہمیت کے حامل شعبوں میں ایک ساتھ لانے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔
سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق ہند-سوئس مشترکہ کمیٹی نے بھی جاری تعاون کا جائزہ لینے اور مستقبل کی شراکت داری کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب تک اس کمیٹی کے سات ادوار منعقد ہو چکے ہیں، جن میں تازہ ترین اجلاس ستمبر 2025 میں برن میں ہوا تھا۔
وزیر موصوف نے کہا کہ سوئس اداروں، بالخصوص سوئس نیشنل سائنس فاؤنڈیشن (ایس این ایس ایف)کے اشتراک سے محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی)، محکمہ بایوٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی)، ارضیاتی علوم کی وزارت (ایم او ای ایس) ، انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) اور انڈین کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ (آئی سی ایس ایس آر) کی شمولیت کے ذریعے یہ شراکت داری بتدریج وسیع ہوئی ہے۔ آج یہ وسیع البنیاد تعاون پہاڑوں اور گلیشیئرز کے مطالعے، ارضیاتی سائنسی خطرات، نظامی طب، ون ہیلتھ اور سماجی علوم سمیت مختلف تحقیقی شعبوں تک پھیل چکا ہے۔
شراکت داری کے بڑھتے ہوئے دائرۂ کار کی عکاسی تقریب میں پیش کی گئی پریزنٹیشن میں بھی ہوئی، جس میں حیاتی طبی تحقیق، قابلِ تجدید توانائی، حیاتیاتی علوم، نظامی طب، سماجی علوم اور پہاڑی تحقیق کے شعبوں میں ہند-سوئس تحقیق کے مختلف اقدامات کو پیش کیا گیا۔ 2026 کے اقدامات کے ذریعے پہاڑی علاقوں میں جغرافیائی سائنسی خطرات، سماجی علوم اور ون ہیلتھ کے شعبوں میں تعاون کو مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت بھارت-سوئٹزرلینڈ تحقیقی تعاون کے موضوعاتی اور ادارہ جاتی دائرۂ کار میں بڑھتی ہوئی وسعت کی عکاسی کرتی ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پہاڑوں اور گلیشیئرز سے متعلق تحقیق اور پہاڑی علاقوں میں ارضیاتی سائنسی خطرات کے شعبے میں ارضیاتی علوم کی وزارت (ایم او ای ایس) اور سوئس نیشنل سائنس فاؤنڈیشن (ایس این ایس ایف)کے درمیان مضبوط تعاون کا ذکر کیا۔ اس تعاون کے تحت گلیشیئرز کے ارتقا، برف کے ذرات کو منجمد کرنے والے عوامل، آبی بخارات کے آئسوٹوپس اور ملبے اور گلیشیئرز کے باہمی تعامل جیسے موضوعات پر چار ہند-سوئس مشترکہ منصوبوں کی معاونت کی جا چکی ہے، جس کے بعد اس شراکت داری کو ارضیاتی سائنسی خطرات کے شعبے تک بھی وسعت دی گئی۔
انہوں نے ون ہیلتھ کے شعبے میں ایس این ایس ایف ، ڈی بی ٹی اورآئی سی ایم آر کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کے ساتھ ساتھ آئی سی ایس ایس آر اور ایس این ایس ایف کے درمیان ڈیجیٹل گورننس، مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات اور مصنوعی ذہانت کے سماجی اثرات، عدم مساوات، انصاف اور شمولیت، نقل و حرکت اور سماجی انضمام، اور معاشی تبدیلی جیسے شعبوں میں تعاون کا بھی ذکر کیا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہند-سوئس تحقیقی فریم ورک دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے اور زیادہ اسٹریٹجک مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے، جو شراکت داری کو طویل مدتی تعاون کے لیے ایک منظم اور نظامی سطح کے طریقۂ کار کی جانب لے جا رہا ہے۔ یہ فریم ورک محققین کی آمدورفت، علم کے تبادلے، تحقیقی نیٹ ورکنگ اور پائیدار تعاون کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ قومی ترجیحات اور سائنس، ٹیکنالوجی و اختراع کے عالمی سطح پر اہم شعبوں سے ہم آہنگ تعاون کے نئے امکانات پیدا کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔
وزیر موصوف نے مستقبل پر مرکوز اس ایجنڈے کے تحت”ایکسپلور“ سمیت نئی پہل کا خیرمقدم کیا، جس کا مقصد بڑے تحقیقی کنسورشیم تشکیل دینے کے وژن کے ساتھ نئے تحقیقی نیٹ ورکس قائم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ سائنس پر مبنی اختراع کاروں کے لیے ”اکیڈمیا-انڈسٹری ٹریننگ“ (اے آئی ٹی) پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ تقریب میں پیش کی گئی پریزنٹیشن میں آئندہ شروع ہونے والے ”ایکسپلور“ پروگرام کو بھی اجاگر کیا گیا، جو ایس این ایس ایف -ڈی ایس ٹی کے مشترکہ مالی تعاون سے نومبر 2026 میں شروع ہوگا۔ اس پروگرام کی مدت 9 سے 12 ماہ ہوگی اور اس کے تحت سفری اخراجات، نیٹ ورکنگ اور معمولی آلات کے لیے معاونت فراہم کی جائے گی، تاکہ بنیادی سائنس کے شعبے میں نئے خیالات کو بڑے تحقیقی مواقع میں تبدیل کرنے میں مدد مل سکے۔
وزیر موصوف نے محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی(ڈی ایس ٹی) اور سوئس نیشنل سائنس فاؤنڈیشن(ایس این ایس ایف)کے درمیان اقرار نامے (ایل او آئی)اور ڈی ایس ٹی اور زیورخ یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز(زیڈ ایچ اے ڈبلیو) کے درمیان امپلیمنٹیشن ارینجمنٹ کا بھی خیرمقدم کیا۔ اقرار نامہ باہمی طور پر متفقہ ترجیحی شعبوں میں تحقیقی تعاون کے امکانات تلاش کرنے، مستقبل میں مشترکہ تحقیق اور طویل مدتی تعاون کو فروغ دینے میں معاون ہوگا، جبکہ امپلیمنٹیشن ارینجمنٹ ہند-سوئس اکیڈمیا-انڈسٹری ٹریننگ (اے آئی ٹی انڈیا) پروگرام کے ذریعے اختراع، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور کاروباری سرگرمیوں کے شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھائے گا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہند-سوئس تحقیقی فریم ورک کے تحت نئے مالی تعاون اور شراکت داری کے طریقۂ کار دونوں ممالک کے موجودہ تحقیقی، ٹیکنالوجی اور اختراعی نظام کو مزید تقویت دیں گے اور محققین کے لیے امکانات کے نئے دروازے کھولیں گے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ دو طرفہ تعاون میں پیدا ہونے والی نئی رفتار بھارت اور سوئٹزرلینڈ کو آنے والے برسوں میں مزید تیزی سے آگے بڑھنے کے قابل بنائے گی اور شراکت داری کا اگلا مرحلہ مزید وسیع، مؤثر اور دونوں ممالک کے لیے باہمی طور پر سودمند ثابت ہوگا۔
سوئس کنفیڈریشن کے صدر گی پاہملاں نے کہا کہ بھارت اور سوئٹزرلینڈ اہم مشترکہ اقدار رکھتے ہیں، جن میں اعلیٰ معیار کے حصول کے لیے مضبوط عزم، علم کی طاقت پر یقین اور یہ پختہ یقین شامل ہے کہ سائنس اور اختراع معاشرے کی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو طرفہ تحقیقی شراکت داری کی بنیادیں مضبوط ہیں اور نئے ہند-سوئس تحقیقی فریم ورک کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے باہمی تعاون کے ایک نئے باب سے تعبیر کیا۔ صدر گی پاہملاں نے کہا کہ بھارت کا تیزی سے ترقی کرتا ہوا تحقیقی و اختراعی نظام اور سوئٹزرلینڈ کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تحقیقی عمدگی، مسابقتی مالی معاونت کے طریقۂ کار اور مضبوط باہمی روابط پر مبنی اختراعی نظام، دونوں ممالک کے درمیان مزید گہرے تعاون کے وسیع امکانات فراہم کرتے ہیں۔
صدر گی پاہملاں نے محققین اور اداروں کو ایک دوسرے سے جوڑنے، محققین کی آمدورفت کو مضبوط بنانے، علم اور مہارتوں کے تبادلے اور پائیدار تعاون کے ذریعے خیالات کو عملی شکل دینے کے مواقع پیدا کرنے پر مبنی فریم ورک کی توجہ کا بھی خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ہند-سوئس تحقیقی تعاون کا یہ نیا باب مزید بلند عزائم، مضبوط روابط اور دیرپا اثرات کا باعث بنے گا۔
بھارت اور بھوٹان میں سوئٹزرلینڈ کی سفیر مایا تیسافی نے کہا کہ تحقیق اور اختراع نے بھارت-سوئٹزرلینڈ تعلقات میں ٹھوس قدر پیدا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ اپنے مضبوط تحقیقی و اختراعی نظام کے ساتھ تعاون کر رہا ہے، جبکہ بھارت غیر معمولی سائنسی صلاحیت، وسیع پیمانے اور تیزی سے وسعت پذیر تحقیقی و ٹیکنالوجی نظام کے ذریعے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید محققین کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور سائنسی شراکت داری کو حقیقی دنیا میں مؤثر نتائج دینے والی اختراعات اور حل میں تبدیل کرنے کے اس موقع کا خیرمقدم کیا اور اس شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے دونوں ممالک کی جانب سے دی جانے والی اہمیت کو سراہا۔
فلیگ شپ تقریب میں موجودہ تعاون کے اثرات کو بھی اجاگر کیا گیا۔ اس کے تحت ذہنی صحت اور دماغی تحقیق، زبان اور لسانی مطالعات اور ہمالیائی گلیشیئرز پر تحقیق سے متعلق پریزنٹیشنز پیش کی گئیں، جس کے بعد ہند-سوئس تحقیقی فریم ورک اور آئندہ کے اقدامات سے متعلق مستقبل پر مرکوز اجلاس منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں موجودہ کنسورشیمز سے وابستہ محققین، پالیسی سازوں اور دیگر متعلقہ فریقوں نے شرکت کی، جس کا مقصد مختلف منصوبوں کے درمیان تعاون، علم کے تبادلے، پالیسی سے متعلق مکالمے اور تحقیقی نتائج کو عملی شکل دینے کو فروغ دینا تھا۔
فلیگ شپ تقریب بھارت-سوئٹزرلینڈ سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبے میں تعاون کے ارتقا کی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی، جس میں دو دہائیوں کی کامیابیوں کو مستقبل کے لیے ایک واضح لائحہ عمل کے ساتھ یکجا کیا گیا۔ ہند-سوئس تحقیقی فریم ورک اور تحقیقی نیٹ ورکس، محققین کی آمدورفت، علم کے تبادلے اور تعلیمی اداروں و صنعت کے درمیان تعاون پر مرکوز نئی پہل کے ساتھ دونوں ممالک سائنسی عمدگی، اختراع اور باہمی مواقع کی بنیاد پر قائم شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کی جانب گامزن ہیں۔



*******
U.No. 4703
(ریلیز آئی ڈی: 2319666)
وزیٹر کاؤنٹر : 7