صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

صحت و خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی ایکٹ کے بہتر نفاذ کیلئے قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا


پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی ایکٹ کے نفاذ کے ساتھ مسلسل آئی ای سی سرگرمیاں بھی جاری رہنی چاہئیں تاکہ بچیوں کو مساوی اہمیت دینے کے رجحان کو فروغ دیا جا سکے: محترمہ آرادھنا پٹنائک، ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر (این ایچ ایم)

پیدائش کے وقت قومی جنسی تناسب 1,000 مردوں کے مقابلے میں 898 خواتین سے بڑھ کر 918 ہو گیا ہے: این ایچ ایم کی ایڈیشنل سکریٹری و مشن ڈائریکٹر

اس ورکشاپ میں تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نمائندوں نے شرکت کی تاکہ قوانین کی پابندی، ڈیجیٹل گورننس اور جنسی انتخاب کے خلاف مزید سخت کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 OCT 2026 5:22PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند کی مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے آج قومی دارالحکومت میں قبل از پیدائش اور قبل از ولادت تشخیصی تکنیک (جنسی انتخاب کی ممانعت) ایکٹ، 1994 (پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی ایکٹ) کے بہتر نفاذ کے موضوع پر ایک قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ اس ورکشاپ میں تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے نمائندوں کے علاوہ وزارتِ صحت و خاندانی بہبود اور وزارتِ داخلہ کے تحت کام کرنے والے انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر (آئی 4سی) کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔

ورکشاپ میں ضابطہ جاتی تعمیل کو مضبوط بنانے، ڈیجیٹل گورننس اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینے، ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام میں ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے اور پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی ایکٹ کے نفاذ کو بہتر بنانے کے لیے ریاستی سطح کی بہترین عملی مثالوں اور طریقۂ کار کو ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

ورکشاپ کا بنیادی مقصد قوانین اور ضوابط کی مزید سختی سے پابندی یقینی بنانا، ڈیجیٹل گورننس اور کاروبار کرنے میں سہولت پیدا کرنا، ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام میں درپیش نئے چیلنجز کا حل تلاش کرنا اور پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی ایکٹ کے بہتر نفاذ کے لیے ریاستوں کے بہترین طریقۂ کار کو باہم شیئر کرنا تھا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261001172322_cb9024.jpg

کلیدی خطاب کرتے ہوئے وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی ایڈیشنل سیکریٹری اور مشن ڈائریکٹر (این ایچ ایم)، محترمہ آرادھنا پٹنائک نے پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی ایکٹ کو سختی اور مؤثر انداز میں نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ مسلسل اطلاعات، تعلیم اور ابلاغ (آئی ای سی) سے متعلق سرگرمیاں بھی جاری رہنی چاہئیں، تاکہ بچیوں کو مساوی اہمیت دینے کے رجحان کو فروغ دیا جا سکے۔

ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے پیدا ہونے والے مواقع اور چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے محترمہ پٹنائک نے کہا کہ پورٹیبل تشخیصی آلات، آن لائن پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا نے صحت کی دیکھ بھال اور معلومات تک رسائی میں نمایاں اضافہ کیا ہے، تاہم ان کا استعمال قانون کے تحت ممنوع سرگرمیوں کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ٹیکنالوجی کو صحت کی دیکھ بھال اور سماجی شمولیت کو فروغ دینے کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے اور اسے جنسی انتخاب یا جنس کی بنیاد پر امتیازی سلوک کو فروغ دینے کے لئے استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261001172332_606a8b.jpg

پیدائش کے وقت جنسی تناسب (ایس آر بی) میں بہتری کی سمت میں ہونے والی پیش رفت پر بات کرتے ہوئے محترمہ پٹنائک نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران قومی سطح پر ایس آر بی میں مسلسل بہتری آئی ہے۔ سیمپل رجسٹریشن سسٹم (ایس آر ایس) رپورٹ 2024 کے مطابق قومی ایس آر بی میں 20 پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ 2016-2014 میں ہر 1,000 مردوں کے مقابلے میں 898 خواتین سے بڑھ کر 2022-24 میں ہر 1,000 مردوں کے مقابلے میں 918 خواتین ہو گیا ہے۔ یہ بہتری پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی ایکٹ کے مؤثر نفاذ، ضابطہ جاتی نگرانی اور برادری کی سطح پر کی جانے والی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

اس ورکشاپ میں ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام سے متعلق نئے چیلنجز، خصوصاً جنسی انتخاب اور جنس کے تعین سے متعلق آن لائن اشتہارات اور مواد پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی ایکٹ کی دفعہ 22 پر منعقدہ ایک خصوصی سیشن میں ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے کردار پر زور دیا گیا، تاکہ ممنوعہ ڈیجیٹل مواد کی شناخت، اس کی نشان دہی اور اسے ہٹانے یا روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔

مباحثے کے دوران سہیوگ پورٹل کے استعمال اور ڈیجیٹل ثالثوں  کے ساتھ فعال تال میل کی ضرورت پر بھی بات ہوئی، تاکہ آن لائن خلاف ورزیوں سے نمٹا جا سکے اور اس ایکٹ کے تحت ممنوع سرگرمیوں کے لیے ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261001172339_cb0588.jpg

ریاستی/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی پورٹلز کو معیاری بنانے اور مزید مضبوط کرنے پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مباحثے کا بنیادی مرکز ضابطہ جاتی عمل، نگرانی اور قوانین کی تعمیل سے متعلق ڈیجیٹل ماڈیولز کو مربوط کرنا تھا تاکہ مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے اور اس کے ساتھ کاروبار کرنے میں آسانی کو بھی فروغ دیا جا سکے۔

تلنگانہ اور گجرات کی جانب سے شروع کیے گئے ڈیجیٹل اقدامات کے لائیو ڈیمو کے ذریعے عملی معلومات فراہم کی گئیں۔ اس سے شریک ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی فریم ورک کے تحت ڈیجیٹل گورننس کو مضبوط بنانے کے لیے ایسے قابلِ تقلید ماڈلز دیکھنے کا موقع ملا، جنہیں وہ اپنے علاقوں میں بھی اپنایا جا سکتا ہے۔

اس ورکشاپ نے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو اپنے تجربات اور اختراعی طریقۂ کار  شیئر کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم بھی فراہم کیا۔ آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ، ہریانہ، جھارکھنڈ، اوڈیشہ اور تمل ناڈو جیسے ریاستوں کے نمائندوں نے ریاستی سطح کے اقدامات اور بہترین عملی طریقے پیش کیے۔

اس تبادلۂ خیال سے ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے اور پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی ایکٹ کے مزید مؤثر نفاذ کے لیے ٹھوس اقدامات پر غور و خوض کرنے میں مدد ملی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261001172346_65f8ee.jpg

اس ورکشاپ میں وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی جوائنٹ سکریٹری (آر سی ایچ) محترمہ میرا شریواستو، وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے ایڈیشنل کمشنر (پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی) ڈاکٹر پون کمار، وزارتِ داخلہ کے تحت انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر (آئی4سی) کے اعلیٰ حکام، اور تمام ریاستوں و مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے سینئر افسران موجود تھے۔

***

ش ح۔ ک ا۔ ن ع

U.NO.4660


(ریلیز آئی ڈی: 2319318) وزیٹر کاؤنٹر : 15
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी