سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

روایتی علم(ٹی کے)،املاک  دانش کے حقوق (آئی پی آر)، عوامی حقوق اور ثقافتی ورثے کے شعبوں میں تحقیق اور صلاحیت سازی کے لیے نالندہ یونیورسٹی اورسی ایس آئی آر-روایتی علمی ڈجیٹل لائبریری(سی ایس آئی آر-ٹی کے ڈی ایل)یونٹ کے درمیان تعاون

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 OCT 2026 9:26PM by PIB Delhi

نالندہ یونیورسٹی(این یو) اورسی ایس آئی آر–روایتی علمی ڈجیٹل لائبریری(سی ایس آئی آر-ٹی کے ڈی ایل)یونٹ نے آج ایک مفاہمت نامہ(ایم او یو)  پر دستخط کیے، جس کا مقصد روایتی علم(ٹی کے)، دانشورانہ املاک کے حقوق(آئی پی آر)، عوامی حقوق اور ثقافتی ورثے، بشمول روایتی ثقافتی اظہار (ٹی سی ایز) کے شعبوں میں تعلیمی، تحقیقی اور صلاحیت سازی کے لیے ایک منظم تعاون کا قیام ہے۔ مفاہمت نامے پر نالندہ یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر سچن چترویدی اور سی ایس آئی آر-ٹی کے ڈی ایل یونٹ کی سائنس دان-ایچ اور سربراہ ڈاکٹر وشواجننی جے ستیگیری نے نالندہ یونیورسٹی کے فیکلٹی اراکین اور سی ایس آئی آر-ٹی کے ڈی ایل یونٹ کے سینئر افسران کی موجودگی میں دستخط کیے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261001212716_4dffe4.jpg

اس تعاون کے ذریعے نالندہ یونیورسٹی اورسی ایس آئی آر-ٹی کے ڈی ایل یونٹ روایتی علم(ٹی کے)، دانشورانہ املاک کے حقوق (آئی پی آر) اور ثقافتی ورثے، بشمول بہار کے روایتی ثقافتی اظہار(ٹی سی ایز) سے متعلق مشترکہ مفادات کے امور سے نمٹنے کے لیے اپنی اپنی صلاحیتوں اور تجربات کو یکجا کریں گے۔ تعاون کے تحت تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں، علمی تبادلے، تربیت، طلبا کی انٹرن شپ، مطالعاتی و تبادلہ دوروں اور نیٹ ورکنگ سمیت دیگر سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نالندہ یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر چترویدی نے روایتی علم سے متعلق ی کے ڈی ایل کے لیے سی ایس آئی آر کی اہم کوششوں اور بھارت کے روایتی علم کے غلط استعمال کو روکنے میں اس کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تعاون روایتی علم اور روایتی ثقافتی اظہار(ٹی سی ایز) کی شناخت، دستاویز بندی اور تشہیر کی کوششوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دانشورانہ املاک کے حقوق  (آئی پی آر ایس) کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کرنے اور نوجوان نسل کو اس موضوع پر تربیت دینے میں مدد دے گا۔ انہوں نے برادریوں کے ماحولیاتی علم، لوک روایت، موسیقی اور دیگر موضوعات سے متعلق روایتی علم کو منظم طریقے سے دستاویزی شکل دینے، محفوظ کرنے اور عام کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ روایتی علم تک اس انداز میں رسائی فراہم کی جا سکتی ہے جس سے علم کے حامل افراد اور برادریوں کے مفادات کا تحفظ ہو، نیز  ہندوستانی علمی نظام(آئی کے ایس) میں شواہد پر مبنی تحقیق و ترقی(آر اینڈ ڈی) کے لیے دونوں اداروں کے عزم کو تقویت ملے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی کے ڈی ایل کے ساتھ یہ تعاون روایتی علم کو عصری تعلیمی تحقیق، دستاویز بندی، دانشورانہ املاک سے متعلق بیداری اور بین شعبہ جاتی علمی تحقیق کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔

سی ایس آئی آر-ٹی کے ڈی ایل یونٹ کی سربراہ ڈاکٹر ستیگیری نے کہا کہ روایتی علم سے متعلق تمام امور میں، خواہ وہ پالیسیاں ہوں یا ٹی کے ڈی ایل  جیسے اقدامات، بھارت عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدیم نالندہ یونیورسٹی اداروں کے درمیان قومی اور بین الاقوامی، دونوں سطحوں پر تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ سی ایس آئی آر-ٹی کے ڈی ایل یونٹ اور نئی نالندہ یونیورسٹی کے درمیان یہ تعاون نالندہ کے ماضی کے شاندار مقام کو ایک تعلیمی اور تحقیقی مرکز کے طور پر دوبارہ فعال کرنے کی سمت میں اہم قدم ثابت ہوگا، جس میں  ہندوستان اور بالخصوص بہار کے ثقافتی ورثے پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261001212724_1923fe.jpg

فریقین کو یقین ہے کہ نالندہ یونیورسٹی اور سی ایس آئی آر-ٹی کے ڈی ایل یونٹ کے درمیان یہ تعاون روایتی علم (ٹی کے)، دانشورانہ املاک کے حقوق (آئی پی آر) اور ثقافتی ورثے سے متعلق قومی تعلیمی پالیسی(این ای پی)- 2020اور قومی دانشورانہ املاک پالیسی-2016 کے مقاصد کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261001212735_17c2d4.jpg

نالندہ یونیورسٹی کے بارے میں:

نالندہ یونیورسٹی کو وزارت خارجہ، حکومت ہند کے زیرسرپرستی، بہار کے ضلع نالندہ کے راج گیر میں‘قومی اہمیت’ کی بین الاقوامی یونیورسٹی کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔ نالندہ یونیورسٹی کے مقاصد، اس کے قدیم ورثے کی اہمیت اور مضبوط بین الاقوامی تعاون سے مربوط ہیں اور ان میں فکری، فلسفیانہ، تاریخی اور روحانی علوم سمیت دیگر شعبوں کا مطالعہ شامل ہے۔ نالندہ یونیورسٹی کی بحالی کا مقصد علاقائی تفہیم اور ایک دوسرے کے ورثے و تاریخ کے باہمی اعتراف کو فروغ دینا اور ایک ایسی علمی برادری تشکیل دینا ہے جہاں طلبہ، اسکالرز، محققین اور ماہرین تعلیم مل کر کام کر سکیں اور اس روحانیت کی علامت بنیں جو پوری انسانیت کو متحد کرتی ہے۔

ٹی کے ڈی ایل کے بارے میں:

ٹی کے ڈی ایل ڈیٹا بیس اپنی نوعیت کا دنیا کا پہلا ڈیٹا بیس ہے، جسے حکومت ہند نے 2001 میں سی ایس آئی آر اور وزارت آیوش کے باہمی تعاون سے قائم کیا تھا۔ ٹی کے ڈی ایل کا بنیادی مقصد  ہندوستانی روایتی علم(ٹی کے) پر غلط طور پر پیٹنٹ جاری کیے جانے کی روک تھام اور ملک کے ورثے کے غلط استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ فی الحال ٹی کے ڈی ایل میں ہندوستانی نظام طب، جیسے آیوروید، یونانی، سدھ اور سووا رِگپا، نیز روایتی متون میں موجود یوگا سے متعلق 5.2 لاکھ سے زیادہ فارمولیشنز اور طریق ہائے علاج کی معلومات موجود ہیں۔ مختلف زبانوں اور موضوعاتی شعبوں سے حاصل روایتی علم کی معلومات کو جدید اصطلاحات سے مربوط کرتے ہوئے قدر افزا معلومات کی شکل میں مرتب کیا گیا ہے۔

ٹی کے ڈی ایل  میں موجود معلومات کو انگریزی، جرمن، فرانسیسی، جاپانی اور ہسپانوی سمیت پانچ بین الاقوامی زبانوں میں ڈجیٹل شکل میں پیش کیا جاتا ہے، جس سے پیٹنٹ جانچ کنندگان کے لیے اس کے استعمال میں زبان اور فارمیٹ سے متعلق رکاوٹیں دور ہوتی ہیں۔ فی الحال، ٹی کے ڈی ایل ڈیٹا بیس عدم افشا معاہدوں(این ڈی اے) کے ذریعے 18 بین الاقوامی پیٹنٹ دفاتر کو دستیاب ہے۔

روایتی علم کے دفاعی تحفظ کے شعبے میں ٹی کے ڈی ایل عالمی معیار کی حیثیت رکھتا ہے اور اپنے ورثے کے کسی بھی ممکنہ غلط استعمال کے خلاف  ہندوستان کے مفادات کے تحفظ میں کامیاب رہا ہے۔ اس کا اثر نمایاں رہا ہے اور دنیا بھر میں ٹی کے ڈی ایل ڈیٹا بیس سے پیش کیے گئے سابقہ علم (پریئر آرٹ) کے شواہد کی بنیاد پر 375 سے زیادہ پیٹنٹ درخواستیں منسوخ، مسترد، ترمیم شدہ، واپس یا ترک کی جا چکی ہیں۔

 

*****

(ش ح –ظ الف- ش ہ ب)

UR No. 4632


(ریلیز آئی ڈی: 2319078) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी