الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

’’ سیاق و سباق اہم ہے، دیکھ بھال اہم ہے، ہمدردی اہم ہے ‘‘ : ایم این ایس صد سالہ سائنٹفک کانفرنس میں بھاشنی کے سی ای او کا اظہار خیال


نرسنگ کے شعبے میں ڈیجیٹل ایجادات پر سائنسی کانفرنس کا انعقاد، جو ایم این ایس کے سو سالہ جشن کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر کیا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 OCT 2026 8:06PM by PIB Delhi

ملٹری نرسنگ سروس (ایم این ایس) نے دہلی کینٹ کے مانیکشا سینٹر میں اپنے سو سالہ جشن 2026 کی اختتامی تقریب کے ایک حصے کے طور پر 'نرسنگ پریکٹس میں ڈیجیٹل ایجادات: ہمدردانہ دیکھ بھال کے ساتھ ٹیکنالوجی کا ہم آہنگ امتزاج' کے موضوع پر ایک سائنسی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس کانفرنس نے سینئر قیادت، نرسنگ کے ماہرین، صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد اور ٹیکنالوجی کے شراکت داروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا تاکہ صحت کی خدمات کی فراہمی اور نرسنگ کے شعبے کو مضبوط بنانے میں ڈیجیٹل جدت طرازی کے ابھرتے ہوئے کردار پر غور و خوض کیا جا سکے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261002200748_9639cd.jpg

بھاشنی کے سی ای او، شری امیتابھ ناگ کو اس سائنسی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں بطورِ مہمانِ خصوصی مدعو کیا گیا تھا، جہاں انہوں نے 'صحت و تندرستی کا نیٹ ورک: ہیلتھ کیئر کے منظر نامے کو بدلنے میں ڈیجیٹل ہیلتھ کے مواقع کا دائرہ کار' کے عنوان پر اپنا کلیدی خطبہ پیش کیا۔

آرمی چیف (چیف آف دی آرمی اسٹاف) جنرل دھیرج سیٹھ، پی وی ایس ایم، یو وائی ایس ایم، اے وی ایس ایم، اس افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ اس پروگرام کے دوران ایم این ایس ڈائری اور نرسنگ ریسرچ کمپینڈیم کے باقاعدہ اجرا کے ساتھ ساتھ 'ڈیجیٹل پلس آف نرسنگ: کنیکٹنگ ٹیکنالوجی، ٹرانسفارمنگ کیئر' کے عنوان سے سائنسی یادگاری جریدے کا ای-اجرا بھی عمل میں لایا گیا۔

اپنے کلیدی خطبے میں، شری ناگ نے صحت عامہ کے شعبے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی انقلابی صلاحیتوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنے کے لیے جو مریضوں اور ہیلتھ کیئر کے پیشہ ور افراد کی ضروریات کے مطابق قابلِ رسائی، درست اور فوری جواب دینے والی ہو، زبان، سیاق و سباق اور ہیلتھ کیئر سے متعلق مخصوص ڈیٹا کا ہونا لازمی ہے۔

انہوں نے بھاشنی کے چار ستونوں اور صحت عامہ کے شعبے میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی، جس میں آواز، ترجمہ اور زبان سے متعلق دیگر ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ یہ ٹیکنالوجیز بات چیت کی رکاوٹوں کو کم کر سکتی ہیں اور بھارت کے متنوع لسانی منظر نامے میں ہیلتھ کیئر کے نظام کو ہر ایک کے لیے زیادہ جامع بنا سکتی ہیں۔

انہوں نے صحت عامہ پر مرکوز آرٹیفیشل انٹیلی جنس سسٹمز کے بنیادی لسانی وسائل کے طور پر طبی اور نرسنگ کی اصطلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ اگرچہ طبی اصطلاحات میں یکسانیت اور تسلسل کا ہونا ضروری ہے، لیکن مریض اکثر اپنی علامات کو روزمرہ کی عام زبان میں بیان کرتے ہیں، اور ایک ہی بیماری کا اظہار مختلف زبانوں، خطوں اور سیاق و سباق کے لحاظ سے الگ الگ انداز میں کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے، اے آئی سسٹمز کو اس تنوع کو درست طریقے سے سمجھنے کے لیے ہیلتھ کیئر سے متعلق مخصوص لسانی ڈیٹا کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک بہتر طور پر تیار کردہ اصطلاحات کا مجموعہ طبی اصطلاحات کو روزمرہ کی عام زبان سے جوڑ سکتی ہے، جس سے ہیلتھ کیئر کے پیشہ ور افراد، مریضوں اور اے آئی سسٹمز کے درمیان رابطے کی ایک مشترکہ لسانی تہہ تیار ہو جاتی ہے۔

جناب ناگ نے نگہداشت کی فراہمی میں زبان کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ چونکہ صحت عامہ کے شعبے میں بات چیت مختلف لسانی اور سماجی سیاق و سباق پر محیط ہوتی ہے، اس لیے ڈیجیٹل ہیلتھ ٹیکنالوجیز کے مؤثر استعمال اور نفاذ کے لیے زبان، ڈیٹا سیٹس، ڈیجیٹل خواندگی اور طبی درستگی بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔

انہوں نے صحت عامہ میں 'بھاشنی ڈومین انوویشن چیلنج' کے بارے میں بات کی، جو ہیلتھ کیئر کمیونیکیشن میں درپیش عملی چنوتیوں کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی حل تلاش کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ سامنے لائے گئے حلوں میں او پی ڈی نسخوں کے لیے ایک آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے لیس وائس ٹو ٹیکسٹ ٹول بھی شامل تھا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح آواز اور زبان کی ٹیکنالوجیز طبی کام کے طریقہ کار میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں اور زیادہ مؤثر دستاویز سازی کو ممکن بنا سکتی ہیں۔ انہوں نے ٹیکنالوجی اور ہیلتھ کیئر کی فراہمی کے عملی حقائق کے درمیان فرق کو ختم کرنے کے لیے 'وائس فرسٹ' اور کثیر لسانی ٹیکنالوجیز کی صلاحیتوں کا ذکر کیا، خاص طور پر وہاں جہاں گفتگو کو طبی اصطلاحات اور مریضوں کی استعمال کردہ عام زبان کے درمیان بغیر کسی رکاوٹ کے منتقل ہونا ہوتا ہے

ہمدردانہ حفظانِ صحت میں زبان کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے جناب ناگ نے کہا، 'سیاق و سباق اہم ہے، دیکھ بھال اہم ہے، ہمدردی اہم ہے، اور جب ہم لوگوں سے ایسی زبان میں بات چیت کرتے ہیں جسے وہ سمجھتے ہیں، تو ہیلتھ کیئر میں یہ تینوں چیزیں اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔'

سائنسی کانفرنس میں ہونے والی گفتگو نرسنگ، ہیلتھ کیئر، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے بڑھتے ہوئے باہمی ملاپ کی عکاس تھی، جبکہ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کو مریضوں کی دیکھ بھال کے انسانی پہلوؤں سے جوڑ کر رکھنا بے حد ضروری ہے۔

ایم این ایس کی سو سالہ سائنسی کانفرنس میں بھاشنی کے سی ای او کی شرکت نے ایسے ڈیجیٹل ہیلتھ سلوشنز تیار کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا جو بھارت کے متنوع لسانی ماحول کو تسلیم کرتے ہیں، اور ایسی ٹیکنالوجیز کے ذریعے ہیلتھ کیئر کے پیشہ ور افراد اور مریضوں کی مدد کرتے ہیں جو قابلِ رسائی، سیاق و سباق سے ہم آہنگ اور حقیقی دنیا کی مواصلاتی ضروریات کے مطابق ڈیزائن کی گئی ہوں۔

اس سائنسی کانفرنس نے ملٹری نرسنگ سروس کے سو سالہ جشن کی اختتامی تقریبات کے ایک اہم حصے کی شکل اختیار کی، جو نرسنگ کی ایک صدی پر محیط مخلصانہ خدمات کی یاد منانے اور ٹیکنالوجی سے لیس ہیلتھ کیئر کے مسلسل بڑھتے ہوئے ماحول میں نرسنگ کے ابھرتے ہوئے کردار کو تسلیم کرنے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔

ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن (ڈی آئی بی ڈی)کے بارے میں

ڈیجیٹل انڈیا کارپوریشن (ڈی آئی سی)، الیکٹرانکس اور اطلاعاتی تکنالوجی کی وزارت(ایم ای آئی ٹی وائی) کے تحت کام کرنے والا 'ڈیجیٹل انڈیا بھاشنی ڈویژن' (ڈی آئی بی ڈی)، آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے لیس کثیر لسانی ڈیجیٹل شمولیت کے لیے بھارت کا قومی پلیٹ فارم ہے۔ بھاشنی 800 سے زائد سرکاری ویب سائٹس کو سپورٹ فراہم کرتا ہے، اب تک مجموعی طور پر 9 ارب سے زیادہ اے آئی انفیرنسز کو ممکن بنا چکا ہے، روزانہ 24 ملین سے زیادہ اے انفیرنسز پر عمل درآمد کرتا ہے، اور 36 بھارتی تحریری زبانوں، 23 بھارتی صوتی زبانوں اور 35 بین الاقوامی زبانوں کو سپورٹ کرتا ہے، جس سے لینگویج کے ذریعے ڈیجیٹل خدمات تک رسائی کو وسیع تر بنایا جا رہا ہے۔

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:4565


(ریلیز آئی ڈی: 2318560) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी