قومی انسانی حقوق کمیشن
قومی انسانی حقوق کمیشن، بھارت نے ہریانہ کے ضلع پانی پت میں حفاظتی سامان فراہم کیے بغیر 'بلیچنگ یونٹس' میں کام کرنے والے مزدوروں کے کیمیکل کی وجہ سے جل کر شدید طور پر زخمی ہونے کی اطلاعات پر ازخود نوٹس لیا ہے
رپورٹ کے مطابق، یہ کارخانے آلودگی کنٹرول بورڈ سے لازمی این او سی حاصل کیے بغیر کام کر رہے ہیں
کمیشن نے پانی پت کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 OCT 2026 7:31PM by PIB Delhi
قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی)، بھارت نے ایک میڈیا رپورٹ پر ازخود نوٹس لیا ہے جس کے مطابق ہریانہ کے ضلع پانی پت میں آلودگی کنٹرول بورڈ سے لازمی این او سی حاصل کیے بغیر بڑی تعداد میں 'بلیچنگ یونٹس' چل رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو جوتے، دستانے یا کوئی دوسرا حفاظتی سامان فراہم نہیں کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ براہِ راست خطرناک کیمیکل کی زد میں آ رہے ہیں اور اس سے ان کی جلد کی الرجی کے علاوہ ہاتھ اور پاؤں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
کمیشن نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ اگر نیوز رپورٹ کے مندرجات سچے ہیں، تو یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے سنگین مسائل کو جنم دیتے ہیں۔ اسی مناسبت سے، اس نے پانی پت کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
30 ستمبر 2026 کو شائع ہونے والی میڈیا رپورٹ کے مطابق، ان بلیچنگ یونٹس میں ہائیڈروکلورک ایسڈ اور سوڈیم ہائپوکلورائٹ جیسے کیمیکلز کے استعمال کی وجہ سے، ان کارخانوں کے کم از کم 10 سے 12 مزدور روزانہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے شدید زخموں کے علاج کے لیے سول ہسپتال پہنچتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان یونٹس میں کیمیکل سے آلودہ گندے پانی کو ٹھکانے لگانے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے، جسے براہِ راست گڑھوں میں بہایا جا رہا ہے۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:4486
(ریلیز آئی ڈی: 2317986)
وزیٹر کاؤنٹر : 9