صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جناب جےپی نڈا نے نئی دہلی میں ورلڈ کانگریس آف گیسٹرو اینٹرولوجی2026 سے خطاب کیا

ہندوستان جامع اور سب کو شامل کرنے والی صحت کی دیکھ بھال کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے، جس میں روک تھام اور صحت کے فروغ پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے:مرکزی وزیر صحت جناب جےپی نڈا

اے بی-پی ایم جے اے وائی کے تحت 600 ملین سے زائد مستفیدین کا احاطہ، ہر خاندان کو5 لاکھ روپئے کا صحت بیمہ کی سہلوت: مرکزی وزیر صحت جناب جےپی نڈا

ہندوستان میں1990 اور 2023 کے درمیان زچگی کی شرح اموات میں 86فیصد کمی ریکارڈ کی گئی: مرکزی وزیر صحت جناب جےپی نڈا

مرکزی وزیر صحت جناب جےپی نڈا نے وی سی او جی2026 میں صحت کی دیکھ بھال کے لیے حکومت کے جامع نقطۂ نظر کو اجاگر کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 SEP 2026 9:07PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جناب جےپی نڈا نے آج نئی دہلی میں ورلڈ کانگریس آف گیسٹرواینٹرولوجی (وی سی او جی2026) سے خطاب کیا۔ ہندوستان میں پہلی بار منعقد ہونے والی یہ چار روزہ بین الاقوامی کانگریس کا آج آغاز ہوا جو3 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گی۔ جس میں ہندوستان اور دنیا بھر سے ممتاز ماہرین، معالجین، محققین اور صحت کی دیکھ بھال سے وابستہ پیشہ ور افراد ایک جگہ جمع ہو رہے ہیں۔

 

“معدے کی صحت میں تبدیلی، فطرت کا تحفظ” کے موضوع کے ساتھ وسی او جی 2026 کی مشترکہ میزبانی انڈین سوسائٹی آف گیسٹرواینٹرولوجی(آئی ایس جی) اور ورلڈ گیسٹرواینٹرولوجی آرگنائزیشن(وی جی او) کر رہے ہیں۔ جبکہ انڈین نیشنل ایسوسی ایشن فار اسٹڈی آف دی لیور(آئی این اے ایس ایل)، کرونز اینڈ کولائٹس فاؤنڈیشن انڈیا(سی سی ایف آئی)، انڈین پینکریاز کلب(آئی پی سی) اور انڈین نیوروگیسٹرواینٹرولوجی اینڈ موٹیلیٹی ایسوسی ایشن(آئی این ایم اے) تعاون کر رہے ہیں۔ کانگریس جدید ترین سائنس، طبی عمل، تحقیق، جدت اور کثیر شعبہ جاتی تبادلے کے ذریعے معدے کی صحت میں پیش رفت پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، مرکزی وزیر صحت جناب جے۔پی۔ نڈا نے صحت کی دیکھ بھال کے لیے ایک جامع اور ہمہ گیر نقطۂ نظر اپنانے کی جانب حکومت کی کوششوں کو اجاگر کیا، جس میں علاجی، بحالی اور تسکینی نگہداشت کے ساتھ ساتھ احتیاطی اور صحت کے فروغ پر مبنی نگہداشت پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔

جناب نڈا نے کہا کہ‘وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں2017 کی قومی صحت پالیسی نے صحت کی دیکھ بھال کے لیے ایک جامع، ہمہ گیر اور شمولیتی نقطۂ نظر کی جانب ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کی، جس میں احتیاطی، صحت کے فروغ، علاجی اور بحالی کے پہلو شامل ہیں۔ پالیسی کے فریم ورک کے تحت، حکومت نگہداشت کی تمام سطحوں پر صحت کے نظام کو مضبوط بنا رہی ہے۔ جس میں بنیادی، ثانوی اور ثالثی صحت کی دیکھ بھال کے درمیان بہترین توازن حاصل کرنے اور نگہداشت کی مختلف سطحوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی صحت کی دیکھ بھال کو مضبوط بنانے اور احتیاطی اور صحت کے فروغ کی خدمات کو فروغ دینے میں آیوشمان آروگیہ مندروں کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 1.86 لاکھ آیوشمان آروگیہ مندروں کا نیٹ ورک لوگوں کے لیے رابطے کے ایک اہم مرکز کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے اور جامع بنیادی صحت کی دیکھ بھال کو برادریوں کے قریب لانے میں مدد کر رہا ہے۔

 جناب نڈا نے اس بات پر زور دیا کہ غیر متعدی امراض (این سی ڈیز) کی اسکریننگ احتیاطی صحت کی دیکھ بھال کا ایک اہم ستون ہے۔ آیوشمان آروگیہ مندروں کے ذریعے 30 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد میں ہائپرٹینشن، ذیابیطس اور عام کینسرز، بشمول منہ، چھاتی اور سروائیکل کینسرز کے لیے آبادی پر مبنی اسکریننگ کی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک ہائپرٹینشن کے لیے 420 ملین سے زیادہ، ذیابیطس کے لیے 420 ملین، منہ کے کینسر کے لیے 360 ملین، چھاتی کے کینسر کے لیے 170 ملین اور سروائیکل کینسر کے لیے 90 ملین سے زیادہ اسکریننگز کی جا چکی ہیں۔

 

مرکزی وزیر صحت نے صحت مند غذائی عادات اور فعال طرزِ زندگی کو فروغ دینے کے لیے حکومت کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے ایف ایس ایس اے آئی کی’ایٹ رائٹ انڈیا‘ مہم اور ’پوشن ماہ‘ جیسی پہلوں کا حوالہ دیا، جن کا مقصد صحت مند غذائی عادات اور جسمانی سرگرمی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے موٹاپے سے نمٹنے اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینے کی کوششوں کے تحت وزیر اعظم کی جانب سے شہریوں سے تیل کے استعمال میں کمی لانے کی اپیل کا بھی ذکر کیا۔

زچگی اور بچوں کی صحت کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے، شری نڈا نے بتایا کہ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق ادارہ جاتی زچگی کی شرح 16-2015میں 79 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 90 فیصد ہو گئی ہے۔ انہوں نے زچگی اور بچوں کی صحت کے نتائج میں بہتری کا بھی حوالہ دیا اور بتایا کہ 1990 سے 2023 کے درمیان ہندوستان میں زچگی کی شرح اموات میں 86 فی صد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ متعلقہ مدت کے دوران پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات میں 79 فی صد اور نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں 70 فی صد کمی ہوئی۔

جناب نڈا نے مزید حکومت کی ان کوششوں کو اجاگر کیا جن کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مالی مشکلات لوگوں خصوصاً معاشی طور پر کمزور اور حاشیے پر موجود طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد، کو معیاری صحت کی دیکھ بھال تک رسائی سے محروم نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ آیوشمان بھارت–پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا(اے بی –پی ایم جے اے وائی) ستمبر 2018 میں اسپتال میں داخلے کے خلاف مالی تحفظ فراہم کرنے اور ضروری صحت کی دیکھ بھال تک رسائی یقینی بنانے کے مقصد سے شروع کی گئی تھی۔

وزیرصحت جناب نڈا نے بتایا کہ اے بی –پی ایم جے اے وائی ہر خاندان کو سالانہ5 لاکھ روپئے کی صحت کوریج فراہم کرتی ہے اور اس کی کوریج 600 ملین سے زیادہ مستفیدین تک پھیل چکی ہے۔ جبکہ اس اسکیم کو 70 سال اور اس سے زیادہ عمر کے تقریباً 60 ملین بزرگ شہریوں تک بھی توسیع دی گئی ہے، خواہ ان کی معاشی حیثیت کچھ بھی ہو۔

انہوں نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت 13 کروڑ سے زیادہ علاج فراہم کیے جا چکے ہیں، جن پر2 لاکھ کروڑ روپئے سے زیادہ کے صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں شہریوں کے لیے معیاری صحت کی دیکھ بھال کو مزید قابلِ رسائی بنانے کے لیے حکومت کی کوششوں کے پیمانے کی عکاسی کرتی ہیں۔

انہوں نے ادویات اور طبی آلات کو زیادہ قابلِ استطاعت بنانے کے لیے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی پریوجنا کے تحت معیاری جنیرک ادویات برانڈڈ ادویات کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم قیمتوں پر دستیاب کرائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک بھر میں20,149 سے زیادہ جن اوشدھی کیندر عوام کی خدمت کر رہے ہیں اور اس اقدام کے ذریعے شہریوں نے اپنی ادویات کے اخراجات میں مجموعی طور پر تقریباً 45,000 کروڑ روپئے کی بچت کی ہے۔

 جناب نڈا نے کہا کہ ان اقدامات نے گھرانوں پر صحت کی دیکھ بھال کے مالی بوجھ کو کم کرنے میں تعاون کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کل صحت کے اخراجات میں جیب سے کیے جانے والے اخراجات کا تناسب 15-2014 میں 62 فیصد سے کم ہو کر 22-2021میں 43.4 فیصد رہ گیا۔ جو صحت کی دیکھ بھال میں زیادہ مالی تحفظ کی جانب پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگرچہ یہ کامیابیاں ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ تاہم ابھرتے ہوئے صحت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل تحقیق اور جدت بدستور ضروری ہیں۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ معدہ و آنتوں کے امراض کے شعبے میں کام کرنے والے ڈاکٹر اور محققین بڑے معدی و آنتوں کے انفیکشنز پر قابو پانے اور معدہ و آنتوں اور جگر کی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے اختراعی حل پیش کریں گے۔

کانگریس کے موضوع“معدہ و آنتوں کی صحت میں تبدیلی، فطرت کا تحفظ،” کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی وزیر صحت نے کہا کہ موجودہ تناظر میں یہ موضوع انتہائی موزوں ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ دنیا بھر سے سرکردہ ماہرین کے درمیان ہونے والی غور و خوض سے نظامِ ہاضمہ اور جگر کی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے نئے طریقوں اور حل کی نشاندہی میں مدد ملے گی۔

 جناب نڈا نے کہا کہ وی سی او جی جیسے بین الاقوامی سائنسی فورمز علم کے تبادلے، مختلف صحت کی دیکھ بھال کے نظاموں سے سیکھنے اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے قیمتی مواقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوان ڈاکٹروں کے لیے ایسے پلیٹ فارمز کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا، جو معدے کے امراض کے شعبے میں تحقیق، طبی عمل اور جدت کی اگلی نسل کو آگے بڑھائیں گے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر جناب وزیر صحت جناب نڈا نے تمام مندوبین کے لیے کامیاب اور نتیجہ خیز کانگریس کی خواہش کا اظہار کیا اور قومی و بین الاقوامی شرکاء کو دعوت دی کہ وہ چار روزہ تقریب کے دوران علم، تجربات اور خیالات کے تبادلے کے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

اس موقع پر جناب جے پی نڈا نے شعبے کے ممتاز ماہرین کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز پیش کیے اور معدے کے امراض کے شعبے میں ان کی نمایاں خدمات اور مریضوں کی نگہداشت، تحقیق اور طبی عمل کو آگے بڑھانے میں ان کے کردار کو تسلیم کیا۔

 وی سی او جی2026 دنیا بھر سے صحت کی دیکھ بھال کے شعبے سے وابستہ متنوع پیشہ ور افراد کو یکجا کرتا ہے۔ جن میں معدے کے ماہرین، جگر کے ماہرین، لبلبے کے ماہرین، اینڈواسکوپسٹ، معدے اور آنتوں کے سرجن، غذائی ماہرین، نرسیں، ٹیکنالوجسٹس اور متعلقہ صحت کی دیکھ بھال کے پیشہ ور افراد شامل ہیں۔ مختلف تخصصات سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد کی شرکت علم، تجربے اور بہترین طریقہ کار کے تبادلے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

کانگریس عالمی معدے کی تحقیق میں بھارت کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ جس میں وبائیات، رہنما اصولوں اور ترجماتی طب کے شعبے شامل ہیں۔ یہ پلیٹ فارم بھارتی اور بین الاقوامی ماہرین کو تحقیقی نتائج، طبی تجربات اور معدے کی صحت کی دیکھ بھال میں ابھرتے ہوئے طریقہ کار کا تبادلہ کرنے کے قابل بناتا ہے۔

سائنسی پروگرام میں بین الاقوامی اور قومی ماہرین کی شرکت شامل ہے اور اس میں سائنسی اجلاس، لیکچرز، مباحثے، ورکشاپس، براہ راست مظاہرے اور خلاصہ جات کی پیشکشیں شامل ہیں۔ یہ پروگرام صنعت اور ٹیکنالوجی کے شراکت داروں کے ساتھ تعامل کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے، جس سے معدے کی صحت کی دیکھ بھال میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور اختراعات پر تبادلۂ خیال ممکن ہوتا ہے۔

کانگریس معدے کے امراض اور متعلقہ شعبوں میں علم کے تبادلے، تعاون اور جدت کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ یہ ہندوستانی صحت کی دیکھ بھال کے پیشہ ور افراد، محققین اور اداروں کو بین الاقوامی طبی برادری کے ساتھ رابطہ قائم کرنے اور اس شعبے میں عالمی سائنسی مباحثوں میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔

ہندوستان میں پہلی مرتبہ ورلڈ کانگریس آف گیسٹرواینٹرولوجی کی میزبانی ملک کے عالمی معدے کی برادری کے ساتھ روابط میں ایک اہم سنگ میل ہے اور بین الاقوامی سائنسی شراکت داریوں اور صحت کی دیکھ بھال میں کثیر شعبہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

پروفیسرنکھل ٹنڈن، ڈائریکٹرایمس، پروفیسراجے کمار سود، حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر ڈاکٹر کیرولینا اولانو، صدرڈبلیو جی او ڈاکٹر گووند مکھاریا، چیئرمین لوکل آرگنائزنگ کمیٹی(ڈبلیو سی او جی،ایل او سی) ڈاکٹر میتھیو فلپ، سیکریٹری جنرل آ ئی ایس جی بھی تقریب میں موجود تھے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

 

 

ش ح۔م ح۔ف ر

U- 4422

                          


(ریلیز آئی ڈی: 2317487) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी