ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

این بی اے  کی جانب سےکل 23ویں یوم تاسیس پر رسائی اور فوائد کی تقسیم کے شعبے میں اہم پیش رفت پیش


حیاتیاتی وسائل تک رسائی اور فوائد کی تقسیم کے تحت 278 کروڑ روپے سے زیادہ جاری کیا گیا؛ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور سماجی بہبود کے لیے 200 کروڑ روپے سے زیادہ تقسیم کیے گئے


پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 SEP 2026 9:13PM by PIB Delhi

نیشنل بائیو ڈائیورسٹی اتھارٹی (این بی اے) کل یکم اکتوبر 2026 کو اپنا 23واں یوم تاسیس منائے گی۔ اس موقع پر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور مقامی برادریوں کے لیے حیاتیاتی وسائل تک رسائی اور فوائد کی تقسیم (اے بی ایس) کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے شعبے میں اہم پیش رفت کو اجاگر کیا جائے گا۔ 2008 سے اب تک این بی اے نے اے بی ایس کے تحت 278 کروڑ روپے سے زیادہ جاری کیے ہیں اور ملک بھر میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور برادریوں، کسانوں، اداروں اور دیگر مستحقین کے فائدے کے لیے 200 کروڑ روپے سے زیادہ تقسیم کیے ہیں۔ یہ پیش رفت بھارت کے اے بی ایس نظام کو مستحکم کرنے اور حیاتیاتی وسائل کے استعمال کو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور فوائد کی منصفانہ تقسیم سے مربوط کرنے کی اس کی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے۔ بھارت اے بی ایس کو عملی شکل دینے میں ایک نمایاں ملک کے طور پر ابھرا ہے۔ اس کے لیے حیاتیاتی تنوع قانون، 2002 کے مطابق تین سطحی ادارہ جاتی نظام قائم کیا گیا ہے، جس میں قومی سطح پر این بی اے، ریاستی اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی سطح پر ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز (ایس بی بی) اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حیاتیاتی تنوع کونسلیں (یو ٹی بی سی) اور مقامی سطح پر حیاتیاتی تنوع انتظامی کمیٹیاں (بی ایم سی) شامل ہیں۔

این بی اے کے کل 23ویں یوم تاسیس کے موقع پر یہ پیش رفت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ اے بی ایس حیاتیاتی تنوع کی قدر کو تحفظ کی عملی سرگرمیوں اور برادریوں کے فوائد میں تبدیل کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ اس کے اثرات مستفید ہونے والوں کے ایک وسیع نیٹ ورک میں بھی نظر آتے ہیں۔ این بی اے کی جانب سے تقسیم کیے گئے 200 کروڑ روپے سے زیادہ کے فنڈ سے ملک بھر میں 10,500 سے زیادہ بی ایم سی، 28 ایس بی بی، 7 یو ٹی بی سی، 6 محکمہ جنگلات اور 58 تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیوں کو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، پائیدار استعمال، تحقیق، صلاحیت سازی اور برادری پر مرکوز سرگرمیوں میں مدد ملی ہے۔ یکم ستمبر 2025 سے 31 اگست 2026 کے درمیان این بی اے کو اے بی ایس کے تحت 12.93 کروڑ روپے موصول ہوئے اور ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، اداروں، کسانوں، مقامی برادریوں اور دیگر شناخت شدہ مستحقین کو 132.01 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔ ان رقوم میں پہلے کی وصولیوں سے جمع شدہ اے بی ایس کی رقم بھی شامل تھی، جس سے تحفظ اور روزگار سے متعلق مختلف نوعیت کے اقدامات کے لیے مدد فراہم کرنا ممکن ہوا۔

اے بی ایس نظام میں مختلف النوع حیاتیاتی وسائل شامل ہیں، جن میں زرعی اور باغبانی فصلیں، نباتاتی جینیاتی وسائل، ادویاتی اور خوشبودار پودے، مویشیوں کے جینیاتی وسائل، ریڈ سینڈرز اور خوردبینی جاندار شامل ہیں۔ بیج، آیوش، ادویات، غذائی معاون مصنوعات، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، کاسمیٹکس، کیمیکلز، حیاتیاتی ایندھن اور خوراک و مشروبات سمیت مختلف شعبوں سے اس نظام میں تعاون حاصل ہوا ہے۔ نون ہیمز انڈیا، ایسٹ ویسٹ سیڈز انڈیا، پائنیئر اوورسیز کارپوریشن، بائر بایوسائنس، ہمالیہ ویلنس کمپنی، ڈابر انڈیا، آرگینک انڈیا، لورس لیبز، اکائے نیچرل انگریڈینٹس، نوو زائمز ساؤتھ ایشیا، ایڈوانسڈ اینزائمز اور لوریئل انڈیا سمیت دیگر کمپنیوں نے قابل اطلاق قانونی نظام کے مطابق اے بی ایس نظام میں اپنا تعاون دیا ہے۔

اس کے فوائد اب تیزی سے زمینی سطح تک پہنچ رہے ہیں، جس سے مکئی، چاول، ہلدی، آملہ، سرسوں، کریلا، کپاس، بھنڈی اور مرچ کے تحفظ اور پائیدار استعمال کے ساتھ ساتھ کالمیگھ، الائچی، تلسی، گوگل گوند، نیم، گارسنیا، اشوگندھا، کالی مرچ اور لونگ جیسے ادویاتی اور خوشبودار وسائل کے تحفظ میں بھی مدد مل رہی ہے۔ حالیہ طور پر 25,431 کپاس کی اقسام کے تحفظ کے لیے 6.67 کروڑ روپے، سرسوں سے متعلق تحفظ کے لیے 15.52 کروڑ روپے اور بھنڈی کی 139 اقسام اور 28 ہائبرڈ اقسام کے لیے 3.51 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ آندھرا پردیش محکمہ جنگلات اور آندھرا پردیش ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈ کے ذریعے ریڈ سینڈرز کے تحفظ اور نگہداشت کے لیے بھی تقریباً 100 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے بی ایس حیاتیاتی وسائل کی قدر کو تحفظ کے ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے میں کس طرح مدد کر سکتا ہے۔ ریاستی اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی سطح پر ایس بی بی اور یو ٹی بی سی کی جانب سے حیاتیاتی وسائل کے تجارتی استعمال کے لیے دفعہ 7 کے تحت آنے والے اداروں (بھارتی اداروں) کو دی گئی منظوریوں کے ذریعے اے بی ایس کے تحت 51 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم حاصل کی گئی ہے۔

اے بی ایس کے فنڈز عوامی حیاتیاتی تنوع رجسٹروں، قدرتی مسکن کی بحالی، روایتی اقسام کے تحفظ، ادویاتی پودوں کے تحفظ، کمیونٹی جین بینکوں، صلاحیت سازی اور پائیدار روزگار سے متعلق سرگرمیوں میں بھی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ جہاں انفرادی مستحقین کی شناخت ممکن نہیں ہوتی، وہاں اس نظام کے تحت ان علاقوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے فنڈز استعمال کرنے کی گنجائش موجود ہے جہاں سے حیاتیاتی وسائل حاصل ہوتے ہیں۔ ضابطہ جاتی اصلاحات اور ڈیجیٹل نظام نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور فوائد کی منصفانہ اور مساوی تقسیم کے مقاصد کو برقرار رکھتے ہوئے کاروبار کرنے اور ضابطوں کی پابندی میں آسانی پیدا کی ہے۔ اے بی ایس کے لیے آن لائن درخواست جمع کرانے کے نظام نے درخواستوں کی کارروائی کو آسان بنانے کے ساتھ شفافیت اور درخواستوں کی نگرانی کو بھی بہتر بنایا ہے۔ اب تک این بی اے کو 11,273 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے 6,074 معاہدوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں یا منظوری دی جا چکی ہے اور 2,098 سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ہیں۔ نمونہ معاہدوں، معیاری طریقہ کار اور آن لائن خدمات نے اے بی ایس کے عمل کو مزید قابل پیش گوئی اور صارف دوست بنا دیا ہے۔ این بی اے کے ذریعے کیے گئے معاہدوں میں اے بی ایس سے متعلق ذمہ داریوں کو شامل کیا گیا ہے، جس سے قابل اطلاق اے بی ایس ضوابط کے تحت فوائد کی تقسیم کی ادائیگی کے لیے واضح بنیاد فراہم ہوتی ہے۔

حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو پائیدار روزگار سے جوڑ کر اے بی ایس مقامی سطح پر قدر میں اضافے، حیاتیاتی وسائل کے پائیدار استعمال،سماج کے مختلف طبقات بالخصوص حیاتیاتی تنوع سے مالا مال دیہی اور قبائلی علاقوں میں، شراکت اور روزگار کے مواقع میں معاونت کر رہا ہے۔ یہ ’وکست بھارت @2047‘ کے وژن میں بھی تعاون کرتا ہے اور پی ایم-جن من، پردھان منتری جن جاتیہ وکاس مشن اور وَن دھن جیسی پہلوں کی تکمیل کرتا ہے، جو قبائلی بہبود اور قدرتی وسائل پر مبنی روزگار کو فروغ دیتی ہیں۔ بھارت کا اے بی ایس نظام ناگویا پروٹوکول کے اصولوں کو عملی شکل دیتا ہے اور این بی ایس اے پی 2030-2024 اور کے ایم جی بی ایف  کے تحت ، بالخصوص ہدف 13 کے تحت فوائد کی منصفانہ اور مساوی تقسیم کو،ملک کے عزم کو آگے بڑھاتا ہے۔ تحفظ، پائیدار استعمال اور برادریوں کو فوائد فراہم کرنے کے ذریعے اے بی ایس کے ایم جی بی ایف کے اہداف 4، 5 اور 9 میں بھی معاونت کرتا ہے اور پائیدار ترقی کے متعلقہ اہداف (ایس ڈی جیز) میں اپنا تعاون دیتا ہے، جس سے حیاتیاتی تنوع، روزگار اور پائیدار ترقی کے درمیان تعلق مزید مضبوط ہوتا ہے۔

حیاتیاتی تنوع قانون، 2002  جس میں2023 میں کی گئی ترمیم، حیاتیاتی تنوع ضوابط، 2024 اور حیاتیاتی تنوع (رسائی اور فوائد کی تقسیم) ضوابط، 2025 کے ساتھ بھارت ایک شفاف، قابل پیش گوئی اور موثر اے بی ایس نظام کو مسلسل مستحکم کر رہی ہے۔ اس کے ذریعے قانونی دائرے میں حیاتیاتی وسائل تک رسائی اور ضوابط کی پابندی کو آسان بنایا جا رہا ہے، جبکہ اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ حیاتیاتی وسائل کے استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور سماج کے مختلف طبقات کی فلاح و بہبود میں معاون ثابت ہوں۔ این بی اے کل یکم اکتوبر 2026 کو اپنا 23واں یوم تاسیس منا رہی ہے اور اس موقع پر وہ ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز (ایس بی بی)، مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حیاتیاتی تنوع کونسلوں (یو ٹی بی سی)، حیاتیاتی تنوع انتظامی کمیٹیوں (بی ایم سی)، متعلقہ محکموں، تحقیقی اداروں، صنعت، مقامی برادریوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر اے بی ایس کے نفاذ کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کام جاری رکھے گی۔ بھارت کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ اے بی ایس حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، پائیدار استعمال، اختراع اور سماج کے مختلف طبقات  کے فلاح و بہبود کے درمیان ایک عملی پل کا کام کر سکتا ہے، جس سے یہ یقینی بنتا ہے کہ بھارت کی حیاتیاتی دولت سے پیدا ہونے والی قدر اس کے تحفظ اور نشونمامیں اپنا کردار ادا کرنے والے لوگوں تک پہنچے۔

****

ش ح۔ع و۔ ش ا

اُردو ریلیزنمبر:-4418


(ریلیز آئی ڈی: 2317485) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी