بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت
کے وی آئی سی کے چیئرمین جناب منوج گوئل نے لجّت پاپڑ سے وابستہ خواتین کاریگروں سے بات چیت کی اور خواتین کو بااختیار بنانے کی ان کی کوششوں کی ستائش کی
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن کے مطابق لجّت پاپڑ خواتین کو بااختیار بنانے، خود انحصاری اور ’مقامی سے عالمی‘ کی ایک متاثر کن مثال بن کر ابھرا ہے: کے وی آئی سی چیئرمین
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 SEP 2026 10:15PM by PIB Delhi
خردہ، چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں کی وزارت، حکومت ہند کے تحت کھادی اور دیہی صنعت کمیشن (کے وی آئی سی) کے چیئرمین جناب منوج گوئل نے بدھ کے روز ممبئی کے سیون (مشرق) میں واقع سری شَن مُکھانند چندرشیکھرندر سرسوتی آڈیٹوریم میں منعقدہ ایک تقریب میں شری مہیلا گریہہ ادیوگ لجّت پاپڑ سے وابستہ خواتین کاریگروں سے خطاب کیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے کے وی آئی سی کے چیئرمین نے خواتین کاریگروں کی خدمات کو سراہا اور وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’وکل فار لوکل‘ اور ’آتم نربھر بھارت‘ کے وژن کو آگے بڑھانے میں لجّت پاپڑ جیسی تنظیموں کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کے وی آئی سی کے چیئرمین جناب منوج گوئل نے کہا کہ لجّت پاپڑ کا سفر 15 مارچ 1959 کو صرف سات خواتین اور 80 روپے سے شروع ہوا تھا۔ یہ محض پاپڑ بنانے کی ایک کوشش نہیں تھی، بلکہ خود کفیل بننے، باوقار زندگی گزارنے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا ایک خواب تھا۔ 1966 میں کے وی آئی سی کی جانب سے لجّت پاپڑ کو دیہی صنعت کا درجہ دیے جانے سے اس سفر کو نئی رفتار ملی۔ آج 16 ریاستوں میں قائم 83 شاخوں کے ذریعے 45,000 سے زیادہ خواتین لجّت پاپڑ سے وابستہ ہیں اور خود انحصاری اور معاشی خود مختاری کی جانب آگے بڑھ رہی ہیں۔ وقت کے ساتھ تنظیم نے اپنی مصنوعات کے دائرے کو بھی وسیع کیا ہے۔ پاپڑ کے علاوہ یہ مصالحے، آٹا، ڈٹرجنٹ اور مائع صابن بھی تیار کرتی ہے۔ اس کی مصنوعات امریکہ، آسٹریلیا، جاپان اور جنوبی افریقہ سمیت 30 سے زیادہ ممالک تک پہنچ چکی ہیں۔

کے وی آئی سی کے چیئرمین نے کہا کہ لجّت پاپڑ کی سب سے بڑی طاقت اس کا معیار، محنت اور نظم و ضبط ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنظیم وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’مقامی کے لیے آواز‘ اور ’مقامی سے عالمی‘ کے وژن کو عملی شکل دینے کی ایک متاثر کن مثال ہے۔ انہوں نے کہا، ’’لجّت صرف پاپڑ نہیں بناتا، بلکہ عزتِ نفس، خود اعتمادی اور مواقع کو ایک ساتھ جوڑتا ہے۔‘‘

جناب گوئل نے کہا کہ لجّت پاپڑ کی کامیابیوں کو قومی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ تنظیم کو 2003 میں بہترین دیہی صنعت ایوارڈ، 2005 میں برانڈ ایکویٹی ایوارڈ اور 2017 میں خواتین کی ترقی کا ایوارڈ دیا گیا۔ کئی بین الاقوامی پلیٹ فارموں اور میڈیا اداروں نے بھی لجّت پاپڑ کے متاثر کن سفر کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔

کھادی اور دیہی صنعت کمیشن (کے وی آئی سی) کی سرگرمیوں اور اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے کے وی آئی سی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک بھر میں تقریباً 5 لاکھ کاریگروں کو روزگار فراہم کیا جا رہا ہے، جن میں 80 فیصد خواتین ہیں جو تقریباً 3,000 کھادی اداروں میں کام کر رہی ہیں۔ گزشتہ 12 برسوں کے دوران کھادی کاریگروں کی اجرت میں 275 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کھادی اور دیہی صنعت کے شعبے کی پیداوار بڑھ کر تقریباً 1.25 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی ہے، جبکہ فروخت 1.87 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ دیہی صنعت ترقیاتی اسکیم کے تحت گزشتہ 12 برسوں میں 3.23 لاکھ سے زیادہ مشینیں اور آلات فراہم کیے گئے ہیں۔ اسی طرح وزیر اعظم کے روزگار پیدا کرنے کے پروگرام (پی ایم ای جی پی) کے تحت اب تک تقریباً 11 لاکھ نئے منصوبے قائم کیے جا چکے ہیں، جن کے لیے 30,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی سبسڈی دی گئی ہے اور تقریباً 1 کروڑ افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔م ح۔ف ر
U- 4411
(ریلیز آئی ڈی: 2317465)
وزیٹر کاؤنٹر : 9