ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ایم ایس ڈی ای نے پرگتی پہل کے تحت ہنرمندی کے سکریٹریوں کی قومی کانفرنس کا انعقاد کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 SEP 2026 1:33PM by PIB Delhi

ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری  کی وزارت نے آج پی ایم- ایس ای  ٹی یو (پردھان منتری اسکلنگ اینڈ ایمپلائی ایبلٹی ٹرانسفارمیشن تھرو اپ گریڈڈ آئی ٹی آئیز) اور این اے پی ایس (نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم) سے متعلق ہنرمندی کے سیکریٹریوں کی قومی کانفرنس منعقد کی، جس میں فعال حکمرانی اور بروقت عمل درآمد ( پی آر اے جی اے ٹی آئی یعنی پرگتی) پہل کے تحت اہم اقدامات کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔ یہ غور و خوض 30 ستمبر 2026 کو وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے آئندہ پرگتی جائزے کی تیاری کے سلسلے میں کیا گیا۔ اجلاس میں مرکز اور ریاستوں کے درمیان تال میل کو مزید مستحکم کرنے، عمل درآمد میں تیزی لانے اور دونوں اہم اسکیموں کے نفاذ میں درپیش عملی رکاوٹوں کو دور کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

پی ایم- ایس ای ٹی یوسے متعلق اجلاس میں اہم نفاذی مراحل کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے حاصل کی گئی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ 7 ریاستوں کے 10 کلسٹروں کے لیے اسٹریٹجک سرمایہ کاری منصوبے (ایس آئی پی) منظور کیے جا چکے ہیں، جن کے تحت تقریباً2,493 کروڑ  روپے کی مجموعی منصوبہ جاتی لاگت شامل ہے۔ اس کے علاوہ تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے کلسٹروں کی نشاندہی کرکے ریاستی بجٹ میں مخصوص مدات قائم کر دی ہیں، جبکہ 35 ریاستوں نے ریاستی اسٹیئرنگ کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں۔

این اے پی ایس کے اجلاس میں صنعتی اداروں سے مربوط راستے کے طور پر اپرنٹس شپ تربیت کے مسلسل فروغ کو اجاگر کیا گیا، جس میں نظریاتی تعلیم کو منظم عملی تربیت کے تجربے سے جوڑا جاتا ہے۔ مالی سال 23-2022سے 22 ستمبر 2026 تک 44.75 لاکھ افراد کو تربیت کے لیے شامل کیا گیا، جبکہ اس پروگرام کے تحت 47,452 ادارے فعال تھے۔ خواتین کی شرکت 20.19 فیصد سے بڑھ کر 27.52 فیصد ہوگئی، جبکہ ایم ایس ایم ایز کی شراکت 44.84 فیصد سے بڑھ کر 45.81 فیصد ہوگئی۔ تیسرے فریق کی جانب سے کی گئی تشخیص سے مزید ظاہر ہوا کہ 72 فیصدزیر تربیت افراد کو ملازمت کی پیشکش ہوئی، 53.7 فیصد نے تربیت مکمل کی اور 96 فیصد نے حفاظتی آلات تک رسائی کی اطلاع دی۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی کارکردگی کا بھی اداروں کو فعال کرنے، اپرنٹس کو شامل کرنے، معاہدوں کی منظوری، تربیت کی تکمیل، جائزہ، سرٹیفکیٹ جاری کرنے اور ادارہ جاتی حکمرانی کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے جائزہ لیا گیا۔

اپنے خطاب میں مغربی بنگال  حکومت کے محکمہ اعلیٰ تعلیم اور محکمہ تکنیکی تعلیم، تربیت و ہنرمندی کی ترقی کے انچارج وزیر جناب جگن ناتھ چٹو پادھیائے نے کہاکہ پرگتی کے تحت پی ایم-ایس ای ٹی یو اور این اے پی ایس کو شامل کرنا حکومت کے پالیسی کو قابل پیمائش نتائج میں تبدیل کرنے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ مرکز، ریاستوں، صنعت اور تربیتی اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر ہمارا مقصد عمل درآمد میں تیزی لانا، جواب دہی کو مضبوط کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہر اقدام  ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے بامعنی مواقع پیدا کرے۔

ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری  کی وزارت  میں سکریٹری محترمہ دیباشری مکھرجی نے کہاکہ ریاستوں کے درمیان باہمی سمجھ، صنعت کے ساتھ مسلسل روابط اور جواب دہ عمل درآمد پی ایم-ایس ای ٹی یو اور این اے پی ایس کو آگے بڑھانے کے لیے نہایت اہم ہوں گے۔ ریاستوں کو کامیاب طریقہ کار ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے، بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ریاستوں سے سیکھنے اور پیش رفت میں تیزی لانے کے لیے درکار لچک کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے۔ چونکہ پی ایم-ایس ای ٹی یوسرکاری و نجی شراکت داری کے ماڈل پر مبنی ہے، اس لیے چیلنجوں کو بروقت حل کرنے کے لیے حکومت اور صنعت کے درمیان مسلسل مکالمہ اور باہمی اعتماد ناگزیر ہوگا۔ اسی طرح ضلع اور ریاستی سطح کے ہنرمندی کی ترقی کے منصوبوں کو ادارہ جاتی شکل دینا اور ان کا سالانہ جائزہ لینا بھی یکساں طور پر اہم ہے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہنرمندی کی ترقی سے متعلق اقدامات مقامی سطح پر موجود معاشی مواقع اور افرادی قوت کی ضروریات سے ہم آہنگ رہیں۔

اجلاس میں وزارت ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری کے سینئر افسران، ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے سینئر افسران اور نمائندوں، پی ایم-ایس ای ٹی یو اور این اے پی ایس کے نفاذ سے وابستہ اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔ تبادلہ خیال کے دوران ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو عمل درآمد میں درپیش چیلنجوں، ابھرتے ہوئے مواقع اور ایسے طریقہ کار کا اشتراک کرنے کا موقع ملا، جنہیں وسیع پیمانے پر اپنایا جا سکتا ہے۔

وزارت نے دونوں اقدامات کے تحت نتائج میں تیزی لانے کے لیے مقررہ مدت میں کارروائی، مضبوط ادارہ جاتی تال میل اور صنعت کی مسلسل شرکت کی اہمیت کو پھر واضح کیا۔ قومی جائزہ اجلاس سے سامنے آنے والی تجاویز آئندہ پی آر اے جی اے ٹی آئی یعنی پرگتی کے غور و خوض میں معاون ثابت ہوں گی اور آئی ٹی آئیز کو مضبوط بنانے، تربیت کے مواقع کو وسعت دینے اور وکست بھارت کے وژن کے مطابق مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ افرادی قوت تیار کرنے کے لیے مربوط لائحہ عمل کی تشکیل میں مدد فراہم کریں گی۔

********

ش ح۔   م ع ن۔ م ش

U-NO-4283


(ریلیز آئی ڈی: 2316449) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी