سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سی ایس آئی آر کے 85 ویں یوم تاسیس کے موقع پر مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ قومی خودمختاری کے لیے تکنیکی خودمختاری انتہائی اہم ہے


آزادی کے بعد  ہندوستان  کے سفر کی قیادت کرنے والے چند اہم اداروں میں سی ایس آئی آرشامل، اس کی تجربہ گاہوں نے اپنی کامیابیوں کے ذریعے ریاستوں کو منفرد شناخت دی: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

ٹیکنالوجی کی ترقی میں صنعت کو محض شراکت دار نہیں بلکہ شریک تخلیق کار بننا چاہیے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

سی ایس آئی آرکو تحقیق سے عملی نفاذ تک کے سفر کو مختصر کرنے اور عالمی سطح پر مسابقتی دیسی ٹیکنالوجیز تیار کرنے کی ضرورت ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سی ایس آئی آر کا مسکوٹ جاری کیا، CSIR@85 ڈاک ٹکٹ، انڈسٹری کنیکٹ ویڈیو اور ٹیکنالوجی کمپینڈیم کا اجرا کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 SEP 2026 5:01PM by PIB Delhi

قومی خودمختاری کے لیے تکنیکی خود انحصاری انتہائی اہم ہے اور بھارت اپنی معیشت، سلامتی اور ترقی کے لیے اہم شعبوں میں درآمد شدہ ٹیکنالوجیز پر ہمیشہ انحصار نہیں کرسکتا۔ سائنس و ٹیکنالوجی، ارضی علوم اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج یہ بات کہی۔

نئی دہلی کے پوسا میں این اے ایس سی کمپلیکس کے سی آر سبرامنیم ہال میں سائنسی اور صنعتی تحقیق کی کونسل (سی ایس آئی آر) کی 85ویں یوم تاسیس کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی ایس آئی آرکی تجربہ گاہوں کو اہم تکنیکی انحصار کے شعبوں کی نشاندہی کرنی چاہیے اور ایسی دیسی ٹیکنالوجیز تیار کرنے کی سمت میں کام کرنا چاہیے جو کارکردگی، معیار اور لاگت کے لحاظ سے عالمی سطح پر مسابقتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی ترجیح محض درآمدات کا متبادل تیار کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے دنیا کو ٹیکنالوجی فراہم کرنے والا ملک بننے کی سمت میں آگے بڑھنا چاہیے۔

پچاسیویں(۸۵)  یوم تاسیس کی تقریبات میں سائنسی اور صنعتی تحقیق کے محکمے (ڈی ایس آئی آر)کی سکریٹری اورسی ایس آئی آر کی ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر این کلائسیلوی، سی ایس آئی آر کی تجربہ گاہوں کے ڈائریکٹرز، سینئر سائنس دان، محققین، افسران، صنعت کے نمائندے، اسٹارٹ اپس اور دیگر متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر 14 ممالک کے 40 سے زیادہ سفیر بھی تقریب میں موجود تھے اور انہوں نے سی ایس آئی آر کی نمائشوں کا دورہ بھی کیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سی ایس آئی آر ان چند اداروں میں شامل ہے جنہوں نے آزادی کے بعد  ہندوستا ن کے سفر کی قیادت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے آزاد ہونے سے قبل ہی سی ایس آئی آر نے 1942 میں اپنے سفر کا آغاز کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ آٹھ دہائیوں سے زیادہ عرصے میں تشکیل پانے والے ایک بھرپور سائنسی ورثے کی نمائندگی کرتا ہے اور اس نے مختلف شعبوں میں وسیع صلاحیتیں پیدا کی ہیں۔ وزیر  موصوف نے کہا کہ سی ایس آئی آر کے  سامنے چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے اس ورثے پر پورا اترتے ہوئے ملک کی موجودہ اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق اپنی سائنسی اور تکنیکی سرگرمیوں کو مسلسل جدید بناتا رہے۔

سی ایس آئی آر کی تجربہ گاہوں کی مختلف کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ادارے کی کامیابی کی کہانیاں اب مختلف ریاستوں اور خطوں کی شناخت سے بھی  تیزی سے جڑتی جارہی ہیں۔ انہوں نے چمڑے کی ٹیکنالوجی اور زیورات سے لے کر صحت، زراعت، سڑکوں کی ٹیکنالوجی، فوڈ ٹیکنالوجی اور ایرو اسپیس تک مختلف شعبوں میں سی ایس آئی آر کی خدمات کی مثالیں پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اطمینان کی بات ہے کہ مختلف خطے اب سی ایس آئی آر  کی تجربہ گاہوں سے سامنے آنے والی مخصوص سائنسی اور تکنیکی کامیابیوں کو اپنی شناخت سے جوڑنے لگے ہیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایک اہم تبدیلی سائنسی کامیابیوں کی بڑھتی ہوئی نمایاں حیثیت اور شہریوں کے ساتھ ان کے مضبوط تعلق کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی کام پہلے بھی ہوتا رہا ہے، لیکن اب اس کی کامیابی کی کہانیاں زیادہ نمایاں اور براہ راست انداز میں لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔ سائنسی اداروں اور سہولتوں کو وسیع تر عوامی شرکت کے لیے کھولنے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر سائنسی کام اور خدمات کا مقصد شہریوں کی زندگی کو آسان بنانا ہے تو شہریوں کو بھی یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کیا تیار کیا جارہا ہے اور وہ اس سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سی ایس آئی آرکو لیبارٹری سے صنعت اور تحقیق سے عملی نفاذ تک کے سفر کو مختصر کرنا چاہیے اور کسی منصوبے کے آغاز ہی سے صنعت کے ساتھ مضبوط روابط قائم کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ لیبارٹری میں ٹیکنالوجی تیار کرنے اور اس کے بعد صنعتی شراکت دار تلاش کرنے کے روایتی طریق کار کی جگہ ایسے نظام کو اپنانے کی ضرورت ہے جس میں مسئلہ کی نوعیت طے کرنے کے مرحلہ سے ہی صنعت کو شامل کیا جائے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا’’صنعت کو محض شراکت دار نہیں بلکہ شریک تخلیق کار ہونا چاہیے۔‘‘ انہوں نے وضاحت کی کہ سائنس دان سائنس اور تکنیکی امکانات کو سمجھتے ہیں، جبکہ صنعت منڈی، پیمانے، لاگت اور صارفین کی ضروریات کو سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان صلاحیتوں کو ابتدا ہی سے یکجا کرنے سے ٹیکنالوجی کو کامیابی کے ساتھ عملی شکل دینے کے امکانات نمایاں طور پر بہتر ہوسکتے ہیں۔

انہوں نےسی ایس آئی آرکی تجربہ گاہوں اور ان کے متعلقہ شعبوں سے وابستہ صنعتوں کے درمیان مزید گہرے اور مستقل تعلقات قائم کرنے پر زور دیا اور بڑی کمپنیوں، ایم ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ سی ایس آئی آرکی تجربہ گاہوں کو تحقیق و ترقی کے شراکت دار کے طور پر دیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی میں صنعت کو اس انداز میں شامل کیا جانا چاہیے جس میں منڈی کی ضروریات اور ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر نافذ کرنے اور اسے برقرار رکھنے کی صلاحیت کو مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسٹارٹ اپ شروع کرنا نسبتاً آسان ہوسکتا ہے، لیکن اسے برقرار رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی، صنعت اور منڈی کے درمیان مضبوط روابط ضروری ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں تکنیکی خود انحصاری کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت تکنیکی خود انحصاری کے بغیر قومی خودمختاری حاصل نہیں کرسکتا اور اسے اہم شعبوں میں بیرونی ذرائع پر انحصار کم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے جوہری توانائی، صاف توانائی اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں ملک کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے برسوں میں اہم ٹیکنالوجیز تیار کرنے اور ان پر کنٹرول رکھنے کی  ہندوستان کی صلاحیت کا مزید امتحان ہوگا۔

وزیر موصوف  نے نیشنل کوانٹم مشن، انڈیا اے آئی مشن اور انڈیا جینوم مشن کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھارت نے نسلوں اور مختلف وزارتوں کے درمیان مربوط طریقہ کار کی جانب پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طریق کار انفرادی محکموں تک محدود نہیں ہے بلکہ ابھرتے ہوئے تکنیکی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پوری حکومت اور پورے ملک  کی وسیع تر کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سی ایس آئی آرکو ماضی کی کامیابیوں پر بار بار انحصار کرنے کے بجائے اپنی تحقیقی ترجیحات کو مسلسل نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالتے ہوئے ہر وقت متعلقہ سائنسی ادارہ بنے رہنا چاہیے۔سی ایس آئی آرکی تجربہ گاہوں سے سامنے آنے والی نئی ٹیکنالوجیز اور ان کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے الیکٹرک ٹریکٹرز، دیسی ادویاتی ٹیکنالوجیز، فوڈ ٹیکنالوجیز، مسلسل بہاؤ کے عمل، جدید سڑکوں کی ٹیکنالوجیز، شمسی ٹیکنالوجیز اور سیوریج کی مشینی صفائی کے حل کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی ایس آئی آرکی توجہ ملک کی موجودہ اور مستقبل کی ضروریات پر مرکوز رہنی چاہیے۔

وزیر موصوف نے سائنسی اداروں کو معاشرے کے لیے مزید قابل رسائی بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ کسانوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ اپنی بات چیت کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کی زیادہ سے زیادہ شمولیت سے شہریوں کو سائنسی تجربہ گاہوں میں ہونے والے کام کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ایس آئی آرکی ٹیکنالوجیز اور سائنسی صلاحیتوں کو بالآخر شہریوں، صنعت اور وسیع تر معیشت کیلئے فوائد میں تبدیل ہونا چاہیے۔

یوم تاسیس کی تقریبات کے دوران ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سی آئی آر اے، یعنی سی ایس آئی آرکے انوویشن اینڈ ریسرچ ایمبیسیڈر،سی ایس آئی آرکے نئے مسکوٹ کی نقاب کشائی کی۔ انہوں نے ’CSIR@85‘خصوصی ڈاک ٹکٹ، سی ایس آئی آرانڈسٹری کنیکٹ ویڈیو اورسی ایس آئی آرٹیکنالوجی کمپینڈیم بھی جاری کیا۔ پروگرام میں سی ایس آئی آر-انڈسٹری ٹیکنالوجی نمائش، ٹیکنالوجی کی منتقلی اورسی ایس آئی آرسائنس آرٹ گیلری بھی شامل تھی، جس میں سائنسی کامیابیوں، ٹیکنالوجی کی ترقی، صنعت کے ساتھ روابط اور عوامی رسائی کو ایک جگہ پیش کیا گیا۔

ڈاکٹر این کلائسیلوی نے اپنے استقبالیہ خطاب میں ’CSIR@85‘ کو تاریخی اعتبار سے اہم، سائنسی لحاظ سے نمایاں اور تزویراتی اعتبار سے اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نےسی ایس آئی آرکی 37 تجربہ گاہوں اور 10 ہزار سے زیادہ اہلکاروں پر مشتمل اس کے وسیع نیٹ ورک اور مختلف سائنسی و تکنیکی شعبوں میں اس کے کام کا ذکر کیا۔ انہوں نے سائنس دانوں، محققین، تکنیکی عملے، صنعت، ایم ایس ایم ایز، اسٹارٹ اپس اور دیگر شراکت داروں پر مشتمل سی ایس آئی آر کے وسیع تر خاندان کی خدمات کا بھی اعتراف کیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سی ایس آئی آر کی کامیابیاں دراصل سائنس دانوں، انجینئروں، محققین، تکنیکی عملے، انتظامی ساتھیوں اور معاون عملے کی کئی نسلوں کی اجتماعی خدمات کا نتیجہ ہیں۔سی ایس آئی آرکے پورے خاندان کو 85 سال مکمل ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب ادارے کو آنے والی دہائیوں کی سائنسی اور تکنیکی ضروریات کے لیے خود کو تیار کرنا ہوگا۔

 ہندوستان جب ’وکست بھارت 2047 ‘کے ویژن کی جانب آگے بڑھ رہا ہے تو ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سی ایس آئی آر کی ذمہ داری منفرد ہے کیونکہ اس کا اپنا سفر آزادی سے قبل شروع ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھارت 2030 اور 2047 کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کر رہا ہے توسی ایس آئی آر کو بھی 2047 کے بعد اپنے ورثے کو آگے لے جانے کا عزم کرنا چاہیے۔

وزیر  موصوف نے کہا’’جب  ہندوستان  2047 میں پہنچے تو میری خواہش ہے کہ سی ایس آئی آر اپنے ورثے پر پورا اترتے ہوئے 2047 کے بعد بھی اپنا سفر اور ترقی جاری رکھے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ سی ایس آئی آرکے سفر کے اگلے مرحلے کی شناخت تحقیق کو تیزی سے ٹیکنالوجی میں تبدیل کرنے، صنعت کے ساتھ مضبوط شراکت داری، زیادہ سے زیادہ تکنیکی خود انحصاری اور بھارت کی ابھرتی ہوئی قومی ضروریات سے مسلسل ہم آہنگی سے ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 37 تجربہ گاہوں میں پھیلی اپنی سائنسی طاقت کے ساتھ سی ایس آئی آر میں ان ٹیکنالوجیز کی  ترقی میں تعاون کرنے کی ادارہ جاتی صلاحیت موجود ہے جو 2047 اور اس کے بعد بھارت کے سفر کی سمت متعین کریں گی۔

*****

 ش ح – ظ الف –م  ش

UR No. 4212


(ریلیز آئی ڈی: 2315920) وزیٹر کاؤنٹر : 3
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी