جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

انڈیا انٹرنیشنل واٹر ویک 2026 کے تیسرے دن موسمیاتی استحکام، آبی وسائل اور اختراعات پر خصوصی توجہ


موسمیاتی خطرات کے جائزے، پیشگی الرٹ کا نظام، گلیشیرجھیلوں کی نگرانی، پانی کے مؤثر استعمال اور اختراعی وسائل کے نظام پر غور؛ بھارت-نیدرلینڈس تعاون کو دو سہ فریقی مفاہمت ناموں کے ذریعے مزید تقویت

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 SEP 2026 10:16PM by PIB Delhi

انڈیا انٹرنیشنل واٹر ویک 2026 کے نویں ایڈیشن کے تیسرے دن تکنیکی پروگرام کو مزید وسعت دیتے ہوئے موسمیاتی خطرات، پیشگی الرٹ، گلیشیرجھیلوں کی نگرانی، پانی کی قیمتوں کے تعین اور موسمیاتی اثرات سے محفوظ آبی بنیادی ڈھانچے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی جیسے مستقبل سے متعلق اہم امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ واٹر لیڈرز فورم، کنٹری فورم، پریکٹیشنرز فورم، موضوعاتی  فورم اور اسٹارٹ اپ فورم میں مختلف اجلاس بیک وقت منعقد ہوئے۔ موضوعاتی  فورم میں اس کے سات ذیلی موضوعات میں سے تیسرے موضوع پر بحث مکمل کی گئی اور چوتھے اور پانچویں موضوعات پر بھی غور کیا گیا۔

اس دوران   انڈیا انٹرنیشنل واٹر ویک کی بین الاقوامی رسائی میں بھی اضافہ ہوا۔ اسٹارٹ اپ فورم نے اسٹارٹ اپس، ایم ایس ایم ایز اور تعلیمی اداروں کو پانی سے متعلق مسائل کے حل پر مبنی اختراعی حل پیش کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اس موقع پر ایک دو طرفہ اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں بھارت-نیدرلینڈس تعاون کو مزید آگے بڑھایا گیا اور دو سہ فریقی مفاہمت ناموں پر دستخط کیے گئے۔

بھارت-نیدرلینڈس دو طرفہ اجلاس

نویں انڈیا انٹرنیشنل واٹر ویک 2026 کے موقع پر نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں وزیر جل شکتی جناب سی آر پاٹل اور نیدرلینڈس کے  بنیادی ڈھانچہ و آبی انتظام کے  امور  کے نائب وزیر جناب جیاپ سلوٹ میکر کے درمیان دو طرفہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزارت جل شکتی کے وزیر مملکت جناب راج بھوشن چودھری، آبی وسائل اور آبی فراہمی کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب ایشور سنگھ پٹیل اور بھارت میں مملکت نیدرلینڈس کی سفیر محترمہ ماریسا جیرارڈ بھی شریک ہوئیں۔

اس موقع پر تکنیکی تعاون کے لیے مرکزی آبی کمیشن، حکومت گجرات کے کلپسر محکمہ اور نیدرلینڈس کی ڈیلٹاریس کے درمیان ایک سہ فریقی مفاہمت نامے پر دستخط کیے گئے۔ ایک اور سہ فریقی مفاہمت نامہ مرکزی آبی کمیشن، حکومت گجرات کے کلپسر محکمہ اور نیدرلینڈس کی ٹی یو ڈیلفٹ کے درمیان صلاحیت سازی اور تربیت کے لیے طے پایا۔ ان مفاہمت ناموں کے ذریعے منصوبے کی منصوبہ بندی، ڈیزائن اور عمل درآمد کے لیے نیدرلینڈس کی مہارت اور جدید انجینئرنگ طریقہ کار کے اشتراک سے تکنیکی تعاون کو فروغ ملے گا۔

کنٹری فورم

عالمی  بینک کے تعاون سے پانی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے سے متعلق کنٹری فورم کا چوتھا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت حکومت ہند کے محکمہ اقتصادی امور (ڈی ای اے) کے جوائنٹ سیکریٹری جناب بال دیو پرشارتھ نے کی، جبکہ شریک صدارت آئی ایف سی انڈیا کی پرنسپل کنٹری آفیسر محترمہ روشیکا سنگھ نے کی۔ اجلاس کا آغاز ورلڈ بینک کے گلوبل واٹر ڈائریکٹر جناب سروج کمار جھا کے کلیدی خطاب سے ہوا اور اس کی نظامت عالمی  بینک کے واٹر پریکٹس مینیجر جناب ولیم ریکس نے کی۔ اجلاس میں جین اریگیشنز، آئی ایف سی انڈیا، کوکا کولا، وی اے ٹیک واباگ، ٹاٹا کیپیٹل، مہاراشٹر انسٹی ٹیوشن فار ٹرانسفارمیشن (مترا) اور اتر پردیش اسٹیٹ ٹرانسفارمیشن کمیشن کے نمائندوں نے شہری پانی، گندے پانی اور آبپاشی کے شعبوں میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ضروری اصلاحات اور مالیاتی طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا۔

 

واٹر لیڈرس فورم

سی آئی آئی واٹر انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے پانی کے وسائل کے شعبے میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے پانی کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانے سے متعلق واٹر لیڈرس فورم کا تیسرا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت حکومت گجرات کے پرنسپل سیکریٹری (آبی وسائل) جناب پی سی ویاس نے کی، جبکہ شریک صدارت سی آئی آئی واٹر انسٹی ٹیوٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر محترمہ شلپا نچل نے کی۔ اجلاس میں گرونڈفوس، مروگپا واٹر ٹیکنالوجی، آئن ایکسچینج، کرٹسنام ٹیکنالوجیز اور نیتی آیوگ کے نمائندوں نے آبی پیمائش کے اسمارٹ نظام، نگرانی اور پانی کے مؤثر استعمال کے لیے ٹیکنالوجی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔

واٹر لیڈرس فورم کے چوتھے اجلاس (ڈبلیو ایل ایف -4) میں آبی تحفظ کے لیے موسمیاتی خطرات کے جائزے پر غور کیا گیا۔ یہ اجلاس نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہائیڈرولوجی، روڑکی کے تعاون سے منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت آئی آئی ایس سی بنگلورو کے پروفیسر پروفیسر ناگیش کمار نے کی، جبکہ شریک صدارت این آئی ایچ روڑکی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر وائی آر ایس راؤ نے کی۔ اجلاس میں آئی چارم (جاپان)، آئی آئی ٹی بمبئی، آئی آئی ایس سی بنگلورو، مرکزی آبی کمیشن اور آئی آئی ٹی دہلی کے نمائندوں نے آبی انتظام اور منصوبہ بندی کے فریم ورک میں موسمیاتی خطرات کے جائزے کو شامل کرنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔

واٹر لیڈرس فورم کے پانچویں اجلاس (ڈبلیو ایل ایف -5) میں آبی انتظام اور پالیسیوں میں موسمیاتی اقدامات کو شامل کرنے پر غور کیا گیا۔ یہ اجلاس کونسل آن انرجی، انوائرنمنٹ اینڈ واٹر(سی ای ای ڈبلیو) کے تعاون سے منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت اتر پردیش حکومت کے اسٹیٹ مشن فار کلین گنگا کی پروجیکٹ ڈائریکٹر جناب جوگیندر سنگھ، آئی اے ایس نے کی، جبکہ شریک صدارت بھارت میں اسرائیل کے سفارت خانے کی واٹر اتاشی محترمہ نوآ ایمسالم نے کی۔ اجلاس میں آئی آئی ٹی گوہاٹی، ویل لیبز بنگلورو، ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، گوگل، کونسل آن انرجی، انوائرنمنٹ اینڈ واٹر اور ڈی سی ایم شری رام کے نمائندوں نے حکمرانی میں اصلاحات کے ذریعے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے بجائے استحکام پیدا کرنے کی جانب منتقلی پر تبادلہ خیال کیا۔

واٹر لیڈرس فورم کے چھٹے اجلاس (ڈبلیو ایل ایف -6)  میں آبی وسائل کے شعبے میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے پائیدار موافقتی اقدامات پر غور کیا گیا۔ یہ اجلاس نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی کے تعاون سے منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی کے چیئرمین جناب راکیش کشیپ نے کی، جبکہ شریک صدارت مدھیہ پردیش کے آبی وسائل محکمہ کے بی او ڈی ایچ آئی کے سابق چیف انجینئر جناب منوج کمار آچاریہ نے کی۔ اجلاس میں آئی آئی ٹی دہلی، ایچ سی ایل فاؤنڈیشن، آئی ایم ڈی، جی آئی زیڈ اور این ڈی ایم اے کے نمائندوں نے بدلتی ہوئی آب و ہوا کے تناظر میں ڈیموں کے لیے ہائیڈرولوجیکل ماڈلنگ، گلیشیرجھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب اور مٹی و پتھر سے بنے ڈیموں کی ساختی بحالی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے پائیدار ڈیم بنیادی ڈھانچے کی تیاری میں بین الاقوامی مالیاتی تجربات سے بھی استفادہ کیا گیا۔

پریکٹیشنرز فورم

نیشنل واٹر مشن کے تعاون سے بہترین طریقہ کار سے متعلق پریکٹیشنرز فورم کا پانچواں اجلاس (پی ایف-5)منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت حکومت چھتیس گڑھ کے آبی وسائل کے سیکریٹری جناب راجیش ٹوپو نے کی، جبکہ شریک صدارت مرکزی آبی کمیشن کے سابق چیئرمین جناب اتل جین نے کی۔ اجلاس میں تریپورہ، تلنگانہ اور سورت کے ضلعی کلکٹروں اور میونسپل کمشنروں کے ساتھ ہمالیئن انوائرنمنٹل اسٹڈیز اینڈ کنزرویشن آرگنائزیشن، وزارت دیہی ترقی اور دی رین واٹر پروجیکٹ کے نمائندوں نے عالمی سطح کے بہترین طریقہ کار کو وزارت جل شکتی کی کوششوں کے ساتھ مربوط کرنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ جل جیون مشن کے مطابق اب تقریباً 81.5 فیصد دیہی گھرانوں کو نل کے ذریعے پانی کی فراہمی کی سہولت حاصل ہے۔

پریکٹیشنرز فورم

پانی کے تنازعات اور ان کے حل سے متعلق پریکٹیشنرز فورم کے چھٹے اجلاس (پی ایف-6) کی صدارت سینٹر فار پالیسی ریسرچ کے صدر اور چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر سرینواس چوکا کولا نے کی، جبکہ شریک صدارت گوداوری ریور مینجمنٹ بورڈ کے چیئرمین جناب پی دورجے گیامبا نے کی۔ اجلاس میں مرکزی آبی کمیشن، سپریم کورٹ کے وکلا، نیشنل واٹر اکیڈمی پونے اور دریائی طاس کے انتظامی بورڈز کے نمائندوں نے بین الریاستی دریائی آبی تنازعات کے فریم ورک کے تحت متبادل تنازع حل کرنے کے طریقہ کار اور مجوزہ تنازعات کے حل کی کمیٹی کا جائزہ لیا۔

پریکٹیشنرز فورم (پی ایف-7)

’جل-سنسکرتی اور ہریت راہیں: پائیدار مستقبل کے لیے بھارت کا آبی ورثہ‘ کے موضوع پر پریکٹیشنرز فورم کے ساتویں اجلاس (پی ایف-7)کی صدارت پدم وبھوشن اور سابق مرکزی وزیر برائے انسانی وسائل کی ترقی ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے کی۔ اجلاس میں بھارت کی روایتی آبی ثقافت، اس کی مقدس ندیوں، مندروں کے تالابوں اور باولیوں کو جدید اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے والے آبی انتظام کے ساتھ مربوط کرنے اور اس آبی ورثے کو برادری کی قیادت میں تحفظ کی کوششوں کے ذریعے آگے بڑھانے پر غور کیا گیا۔

 

موضوعاتی  فورم (ٹی ایف)

دن بھر موضوعاتی  فورم کے چھ اجلاس منعقد ہوئے، جن میں منتخب تحقیقی مقالے پیش کیے گئے، فورم کے سات ذیلی موضوعات میں سے تیسرے ذیلی موضوع پر بحث مکمل کی گئی اور چوتھے اور پانچویں ذیلی موضوعات پر بھی غور کیا گیا۔

ذیلی موضوع 3 اور ذیلی موضوع 4، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خطرات میں پانی کے تحت: ٹی ایف -9ڈیٹا پر مبنی حکمرانی کے اجلاس کی صدارت گنگا فلڈ کنٹرول کمیشن کے چیئرمین اور مرکزی آبی کمیشن کے رکن (سیلاب) جناب شیر سنگھ نے کی، جبکہ شریک صدارت مرکزی زیر زمین آبی بورڈ کے رکن (ایس اے ایم) جناب ایس جی بھرتاریہ نے کی۔ اجلاس میں نیشنل واٹر انفارمیٹکس سینٹر، بِساگ-این اور حکومت آندھرا پردیش نے شرکت کی۔

ٹی ایف -10موسمیاتی خطرات میں کمی کے لیے پیشگی الرٹ کے نظام کے اجلاس کی صدارت نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے رکن ڈاکٹر کرشنا وتسا نے کی، جبکہ شریک صدارت انڈیا میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے سائنس دان-جی ڈاکٹر ڈی آر پٹانائک نے کی۔

ٹی ایف -11 گلیشیرجھیلوں کے پھٹنے کی نگرانی کے اجلاس کی صدارت مرکزی آبی کمیشن کے چیف انجینئر (پی اینڈ ڈی او) جناب ڈی پی ماتھوریا نے کی، جبکہ شریک صدارت این آئی ایچ روڑکی کے سینٹر فار کرائیوسفیئر اینڈ کلائمیٹ چینج اسٹڈیز(سی4 ایس) کے سربراہ اور سائنس دان ’جی‘ ڈاکٹر سرجیت سنگھ نے کی۔

ٹی ایف -12 موسمیاتی تبدیلی: بے قاعدہ بارش کے اجلاس کی صدارت انڈیا میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے سائنس دان-جی ڈاکٹر ڈی ایس پائی نے کی، جبکہ شریک صدارت انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹرولوجی، پونے کے سائنس دان ای ڈاکٹر انکور سریواستو نے کی۔ ان میٹنگوں میں بھارت کے محکمہ موسمیات، سی ڈبلیو پی آر ایس پونے، این آئی ایچ روڑکی اور مرکزی آبی کمیشن نے شرکت کی۔

پیش کیے گئے مقالوں میں آبی معلوماتی نظام اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے ڈیٹا پر مبنی حکمرانی، خشک سالی اور سیلاب کی پیش گوئی، مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ڈیم سیفٹی کے پیشگی انتباہی نظام، ہمالیہ میں گلیشیرجھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب کے خطرات اور نگرانی، اور بدلتی ہوئی آب و ہوا کے تناظر میں طویل مدتی بارش اور درجہ حرارت کے رجحانات جیسے موضوعات شامل تھے۔ ان مقالوں میں مقامی سطح پر تیار کردہ ہِم جھیل نیتر(HIM JHEEL NETRA) گلیشیرجھیلوں کی نگرانی کا نظام، قومی سطح کا سیلاب کی پیش گوئی کا نظام، برہم پتر میں کٹاؤ کی ماڈلنگ اور ڈیموں کی حفاظت کے لیے جیو فزیکل تحقیقات بھی شامل تھیں۔

ذیلی موضوع 5: اختراعی مالیاتی ماڈل

ٹی ایف -13 آبی وسائل کے شعبے میں  پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور اختراعی مالیاتی ماڈل کے اجلاس کی صدارت ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے ساؤتھ ایشیا، سیکٹر ڈیارٹمنٹ 2، ایگریکلچر، فوڈ، نیچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ سیکٹر گروپ کے ڈائریکٹر جناب تاکیشی اوئیڈا نے کی، جبکہ شریک صدارت عالمی  بینک کے سینئر واٹر اسپیشلسٹ جناب راجیش اڈوانی نے کی۔ اجلاس میں ایشیائی ترقیاتی  بینک نے بھی شرکت کی۔

ٹی ایف -14 پانی کے استعمال کے معاوضے سے متعلق پالیسی کے اجلاس کی صدارت ہریانہ واٹر ریسورسز اتھارٹی کے رکن جناب سنجے مارواہ نے کی، جبکہ شریک صدارت فاؤنڈیشن فار ایکولوجیکل سوسائٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناب سبرت سنگھ نے کی۔

اجلاس میں واٹر، سینی ٹیشن اور ہائجین  (ڈبلیو اےایس ایچ)بنیادی ڈھانچے کے لیے گرین فنانس، کین-بتوا لنک کے ساتھ شمسی توانائی کے امکانات اور  چارجز کے نظام میں ازسرنو تبدیلی جیسے موضوعات پر مقالے پیش کیے گئے۔ ان میں مرکزی زیر زمین آبی اتھارٹی (سی جی ڈبلیو اے)کے رہنما خطوط کا تقابلی تجزیہ اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے نہروں میں پانی چھوڑنے کے عمل کو بہتر بنانے سے متعلق امور بھی شامل تھے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ آبپاشی کے شعبے کو طویل مدت تک پائیدار بنانے کے لیے پانی کے استعمال کا معاوضہ ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اسٹارٹ اپ فورم (ایس یو ایف)

اسٹارٹ اپ فورم کی صدارت محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے سکریٹری پروفیسر امیش وی واگھمارے نے کی، جبکہ شریک صدارت ایسوچیم کے سکریٹری جنرل کرنل سوربھ سانیال نے کی۔ فورم میں اسٹارٹ اپس، ایم ایس ایم ایز اور تعلیمی اداروں کی جانب سے آبی وسائل کے انتظام، گندے پانی کی صفائی، آبپاشی میں پانی کے مؤثر استعمال اور اسمارٹ آبی نظام سے متعلق مسائل کے عملی حل پیش کیے گئے۔ ان میں اسٹارٹ اپس، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان شراکت داری کے ذریعے تیار کیے گئے نمونے بھی شامل تھے۔ فورم نے اسٹارٹ اپس کو ماہرین اور سرمایہ کاروں کے پینل کے سامنے عملی اور قابل عمل حل پیش کرنے کا موقع بھی فراہم کیا۔

وزارت نے آبی شعبے کے مسائل اور مواقع سے طلبہ اور تعلیمی اداروں کو براہ راست آگاہ کرنے کے لیے ان کے ساتھ رابطہ بھی مزید مضبوط کیا ہے۔

گزشتہ سال وزارت تعلیم کے ساتھ رابطہ کاری میں اے آئی سی ٹی ای کے ساتھ متعدد اجلاس منعقد کرنے کے بعد، جل سیوا ادھیاین پہل کو اب اے آئی سی ٹی ای کے تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ فروری سے اپریل 2026 کے دوران طلبہ اور اساتذہ پر مشتمل 49 ٹیموں نے ملک بھر کے 132 دیہات کا دورہ کیا۔ انہوں نے دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کی خدمات کا براہ راست جائزہ لیا اور اپنے مشاہدات کی بنیاد پر تفصیلی فیلڈ رپورٹس پیش کیں۔ تقریباً 50 شریک طلبہ نے بھارت منڈپم میں افریقی سفیروں کے ساتھ گول میز کانفرنس میں بھی شرکت کی۔ گول میز کانفرنس کے بعد ”پینے کے پانی کی بات: جل شکتی کے وزیر کے ساتھ“ کے عنوان سے ایک خصوصی تعاملی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں طلبہ کو وزارت جل شکتی کی قیادت کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنے اور آبی شعبے کے مسائل، اختراعات اور مواقع پر تبادلہ خیال کرنے کا منفرد موقع ملا۔

اس تعاملی اجلاس میں ملک کے آبی شعبے کو مضبوط بنانے میں نوجوانوں کی شرکت، اختراعات اور برادری کی شمولیت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ طلبہ کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ کلاس روم میں حاصل کیے گئے علم کو عملی زندگی میں بروئے کار لائیں، حقیقی مسائل کے حل کے لیے اپنی تکنیکی معلومات کا استعمال کریں اور وکست بھارت 2047 کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔ بات چیت میں جل جیون مشن کے ذریعے دیہی زندگیوں میں آنے والی نمایاں تبدیلی، محفوظ پینے کے پانی کی اہمیت، برادری کی شمولیت سے پانی کے معیار کی نگرانی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار اور آبی شعبے کو درپیش نئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اختراعی، عملی اور وسیع پیمانے پر قابل عمل حل کی ضرورت پر توجہ مرکوز کی گئی۔

 

طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر جل شکتی جناب سی آر پاٹل نے زور دے کر کہا کہ جل جیون مشن محض بنیادی ڈھانچے کا پروگرام نہیں ہے بلکہ یہ ایک تبدیلی لانے والی پہل ہے، جس کا تعلق صحت، وقار، خواتین کو بااختیار بنانے اور معیار زندگی سے ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ آبی شعبے کے لیے اختراعی اور کم لاگت والی تکنیکی خدمات تیار کریں اور آبی مسائل کے حل میں بات چیت اور اتفاق رائے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

مرکزی وزیر مملکت برائے جل شکتی جناب راج بھوشن چودھری نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ دنیا بھر کے بہترین طریقہ کار کا مطالعہ کریں، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا سے فائدہ اٹھائیں اور دیہی برادریوں اور نچلی سطح پر کام کرنے والے اختراع کاروں کی جانب سے سامنے آنے والے حل کی نشاندہی کریں۔

 

پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمہ کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینا نے انجینئرنگ کے طلبہ کو دیہی علاقوں میں پانی کی فراہمی کے نظام کی زمینی حقیقتوں سے روشناس کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اے آئی سی ٹی ای کے تعاون سے پانی کے انتظام سے متعلق تعلیمی کورسز متعارف کرانے اور جل سیوا ادھیاین کا دائرہ ملک بھر کے انجینئرنگ اداروں تک بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔

 

آبی وسائل کی وزارت کی سکریٹری محترمہ ارچنا ورما نے آبی انتظام میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا اور طلبہ سے اپیل کی کہ وہ قومی ترقی کے لیے عوامی خدمت، اختراعات اور پائیدار آبی انتظام میں اپنی تکنیکی مہارت کو بروئے کار لائیں۔

قومی جل جیون مشن کے ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر جناب کمل کشور سون نے پینل کے ارکان اور طلبہ کا تعاملی اجلاس میں خیرمقدم کیا۔ انہوں نے جل سیوا ادھیاین اور اے آئی سی ٹی ای کی جانب سے شروع کیے جانے والے آئندہ آبی انتظام کے کورس کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔

تکنیکی اجلاس

پہلے تکنیکی اجلاس ”آبی فراہمی کے نظام: آپریشن، دیکھ بھال، بنیادی ڈھانچہ اور آبی ذرائع کا پائیدار انتظام“ میں دیہی علاقوں میں پانی کی فراہمی کے نظام کو طویل مدت تک پائیدار بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اجلاس میں چار مقالے پیش کیے گئے، جن میں جغرافیائی اطلاعاتی نظام (جی آئی ایس) پر مبنی آبی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کا جائزہ، پانی کی قیمتوں کے تعین کی حکمت عملی، پائیدار آبی وسائل کے انتظام کے لیے واٹر فٹ پرنٹ کا جائزہ اور پائپ کے ذریعے پینے کے پانی کی فراہمی کے نظام میں برادری کی ملکیت کے احساس کو مضبوط بنانے کے طریقے شامل تھے۔ بحث میں قابل اعتماد آبی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر بندوبست اور دیکھ بھال، بنیادی ڈھانچے اور اثاثوں کا انتظام، مالیاتی پائیداری اور سماجی  شمولیت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

دوسرے تکنیکی اجلاس ”پانی کا معیار، تحفظ اور ابھرتے ہوئے آلودہ عناصر“ میں نئے چیلنجوں کے تناظر میں پانی کے تحفظ اور معیار کے انتظام پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اجلاس میں پانچ مقالے پیش کیے گئے، جن میں آبی تحفظ کے لیے برادری کی قیادت میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے والے اقدامات، پانی کے تحفظ کی منصوبہ بندی کے لیے فیلڈ ٹیسٹ کٹس کا جائزہ، ابھرتے ہوئے آلودہ عناصر اور ماحولیاتی قوانین، بھارت میں پانی کے معیار سے متعلق چیلنجز اور پانی بھرنے کے مراکز کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ٹولز کے استعمال کا جائزہ لیا گیا۔ پیش کی گئی معلومات میں پانی کے معیار کی مؤثر نگرانی، پانی کے تحفظ کی منصوبہ بندی، برادری کی شمولیت اور ٹیکنالوجی پر مبنی طریقہ کار کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔

 

ایک اور اجلاس ”مالیات، اقتصادی ماڈل اور تکنیکی و اقتصادی حل“ کے موضوع پر منعقد ہوا، جس میں پانی اور صفائی ستھرائی کی خدمات کو مالی اور تکنیکی طور پر پائیدار بنانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں چار مقالے پیش کیے گئے، جن میں دیہی علاقوں میں پانی کی فراہمی، گندے پانی کی صفائی اور اخراجات کی وصولی کے لیے اختراعی ماڈل، دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کی خدمات کو برقرار رکھنے کے لیے مقامی اقتصادی ماڈل اور کم لاگت پر فضا سے پانی حاصل کرنے کے حل شامل تھے۔ اجلاس میں پائیدار آبی خدمات کے فروغ میں موزوں ٹیکنالوجی، مقامی اقتصادی ماڈل، صلاحیت سازی اور اختراعی طریقہ کار کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔

 

چوتھے تکنیکی اجلاس ”موسمیاتی استحکام، قدرتی بنیاد پر حل اور صفائی ستھرائی/دیگر امور“ میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق چیلنجوں کے پیش نظر ڈبلیو اے ایس ایچ نظام کو مزید مضبوط اور پائیدار بنانے کے طریقوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اجلاس میں چار مقالے پیش کیے گئے، جن میں سیوریج کیچڑ کے انتظام میں ڈیجیٹل انٹیلی جنس اور مشین لرننگ کا استعمال، اسٹارٹ اپس اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے صفائی ستھرائی کے شعبے میں اختراعات، پانی کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے طریقے اور مصنوعی ذہانت سے لیس مشینی اور روبوٹک نظام کے ذریعے ڈبلیو اے ایس ایچ  بنیادی ڈھانچے کے آپریشن اور دیکھ بھال کے امور شامل تھے۔ مباحثے میں پانی اور صفائی ستھرائی کے شعبے میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی، اختراعات، شراکت داری اور نظام کو مزید مضبوط بنانے کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ع  و۔ن م۔

U-4069


(ریلیز آئی ڈی: 2314752) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी