سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر مملکت جناب ہرش ملہوترا نے یوتھ سیفٹی اینڈ اسمارٹ موبیلیٹی ایکسپیڈیشن 2026 کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا


انھوں نے سڑک کی حفاظت کو مضبوط بنانے کے لیے زیادہ بیداری اور ذمہ دارانہ سڑک رویے پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 SEP 2026 8:10PM by PIB Delhi

سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت کے مرکزی وزیر مملکت جناب ہرش ملہوترا نے آج ٹرانسپورٹ بھون، نئی دہلی سے یوتھ سیفٹی اینڈ اسمارٹ موبیلیٹی ایکسپیڈیشن 2026 کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (پی ایچ ڈی سی سی آئی) اور جے کے ٹائر کے زیر اہتمام، یہ مہم، جس میں چنڈی گڑھ کی طرف سفر کرنے والی الیکٹرک گاڑیوں کا قافلہ شامل ہے، نوجوانوں کو سڑک کی حفاظت، ذمہ دارانہ ڈرائیونگ رویے اور اسمارٹ موبیلیٹی کے بارے میں حساس بنانے کا مقصد رکھتی ہے۔

اس موقع پر، سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری جناب محمود احمد؛ پی ایچ ڈی سی سی آئی کے سی ای او اور سکریٹری جنرل ڈاکٹر رنجیت مہتا؛ اور پاور گرڈ کے نائب صدر اور گروپ ہیڈ - ای آر، ای ایچ ایس اور سی ایس آر جناب بی ایس ڈاگر، نیز بھارت سرکار اور صنعت کے سینئر نمائندے بھی موجود تھے۔

شرکا سے خطاب کرتے ہوئے، جناب ہرش ملہوترا نے سڑک کی حفاظت کے اہم مقصد کے لیے مہم شروع کرنے پر انھیں مبارکباد دی۔ انھوں نے زور دیا کہ سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے متعدد جہتوں میں مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے، جس میں سڑک استعمال کرنے والوں کا ذمہ دارانہ رویہ، ٹریفک قوانین کی پابندی، سڑک انجینئرنگ، حادثے کے متاثرین کو بروقت امداد اور گاڑیوں کو اچھی حالت میں رکھنا شامل ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ سڑک کی حفاظت ایک اہم ترجیح ہے اور اس کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، کیوں کہ سڑک حادثات اور اموات ایک بڑا تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ سڑک استعمال کرنے والوں کو قانونی ڈھانچے اور ٹریفک قوانین کی پیروی کرنی چاہیے، کیوں کہ خلاف ورزیاں حادثات کے خطرے کو بڑھاتی ہیں۔

جناب ہرش ملہوترا نے گولڈن آور کے دوران حادثے کے متاثرین کو بروقت امداد فراہم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انھوں نے کہا کہ پی ایم-راحت اسکیم کے تحت، یہ یقینی بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں کہ حادثے کے متاثرین کو نازک گولڈن آور کے دوران ہسپتالوں میں لے جایا جائے۔ انھوں نے تکنیکی طور پر لیس ایمبولینسوں کی دستیابی کو بھی اجاگر کیا، جس میں ہنگامی حالات میں ضروری امداد فراہم کرنے کے لیے ٹول مراکز پر انتظامات بھی شامل ہیں۔

وزیر موصوف نے بلیک اسپاٹ کوریڈورز کی نشان دہی اور اصلاح کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ایسے کوریڈورز کی نشان دہی کرنے اور اصلاحی اقدامات کرنے کے لیے مسلسل خود احتسابی کی جاتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جہاں ضروری ہو وہاں انجینئرنگ اور ساختی مداخلتیں کی جاتی ہیں، جس میں موڑ، گھماؤ اور سڑک سے متعلق دیگر خامیوں کی اصلاح شامل ہے، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں بار بار حادثات ہوتے ہیں۔

انفرادی ذمہ داری کے کردار پر زور دیتے ہوئے، جناب ہرش ملہوترا نے کہا کہ گاڑی چلانے والے افراد کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ان کی گاڑیاں اچھی حالت میں رہیں تاکہ گاڑی سے متعلق مسائل کی وجہ سے حادثات نہ ہوں۔ انھوں نے کہا کہ سڑک کی حفاظت کے کئی پہلو ہیں اور نوجوانوں میں بیداری انھیں حل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انھوں نے مجمع کو وزارت کے نوجوانوں پر مرکوز اقدام - سڑک سرکشا متر کے بارے میں آگاہ کیا جس نے نوجوانوں کو سڑک پر ان کے رویے کو تبدیل کرکے سڑک کی حفاظت کے بارے میں حساس بنایا اور سڑک حادثے کے متاثرین کو مدد فراہم کرنے اور راہ-ویر بننے میں بھی مدد کی۔

وزیر موصوف نے نوجوانوں کو سڑک کی حفاظت اور ذمہ دارانہ رویے کی طرف حساس بنانے کے مہم کے مقصد کو سراہا۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ سڑک پر ایک فرد کی غلطی نہ صرف اس کی اپنی زندگی بلکہ دوسرے سڑک استعمال کرنے والے کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مہم جیسی بیداری کی پہل اس پیغام کو تقویت دینے میں مدد کر سکتی ہے کہ سڑکوں پر محفوظ نقل و حرکت ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔

جناب ہرش ملہوترا نے متبادل ایندھن کی طرف منتقلی کے حصے کے طور پر اسمارٹ اور الیکٹرک موبیلیٹی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انھوں نے کہا کہ بھارت سرکار الیکٹرک گاڑیوں کو مسلسل فروغ دے رہی ہے اور متبادل ایندھن کی ٹیکنالوجیز کی ترقی میں مدد کر رہی ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے ارتقا کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی رینج میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، پہلے تقریباً 150-200 کلومیٹر سے آج ایک ہی چارج پر تقریباً 350-400 کلومیٹر تک۔ انھوں نے الیکٹرک بسوں میں فلیش چارجنگ جیسی اختراعات کا بھی حوالہ دیا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اس شعبے میں تکنیکی ترقی جاری ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت سرکار بھارت میں جدید ترین اور عالمی معیار کی اختراعات کو اپنانے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے صنعت کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ انھوں نے ملک میں بیٹری کی تیاری اور اسمبلی کو مضبوط بنانے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ بھارت سرکار اس سلسلے میں صنعت کو ضروری سہولیات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

جناب ہرش ملہوترا نے کہا کہ 2070 تک خالص صفر اخراج کے ملک کے ہدف کے تناظر میں متبادل ایندھن کی طرف منتقلی اہم ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ اس منتقلی کے لیے تکنیکی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔

اس مہم میں تقریباً 50-60 الیکٹرک گاڑیوں کا قافلہ شامل ہے جو تقریباً 500 کلومیٹر طویل نئی دہلی-چنڈی گڑھ کوریڈور کے ساتھ سفر کر رہا ہے۔ شرکا کو سڑک کی حفاظت کے سفیر کے طور پر کام کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے، جو سفر کے دوران ذمہ دارانہ سڑک رویے اور محفوظ نقل و حرکت کا پیغام لے کر جا رہے ہیں۔

اس مہم میں راستے میں نوجوانوں اور اسٹیک ہولڈروں کے ساتھ گفت و شنید شامل ہوگی، جس میں ذمہ دارانہ ڈرائیونگ رویے، سڑک کے نظم و ضبط، سڑک کی حفاظت اور الیکٹرک موبیلیٹی پر توجہ دی جائے گی۔

***

(ش ح - ع ا)

U.No. 4061


(ریلیز آئی ڈی: 2314624) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English