شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

منتخب اضلاع میں لیبر مارکیٹ کی صورتحال


این ایس او  کی طرف سے پہلی بار ضلعی سطح پر  لیبر مارکیٹ  سے متعلق اہم اشاریے جاری

تقریباً 57.8 فیصد اضلاع میں ایل ایف پی آر  40 فیصد یا اس سے زیادہ ریکارڈ کی گئی
سب سے زیادہ آبادی والے 50 فیصد اضلاع میں ڈبلیو پی آر 37.3 فیصد سے 76.7 فیصد کے درمیان رہی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 SEP 2026 4:00PM by PIB Delhi

جھلکیاں:

  • تقریباً 98.8 فیصد اضلاع میں( 15 سال سے زیادہ عمر ) کی لیبر فورس شمولیت کی شرح (ایل ایف پی آر)اور تقریباً 98.3 فیصد اضلاع میں روزگار کی شرح(ڈبلیو پی آر)40 سے 80 فیصد کے درمیان رہی۔
  • تقریباً 77.8 فیصد اضلاع میں ( 15 سال سے زیادہ عمر ) بے روزگاری کی شرح (یو آر) 0.5 فیصد سے 5.5 فیصد کے درمیان ریکارڈ کی گئی۔
  • آبادی کے لحاظ سے 100 سب سے بڑے اضلاع  کے زمرے میں گجرات کے سورت میں ایل ایف پی آراور ڈبلیو پی آر کی شرح سب سے زیادہ، جبکہ بہار کے دربھنگہ میں ایل ایف پی آراور ڈبلیو پی آر کی شرح سب سے کم ریکارڈ کی گئی۔
  • 75 فیصد سے زیادہ اضلاع میں 15 سے 29 سال عمر کے افراد کی این ای ای ٹی شرح 30 فیصد سے کم رہی۔

اہم نتائج (معمول کے طریقہ کار کے تحت):

i۔ پندرہ  سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد کے زمرے  میں، آبادی کے لحاظ سے 100 سب سے بڑے اضلاع میں:

(الف) لیبر فورس شمولیت کی شرح (ایل ایف پی آر) کے لحاظ سے گجرات کا سورت (68.6 فیصد) کے ساتھ سب سے مقدم ہے ، اس کے بعد بہار کا ارریہ (68.0 فیصد) اور تمل ناڈو کا سیلم (67.8 فیصد) دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔

(ب) اسی طرح روزگار کی شرح (ڈبلیو پی آر) کے لحاظ سے گجرات کا سورت (67.8 فیصد)فیصد کے ساتھ سرفہرست ہے،  اس کے بعد بہار کا ارریہ (67.4 فیصد) اور گجرات کا بناس کانٹھا (66.6 فیصد) کا نمبر ہے۔

(ج) مغربی بنگال کے جنوبی 24 پرگنہ (0.9 فیصد)، بہار کے ارریہ (0.9 فیصد) اور گجرات کے احمد آباد (1.1 فیصد)  میں بے روزگاری کی شرح سب سے کم  درج کی گئی۔

(د) 15 سے 29 سال عمر کے نوجوانوں میں تعلیم، روزگار یا تربیت سےعدم وابستگی کی شرح  (این ای ای ٹی) کیرالہ کے ایرناکلم (9.6 فیصد)، تمل ناڈو کے کوئمبٹور (14.5 فیصد) اور کرناٹک کے بنگلورو (شہری) (15.0 فیصد)میں سب سے کم  درج کی گئی۔

ii. ریاستی دارالحکومت کے اضلاع کی سطح پر (جدول 4 میں مذکور ریاستوں کے مطابق):

اے. 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کے  زمرے  میں لیبر فورس شمولیت کی شرح (ایل ایف پی آر) اور روزگار کی شرح (ڈبلیو پی آر) کے لحاظ سے ہماچل پردیش کا شملہ (70.0 فیصد اور 65.1 فیصد)، کیرالہ کا ترواننت پورم (64.4 فیصد اور 63.2 فیصد) اور چھتیس گڑھ کا رائے پور (61.5 فیصد اور 59.4 فیصد) کے ساتھ سرفہرست رہے۔

بی. 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کے زمرے میں بے روزگاری کی شرح (یو آر) کے لحاظ سے کیرالہ کا ترواننت پورم (1.9 فیصد)، مغربی بنگال کا کولکاتہ (1.9 فیصد) اور کرناٹک کا بنگلورو (شہری) (2.5 فیصد) کے ساتھ سب سے کم  سطح پر درج کیا گیا۔

سی. 15 سے 29 سال عمر کے نوجوانوں میں تعلیم، روزگار یا تربیت سے عدم وابستگی کی شرح  (این ای ای ٹی) کے لحاظ سے جموں و کشمیر کا سری نگر (14.3 فیصد)، کرناٹک کا بنگلورو (شہری) (15.0 فیصد) اور آندھرا پردیش کا گنٹور (15.1 فیصد) کے ساتھ سب سے کم  سطح پر درج کیا گیا۔

اہم نکات (معمول کی صورت حال کے طریقہ کار کے تحت):

1. لیبر مارکیٹ کے اہم اشاریوں کے لحاظ سے اضلاع کی زمرہ بندی

جدول 1 سے ظاہر ہوتا ہے کہ 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے معمول کی حیثیت کے تحت ضلعی سطح پر لیبر فورس شمولیت کی شرح (ایل ایف پی آر) اور روزگار کی شرح (ڈبلیو پی آر) کے اعداد و شمار درمیانی حدود میں مرتکز ہیں۔ دونوں اشاریوں کے لیے 98 فیصد سے زیادہ اضلاع 40 سے 80 فیصد کی حد میں آتے ہیں، جبکہ 40 فیصد سے کم یا 80 فیصد سے زیادہ شرح والے اضلاع کی تعداد نہایت کم ہے۔ اس حد کے اندر دونوں اشاریوں کی تقسیم میں معمولی فرق ہے۔ 52.7 فیصد اضلاع میں ایل ایف پی آر، 60 سے 80 فیصد کی حد میں رہی، جبکہ 54.3 فیصد اضلاع میں ڈبلیو پی آر، نسبتاً کم 40 سے 60 فیصد کی حد میں رہی۔

جدول 1: ایل ایف پی آراور ڈبلیو پی آر کے لحاظ سے  اضلاع کی زمرہ بندی

ایل ایف پی آر/ڈبلیو پی آر کی رینج (فیصد  میں)

اضلاع کا فیصد  حصہ-ایل ایف پی آر

اضلاع کا فیصد حصہ-ڈبلیو پی آر

(1)

(2)

(3)

40 سے نیچے

0.2

1.0

40-60

46.1

54.3

60-80

52.7

44.0

80 سے اوپر

1.0

0.7

جدول 2 سے ظاہر ہوتا ہے کہ 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے معمول کی  صورت حال کے تحت ضلعی سطح پر بے روزگاری کی شرح (یو آر) زیادہ تر اوسط حدود میں مرکوز رہی۔ 43.1 فیصد اضلاع میں بے روزگاری کی شرح 0.5 سے 3.0 فیصد کے درمیان رہی، جبکہ مزید 34.7 فیصد اضلاع میں یہ شرح 3.0 سے 5.5 فیصد کے درمیان ریکارڈ کی گئی۔ اس کے مقابلے میں نسبتاً کم اضلاع میں بے روزگاری کی شرح بہت کم (0.5 فیصد سے کم، 7.2 فیصد اضلاع) یا زیادہ (5.5 فیصد سے زیادہ، 14.9 فیصد اضلاع) رہی۔

جدول 2: یو آر  کے لحاظ سے اضلاع کی زمرہ بندی

یو آر  کی رینج (فیصد  میں)

اضلاع کا فیصد حصہ

(1)

(2)

0.5 سے نیچے

7.2

0.5-3.0

43.1

3.0-5.5

34.7

5.5 سے اوپر

14.9

ج

جدول 3 میں معمول کی  صورت حال کے طریقہ کار کے تحت 15 سے 29 سال عمر کے نوجوانوں کے لیے این ای ای ٹی کی مختلف شرحوں کے مطابق اضلاع کی ز مرہ بندی  کی گئی ہے۔ این ای ای ٹی کی شرح کے مختلف زمروں میں اضلاع کی تقسیم سے ظاہر ہوتا ہے کہ 45.9 فیصد اضلاع میں این ای ای ٹی کی شرح 20 سے 30 فیصد کے درمیان رہی۔ اس کے بعد 26.1 فیصد اضلاع ایسے  ہیں  جہاں این ای ای ٹی کی شرح 10 سے 20 فیصد کے درمیان درج کی گئی۔ اس کے علاوہ، 23.7 فیصد اضلاع میں این ای ای ٹی کی شرح 30 فیصد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباً ایک چوتھائی اضلاع میں این ای ای ٹی کی شرح نسبتاً زیادہ رہی۔ دوسری جانب، 4.2 فیصد اضلاع میں این ای ای ٹی کی شرح 10 فیصد سے کم رہی۔ مجموعی طور پر، 76.2 فیصد اضلاع میں این ای ای ٹی کی شرح 30 فیصد سے کم رہی، جبکہ 23.7 فیصد اضلاع میں یہ شرح 30 فیصد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

جدول 3: این ای ای ٹی کے لحاظ سے  اضلاع کی ز مرہ بندی

این ای ای ٹی کی  رینج (فیصد  میں)

اضلاع کا فیصد حصہ

(1)

(2)

10 سے نیچے

4.2

10-20

26.1

20-30

45.9

30 سے ​​اوپر

23.7

2

2. خواتین کی زیادہ ایل ایف پی آر  اور ڈبلیو پی آر والے اضلاع

جدول 4 میں ہر ریاست کے ان دس سب سے زیادہ آبادی والے اضلاع میں سے اس ضلع کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں خواتین کی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے خواتین کی ایل ایف پی آر اور ڈبلیو پی آر سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

جدول 4: ریاست کے لحاظ سے سب سے زیادہ خواتین ایل ایف پی آراور ڈبلیو پی آر والے اضلاع

ریاست

خواتین کی سب سے زیادہ ایل ایف پی آروالا ضلع (تخمینہ فیصد میں)

خواتین کی سب سے زیادہ ڈبلیو پی آر والا ضلع (تخمینہ فیصد  میں)

(1)

(2)

(3)

آندھرا پردیش

سری ستھیا سائی (59.1)

سری ستھیا سائی (56.7)

آسام

تین سکیا (66.1)

تین سوکیا (64.6)

بہار

سیوان (24.7)

سیوان (24.3)

چھتیس گڑھ

سرگوجا (69.0)

سرگوجا (68.0)

دہلی

مشرقی دہلی (18.9)

مشرقی دہلی (15.7)

گجرات

کھیڑا (55.6)

کھیڑا (55.4)

ہریانہ

سرسا (42.4)

سرسا (41.2)

ہماچل پردیش

ہمیرپور (80.9)

ہمیرپور (80.0)

جموں و کشمیر

بڈگام (71.4)

بڈگام (69.6)

جھارکھنڈ

مغربی سنگھ بھوم (55.7)

گرڈیہ (54.4)

کرناٹک

بیجاپور (47.0)

بیجاپور (46.3)

کیرالہ

ترواننت پورم (52.0)

ترواننت پورم (49.9)

مدھیہ پردیش

دھار (59.6)

دھار (59.5)

مہاراشٹر

احمد نگر (51.9)

احمد نگر (50.5)

اڈیشہ

میور بھنج  (71.8)

میور بھج  (71.2)

پنجاب

پٹیالہ (39.3)

پٹیالہ (35.8)

راجستھان

دوسہ (60.9)

دوسہ (59.6)

تمل ناڈو

کڈالور (54.9)

کڈالور (54.4)

تلنگانہ

جگتیال  (63.2)

جگتیال (62.5)

اتراکھنڈ

ٹہری گڑھوال (56.3)

ٹہری گڑھوال (55.9)

اتر پردیش

غازی پور (53.4)

غازی پور (52.9)

مغربی بنگال

مغربی میدنی پور (41.8)

مغربی میدنی پور (41.2)

3

3. سب سے کم بے روزگاری کی شرح والے سرفہرست اضلاع

جدول 5 میں 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کے  زمرے میں  سب سے کم بے روزگاری کی شرح (یو آر)  ریکارڈ کرنے والے 10 اضلاع پیش کیے گئے ہیں۔ ان اضلاع کا انتخاب ملک گیر سطح پر آبادی کے لحاظ سے 100 سب سے بڑے اضلاع میں سے کیا گیا ہے۔

جدول 5: سب سے کم یو آر  والے اضلاع

ریاست

ضلع

یو آر (فیصد )

(1)

(2)

(3)

مغربی بنگال

جنوبی چوبیس پرگنہ

0.9

بہار

ارریہ

0.9

گجرات

احمد آباد

1.1

گجرات

سورت

1.2

اتر پردیش

بریلی

1.2

اتر پردیش

بلندشہر

1.2

گجرات

بناس کانٹھا

1.2

کرناٹک

بیلگاوی

1.5

مہاراشٹر

پالگھر

1.5

مہاراشٹر

ناندیڑ

1.5

4. این ای ای ٹی کی سب سے کم شرح والے سرفہرست اضلاع

جدول 6 میں 15 سے 29 سال عمر کے زمرے میں سب سے کم این ای ای ٹی شرح ریکارڈ کرنے والے 10 اضلاع پیش کیے گئے ہیں۔ ان اضلاع کا انتخاب ملک گیر سطح پر آبادی کے لحاظ سے 100 سب سے بڑے اضلاع میں سے کیا گیا ہے۔

جدول 6: این ای ای ٹی کی سب سے کم شرح والے اضلاع

ریاست

ضلع

این ای ای ٹی (فیصد )

(1)

(2)

(3)

کیرالہ

ایرناکولم

9.6

تمل ناڈو

کوئمبٹور

14.5

کرناٹک

بنگلورو (شہری)

15.0

جھارکھنڈ

رانچی

16.5

گجرات

سورت

17.2

کیرالہ

تھریسور

17.8

گجرات

وڈودرہ

18.1

مہاراشٹر

رائے گڑھ

18.5

مہاراشٹر

چھترپتی سمبھاجی نگر

18.6

گجرات

احمد آباد

18.9

خاتمہ:

اے. تعارف

زیادہ تواتر کے ساتھ اور وسیع دائرہ کار میں لیبر فورس سے متعلق اشاریے تیار کرنے کی ضرورت کے پیش نظر، جنوری 2025 سے متواتر لیبر فورس سروے (پی ایل ایف ایس) کے نمونہ جاتی طریقہ کار میں بہتری کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ  لیبر فورس سے متعلق اشاریے جاری کرنے کے بین الاقوامی طریقہ کار کے ساتھ یکسانیت برقرار رکھنے کے واسطے 2025 سے پی ایل ایف ایس کی جائزہ  مدت کو جولائی تا جون کے دورانیے (یعنی زراعتی سال) سے تبدیل کرکے جنوری تا دسمبر کے دورانیے (یعنی تقویمی سال) کردیا گیا ہے۔ تبدیل شدہ پی ایل ایف ایس نمونہ جاتی ڈیزائن کے درج ذیل مقاصد ہیں:

  • دیہی اور شہری علاقوں کے لیے آل انڈیا سطح پر موجودہ ہفتہ وار صورت حال (سی ڈبلیو ایس) کے تحت روزگار اور بے روزگاری سے متعلق اہم اشاریوں، یعنی لیبر فورس شمولیت کی شرح، روزگار کی شرح اور بے روزگاری کی شرح کا ماہانہ تخمینہ لگانا۔
  • پی ایل ایف ایس کے سہ ماہی نتائج کا دائرہ دیہی علاقوں تک وسیع کرنا اور اس طرح موجودہ ہفتہ وار  صورتحال (سی ڈبلیو ایس) کے تحت  ہندوستان  کے دیہی اور شہری دونوں علاقوں کا احاطہ کرنے والے سہ ماہی تخمینے تیار کرنا۔
  • دیہی اور شہری علاقوں کے لیے معمول کی صورتحال (ایس ایس پلس پی ایس) اور موجودہ ہفتہ وار صورتحال (سی ڈبلیو ایس)، دونوں کے تحت روزگار اور بے روزگاری سے متعلق اہم اشاریوں کا سالانہ تخمینہ لگانا۔

سال2025 سے متواتر لیبر فورس سروے (پی ایل ایف ایس) کے نمونہ جاتی ڈیزائن میں بیشتر جغرافیائی علاقوں کے لیے اضلاع کو بنیادی سطح قرار دیا گیا ہے، جس سے ضلعی سطح کے تخمینے تیار کرنے میں سہولت ہوتی ہے۔ 2025 سے قبل پی ایل ایف ایس کا نمونہ جاتی ڈیزائن بنیادی سطح کے طور پر این ایس ایس علاقوں  پر مبنی تھا اور اس لیے اسے خاص طور پر ضلعی سطح کے تخمینے تیار کرنے کے لیے وضع نہیں کیا گیا تھا۔

بی. طریقہ کار سے متعلق احتیاط کے نکات

یہ بلیٹن متواتر لیبر فورس سروے (پی ایل ایف ایس) کے تحت ضلعی سطح کے تخمینوں کی پہلی اشاعت ہے، جو جنوری 2025 سے اختیار کیے گئے نظرثانی شدہ نمونہ جاتی ڈیزائن پر مبنی ہے۔ یہاں پیش کیے  جانے والے  تخمینے اس نمونہ جاتی خاکے  پر مبنی ہیں جو نمونے کے انتخاب کے وقت تشکیل دیا گیا تھا اور ان میں بعد کے عرصے میں اضلاع کی حدود میں ہونے والی تبدیلیوں، اضلاع کی زمرہ بندی یا ناموں میں تبدیلی کی عکاسی ممکن نہیں ہے۔

اگرچہ یہ تخمینے ضلعی سطح پر لیبر مارکیٹ کی صورت حال  پر اہم معلومات فراہم کرتے ہیں، تاہم وہ نمونہ جاتی سروے کے فطری نقائص سے مشروط ہیں۔ صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ تخمینوں کی تشریح کرتے وقت متعلقہ نمونہ جاتی فرق اور نسبتی معیاری سہو (آر ایس ای) کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب احتیاط برتیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سابقہ این ایس ایس علاقوں پر مبنی تخمینوں کے ساتھ موازنہ مناسب نہیں ہے، کیونکہ موجودہ سروے ڈیزائن ضلعی سطح پر نمائندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔

سی. اہم اشاریوں کا  اصولی فریم ورک

اس بلیٹن میں بنیادی سطح پر لیبر فورس سے متعلق اہم اشاریے پیش کیے گئے ہیں، جن میں لیبر فورس شمولیت کی شرح (ایل ایف پی آر)، روزگار کی شرح (ڈبلیو پی آر)، بے روزگاری کی شرح (یو آر) اور ایسے افراد کی شرح شامل ہے جو روزگار، تعلیم یا تربیت(این ای ای ٹی) سے وابستہ نہیں ہیں۔ ان اشاریوں اور پیمائش کے طریقوں، یعنی ’معمول کی صورت حال‘ اور ’موجودہ ہفتہ وار صورت حال‘ کی تعریفیں درج ذیل ہیں:

  • لیبر فورس شمولیت کی شرح (ایل ایف پی آر): لیبر فورس شمولیت کی شرح سے مراد مخصوص آبادی میں لیبر فورس کا حصہ رکھنے والے افراد (یعنی کام کرنے والے یا کام کی تلاش میں رہنے والے یا کام کے لیے دستیاب افراد) کا فیصد ہے۔
  • روزگار کی شرح (ڈبلیو پی آر): روزگار کی شرح سے مراد مخصوص آبادی میں روزگار سے وابستہ افراد (یعنی کسی بھی معاشی سرگرمی میں مشغول  افراد) کا فیصد ہے۔
  • بے روزگاری کی شرح (یو آر): بے روزگاری کی شرح سے مراد لیبر فورس میں شامل ان افراد کا فیصد ہے جو بے روزگار ہیں (یعنی کام نہ ہونے کی وجہ سے کام نہیں کر رہے تھے، لیکن مختلف ذرائع سے کام تلاش کر رہے تھے یا کام کرنے کی خواہش یا دستیابی کا اظہار کر رہے تھے)۔
  • روزگار، تعلیم یا تربیت سےنا وابستہ افراد (این ای ای ٹی): این ای ای ٹی سے مراد مذکورہ  مدت کے دوران روزگار، تعلیم یا تربیت سے وابستہ نہ ہونے والے افراد کا آبادی میں فیصد ہے۔
  • سرگرمی کی حالت - معمول کی حالت: کسی شخص کی سرگرمی کی حالت  کا تعین مقررہ حوالہ مدت کے دوران اس کی انجام دی جانے والی سرگرمیوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ جب سرگرمی کی حالت  کا تعین سروے کی تاریخ سے پہلے کے گزشتہ 365 دن کی حوالہ مدت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے تو اسے اس شخص کی معمول کی سرگرمی کی حالت کہا جاتا ہے۔
  • بنیادی سرگرمی کی حالت (پی ایس): سروے کی تاریخ سے پہلے کے گزشتہ 365 دن کے دوران جس سرگرمی کی حالت میں کسی شخص نے نسبتاً زیادہ وقت (اہم وقت کے معیار) صرف کیا ہو، اسے اس شخص کی معمول کی بنیادی سرگرمی کی حالت  تصور کیا جاتا ہے۔
  • ذیلی معاشی سرگرمی کی حالت  (ایس ایس): سروے کی تاریخ سے پہلے کے 365 دن کی حوالہ مدت کے دوران اگر کوئی شخص اپنی معمول کی بنیادی سرگرمی کی حالت  کے علاوہ کسی معاشی سرگرمی میں 30 دن یا اس سے زیادہ عرصے تک مشغول رہا ہو تو اسے اس شخص کی ذیلی معاشی سرگرمی کی حالت  تصور کیا جاتا ہے۔
  • سرگرمی کی حالت  - موجودہ ہفتہ وار حالت  (سی ڈبلیو ایس): سروے کی تاریخ سے پہلے کے 7 دن کی حوالہ مدت کی بنیاد پر متعین کی جانے والی سرگرمی کی حالت  کو اس شخص کی موجودہ ہفتہ وار حالت  (سی ڈبلیو ایس) کہا جاتا ہے۔

‘منتخب اضلاع میں لیبر مارکیٹ  کی صورتحال’ کے عنوان سے بلیٹن وزارت کی ویب سائٹ https://www.mospi.gov.in  پر دستیاب ہے۔

کیو آر کوڈ اسکین کریں اور شماریات و پروگرام  کے نفاذ  کی وزارت کی اشاعتوں اور رپورٹوں تک رسائی حاصل کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔م ش ع۔ ن م۔

U- 3900


(ریلیز آئی ڈی: 2313380) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी