حکومت ہند کے سائنٹفک امور کے مشیر خاص کا دفتر
پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے سائنسی اور تحقیق و ترقی کے بنیادی ڈھانچے تک وسیع تر رسائی کے لیے ریاستی سطح پر تال میل مضبوط بنانے کی غرض سے ’ریاستی حکومتوں کے نوڈل افسران کی پہلی میٹنگ‘ کا انعقاد کیا
آئی-اسٹیم نے ریاستی یونیورسٹیوں، اداروں اور تحقیق و ترقی کی سہولتوں کو قومی سائنسی نظام سے مربوط ہونے کے مواقع فراہم کیے
آئی-اسٹیم نے 31,000 سے زائد سائنسی آلات اور 4,000 اداروں کے ساتھ ریاستی سطح پر اپنی رسائی کو وسعت دی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 SEP 2026 9:17PM by PIB Delhi
حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر میں سائنسی اُمور کی سکریٹری ڈاکٹر (محترمہ) پرویندر مینی نے 21 ستمبر 2026 کو آئی-اسٹیم پورٹل کے لیے ’ریاستی حکومتوں کے نوڈل افسران کی پہلی میٹنگ‘ کی صدارت کی۔ میٹنگ میں آئی-اسٹیم ماحولیاتی نظام میں ریاستی حکومتوں کی شمولیت کو مضبوط بنانے، نیز ریاستوں میں سرکاری فنڈ سے قائم سائنسی بنیادی ڈھانچے کو اس نظام میں شامل کرنے اور اس کے موثر استعمال کو آسان بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
آئی-اسٹیم کا تصور پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے پیش کیا تھا اور اسی دفتر کی حمایت سے اسے جنوری 2020 میں معزز وزیر اعظم نے شروع کیا تھا۔ یہ پلیٹ فارم اب ایک قومی وسیلے کی شکل اختیار کرچکا ہے، جس میں تقریباً 4,000 اداروں کے 31,000 سے زائد سائنسی آلات اور 65,000 سے زیادہ رجسٹرڈ صارفین شامل ہیں۔ موجودہ بنیادی ڈھانچے کے بہتر استعمال، سرمایہ کاری کی تکرار میں کمی اور خصوصی سہولتوں تک رسائی آسان بنانے کے ذریعے آئی-اسٹیم ملک بھر میں تحقیق اور اختراع کے نظام کو مضبوط بنا رہا ہے۔ مزید برآں، آئی-اسٹیم پر 20 لاکھ روپے سے زیادہ مالیت کے سرکاری فنڈ سے خریدے گئے آلات کی فہرست شامل کیے جانے سے سائنسی بنیادی ڈھانچے تک مشترکہ طور پر رسائی اور اس کے بہترین استعمال کا نظام مزید مستحکم ہوا ہے۔

اس میٹنگ میں 23 ریاستوں اور 4 مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ریاستی حکومتوں کے نوڈل افسران کے علاوہ پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر اور آئی-اسٹیم کے نمائندوں نے شرکت کی۔ میٹنگ میں ریاستی سطح کی یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں، تجربہ گاہوں اور دیگر تحقیق و ترقی کی سہولتوں کو قومی آئی-اسٹیم پلیٹ فارم سے مربوط کرنے کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ میں آئی-اسٹیم کا تعارف، پلیٹ فارم کے بارے میں تفصیلی طور پر رہنمائی اور نوڈل افسران کے ساتھ تعمیری تبادلہ خیال شامل تھا۔

اپنے کلیدی خطاب میں حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر کی سائنسی سکریٹری ڈاکٹر (محترمہ) پرویندر مینی نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ ہندوستان کی جانب سے سائنسی اور تحقیق و ترقی کے بنیادی ڈھانچے میں کی جانے والی سرمایہ کاری کے بارے میں معلومات آسانی سے دستیاب ہوں، اس تک رسائی ممکن ہو اور اس کا بہترین استعمال یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اداروں کو آئی-اسٹیم میں شامل کرنے، سائنسی آلات کی فہرست درج کرنے، وسیع تر رسائی فراہم کرنے اور سہولتوں کے موثر استعمال میں نوڈل افسران کے کردار کو اجاگر کیا، ساتھ ہی تال میل اور عمل درآمد سے متعلق عملی مسائل کے حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اعلی معیار کے علمی وسائل تک وسیع تر رسائی ممکن بنانے اور تحقیقی نظام کو مزید مضبوط کرنے میں ’ون نیشن ون سبسکرپشن‘ (او این او ایس) جیسے اقدامات کی اہمیت بھی اجاگر کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وسیع تر مقصد یہ ہونا چاہیے کہ سرکاری سرمایہ کاری سے تیار کیے گئے سائنسی بنیادی ڈھانچے اور علمی وسائل تحقیق و ترقی اور اختراع کے وسیع تر نظام کے لیے قابل رسائی ہوں اور ملک کے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ فراہم کریں۔
حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر کے سائنسداں ’ایف‘ ڈاکٹر وشال چودھری نے آئی-اسٹیم پورٹل کا جائزہ پیش کیا، جبکہ آئی-اسٹیم کے چیف آپریٹنگ افسر/قومی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ہری لال بھاسکر نے پلیٹ فارم اور اس کی خصوصیات کے بارے میں تفصیلی رہنمائی فراہم کی۔ اس رہنمائی میں اداروں کو آئی-اسٹیم میں شامل کرنے، سائنسی آلات کی فہرست درج کرنے اور سرکاری فنڈ سے قائم تحقیق و ترقی کے بنیادی ڈھانچے تک وسیع تر رسائی ممکن بنانے کے طریقہ کار کی وضاحت کی گئی۔
میٹنگ میں ریاستی یونیورسٹیوں، کالجوں، تکنیکی اداروں اور ابھرتے ہوئے اختراعی نظاموں کے لیے آئی-اسٹیم کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا، خاص طور پر ان اداروں کے لیے جہاں خصوصی سائنسی بنیادی ڈھانچے تک رسائی محدود ہو سکتی ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ اس نوعیت کے دیگر تمام موجودہ پلیٹ فارمز، مثلاً سی ایس آئی آر کا ’اینالیٹکس‘ پورٹل، اے پی آئی روابط کے ذریعے آئی-اسٹیم کے ساتھ مربوط کیے جا رہے ہیں۔
غور و خوض اور متعلقہ فریقوں کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز میں درج ذیل اہم ترجیحات کو اجاگر کیا گیا:
- اداروں کو آئی-اسٹیم میں شامل کرنے کا عمل مضبوط بنانا: ریاستی حکومتوں کے تحت آنے والی یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں اور تحقیق و ترقی کی تجربہ گاہوں کو آئی-اسٹیم پر صارفین اور سہولت فراہم کرنے والے اداروں کو دونوں حیثیتوں سے رجسٹریشن کے لیے ترغیب دینا۔
- رسائی کو وسعت دینا:محققین، اسٹارٹ اپس، چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں اور صنعتی اداروں کو مختلف اداروں اور ریاستوں میں دستیاب خصوصی سائنسی بنیادی ڈھانچے کو تلاش کرنے اور اس تک رسائی حاصل کرنے کے قابل بنانا۔
- استعمال کو بہتر بنانا:سرکاری فنڈ سے قائم سائنسی آلات اور سہولتوں کے زیادہ وسیع اور موثر استعمال کو فروغ دینا۔
- بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی میں معاونت: آئی-اسٹیم کے ذریعے دستیاب قومی سائنسی بنیادی ڈھانچے کی مکمل تصویر کو مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے منصوبہ بندی میں استعمال کرنا اور ایک ہی نوعیت کی سرمایہ کاری کی تکرار کو کم سے کم کرنا۔
- ریاستی سطح پر تال میل مضبوط بنانا: ریاستی حکومتوں کے نوڈل افسران کو ریاستی حکومتوں، ان کے اداروں اور قومی آئی-اسٹیم نظام کے درمیان رابطے کے طور پر کام کرنے کے قابل بنانا، تاکہ اداروں کو آئی-اسٹیم میں شامل کرنے، آلات کی فہرست درج کرنے، بیداری پیدا کرنے اور سہولتوں کے موثر استعمال میں معاونت کی جا سکے۔

میٹنگ کا اختتام ریاستی سطح کے تحقیق و ترقی کے بنیادی ڈھانچے اور قومی سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے نظام کے درمیان تال میل کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے ہوا۔ ریاستی حکومتوں کے نوڈل افسران کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ اپنی متعلقہ ریاستوں میں آئی-اسٹیم کو وسیع پیمانے پر اپنانے میں سہولت فراہم کریں اور اداروں کو آئی-اسٹیم میں شامل کرنے، آلات کی فہرست درج کرنے، رسائی، استعمال اور تال میل سے متعلق عملی مسائل کے حل کے لیے اقدامات کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔م م ع ۔ع ن)
U. No. 3891
(ریلیز آئی ڈی: 2313301)
وزیٹر کاؤنٹر : 4