بھاری صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ایچ ڈی کماراسوامی نے ملک بھر کے برقی گاڑیوں کے مستفیدین اور تقسیم کاروں سے بات چیت کی، پائیدار اور خود کفیل برقی نقل و حمل کی جانب ہندوستان کے تبدیلی کے سفر کو اجاگر کیا


وزیر کا برقی نقل  و حمل کی جانب جامع، سستی اور معاشی طور پر پائیدار منتقلی ،مقامی پیداوار، اختراع، مسابقتی لاگت اور عالمی سطح کی صلاحیتوں پر زور

مستفیدین  کا برقی نقل و حمل سے متعلق حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 SEP 2026 11:24PM by PIB Delhi

بھاری صنعتوں اور اسٹیل  کےمرکزی وزیر جناب ایچ ڈی کماراسوامی نے آج نئی دہلی کے وگیان بھون میں ملک گیر سطح پر برقی گاڑیوں (ای وی) کے مستفیدین اور تقسیم کاروں کے ساتھ بات چیت کی۔ اس تعاملی پروگرام کا انعقاد وزارت بھاری صنعتوں (ایم ایچ آئی) نے کیا تھا، جس کا مقصد برقی گاڑیوں کے استعمال اور انہیں اپنانے کے حوالے سے مستفیدین، تقسیم کاروں اور صنعت سے وابستہ دیگر فریقوں کو اپنے تجربات، خیالات اور معلومات کا تبادلہ کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔

اس تعاملی پروگرام میں بھاری صنعتوں کی وزارت کے سکریٹری جناب کامران رضوی، بھاری صنعتوں کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری ڈاکٹر حنیف قریشی، وزارت کے سینئر افسران، آٹوموبائل صنعت کے نمائندے، برقی گاڑیوں کے تیار کنندگان، تقسیم کار اور ڈیلر، نیز ملک کے مختلف حصوں سے برقی گاڑیوں کے مستفیدین نے شرکت کی۔ صنعت کے نمائندوں میں فیڈریشن آف آٹوموبائل ڈیلرز ایسوسی ایشنز(ایف اے ڈی اے) کے صدر جناب سائی گری دھر، سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز (ایس آئی اے ایم) کے چیئرمین – ای ایم جی جناب سشانت نائک اور آٹوموٹیو کمپوننٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف انڈیا(اے سی ایم اے) کی نامز صدر محترمہ انجلی سنگھ شامل تھیں۔

پروگرام میں ملک میں برقی نقل و حرکت کے بڑھتے ہوئے ماحولیاتی نظام اور صاف ستھری، پائیدار اور خود کفیل نقل و حمل کو فروغ دینے کے لیے حکومت کی مسلسل کوششوں کو اجاگر کیا گیا۔ بھاری صنعتوں  کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری ڈاکٹر حنیف قریشی نے اپنے استقبالیہ اور افتتاحی کلمات میں برقی نقل و حرکت کے لیے حکومت کی مضبوط پالیسی حمایت کو اجاگر کیا اور کہا کہ ایک مضبوط اور خود کفیل آٹوموٹیو ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لیے مقامی سطح پر پیداوار کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ایم ای ڈرائیو اور پی ایل آئی-آٹو جیسی پہلیں برقی گاڑیوں کے اہم پرزوں کی ملک میں تیاری کو فروغ دے رہی ہیں۔

حکومت ’آتم نربھر بھارت‘ اور ’وکست بھارت@2047‘ کے لیے پرعزم

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب ایچ ڈی کماراسوامی نے پائیدار اور خود کفیل برقی نقل و حمل کی جانب  ہندوستان کے تبدیلی کے سفر کو اجاگر کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کو ان کی سالگرہ پر مبارک باد پیش کی اور ملک کے لیے ان کی مسلسل خدمات کا اعتراف کیا۔

مرکزی وزیر نے آتم نربھر بھارت کی تعمیر اور ’وکست بھارت@2047‘ کے وژن کو حاصل کرنے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔

جناب ایچ ڈی کماراسوامی نے  ہندوستان  میں برقی نقل وحمل کی جانب منتقلی اور زیادہ صاف ستھرا، سبز اور خود کفیل نقل و حمل کا نظام قائم کرنے میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت اور وژن کو سراہا۔ انہوں نے برقی گاڑیوں کے استعمال  میں تیزی لانے، ملکی مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانے اور برقی نقل و حرکت کے لیے سازگار ماحول تیار کرنے کے مقصد سے مختلف اقدامات اور اسکیموں پر عمل درآمد میں بھاری صنعتوں  کی وزارت کی کوششوں کی بھی ستائش کی۔

برقی نقل و حمل کے لیے حکومت کے جامع نقطہ نظر کو اجاگر کرتے ہوئے جناب ایچ ڈی کماراسوامی نے پی ایم ای ڈرائیو اسکیم کا ذکر کیا، جو برقی گاڑیوں کے استعمال اور چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں معاونت کرتی ہے۔ انہوں نے پی ایل آئی-آٹو اور پی ایل آئی-اے سی سی اسکیموں کا بھی ذکر کیا، جو جدید آٹوموٹیو ٹیکنالوجیز اور بیٹری سیلز کی ملکی سطح پر تیاری کو مضبوط بنا رہی ہیں۔

مرکزی وزیر نے ایک جامع، سستی اور معاشی طور پر پائیدار انداز میں برقی نقل و حمل کی جانب منتقلی کی ضرورت پر زور دیا، جسے مضبوط مینوفیکچرنگ، اختراع اور ایک مستحکم ماحولیاتی نظام کا تعاون حاصل ہو۔ انہوں نے صاف ستھری نقل و حرکت اور خام تیل کی درآمدات میں کمی میں تعاون کرنے پر برقی گاڑیوں کے صارفین کو مبارک باد دی اور مقامی اجزا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ عالمی معیار کی گاڑیاں تیار کرنے کے لیے صنعت کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ ہندوستان کے قومی مشن کے مطابق ایک ہموار، قابل رسائی اور عالمی سطح پر مسابقتی برقی نقل و حمل کا ماحولیاتی نظام قائم کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔

مرکزی وزیر نے زمینی سطح پر برقی گاڑیوں کے صارفین اور دیگر متعلقہ فریقوں کے تجربات سننے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مستفیدین اور تقسیم کاروں سے حاصل ہونے والی آراء سے پالیسیوں کے بہتر نفاذ اور برقی نقل و حمل کے ماحولیاتی نظام کے مختلف شعبوں میں ابھرتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔

صنعت کے نمائندوں نے برقی گاڑیوں کے بدلتے منظرنامے پر اپنے خیالات پیش کیے

پروگرام سے آٹوموبائل صنعت کے اہم نمائندوں نے بھی خطاب کیا۔ فیڈریشن آف آٹوموبائل ڈیلرز ایسوسی ایشنز(ایف اے ڈی اے) کے صدر جناب سائی گری دھر، سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز(ایس آئی اے ایم) کے چیئرمین – ای ایم جی جناب سشانت نائک اور آٹوموٹیو کمپوننٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف انڈیا (اے سی ایم اے) کی نامزد صدر محترمہ انجلی سنگھ نے برقی نقل و حمل کے بدلتے منظرنامے اور برقی گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے حوالے سے صنعت کے تجربات پر اپنے خیالات پیش کیے۔

برقی گاڑیوں کے مستفیدین نے زمینی سطح کے تجربات بیان کیے

تعاملی پروگرام کے دوران ملک بھر سے برقی گاڑیوں کے مستفیدین نے برقی نقل و حمل کے مختلف شعبوں میں برقی گاڑیوں کے استعمال کے حوالے سے متنوع تجربات اور خیالات پیش کیے۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح ایک برقی دو پہیہ گاڑی روزمرہ کی آمدورفت اور روزگار میں ان کی مدد کر رہی ہے اور اس کے ساتھ چلانے کے اخراجات بھی کم ہیں۔ ای-تین پہیہ گاڑی چلانے والی محترمہ سنیتا چودھری نے اپنی روزی روٹی کے لیے برقی تین پہیہ گاڑی کے استعمال کے بارے میں بتایا اور چلانے کے کم اخراجات اور ڈرائیونگ کے دوران کم تھکن جیسے فوائد کا ذکر کیا۔ انہوں نے روزمرہ  کےمسافروں کی آمدورفت اور صاف ستھری نقل و حمل کے لیے برقی چار پہیہ گاڑیوں کی موزونیت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ مستفیدین کے تجربات سے ذاتی آمدورفت، روزگار، عوامی نقل و حمل اور مال برداری کے شعبوں میں برقی نقل و حرکت کے فوائد کے بارے میں زمینی سطح کی قیمتی معلومات حاصل ہوئیں۔ انہوں نے برقی نقل و حمل کے ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور صاف ستھرے، سرسبز اور زیادہ پائیدار مستقبل کی جانب پیش رفت کے لیے حکومت کی مسلسل حمایت اور سازگار پالیسیوں پر بھی اعتماد کا اظہار کیا۔

بھاری صنعتوں  کی وزارت کے سکریٹری جناب کامران رضوی نے برقی نقل و حرکت کے شعبے میں ہندوستان کی تیز رفتار پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ برقی نقل و حمل  ہندوستان کے لیے عالمی سطح پر برقی نقل و حرکت کے شعبے میں ایک اہم ملک بننے کا بڑا موقع ہے۔‘‘

انہوں نے ایف اے ایم ای-1 اور 2، پی ایل آئی-آٹو، پی ایل آئی-اے سی سی، پی ایم ای-ڈرائیو، پی ایم-ای بس سیوا (پی ایس ایم) اور نایاب ارضی مستقل مقناطیس(ریر ارتھ پرماننٹ میگنٹ اسکیم) اسکیم سمیت اہم اقدامات کو اجاگر کیا اور صنعت پر زور دیا کہ وہ مسابقتی لاگت، ٹیکنالوجی اور عالمی سطح کی صلاحیتوں پر توجہ مرکوز کرے۔

پروگرام میں ہندوستان کے نیٹ زیرو اہداف کو آگے بڑھانے، آتم نربھر بھارت کو فروغ دینے، ملکی مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانے اور ایک مضبوط، پائیدار اور خود کفیل برقی نقل و حمل کا ماحولیاتی نظام تیار کرکے ’وکست بھارت@2047‘ کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

اس تعاملی پروگرام نے حکومت، صنعت، تقسیم کاروں اور برقی گاڑیوں کے صارفین کے درمیان مکالمے کو مضبوط بنانے اور صاف ستھری، پائیدار اور عالمی سطح پر مسابقتی برقی نقل و حرکت کی جانب  ہندوستان  کے سفر کو مزید مستحکم کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم کی حیثیت اختیار کی۔

 

********

ش ح۔   م ع ن۔ م ش

U-NO-3844


(ریلیز آئی ڈی: 2312922) وزیٹر کاؤنٹر : 13
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी