کارپوریٹ امور کی وزارتت
آئی آئی سی اے کے ’میٹ دی لیجنڈ‘ پروگرام میں ’پی ایم ایل اے-آئی بی سی انٹرفیس‘ پر غور و خوض
اپیلیٹ ٹریبونل کے معزز رکن جناب بالیش کمار نے انسولوینسی کوڈ اور منی لانڈرنگ مخالف قانون کے درمیان ہم آہنگی پر روشنی ڈالی
پی جی آئی پی کے شرکت کنندگان نے مالیاتی تحقیقات، اثاثوں کا سراغ لگانے اور عدالتی رجحانات کے بارے میں عملی معلومات حاصل کیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 SEP 2026 8:34PM by PIB Delhi
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز (آئی آئی سی اے)، مانسیر نے اپنے ’میٹ دی لیجنڈ‘ پروگرام کے تحت حال ہی میں پوسٹ گریجویٹ انسولوینسی پروگرام (پی جی آئی پی) کے آٹھویں بیچ کے شرکاء کے لیے ایک معلوماتی اجلاس کا انعقاد کیا۔ ’پی ایم ایل اے-آئی بی سی انٹرفیس: ابھرتی ہوئی ہم آہنگی‘ کے موضوع پر لیکچر حکومت ہند کے اپیلیٹ ٹریبونل (پی ایم ایل اے، ایف ای ایم اے، پی بی پی ٹی اے، این ڈی پی ایس اے اور ایس اے ایف ای ایم اے) کے معزز رکن جناب بالیش کمار نے دیا۔
معزز مہمان کا خیرمقدم کرتے ہوئے آئی آئی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب گیانیشور کمار سنگھ نے انسولوینسی اینڈ بینکرپسی کوڈ (آئی بی سی)، 2016 اور پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے)، 2002 کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے آئی بی سی کی دفعہ 32A پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس کی تدوین نہایت واضح اور متعین انداز میں کی گئی ہے، تاہم اس پر ہم آہنگ انداز میں عمل درآمد بدستور چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔
جناب کمار نے پی ایم ایل اے کے قانونی ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور منی لانڈرنگ کے مختلف مراحل یعنی پلیسمنٹ، لیئرنگ اور انٹیگریشن کی وضاحت کی۔ انہوں نے مالیاتی تحقیقات میں حوالہ لین دین کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے دفعات 3، 4، 5، 8، 44 اور 45 سمیت اہم قانونی دفعات پر گفتگو کی اور عدالتی نظائر کے ذریعے ان کے عملی مضمرات کی وضاحت کی۔
پی ایم ایل اے-آئی بی سی انٹرفیس پر خصوصی توجہ دی گئی، بالخصوص ان پیچیدگیوں پر جو انسولوینسی ریزولوشن کے دوران کارپوریٹ قرض دار کے اثاثوں کو پی ایم ایل اے کے تحت منسلک کیے جانے کی صورت میں پیدا ہوتی ہیں۔ انسولوینسی کے مقاصد کو منی لانڈرنگ کے خلاف قانون کے نفاذ کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے عدلیہ کے بدلتے ہوئے نقطۂ نظر کی تفصیلی وضاحت کی گئی۔
اس اجلاس میں انسولوینسی قانون، مالیاتی تحقیقات، اثاثوں کا سراغ لگانے اور ضابطہ جاتی نفاذ کی کثیر شعبہ جاتی تفہیم کی ضرورت پر مزید روشنی ڈالی گئی۔ ’میٹ دی لیجنڈ‘ پروگرام عدلیہ، ٹریبونل، ضابطہ کار اداروں اور کارپوریٹ ماحولیاتی نظام سے وابستہ ممتاز شخصیات کے ساتھ براہ راست رابطے کا موقع فراہم کرکے پی جی آئی پی کے شرکاء کے علمی اور عملی تجربے میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔


***********
ش ح۔ ف ش ع
U: 3824
(ریلیز آئی ڈی: 2312805)
وزیٹر کاؤنٹر : 7