کارپوریٹ امور کی وزارتت
azadi ka amrit mahotsav

آئی آئی سی اے نے ’ترمیمات کے توسط سے ایک ارتقائی قانون کے طور پر آئی بی سی‘ کے موضوع پر اہم سیشن کی میزبانی کی


آئی بی بی آئی کے سابق چیئرپرسن ایم ایس ساہو کا کہنا ہے کہ منڈیاں قانونی چارہ جوئی کے مقابلے میں زیادہ تیزی کے ساتھ تغیر سے ہمکنا رہوتی ہیں، جس سے صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے ماتحت قانون سازی اور ضابطہ سے متعلق نظاموں کی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 SEP 2026 8:36PM by PIB Delhi

’’میٹ دی لیجنڈ‘‘ پروگرام کے تحت، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرس (آئی آئی سی اے)، مانیسر، نے ’’ترمیمات کے توسط سے ایک ارتقائی قانون کے طور پر آئی بی سی‘‘ کے موضوع پر ایک معلوماتی سیشن کی میزبانی کی، جس میں انسالوینسی اینڈ بینکرپسی بورڈ آف انڈیا (آئی بی بی آئی) کے سابق چیئر پرسن ڈاکٹر ایم ایس ساہو اور دیوالیہ پن اور دیوالیہ قرار دیے جانے سے متعلق ضابطے (آئی بی سی) کی ترقی اور ارتقاء میں مصروف عمل ایک مشہور شخصیت نے شرکت کی۔

سیشن کا آغاز آئی آئی سی اے کے ڈائرکٹر جنرل اور سی ای او، جناب گیانیشور کمار سنگھ کی جانب سے گرمجوشانہ استقبال اور تمہید کے ساتھ ہوا۔ انہوں نے اُن مقتدر ماہرین اور مفکر قائدین سے راست طور پر سیکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا جنہوں نے بھارت کے دیوالیہ پن سے متعلق نظام کے ارتقاء میں غیر معمولی تعاون دیا ہے۔

ڈاکٹر ایم ایس ساہو نے شرکا کے سامنے مسلسل ترمیمات اور ضابطہ جاتی ترقی کے توسط سے آئی بی سی کے تغیر پر ایک جامع نظر پیش کیا۔ اپنے وسیع تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے، انہوں نے اقتصادی قوانین میں تجربات کے تصور کے بارے میں بات کی، اور اس امر پر زور دیا کہ اقتصادی قانونی چارہ جوئی میں بدلتے ہوئے منڈی حقائق کے مطابق مسلسل تبدیلی ہونی چاہئے۔

انہوں نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ منڈیاں قانونی چارہ جوئی کے مقابلے میں زیادہ تیزی کے ساتھ تبدیلی سے ہمکنار ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے ابھرتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ماتحت قانون سازی اور ضابطہ جاتی نظاموں کی اہمیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ضابطے کی دفعات اور ضابطے کے مقاصد و اہداف کی حصولیابی کے لیے ضوابط وضع کیے جا سکتے ہیں، اور اس طرح دیوالیہ پن کا ضابطہ عملی چنوتیوں کا مزید اثرانگیزی کے ساتھ سامنا کر سکتا ہے۔

سیشن کے دوران پی جی آئی پی کے شرکاء کو دیوالیہ پن سے متعلق قانون کی اہمیت، قانون سازی، ماتحت قانون سازی اور منڈی ترقیات کے درمیان تعلق، اور ابھرتی ہوئی اقتصادی و قانونی چنوتیوں سے نمٹنے کے لیے دیوالیہ پن سے متعلق ضابطے  کے ساتھ مسلسل ہم آہنگی بنائے رکھنے کی اہمیت کے بارے میں بیش قیمتی معلومات فراہم کی گئیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260920203655_7ab645.jpg

اس بات چیت نے طلبا کو آئی بی سی کو محض ایک غیر لچکدار قانون کے طور پر نہیں، بلکہ منڈی تجربے، عدالتی تفہیم، ضابطہ جاتی مداخلت اور قانونی ترمیمات کے ذریعہ تشکیل پانے والے ایک ارتقا پذیر معاشی قانون کے طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کیا ۔

 

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:3825


(ریلیز آئی ڈی: 2312793) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English