عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
سینٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل (سی اے ٹی) جموں بینچ کی جانب سے نمٹائے گئے سروس مقدمات ملک بھر میں سب سے زیادہ: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سینٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل (سی اے ٹی) جموں بینچ کے نئے دفتر و کورٹ کمپلیکس کا افتتاح کیا
کیٹ کی جموں اور سری نگر بینچوں نے جے اینڈ کے ہائی کورٹ سے منتقل کردہ 20,984 میں سے 18,392 مقدمات، جبکہ براہِ راست موصولہ 20,405 میں سے 13,952 معاملات نمٹائے؛ کل 41,389 نمٹائے گئے معاملات کے مقابلے اب محض 9,452 مقدمات ہی زیرِ التوا
کیٹ جموں بینچ کے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی شرح محض 8 فیصد رہی، جو ٹریبونل کے فوری انصاف کے بنیادی مقصد کی بھرپور عکاس ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
جموں کا نیا کورٹ کمپلیکس مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے ملازمین کی سروس شکایات کے تیز رفتار اور آسان ازالے کو مزید مستحکم کرے گا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 SEP 2026 4:49PM by PIB Delhi
سینٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل (کیٹ) کی جموں بنچ کی جانب سے سروس معاملات کے نمٹارے کی شرح توقعات سے کہیں زیادہ رہی ہے اور یہ ملک میں سب سے زیادہ شرحوں میں شامل ہے۔ مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلاء کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج یہ بات کہی۔
وزیر موصوف نے جموں کے باہو پلازا میں مرکزی انتظامی ٹریبونل، جموں بنچ کے نئے دفتر-کم-عدالت کمپلیکس کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں اور سری نگر میں کیٹ بنچوں کی جانب سے بڑی تعداد میں مقدمات نمٹانا ٹریبونل کی جانب سے سروس معاملات میں تیز رفتار اور قابل رسائی انصاف فراہم کرنے کے لیے تیار کی گئی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یاد دلایا کہ مرکزی انتظامی ٹریبونل کو انتظامی ٹریبونلز ایکٹ 1985 کے تحت 1985 میں قائم کیا گیا تھا، جس کا وسیع مقصد سرکاری ملازمین سے متعلق سروس معاملات میں تیز رفتار اور کم خرچ انصاف فراہم کرنا اور آئینی عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ٹریبونل کے مقصد کو وسیع طور پر تین پہلوؤں میں سمجھا جاسکتا ہے، سروس معاملات میں تیز رفتار انصاف، سرکاری ملازمین کے لیے کم خرچ انصاف اور آئینی عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کرنا۔ کیٹ میں اصل درخواست داخل کرنے کی فیس محض 50 روپے ہے، جبکہ متفرق درخواستوں، نظرثانی کی درخواستوں اور توہین عدالت کی درخواستوں سمیت دیگر درخواستوں کے لیے کوئی فیس نہیں لی جاتی۔
ٹریبونل کی مجموعی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس کے قیام سے 30 جون 2026 تک ملک بھر میں کیٹ کے سامنے مجموعی طور پر 10,01,177 مقدمات دائر کیے گئے، جن میں سے 9,32,723 مقدمات نمٹائے جاچکے ہیں۔ اس طرح مقدمات نمٹانے کی مجموعی شرح تقریباً 93.16 فیصد رہی۔
وزیر موصوف نے کہا کہ جموں اور سری نگر بنچوں کا تجربہ خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ ان کے سامنے سابقہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ سے منتقل کیے گئے بڑی تعداد میں مقدمات کے ساتھ ساتھ ٹریبونل میں دائر کیے گئے نئے مقدمات بھی تھے۔ 30 جون 2026 تک جموں و کشمیر ہائی کورٹ سے 20,984 مقدمات منتقل ہوکر آئے، جبکہ بنچوں کے سامنے 20,405 نئے مقدمات دائر کیے گئے۔ ان دونوں زمروں میں بالترتیب 18,392 اور 13,952 مقدمات نمٹائے گئے۔ مجموعی طور پر موصول ہونے والے مقدمات کی تعداد 41,389 رہی اور زیر التوا مقدمات کی تعداد بہت کم رہی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جموں اور سری نگر بنچوں نے نہ صرف ہائی کورٹ سے منتقل کیے گئے مقدمات کو آگے بڑھایا بلکہ سروس سے متعلق نئے معاملات کی بھی بڑی تعداد نمٹائی ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ جموں بنچ ابتدا میں ایک ڈویژن بنچ کے ساتھ کام کرتا تھا، تاہم بڑھتے ہوئے کام کے بوجھ اور ملازمین کی شکایات کے فوری ازالے کی ضرورت کے پیش نظر بعد میں ایک اور ڈویژن بنچ قائم کیا گیا۔ فی الحال بنچ میں دو عدالتی ارکان اور دو انتظامی ارکان ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کیٹ جموں بنچ کے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیلوں کی کم شرح کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کیٹ جموں بنچ کے صرف تقریباً 8 فیصد مقدمات جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں اپیل کے لیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپیلوں کا کم تناسب اس مقصد کے تناظر میں اہم ہے جس کے لیے کیٹ قائم کیا گیا تھا، یعنی سروس معاملات میں تیز رفتار انصاف فراہم کرنا۔ کیٹ کے فیصلوں کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کی قانونی شق کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ اپیل کا نظام اپنی جگہ اہم ہے، لیکن بار بار یا غیر ضروری طور پر مزید قانونی کارروائی اختیار کرنے سے عمل کی ایک اور سطح بڑھ سکتی ہے اور تیز رفتار انصاف کے مقصد میں تاخیر ہوسکتی ہے۔
وزیر موصوف نے کہا، ’’مثالی صورت حال یہ ہوگی کہ اپیل کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے، کوئی رجحان باقی نہ رہے، کوئی تناؤ باقی نہ رہے، کوئی توقع باقی نہ رہے اور کوئی ضرورت باقی نہ رہے۔‘‘ انہوں نے اس معاملے کو قانونی برادری کی صوابدید پر چھوڑتے ہوئے ان سے تجاویز بھی طلب کیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کیٹ کے کام کو مضبوط بنانے میں جموں کی قانونی برادری کی جانب سے فراہم کیے گئے تعاون کا اعتراف کیا اور ان کی مسلسل رہنمائی اور تجاویز کو سراہا۔ انہوں نے نئی سہولت کے قیام میں تعاون کے لیے جموں و کشمیر حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا۔
وزیر موصوف نے کہا کہ باہو پلازا میں نیا دفتر-کم-عدالت کمپلیکس جموں بنچ کو وسیع جگہ اور ضروری بنیادی ڈھانچہ فراہم کرے گا، جس سے وہ اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کرسکے گا اور سروس سے متعلق شکایات کے فوری اور قابل رسائی ازالے کو مزید مضبوط بنایا جاسکے گا۔
کیٹ کے بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر توسیع کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران ٹریبونل کے مختلف مقامات پر نئے اور آزاد بنیادی ڈھانچے قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے 2021 میں جبل پور بنچ کے قیام، ممبئی بنچ کو کرائے کی عمارت سے سرکاری عمارت میں منتقل کرنے اور لکھنؤ و گوہاٹی میں نئی سہولیات کے قیام کا بھی ذکر کیا۔
وزیر موصوف نے انصاف تک رسائی اور درخواست گزاروں و قانونی برادری کی سہولت بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کیٹ نے مرحلہ وار متعدد ڈیجیٹل سہولیات متعارف کرائی ہیں، جن میں ایڈوانس کیس انفارمیشن سسٹم (اے سی آئی ایس)، ای-فائلنگ، ویڈیو کانفرنسنگ، آن لائن ڈسپلے بورڈ، ایس ایم ایس اور ای میل الرٹس، عدالتی فیس کی آن لائن ادائیگی، موبائل کے ذریعے مقدمات کی معلومات تک رسائی، آن لائن مصدقہ نقول، جدید سرچ سہولیات، ای-مینشننگ اور ای-لسٹنگ شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 کے دور میں ویڈیو کانفرنسنگ خاص طور پر مفید ثابت ہوئی اور غیر معمولی حالات کے باوجود جموں بنچ کو فعال رکھنے میں مدد ملی۔ ٹریبونل نے عدالتی ریکارڈ کو ڈیجیٹل شکل دینے کے ساتھ ساتھ ای-کورٹ اور پیپر لیس کورٹ کی سہولیات بھی متعارف کرائی ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کیٹ ٹیکنالوجی اور تربیت کے ذریعے صلاحیت سازی کے وسیع تر قومی رجحان کی بھی پیروی کر رہا ہے۔ کیٹ میں تعینات افسران، جن میں مختلف محکموں اور ریاستی حکومتوں سے آنے والے افسران بھی شامل ہیں، کو مشن کرم یوگی پلیٹ فارم کے ذریعے آن لائن تربیت کے مواقع فراہم کیے جارہے ہیں تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کے لیے درکار علم اور مہارت حاصل کرسکیں۔
وزیرموصوف نے کہا کہ حکومت کیٹ کی ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور آئینی عدالتوں میں دستیاب سہولیات و تکنیکی آلات کو ٹریبونل نظام میں بھی زیادہ سے زیادہ اپنانے کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ جموں اور سری نگر کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ ادارہ جاتی صلاحیت، ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان تعاون انتظامی انصاف کی فراہمی کو نمایاں طور پر مضبوط کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جموں کا نیا کمپلیکس سرکاری ملازمین کو سروس سے متعلق شکایات کے فوری، کم خرچ اور قابل رسائی ازالے کی فراہمی کی مسلسل کوششوں میں ایک اور قدم ہے، جبکہ اس سے سروس معاملات کے خصوصی فورم کے طور پر ٹریبونل کے کردار کو بھی مزید تقویت ملے گی۔




************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 3819 )
(ریلیز آئی ڈی: 2312759)
وزیٹر کاؤنٹر : 11