ٹیکسٹائلز کی وزارت
بھارت کو عالمی سطح پر ریشم کی پیداوار میں پہلے نمبر پر لانے کا عزم : ٹیکسٹائلز کے مرکزی وزیر جناب گری راج سنگھ
وزیر موصوف نے ریشم کے کاشتکاروں میں مسابقتی جذبے کو فروغ دینے کے لیے ’بہترین ریشم کاشتکار‘ ایوارڈ کے مقابلے منعقد کرنے پر زور دیا
ملک کی مجموعی ریشم کی پیداوار میں کرناٹک سرفہرست مقام رکھتا ہے: مرکزی وزیر مملکت محترمہ شوبھا کرندلاجے
مرکزی ریشم بورڈ کے 77ویں یوم تاسیس اور ریشم کی مصنوعات و ٹیکنالوجی کی نمائش کا آج بنگلورو میں افتتاح
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 SEP 2026 2:33PM by PIB Delhi
ٹیکسٹائلز کے مرکزی وزیر جناب گری راج سنگھ نے بہت چھوٹے ، چھوٹے اور درمیانی درجے کے کاروباری اداروں اور محنت و روزگار کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ شوبھا کرندلاجے کے ہمراہ آج بنگلورو کے یو اے ایس-جی کے وی کے آڈیٹوریم میں مرکزی ریشم بورڈ کے 77ویں یوم تاسیس کے پروگرام اور ریشم کی مصنوعات و ٹیکنالوجیز کی نمائش کا افتتاح کیا۔

اس موقع پر رکن پارلیمنٹ اور مرکزی ریشم بورڈ (سی بی ایس) کے رکن جناب جی لکشمی نارائن، ٹیکسٹائلز کی وزارت کی جوائنٹ سکریٹری (ریشم) اور سی بی ایس کی نائب چیئرپرسن محترمہ پدمینی سنگلا، بورڈ کے ممبر سکریٹری جناب پی شیوکمار، حکومت کرناٹک کے محکمہ باغبانی و ریشم پروری کے سکریٹری جناب گریش آر.اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔اس پروگرام میں کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور تمل ناڈو کی ریاستوں سے ریشم کے کاشتکاروں اور بنکروں نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹیکسٹائلز کے مرکزی وزیر جناب گری راج سنگھ نے کہا کہ مرکزی حکومت ملک میں ریشم کی پیداوار اور ریشم پروری کے شعبے کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ ریشم کے کاشتکاروں کی معاشی ترقی کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ریشم کی پیداوار، جو 2014 میں 26 ہزار میٹرک ٹن تھی،آج بڑھ کر آج 42 ہزار میٹرک ٹن ہو گئی ہے۔ حکومت نے 31- 2030 تک اسے بڑھا کر 60 ہزار میٹرک ٹن کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ساتھ ہی29-2028 تک بھارت کو عالمی سطح پر ریشم کی پیداوار میں پہلے نمبر پر لانے کا عزم بھی کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سمت میں شہتوت کے پتوں کی پیداوار میں اضافہ اور کوکون (ریشم کے کیڑوں کے بنائے ہوئے خول) کی پرورش کی سائیکل میں اضافہ کرکے کسانوں کی سالانہ آمدنی کو 10 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

وزیر نے ریشم کے کاشتکاروں میں مسابقتی جذبہ پیدا کرنے کے لیے ضلعی، ریاستی اور قومی سطح پر ’بہترین ریشم کاشتکار‘ ایوارڈ مقابلے منعقد کرنے پر زور دیا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سائنس دانوں کی نئی اختراعات، ہائبرڈ اقسام اور جدید مشینری براہ راست کاشتکاروں تک پہنچنی چاہیے۔ وزیر نے بتایا کہ ایسے وقت میں جب چین میں ریشم کی پیداوار میں کمی آ رہی ہے، عالمی منڈی میں بھارتی ریشم کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔وزیر نے کہا کہ ریشم پروری سے لے کر ریشم کے دھاگے کی تیاری (ریِلنگ) اور بُنائی تک پوری ویلیو چین کو مضبوط بنانا، ملک کی ٹیکسٹائل مارکیٹ کو 300 ارب ڈالر تک پہنچانا اور بنکروں و محنت کش طبقے کے لیے کم از کم معاشی تحفظ یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

محترمہ شوبھا کرندلاجے نے کہا کہ ملک کی مجموعی ریشم کی پیداوار میں کرناٹک سرفہرست مقام رکھتا ہے اور حکومت اس شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور صنعتی فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور زیادہ مقدار میں پیداواری طریقوں کو اپناتے ہوئے عالمی برآمدی معیار کے مطابق ریشم کی پیداوار کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس سے ملک میں ریشم کی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور درآمدات پر انحصار میں نمایاں کمی آئے گی۔ بڑی تعداد میں کاروباری افراد ایم ایس ایم ای نظام کے تحت رجسٹریشن کرا رہے ہیں اور حکومت ان کی معاونت کے لیے مسلسل سبسڈی اور معیار میں بہتری سے متعلق اسکیمیں نافذ کر رہی ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت کا بنیادی مقصد مقامی پیداوار کرنے والوں کو مناسب منڈی تک رسائی فراہم کرنا اور ریشم پروری و ٹیکسٹائل کے صنعتی شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

وزارت ٹیکسٹائل کی جوائنٹ سکریٹری (ریشم) محترمہ پدمینی سنگلا نے ریشم پروری کے شعبے میں ہونے والی اہم پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ31-2030 تک ملک میں 60 ہزار میٹرک ٹن ریشم کی پیداوار کا ایک پرعزم ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ہدف کے حصول کے لیے زیادہ پیداوار دینے والی ریشم کے کیڑوں کی ہائبرڈ اقسام اور جدید مشینری متعارف کرائی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی معیار کی جانچ اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی)، جغرافیائی اطلاعاتی نظام (جی آئی ایس) اور مشین لرننگ جیسی جدید ٹیکنالوجی کو بھی ریشم پروری کے شعبہ میں شامل کیا جا رہا ہے۔

پروگرام کے دوران مرکزی ریشم بورڈ کی جانب سے مختلف اداروں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یو) کا تبادلہ بھی کیا گیا۔ اس موقع پر 28 سائنس دانوں کو تقرری کے خطوط تقسیم کیے گئے، نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ملازمین اور متعلقہ شعبے سے وابستہ افراد کو اعزازات سے نوازا گیا، جبکہ بورڈ کی مختلف مطبوعات اور جرائد کا اجرا بھی کیا گیا۔
************
ش ح۔م ش ۔ م ذ
(U: 3813)
(ریلیز آئی ڈی: 2312758)
وزیٹر کاؤنٹر : 13