الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
سیمی کان انڈیا 2026 کا اختتام مقامی اختراع، خودمختار کمپیوٹنگ اور سیمی کنڈکٹر کے ماہر افرادی قوت کی ترقی پر توجہ کے ساتھ
اختتامی اجلاس میں آر آئی ایس سی-وی اختراع، مصنوعی ذہانت اور کوانٹم پلیٹ فارمز، فیکٹری خودکاری، نئے کاروباری اداروں کی شمولیت اور افرادی قوت کی ترقی سے متعلق 15 اعلانات کیے گئے؛ سی ٹو ایس پروگرام کے تحت ڈیجیٹل انڈیا آر آئی ایس سی-وی گرینڈ چیلنج میں مقامی ساختہ پروسیسرز پر مبنی حل پیش کرنے والی تین ٹیموں کو انعامات دیے گئے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 SEP 2026 10:18PM by PIB Delhi
سیمی کان انڈیا 2026 کا آج نئی دہلی کے یشوبھومی میں اختتام ہوا۔ اختتامی اجلاس کے دوران 15 اعلانات اور باہمی تعاون کا اعلان کیا گیا۔ ان اقدامات کا مقصد سیمی کنڈکٹر ڈیزائن، مقامی طور پر تیار کردہ کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹر تیاری کے انتظام، مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، نئے کاروباری اداروں کی شمولیت اور افرادی قوت کی ترقی کے شعبوں میں بھارت کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے سرکاری اداروں، صنعت، تعلیمی شعبے اور ہنرمندی کی تربیت فراہم کرنے والی تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا گیا، تاکہ سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں بھارت کے عزائم کو قابلِ استعمال ٹیکنالوجی، مضبوط ملکی بنیادی ڈھانچے اور صنعت کی ضروریات کے مطابق تربیت یافتہ افرادی قوت میں تبدیل کیا جا سکے۔
آج کی کارروائی میں مقامی طور پر تیار کردہ پروسیسر پلیٹ فارم کے ذریعے اختراع، جدید کمپیوٹنگ تک وسیع تر رسائی، خودمختار ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور چِپ ڈیزائن، تصدیق، جانچ، سیمی کنڈکٹر کی تیاری اور اسمبلی، ٹیسٹنگ، مارکنگ اور پیکیجنگ (اے ٹی ایم پی) کے شعبوں میں عملی ہنرمندی کی تربیت پر خصوصی توجہ دی گئی۔
1۔ ڈیجیٹل انڈیا آر آئی ایس سی-وی گرینڈ چیلنج کے فاتحین کا اعلان: وزارتِ برقیات و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے چِپس ٹو اسٹارٹ اَپ (سی ٹو ایس) پروگرام کے تحت میکر ولیج کی جانب سے منعقد کیے گئے ڈیجیٹل انڈیا آر آئی ایس سی-وی (ڈی آئی آر-وی) گرینڈ چیلنج کے فاتحین کا اعلان کیا گیا۔ اس چیلنج میں ملک بھر سے 1,236 ٹیموں نے حصہ لیا، جن میں مجموعی طور پر 5,045 شرکا شامل تھے۔ تین ٹیموں کو مجموعی طور پر 60 لاکھ روپے کی انعامی رقم دی گئی:
- پہلا انعام: میویسائی ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ نے تنجاوور کی شاسترا یونیورسٹی کی نمائندگی کرنے والی ٹیم ڈیجیٹل ڈاگس کے طور پر ایک خودکار آبی سطح کی صفائی کرنے والا روبوٹ تیار کیا۔ اس روبوٹ میں آئی آئی ٹی مدراس کے تیار کردہ مقامی شکتی پروسیسر کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ روبوٹ تالابوں اور مندروں کے تالابوں جیسے اندرونِ ملک آبی ذخائر کی صفائی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
- دوسرا انعام: ڈیجی اسکوپ ایل ایل پی نے ترواننت پورم کے ای آر اینڈ ڈی سی آئی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی نمائندگی کرنے والی ٹیم بائنری بینڈٹس کے طور پر ویگا چکِتسا نامی ایک ڈیجیٹل اسٹیتھوسکوپ تیار کیا۔ یہ آلہ دل اور پھیپھڑوں کی آوازیں ریکارڈ کرتا ہے، حقیقی وقت میں ان کی فلٹرنگ کرتا ہے اور ریکارڈنگ، دور دراز سے نگرانی اور مشین لرننگ کی مدد سے دل کے غیر معمولی شور کی ابتدائی جانچ کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس میں سی ڈی اے سی کے تیار کردہ مقامی ویگا پروسیسر کا استعمال کیا گیا ہے۔
- تیسرا انعام: زیٹا ویو ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ نے بنگلورو کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کی نمائندگی کرنے والی ٹیم نیورو بائٹس کے طور پر مقامی ویگا پروسیسر کا استعمال کرتے ہوئے جنگلاتی ماحول کی نگرانی کا ایک نظام تیار کیا۔
نئی ٹیکنالوجی کے پلیٹ فارم اور اختراعی چیلنجز کا آغاز
2۔ بھارت اے آئی-ایس او سی چیلنج 2026–27: سی ٹو ایس پروگرام کے تحت چیلنج کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا گیا۔ یہ مقابلہ مصنوعی ذہانت اور سسٹم آن چِپ ڈیزائن کے شعبوں سے وابستہ انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ اور کام کرنے والے پیشہ ور افراد کے لیے ہے۔ اس اقدام کو برطانیہ کی حکومت کی جانب سے برطانیہ-بھارت ٹیکنالوجی سکیورٹی پہل کے ذریعے تعاون حاصل ہے اور یہ آغاز کی تاریخ سے ایک ماہ تک جاری رہے گا۔
3۔ فَیب خودکاری کے لیے ایس سی ایل ڈی ایم آئی ایس: سیمی کنڈکٹر لیبارٹری (ایس سی ایل)، موہالی نے ڈیوائس مینوفیکچرنگ انٹیگریٹڈ سسٹم (ڈی ایم آئی ایس) کا آغاز کیا۔ یہ ویفر کی تیاری سے متعلق سرگرمیوں کے مؤثر انتظام کے لیے مقامی طور پر تیار کیا گیا مینوفیکچرنگ ایگزیکیوشن سسٹم ہے۔ اس کا ماڈیولر اور پلگ اینڈ پلے نظام آرڈر بک کرنے، ویفر کی تیاری سے لے کر حتمی پیکیجنگ تک پورے عمل کے انتظام کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس سے پیداواری سطح پر نگرانی اور مینوفیکچرنگ کی کارکردگی مضبوط ہوتی ہے۔
خودمختار کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے لیے شراکت داری
4۔ سی-ڈیک اور این ایل سی انڈیا لمیٹڈ: ان اداروں نے مقامی ٹیکنالوجیز اور مہارتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کے توانائی کے شعبے کے نظام کے اندر ایک ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کے لیے تعاون کا اعلان کیا۔ اس شراکت داری کا مقصد محفوظ اور جدید ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینا، جبکہ توانائی کے شعبے میں خود انحصاری اور تکنیکی صلاحیت کو مضبوط کرنا ہے۔
5۔ سی-ڈیک اور بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ: سی-ڈیک اور بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ (بی ای ایل) نے مقامی طور پر تیار کردہ اعلیٰ کارکردگی والی کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور خودمختار ڈیٹا سینٹر کے حل مشترکہ طور پر تیار کرنے اور فراہم کرنے کے لیے تعاون کا اعلان کیا۔ اس شراکت داری میں سی-ڈیک کی جدید کمپیوٹنگ ٹیکنالوجیز اور بی ای ایل کی نظام کو یکجا کرنے اور اسے عملی طور پر نافذ کرنے کی صلاحیتوں کو یکجا کیا جائے گا۔
مقامی مصنوعی ذہانت اور کوانٹم پلیٹ فارم
6۔ پرم ودیا: سی-ڈیک نے پرم ودیا کا آغاز کیا، جو جامعات، تحقیقی اداروں، نئے کاروباری اداروں اور ایم ایس ایم ایز کے لیے فوری طور پر قابلِ استعمال مصنوعی ذہانت کی عمدگی کی تجربہ گاہ ہے۔ اس کا پلگ اینڈ پلے نظام اور مقامی سافٹ ویئر کا ماحولیاتی نظام مصنوعی ذہانت اور اعلیٰ کارکردگی والی کمپیوٹنگ تک رسائی کو وسیع کرنے، تحقیق، ہنرمندی کی تربیت اور عملی ایپلی کیشنز کی تیاری میں معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
7۔ پرم شَوَک-کیو ایس: سی-ڈیک نے پرم شَوَک-کیو ایس کا افتتاح کیا، جو ایک مختصر حجم کا اعلیٰ کارکردگی والا کوانٹم سیمولیشن پلیٹ فارم ہے۔ اسے کوانٹم ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق، تعلیم اور اختراع کو ممکن بنانے اور کوانٹم کمپیوٹنگ کی صلاحیتوں تک رسائی کو وسیع کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ سیمی کنڈکٹر افرادی قوت کے اقدامات
8۔ الیکٹرانکس سیکٹر اسکلز کونسل آف انڈیا اور میٹریو لیبز: سیمی کنڈکٹر شعبے میں ہنرمندی کے نظام کو مضبوط بنانے اور سیمی کنڈکٹر کی تیاری کی ابھرتی ہوئی ضروریات سے ہم آہنگ تربیتی بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کے لیے ایک حکمتِ عملی پر مبنی شراکت داری کا اعلان کیا گیا۔
9۔ الیکٹرانکس سیکٹر اسکلز کونسل آف انڈیا اور ٹروچِپ سولیوشنز: دونوں اداروں نے سیمی کنڈکٹر سرکٹ ڈیزائن، تصدیق اور جانچ کے شعبوں میں نوجوانوں کی تربیت اور تصدیقِ مہارت کے لیے شراکت داری کا اعلان کیا۔ اس کا مقصد سیمی کنڈکٹر کی مکمل قدر زنجیر میں صنعت کی ضروریات کے مطابق عملی مہارت رکھنے والی افرادی قوت تیار کرنا ہے۔
10۔ سیمی اور پیچ ٹری ایلیویٹ: سیمی کنڈکٹر افرادی قوت کی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مفاہمت نامے کا تبادلہ کیا گیا، جس کے تحت تکنیکی تربیت، پیشہ ورانہ تعلیم اور ضرورت کے مطابق تصدیقِ مہارت کے راستے فراہم کیے جائیں گے۔ اس شراکت داری میں سیمی کے عالمی ماحولیاتی نظام اور سیمی یونیورسٹی کے وسائل کو پیچ ٹری ایلیویٹ کے طلب پر مبنی ہنرمندی کے ماڈل کے ساتھ یکجا کیا جائے گا۔
11۔ نیلیٹ کے سیمی کنڈکٹر افرادی قوت سے متعلق اقدامات: نیلیٹ نے اے ٹی ایم پی شعبے میں ہنرمندی کی تربیت اور سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کے لیے ڈیجیٹل ٹوئن سے متعلق اقدامات کا اعلان کیا۔ ان اقدامات کے تحت نیلیٹ کے بہترین کارکردگی کے مراکز، نیلیٹ ڈیجیٹل یونیورسٹی پلیٹ فارم، گوہاٹی میں قائم ہونے والی اے ٹی ایم پی سہولت اور ڈیجیٹل ٹوئن کے ذریعے ڈیجیٹل تعلیم، عملی تربیت اور عمیق نقلی مشقوں کو یکجا کیا جائے گا۔
12۔ راماّیا انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسکلز اینڈ ٹیکنالوجی (آر آئی اے ایس اے ٹی) اور آئی آئی ایس سی بنگلورو: راماّیا انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسکلز اینڈ ٹیکنالوجی اور آئی آئی ایس سی بنگلورو نے ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بناتے ہوئے ہندوستان کی سیمی کنڈکٹر صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مفاہمت نامے کا تبادلہ کیا۔
اختراعی اسٹارٹ اَپ سرگرمیاں اور ماحولیاتی نظام کا لائحۂ عمل
13۔ سیمی کان انڈیا ہیکاتھون کا عظیم الشان اختتامی مرحلہ: سیمی کان انڈیا ہیکاتھون میں 881 کالجوں سے 3,808 ٹیموں نے رجسٹریشن کرائی اور 1,053 خیالات پیش کیے گئے، جن میں سے 10 ٹیمیں عظیم الشان اختتامی مرحلے تک پہنچیں۔ وی آئی ٹی ویلور اور آئی آئی ٹی مدراس کی ٹیمیں فاتح قرار پائیں، جبکہ کے پی آر انسٹی ٹیوٹ اور وی آئی ٹی ویلور کی ٹیموں نے رنر اَپ پوزیشن حاصل کی۔
14۔ اسٹارٹ اَپ مترا: اسٹارٹ اَپ مترا کے تحت 11 اسٹارٹ اَپس نے 20 سے زائد وینچر کیپٹل سرمایہ کاروں کے سامنے اپنی تجاویز پیش کیں۔ ایلفنز ٹیکنالوجیز نے پہلی پوزیشن حاصل کی، میوکرون ٹیکنالوجیز دوسرے نمبر پر رہی، جبکہ ملٹی نینو سینس ٹیکنالوجیز اور کرافٹیف اے آئی نے مشترکہ طور پر تیسری پوزیشن حاصل کی۔
15۔ ای وائی اور آئی ایس ای اے کی رپورٹ کا اجرا: ای وائی اور انڈیا سیمی کنڈکٹر اینڈ الیکٹرانکس ایسوسی ایشن (آئی ایس ای اے) نے ’’سیمی کان انڈیا 2.0: صلاحیتوں کی تخلیق سے ماحولیاتی نظام کی قیادت تک‘‘ کے عنوان سے رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ میں اس موقع کو اجاگر کیا گیا ہے کہ ہندوستان کی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ 2026 میں تقریباً 64 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2035 تک 200 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ رپورٹ میں اس امر کا لائحۂ عمل بھی پیش کیا گیا ہے کہ ملکی طلب اور ڈیزائن کے باصلاحیت افراد کو استعمال کرتے ہوئے مینوفیکچرنگ، جدید پیکیجنگ اور اختراع کے شعبوں میں قیادت کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔
اختتامی اجلاس میں کیے گئے اعلانات نے سیمی کان انڈیا 2026 کے پہلے 2 دنوں کے دوران سامنے آنے والے مفاہمت ناموں اور شراکت داریوں کو مزید تقویت دی۔ مجموعی طور پر ان اقدامات نے مقامی طور پر تیار کردہ پروسیسرز اور تحقیقی پلیٹ فارموں سے لے کر فیبریکیشن کے کاموں، خودمختار بنیادی ڈھانچے، صنعت و تعلیمی اداروں کے باہمی تعاون اور خصوصی مہارت رکھنے والی افرادی قوت تک سیمی کنڈکٹر کے پورے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کی وسیع کوشش کی عکاسی کی۔
پہلے 2 دنوں کے دوران کیے گئے 41 اعلانات اور مفاہمت ناموں کے ساتھ، سیمی کان انڈیا 2026 کے ان اقدامات نے حکومت، صنعت، تعلیمی اداروں، اسٹارٹ اَپس اور تحقیق و ترقی سے وابستہ اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی عکاسی کی۔ اس تعاون کا مقصد سیمی کنڈکٹر کی صلاحیتوں کو ٹیکنالوجی کی ترقی، ہنرمند افرادی قوت کی تیاری، تجارتی سطح پر استعمال اور عملی تعیناتی میں تبدیل کرنا ہے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-3806
(ریلیز آئی ڈی: 2312658)
وزیٹر کاؤنٹر : 6