الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
سیمیکون انڈیا 2026: دوسرے دن کی جھلکیاں : ہندوستان کا سیمی کنڈکٹر سفر بلند عزائم سے بڑے پیمانے پر عمل درآمد تک
مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے آئی ایس ایم 2.0، مقامی ڈیزائن، مینوفیکچرنگ، ہنرمند افرادی قوت اور ایک قابلِ اعتماد عالمی سیمی کنڈکٹر شراکت دار کے طور پر ہندوستان کے ابھرنے پر زور دیا
تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی)، مضبوط سپلائی چین، مصنوعات میں اختراع اور بین الاقوامی شراکت داری ہندوستان کے ’’سلیکن ٹو سسٹمز‘‘ ماحولیاتی نظام کو مزید مستحکم کر رہی ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 SEP 2026 10:12PM by PIB Delhi
نئی دہلی کے یشو بھومی میں سیمیکون انڈیا 2026 کے دوسرے دن پالیسی سازوں، عالمی سیمی کنڈکٹر رہنماؤں، ہندوستانی صنعت، محققین، اسٹارٹ اپس، ماہرینِ تعلیم اور طلباء کو مینوفیکچرنگ، سپلائی چینز، تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی)، بین الاقوامی شراکت داری، چپ ڈیزائن، ایڈوانسڈ پیکیجنگ، میٹریلز اور ہنرمندی کے شعبوں پر تبادلۂ خیال کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا گیا۔ یہ ایک مربوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ’’سلیکن ٹو سسٹمز‘‘ ماحولیاتی نظام کی تشکیل کی سمت ہندوستان کی پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی، ریلوے اور اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے ایک اہم گفتگو کے دوران کہا کہ ہندوستان کا سیمی کنڈکٹر مشن اپنے عزم کو ثابت کرنے کے مرحلے سے آگے بڑھ کر بڑے پیمانے پر عمل درآمد کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس ایم 2.0، ڈیزائن، مشینری اور میٹریلز، مزید فیبس کے قیام، اے ٹی ایم پی/او ایس اے ٹی صنعت کو مضبوط بنانے، تحقیق و ترقی اور ہنرمندی کی ترقی کے چھ ستونوں کے ذریعے آئی ایس ایم 1.0 کے تحت قائم کی گئی بنیاد کو مزید مستحکم کرے گا۔ وزیر موصوف نے کہا کہ آئی ایس ایم 1.0، جسے ابتدائی طور پر چھ سالہ پروگرام کے طور پر تصور کیا گیا تھا، نے صرف چار سال میں اپنے مقاصد حاصل کر لیے، اور اعتماد ظاہر کیا کہ آئی ایس ایم 2.0 بھی مضبوط اور بڑھتی ہوئی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کے تعاون سے مقررہ مدت سے پہلے پیش رفت کرے گا۔

ڈیزائن کو ہندوستان کی بنیادی طاقتوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے، وزیر موصوف نے آئی ایس ایم 2.0 کے تحت کم از کم 200 نئی چپ ڈیزائن کمپنیوں کے ابھرنے کا اندازہ ظاہر کیا اور اسے مقامی طور پر تیار کردہ سیمی کنڈکٹر آئی پی کی تعمیر کے لیے ’’گیم چینجر‘‘ قرار دیا۔ 105 سے زیادہ چپ ڈیزائن اسٹارٹ اپس نے جدید ترین الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن (ای ڈی اے) ٹولز تک رسائی حاصل کی ہے، جبکہ 20 اسٹارٹ اپس نے وینچر کیپیٹل فنڈنگ حاصل کی ہے۔ تقریباً 70,000 چپ ڈیزائن انجینئروں کو گزشتہ چار برسوں کے دوران تربیت دی گئی ہے، جبکہ 85,000 ڈیزائن انجینئروں کو تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیر موصوف نے زور دے کر کہا کہ عالمی مسابقت کے لیے معیار کے ساتھ ساتھ مسابقتی لاگت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ آئی ایس ایم 1.0 کے تحت منظور کیے گئے 12 پلانٹس میں سے پانچ نے تجارتی پیداوار شروع کر دی ہے۔ وزیر موصوف نے ایک قابلِ اعتماد ملک کے طور پر ہندوستان کی ساکھ اور دانشورانہ املاک کے تحفظ کے حوالے سے اس کے مضبوط ریکارڈ کو بھی اجاگر کیا۔
میڈیا کے ساتھ بات چیت کے دوران، جناب ویشنو نے سیمیکون انڈیا 2026 کے لیے مضبوط ملکی اور بین الاقوامی ردعمل، کاروبار سے کاروبار (بی ٹو بی) کی وسیع تر مصروفیات اور بڑی سیمی کنڈکٹر معیشتوں کی نمایاں شرکت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کنٹری راؤنڈ ٹیبل نے ہندوستان کے ساتھ اپنی وابستگی بڑھانے میں عالمی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وزیر موصوف نے ڈیزائن خدمات سے ’’پروڈکٹ نیشن‘‘ کی طرف منتقلی پر بھی روشنی ڈالی، جس کے تحت ہندوستان میں ڈیزائن کی گئی چپس تیزی سےحتمی مصنوعات میں شامل ہو رہی ہیں۔ انہوں نے ابھرتے ہوئے ماحولیاتی نظام کے اہم عناصر کے طور پر مشینری اور میٹریلز، خصوصی سیمی کنڈکٹر لاجسٹکس، پائیداری، پانی کی ری سائیکلنگ اور صنعت کے لیے تیار ہنرمندی پر زور دیا۔

دوسرے دن سیمی کنڈکٹر میٹریلز، مینوفیکچرنگ، پاور الیکٹرانکس، ایڈوانسڈ پیکیجنگ، لاجسٹکس، ڈیزائن اور ہنرمندی کے شعبوں میں 25 مفاہمت ناموں/اعلانات اور اسٹریٹجک تعاون کا بھی مشاہدہ کیا گیا، جن میں ہندوستانی اور عالمی ماحولیاتی نظام کے شراکت دار شامل تھے ان اقدامات میں اہم میٹریلز کی لوکلائزیشن، مقامی طور پر تیار کردہ سلیکن کاربائیڈ پاور ٹیکنالوجیز، سیمی کنڈکٹر ڈیزائن ٹولز، ڈیپ ٹیک سرمایہ کاری، خصوصی لاجسٹکس اور افرادی قوت کی ترقی شامل ہیں، جو سیمی کنڈکٹر ویلیو چین میں گھریلو صلاحیتوں کو مزید مستحکم کریں گے۔
سکریٹری خارجہ جناب وکرم مسری نے زور دے کر کہا کہ لچکدار سیمی کنڈکٹر ویلیو چینز کے لیے قابلِ اعتماد عالمی شراکت داری ضروری ہے۔ انہوں نے تعاون کے اہم ستونوں کے طور پر وشوسنییتا، ساکھ، ترغیبات اور قدر سازی کو اجاگر کیا اور عالمی صلاحیتوں کے ساتھ مل کر گھریلو طاقتوں پر مبنی خود انحصاری کے لیے متوازن نقطۂ نظر پر زور دیا۔
’’سپلائی چین 360‘‘ کے عنوان سے منعقدہ پینل مباحثے میں اہم اِن پٹس اور لچکدار سپلائی نیٹ ورکس کی لوکلائزیشن پر توجہ مرکوز کی گئی۔
سیمنز ای ڈی اے کے جناب روچر دکشت نے جدید فن تعمیر، تھری ڈی آئی سی، پیکیجنگ اور چپ سسٹمز کے مشترکہ ڈیزائن کے ذریعے اے آئی سے چلنے والی کمپیوٹنگ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کی ضرورتپر روشنی ڈالی۔
انٹیل کے جناب گوکل وی سبرامنیم نے آر ٹی ایل جنریشن، تصدیق، فلور پلاننگ، پاور تجزیے، کلاک ٹری سنتھیسس اور فزیکل ڈیزائن میں اے آئی کے تفصیلی استعمالات بیان کیے اور تیزی سے پیچیدہ ہوتی چپس کے لیے اے آئی کو ایک اصلاحی انجن کے طور پر پیش کیا۔
’’تصور سے سلیکن تک‘‘ کے موضوع پر ایک پینل میں ہندوستان کے ڈیزائن کو فعال بنانے اور ٹیسٹ ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرنے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مقررین نے سیمی کنڈکٹر ڈیزائن اور پروڈکٹ کی تکمیل کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنے کے لیے ای ڈی اے ٹولز، پروٹو ٹائپنگ، فیبریکیشن، پیکیجنگ، ٹیسٹنگ اور صنعت و اکیڈمیا کے درمیان تعاون تک رسائی کی اہمیت پر زور دیا۔
ایل اینڈ ٹی سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز کے سی ای او جناب سندیپ کمار نے چپلیٹس، مصنوعی ذہانت، تیز رفتار انٹرکنیکٹس اور پیکیج کے قریب آپٹکسکے ذریعے سیمی کنڈکٹرز میں آرکیٹیکچر پر مبنی تبدیلی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے سسٹم آرکیٹیکچر، پاور الیکٹرانکس، میموری، آپٹکس اور فاؤنڈری سپلائی چین کے شعبوں میں گہری صلاحیتوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ایس ای ایم آئی کے صدر اور سی ای او جناب اجیت منوچا اور میک کینزی اینڈ کمپنی کے سینئر پارٹنر جناب مارک پٹیل کے درمیان ہونے والی بات چیت میں عالمی سیمی کنڈکٹر صنعت کی تیزی سے توسیع اور عالمی ویلیو چین کے منتخب حصوں میں گہری صلاحیتیں پیدا کرنے کے لیے ہندوستان کے مواقع کا جائزہ لیا گیا۔
انویسٹ انڈیا کی ایم ڈی اور سی ای او محترمہ نیوروتی رائے نے سیمی کنڈکٹر صنعت کے انٹیگریٹڈ ڈیوائس مینوفیکچرر کے دور سے فاؤنڈری اور فیب لیس ماڈل، اور اب مصنوعی ذہانت اور جدید پیکیجنگ کے دور کی جانب اس کے ارتقاء پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے میموری، ہائی بینڈوڈتھ میموری (ایچ بی ایم) فیبس، ایڈوانسڈ پیکیجنگ، میٹریلز، چپلیٹس اور ہیٹروجینس انٹیگریشن (متنوع انضمام )کو ہندوستان کے لیے بڑے مواقع کے طور پر شناخت کیا اور ہندوستان کی طلب اور انجینئرنگ کی صلاحیتوں کو عالمی ٹیکنالوجی، سرمایہ اور مینوفیکچرنگ کی مہارت کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔
جدید ٹیکنالوجیز کے لیے تحقیق و ترقی کے موضوع پر منعقدہ سیشن، جس کی نظامت میتی کی سائنٹسٹ جی اور گروپ کوآرڈینیٹر، آر اینڈ ڈی الیکٹرانکس، محترمہ سنیتا ورما نے کی، میں ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر شعبے کی ترقی کے اگلے مرحلے کے لیے مقامی تحقیق و ترقی، دانشورانہ ملکیت اور تجارتی فروغ کو اہم قرار دیا گیا۔
اینالاگ ڈیوائسز کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب وویک تیاگی کی زیرِ صدارت ریاستی اسپاٹ لائٹ سیشن میں آسام، اڈیشہ، گجرات اور کرناٹک کی جانب سے ترغیبات، بنیادی ڈھانچے، کاروبار کرنے میں آسانی اور صنعت سے منسلک ہنرمندی کی تربیت کے اقدامات پر روشنی ڈالی گئی۔
مینوفیکچرنگ میں خواتین سے متعلق سیشنز میں مینوفیکچرنگ، پیکیجنگ، آلات کی انجینئرنگ، معیار، سپلائی چین، آٹومیشن اور پلانٹ کی قیادت سمیت مختلف شعبوں میں خواتین کے لیے بڑھتے ہوئے مواقع کو اجاگر کیا گیا۔ اس دوران تکنیکی صلاحیت، رہنمائی اور خواتین کے لیے قیادت اور فیصلہ سازی کے کرداروں تک رسائی کے مضبوط راستے پیدا کرنے پر زور دیا گیا۔
انڈیا ڈسپلے کانفرنس 2026 میں جدید مائع کرسٹل ڈسپلے (ایل سی ڈی)، منی ایل ای ڈی، کوانٹم ڈاٹ اور آرگینک لائٹ ایمیٹنگ ڈائیوڈ (او ایل ای ڈی) ٹیکنالوجیز، ان کی ایپلی کیشنز اور متعلق معاون تحقیق کا احاطہ کیا گیا۔ بات چیت میں ڈسپلے اسمبلی سے آگے بڑھنے اور گہری گھریلو صلاحیتیں پیدا کرنے کے ہندوستان کے مواقع کو اجاگر کیا گیا۔
ورک فورس ڈیولپمنٹ سیشنز میں عملی تربیت اور صنعت و اکیڈمیا کے مضبوط روابط کے ذریعے چپ ڈیزائن، مینوفیکچرنگ، پیکیجنگ، آلات، معیار اور سپلائی چین کے شعبوں میں صنعت کے لیے تیار صنعت کے لیے تیار، ہنرمند افرادی قوت کی پائپ لائن تیارکرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
بھارت-سنگاپور راؤنڈ ٹیبل: اختراع اور سرمایہ کاری کو باہم مربوط کرنا
ہندوستان اور سنگاپور دونوں کی نمائندگی کرنے والے 142 شرکاء کی شرکت والے بھارت-سنگاپور کنٹری گول میز اجلاس میں سنگاپور کی مینوفیکچرنگ، جدید پیکیجنگ اور سپلائی چین کی مہارت کو ہندوستان کی انجینئرنگ صلاحیت، مارکیٹ کے حجم اور فروغ پاتے سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کے ساتھ مربوط کرکے تعاون کے مواقع تلاش کیے گئے۔ بات چیت میں آلات اور میٹریلز، جدید پیکیجنگ، آر اینڈ ڈی، ٹیسٹنگ، سرمایہ کاری اور ہنرمندی کے شعبوں کا احاطہ کیا گیا، جبکہ ان روابط اور تعاون کو مشترکہ منصوبوں اور ٹیکنالوجی شراکت داری میں تبدیل کرنے پر زور دیا گیا۔
بھارت-یورپ راؤنڈ ٹیبل: ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کی شراکت داری کو مزید گہرا کرنا
ہندوستان اور یورپ دونوں کی نمائندگی کرنے والے 139 شرکاء نے شرکت کی، جس میں سرمایہ کاری، سپلائی چین کی لوکلائزیشن، آلات اور میٹریلز، مینوفیکچرنگ، جدید پیکیجنگ، سیمی کنڈکٹر ڈیزائن، آر اینڈ ڈی اور ہنرمندی پر توجہ مرکوز کی گئی۔ بات چیت میں آلات، صحت سے متعلق مشینری، جدید میٹریلز اور تحقیق میں یورپ کی صلاحیتوں اور ڈیزائن، انجینئرنگ، مینوفیکچرنگ اور مارکیٹ کے حجم میں ہندوستان کی طاقتوں کے درمیان باہمی تکمیل کو اجاگر کیا گیا۔ اس میں 2.5 D/3D پیکیجنگ، چپلیٹس اور ہیٹروجینس انٹیگریشن( متنوع انضمام )کے مواقع بھی شامل تھے۔
بھارت-جنوبی کوریا کنٹری راؤنڈ ٹیبل: سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام میں تعاون کو مضبوط بنانا
ہندوستان اور جنوبی کوریا دونوں کی نمائندگی کرنے والے 115 شرکاء نے شرکت کی۔ اجلاس میں مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی، میٹریلز، جدید پیکیجنگ، سرمایہ کاری اور سپلائی چین سمیت سیمی کنڈکٹر ویلیو چین میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے مواقع پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس میں جنوبی کوریا کی قائم شدہ سیمی کنڈکٹر صلاحیتوں اور ہندوستان کی انجینئرنگ صلاحیت، پھیلتی ہوئی مارکیٹ اور بڑھتے ہوئے مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام کو یکجا کرناہے۔
سیمیکون انڈیا 2026 کے دوسرے دن نے تحقیق، ڈیزائن اور دانشورانہ املاک سے لے کر میٹریلز، آلات، فیبس، جدید پیکیجنگ، مصنوعات اور ہنرمند افرادی قوت تک پوری سیمی کنڈکٹر ویلیو چین میں صلاحیتیں پیدا کرنے کی ہندوستان کی کوشش کو مزید تقویت دی۔ اس مضبوط رفتار کی عکاسی دن بھر وسیع پیمانے پر صنعتی، تحقیقی اور بین الاقوامی شرکت کے ساتھ ساتھ تقریباً 16,000 شرکاء کی شرکت سے ہوئی۔ بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری، مقامی طور پر کی جانے والی اختراع اور گہری عالمی شراکت داری کے ساتھ، ہندوستان سیمی کنڈکٹر ڈیزائن، مینوفیکچرنگ اور اختراع کے لیے ایک قابلِ اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر اپنی پوزیشن کو مسلسل مستحکم کر رہا ہے۔
***
(ش ح۔اس ک )
UR-3775
(ریلیز آئی ڈی: 2312344)
وزیٹر کاؤنٹر : 13