صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جناب جے پی نڈا نے مدھیہ پردیش میں صحت کے شعبے کی پیش رفت کا جائزہ لیا؛ ریاست میں صحت کی سہولیات کی توسیع اور پی پی پی ماڈل کی ستائش کی


مدھیہ پردیش نے طبی تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا؛ ایم بی بی ایس کی نشستیں بڑھ کر 6,120 ہو گئیں

ریاست نے میڈیکل کالجوں کی توسیع اور صحت کی دیکھ بھال کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے اختراعی پی پی پی طریقۂ کار اپنایا

مرکز اور ریاست نے صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور معیاری، سستی صحت کی سہولیات کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 SEP 2026 8:10PM by PIB Delhi

صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر، جناب جے پی نڈا نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب موہن یادو سے ملاقات کی اور ریاست میں صحت کے شعبے کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ ملاقات کے دوران صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے، طبی تعلیم، خصوصی طبی خدمات اور صحت عامہ کے اہم اقدامات سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

 

 

ملاقات کے دوران جناب نڈا نے ریاست کے صحت کی دیکھ بھال کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے اور معیاری صحت کی سہولیات تک رسائی کو وسعت دینے کے لیے مدھیہ پردیش حکومت کی مسلسل کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے طبی تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع میں تیزی لانے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل سے استفادہ کرنے پر بالخصوص ریاست کی ستائش کی۔

 

 

جائزے کے دوران ریاست میں طبی تعلیم کی توسیع پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ مدھیہ پردیش نے 2026 میں ایم بی بی ایس کی نشستیں 5,600 سے بڑھا کر 6,120 کر دی ہیں، یعنی ایک سال میں 520 نشستوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ریاست نے سپر اسپیشلٹی تعلیم میں بھی توسیع کی ہے، جس کے تحت سرکاری میڈیکل کالجوں میں نشستیں 63 سے بڑھ کر 73 اور نجی میڈیکل کالجوں میں 29 سے بڑھ کر 53 ہو گئی ہیں۔

جناب نڈا نے ان کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ طبی تعلیم اور ماہر طبی افرادی قوت میں توسیع سے صحت کی دیکھ بھال کے شعبے کی افرادی قوت مضبوط ہوگی اور پوری ریاست میں جدید طبی خدمات کی دستیابی بہتر ہوگی۔

مرکزی وزیر صحت نے میڈیکل کالجوں کے قیام کے لیے پی پی پی ماڈل کے اختراعی استعمال پر بھی مدھیہ پردیش کی ستائش کی۔ اس اقدام کے تحت دھار، پنا، کٹنی اور بیتول میں میڈیکل کالج قائم کیے جا رہے ہیں، جنہیں دسمبر 2027 تک قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ اقدام طبی تعلیم کو وسعت دینے اور ریاست کے مختلف علاقوں میں لوگوں کے قریب خصوصی طبی خدمات پہنچانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

جناب نڈا نے صحت کی دیکھ بھال کی صلاحیت میں اضافہ اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں تیزی لانے کے لیے سرکاری سرمایہ کاری کو نجی شعبے کی شرکت کے ساتھ مربوط کرنے کے ریاستی حکومت کے طریقۂ کار کی بھی تعریف کی۔

ملاقات کے دوران زچگی اور بچوں کی صحت سے متعلق اہم اشاریوں میں بہتری کا بھی جائزہ لیا گیا۔ SRS 2022-24 کے مطابق، مدھیہ پردیش میں زچگی کی شرح اموات (ایم ایم آر) فی ایک لاکھ زندہ پیدائشوں پر 7 پوائنٹ کم ہو کر 135 رہ گئی ہے۔ این ایف ایچ ایس-6 کے مطابق، چار یا اس سے زیادہ قبل از پیدائش نگہداشت (اے این سی) کے معائنے کرانے والی حاملہ خواتین کا تناسب 57.5 فیصد سے بڑھ کر 69.5 فیصد ہو گیا ہے۔ بچوں کی صحت سے متعلق اشاریوں میں بھی بہتری آئی ہے، جس کے تحت نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات 27 سے کم ہو کر 26 اور شیر خوار بچوں کی شرح اموات فی ایک ہزار زندہ پیدائشوں پر 37 سے کم ہو کر 35 ہو گئی ہے۔

ریاست نے خصوصی طبی خدمات تک رسائی کو بھی مضبوط کیا ہے۔ 52 اضلاع میں 70 ہیمو ڈائیلاسس یونٹ فعال ہیں، جبکہ 52 کینسر ڈے کیئر مراکز کینسر کے علاج کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ جدید کینسر علاج کی سہولیات، جن میں سی اے آر-ٹی سیل تھراپی بھی شامل ہے، سرکاری مہاتما گاندھی میموریل میڈیکل کالج، اندور میں بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔

 

 

طبی تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع کو نئے سرکاری میڈیکل کالجوں کے ذریعے مزید تقویت دی جا رہی ہے۔ چھترپور، دموہ اور بدھنی میں میڈیکل کالج کی عمارتوں کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے، جبکہ اجین میں میڈیکل کالج کی تعمیر 2027 میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ مرکزی حکومت کی فیز-III اسکیم کے تحت راج گڑھ اور منڈلا میں بھی میڈیکل کالج قائم کرنے کی تجویز ہے۔

جناب نڈا نے صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، طبی تعلیم کو وسعت دینے اور صحت کی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے اختراعی ماڈل اپنانے پر وزیر اعلیٰ جناب موہن یادو اور مدھیہ پردیش حکومت کی مسلسل توجہ کی پذیرائی کی۔

مرکزی وزیر صحت نے صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، معیاری اور سستی صحت کی سہولیات تک رسائی کو وسعت دینے اور قومی صحت پروگراموں کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے مرکز اور ریاست کے درمیان مسلسل تعاون کی اہمیت کا اعادہ کیا۔

ملاقات میں مرکزی حکومت اور مدھیہ پردیش حکومت کے اس مشترکہ عزم کی توثیق کی گئی کہ وکست بھارت کے وژن کے مطابق ایک مضبوط، قابل رسائی اور عوام پر مرکوز صحت کی دیکھ بھال کا نظام تشکیل دیا جائے۔

ملاقات میں محترمہ پنیا سلیلہ سری واستو، سکریٹری، مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود؛ جناب نیرج منڈلوئی، ایڈیشنل چیف سکریٹری، مدھیہ پردیش؛ جناب سکھ ویر سنگھ، پرنسپل سکریٹری، محکمہ صحت عامہ و طبی تعلیم، مدھیہ پردیش؛ اور ڈاکٹر سنیل کمار برنوال، چیف ایگزیکٹو آفیسر، نیشنل ہیلتھ اتھارٹی (این ایچ اے) نے شرکت کی۔

                                               **************

 

ش ح۔ ف ش ع

18-09-2026

                                                                                                                                       U: 3767

 


(ریلیز آئی ڈی: 2312309) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी