قومی انسانی حقوق کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

قومی انسانی حقوق کمیشن، بھارت کا گلوبل ساؤتھ کے قومی انسانی حقوق اداروں (این ایچ آر آئی) کے لیے انسانی حقوق سے متعلق پانچواں آئی ٹی ای سی ایگزیکٹو استعداد سازی پروگرام نئی دہلی میں اختتام پذیر


کمیشن نے یہ پروگرام حکومت ہند کی وزارت خارجہ کے اشتراک سے منعقد کیا

اختتامی خطاب میں قومی انسانی حقوق کمیشن، بھارت کے چیئرپرسن جسٹس وی راما سبرامنیم نے گلوبل ساؤتھ کے قومی انسانی حقوق اداروں کے درمیان مزید مضبوط تعاون پر زور دیا

انہوں نے کہا کہ تجربات کا تبادلہ، چیلنجوں سے نمٹنا اور غلطیوں سے سیکھنا ادارہ جاتی تعلیم اور بہتری میں معاون ثابت ہوتا ہے

گلوبل ساؤتھ کے 14 قومی انسانی حقوق اداروں کے 38 اعلیٰ عہدیداروں نے حکمرانی اور انسانی حقوق کے مختلف پہلوؤں پر ممتاز مقررین کے خطابات میں شرکت کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 SEP 2026 8:07PM by PIB Delhi

گلوبل ساؤتھ کے قومی انسانی حقوق اداروں (این ایچ آر آئی) کے لیے انسانی حقوق سے متعلق چھ روزہ انڈین ٹیکنیکل اینڈ اکنامک کوآپریشن (آئی ٹی ای سی) ایگزیکٹو استعداد سازی پروگرام نئی دہلی میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اس پروگرام کا انعقاد قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی)، بھارت نے وزارت خارجہ (ایم ای اے) کے اشتراک سے کیا۔ اختتامی اجلاس سے قومی انسانی حقوق کمیشن، بھارت کے چیئرپرسن جسٹس وی. راماسبرامنیم نے خطاب کیا۔ اس موقع پر جوائنٹ سکریٹری، جناب سمیر کمار اور محترمہ سیڈنگ پُوئی چک چُھواک اور دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔

 

alt

 

14 ستمبر 2026 کو شروع ہونے والے اس پروگرام میں الجزائر، چلی، ایکواڈور، ایتھوپیا، انڈونیشیا، قازقستان، کینیا، کرغزستان، ملائیشیا، عمان، ساموا، جنوبی افریقہ، تاجکستان اور زمبابوے کے 14 قومی انسانی حقوق اداروں (این ایچ آر آئی) کے 38 سینئر عہدیداروں نے شرکت کی۔ اس میں ممتاز شخصیات اور متعلقہ شعبے کے ماہرین کے ساتھ تعاملی اجلاس بھی شامل تھے، جن میں شرکا کو شہری اور سیاسی حقوق کے ساتھ ساتھ سماجی، اقتصادی اور ثقافتی حقوق کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کرایا گیا۔

 

alt

 

مقررین میں قومی انسانی حقوق کمیشن، بھارت کے چیئرپرسن جسٹس وی راما سبرامنیم، سکریٹری جنرل جناب پیوش گوئل، ڈائریکٹر جنرل (تحقیقات) محترمہ انوپما نیلے کر چندرا، بھارت میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر جناب اسٹیفن پریزنر، قومی انسانی حقوق کمیشن، بھارت کے جوائنٹ سکریٹری جناب سمیر کمار، حکومت ہند کی سابق سکریٹری محترمہ بھامتی بالاسبرامنیم، پروفیسر (ڈاکٹر) ورتیکا نندا، بھارتی جیل اصلاحات کی ماہر اور ٹنکا ٹنکا فاؤنڈیشن کی بانی، پروفیسر (ڈاکٹر) پرتاپ شرن، شعبۂ نفسیات، ایمس کے سربراہ، ڈاکٹر پوروا متل، قومی انسانی حقوق کمیشن، بھارت کی خصوصی مانیٹر، اور جناب چندرا مشرا، بیگر کارپوریشن کے بانی شامل تھے۔ مختلف قومی انسانی حقوق اداروں (این ایچ آر آئی) کے عہدیداروں کی جانب سے اپنے تجربات کا اشتراک کیے جانے سے بھی پروگرام مزید مفید اور معلوماتی بن گیا۔

 

alt

 

اپنے اختتامی کلمات میں قومی انسانی حقوق کمیشن، بھارت کے چیئرپرسن جسٹس وی راما سبرامنیم نے پروگرام کے دوران تمام شرکا کی دوستانہ رفاقت اور مثبت جذبے کے لیے ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ استعداد سازی کا یہ پروگرام محض بین الاقوامی انسانی حقوق کے دستاویزات کی وضاحت تک محدود نہیں ہے، کیونکہ مختلف ممالک کے تاریخی، ثقافتی، سماجی اور اقتصادی حالات کے مطابق ان کا عملی اطلاق مختلف ہوتا ہے۔ سائنس سے مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی انسانی حقوق ادارے انسانی حقوق کی ’’لیبارٹری‘‘ میں کام کرتے ہیں، جہاں تجربات کا اشتراک، چیلنجوں سے نمٹنا اور غلطیوں سے سیکھنا ادارہ جاتی سیکھنے اور بہتری میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

جسٹس راما سبرامنیم نے مندوبین کی فعال شرکت کو سراہا اور انسانی وقار، امن اور باہمی احترام کے فروغ میں قومی انسانی حقوق اداروں کے درمیان دوستی، تعاون اور باہمی مفاہمت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے گلوبل ساؤتھ کے قومی انسانی حقوق اداروں کے درمیان مزید مضبوط تعاون کی ضرورت کا بھی ذکر کیا اور تعاون کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کو باضابطہ شکل دینے پر زور دیا۔

 

alt

 

شرکا نے اس پروگرام کے انعقاد پر قومی انسانی حقوق کمیشن، بھارت اور وزارت خارجہ (ایم ای اے) کی ستائش کی۔ انہوں نے انسانی حقوق، اچھی حکمرانی اور متنوع سماجی، ثقافتی، مذہبی اور لسانی شناختوں والے جمہوری ملک میں انسانی حقوق کے احترام کی ہندوستانی روایت کے مختلف پہلوؤں سے آگاہی حاصل کرنے کے موقع کو سراہا۔ شرکا کو ہندوستان کے مالامال ثقافتی ورثے کا بھرپور تجربہ حاصل کرنے کے لیے راشٹرپتی بھون، لال قلعہ اور تاج محل جیسے تاریخی اور اہم مقامات کا دورہ کرنے کا موقع بھی ملا۔

 

alt

 

قومی انسانی حقوق کمیشن، بھارت کے جوائنٹ سکریٹری، جناب سمیر کمار نے تربیتی پروگرام کا ایک جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 46 ممالک کے شرکا اور مختلف قومی انسانی حقوق اداروں (این ایچ آر آئی) کے تقریباً 200 نمائندے اس پہل کا حصہ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے انسانی حقوق کی عالمگیریت کو برقرار رکھتے ہوئے باریک بینی پر مبنی نقطۂ نظر اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور پورے پروگرام کے دوران شرکا کی فعال شرکت اور علم و تجربات کے قابل قدر تبادلے کی تعریف کی۔

 

alt

                                               **************

 

ش ح۔ ف ش ع

18-09-2026

                                                                                                                                       U: 3766

 


(ریلیز آئی ڈی: 2312270) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी