صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا نے ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اسپتال میں ’ مریضوں کے تحفظ سے متعلق عالمی دن 2026‘ کی تقریب سے خطاب کیا


آیوشمان بھارت کی مدد سے 11.5 کروڑ مستفیدین کو تقریباً 1.6 لاکھ کروڑ روپے کا علاج فراہم کیا گیا: مرکزی وزیر صحت

جن اوشدھی یوجنا کے ذریعے شہریوں کو ادویات پر تقریباً 45,000 کروڑ روپے کی بچت میں مدد ملی: جناب نڈا

مریضوں کے تحفظ سے متعلق عالمی دن کے موقع پر مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا نے کہا کہ صاف ستھرا اسپتال ایک زیادہ محفوظ اسپتال ہوتا ہے

مریضوں کے تحفظ کے طریقۂ    کار کو بہتر بنانے کے لئے رام منوہر لوہیا اسپتال میں ’کوالٹی اینڈ سیفٹی ‘ کتابچہ جاری

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 SEP 2026 9:34PM by PIB Delhi

مریضوں کے تحفظ سے متعلق عالمی دن 2026کے موقع پر مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جناب جے پی نڈا نے آج نئی دہلی میں واقع اٹل بہاری واجپئی طبی علوم ادارہ اور ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اسپتال میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کیا۔ اس تقریب میں معیاری صحت خدمات اور صحت نظام کو مضبوط بنانے کے ایک اہم جزو کے طور پر مریضوں کے تحفظ کو مزید مستحکم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے جاری کوششوں کو اجاگر کیا گیا۔

مریضوں کے تحفظ سے متعلق عالمی دن 2026کا موضوع ’’غیر متعدی بیماریوں کے لئے محفوظ علاج‘‘ اور نعرہ ’’زندگی بھر محفوظ علاج‘‘ ہے، جو غیر متعدی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے محفوظ، مربوط اور مسلسل علاج کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جناب جے پی نڈا نے کہا کہ 17 ستمبر ایک اہم دن ہے، کیونکہ یہ عوامی خدمت، مریضوں کے تحفظ اور صفائی کے موضوعات کو ایک ساتھ جوڑتا ہے۔ انہوں نے معزز وزیر اعظم جناب نریندر مودی کو ان کی سالگرہ کے موقع پر مبارکباد اور نیک خواہشات بھی پیش کیں اور کہا کہ یہ موقع عوامی خدمت میں ان کی خدمات اور ملک کی خدمت کے لیے ان کے مسلسل عزم کو تسلیم کرنے کا موقع ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کی طویل اور صحت مند زندگی اور ملک کی مسلسل خدمت کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

 

مریضوں کے تحفظ سے متعلق عالمی دن کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ مریضوں کا تحفظ صحت خدمات کا ایک نہایت اہم جزو ہے اور صحت خدمات کی فراہمی کا مقصد صرف علاج تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ ہر مریض کو محفوظ، اعلی معیار کی، باوقار اور مریض پر مرکوز صحت خدمات حاصل ہوں۔ انہوں نے اٹل بہاری واجپئی طبی علوم ادارہ اور ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اسپتال کی جانب سے اس پروگرام کے انعقاد کی ستائش کی اور خاص طور پر معیار اور تحفظ سے متعلق کتابچہ جاری کرنے پر ادارے کی تعریف کی، جو معیار اور تحفظ کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے کے لیے ایک عملی لائحہ عمل فراہم کرتا ہے۔

مرکزی وزیر نے زور دے کر کہا کہ مریضوں کے تحفظ کے لیے ڈاکٹروں، نرسوں، نیم طبی ماہرین، تکنیکی عملے، انتظامی اہلکاروں اور دیگر صحت کارکنوں کے ساتھ ساتھ مریضوں اور ان کے تیمارداروں کی اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت خدمات کی فراہمی میں مریضوں کا تحفظ اور سلامتی ہمیشہ مرکزی حیثیت میں ہونی چاہیے اور تیزی کے نام پر ضروری احتیاطی تدابیر اور ضابطوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے درست تشخیص، مناسب علاج، انفیکشن سے بچاؤ کے ضابطوں کی پابندی اور انفیکشن پر قابو پانے کے لیے مسلسل توجہ کی اہمیت پر زور دیا۔

جناب نڈا نے کہا کہ مریضوں کا تحفظ صحت مراکز میں صفائی اور حفظان صحت سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ سووچھتا تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے صفائی کو عوامی تحریک میں تبدیل کرنے کے عمل کو اجاگر کیا اور زور دیا کہ صفائی روزمرہ کی عادات اور کام کرنے کے طریقوں کا حصہ بننی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران تقریباً 11 کروڑ بیت الخلا کی تعمیر سے ملک کے صفائی کے بنیادی ڈھانچے کو نمایاں طور پر مضبوط بنانے میں مدد ملی ہے اور اس کے ساتھ لوگوں کے وقار اور زندگی کے بہتر حالات میں بھی بہتری آئی ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ صفائی ستھرائی میں بہتری کا عوامی صحت کے نتائج پر بھی اہم اثر پڑا ہے، جس میں اسہال کی بیماریوں میں نمایاں کمی بھی شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسپتالوں میں صفائی کا انفیکشن سے بچاؤ اور مریضوں کے تحفظ سے براہ راست تعلق ہے۔ انہوں نے ہاتھوں کی صفائی، فضلے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے، انفیکشن پر قابو پانے کے ضابطوں کی پابندی اور اسپتال کے احاطے و سہولیات کی ذمہ داری کے ساتھ دیکھ بھال کے لیے اجتماعی ذمہ داری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ صاف ستھرا اسپتال صرف اچھی طرح برقرار رکھا جانے والا اسپتال نہیں ہوتا بلکہ یہ زیادہ محفوظ اسپتال بھی ہوتا ہے۔

اداروں میں معیار کی یقین دہانی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ قومی معیار کی یقین دہانی کے معیارات (این کیو اے ایس) کا تصدیقی نظام 2015 میں صحت اداروں کے معیار کا جائزہ لینے کے لیے قومی سطح پر تسلیم شدہ معیارات قائم کرنے کے مقصد سے متعارف کرایا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اب 60,000 سرکاری صحت مراکز این کیو اے ایس سے تصدیق شدہ ہیں اور کہا کہ تصدیق شدہ اداروں کی تعداد میں مزید اضافہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جس کے تحت تقریباً 2 لاکھ اداروں کو اس دائرے میں لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ معیار کے معیارات اور تصدیقی نظام کا دائرہ وسیع کرنا عوامی صحت کے پورے نظام میں معیار، تحفظ اور مریض پر مرکوز علاج کو ادارہ جاتی شکل دینے پر مسلسل توجہ کی عکاسی کرتا ہے۔

جناب نڈا نے مالی تحفظ کو مضبوط بنانے اور صحت خدمات تک رسائی بہتر بنانے میں آیوشمان بھارت کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت اہل مستفیدین کو ثانوی اور ثالثی درجے کے علاج کے لیے فی خاندان فی سال 5 لاکھ روپے تک صحت بیمہ فراہم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آیوشمان بھارت دنیا کے سب سے بڑے صحت بیمہ پروگراموں میں سے ایک بن کر ابھرا ہے اور اس نے لاکھوں لوگوں کو علاج کے ایسے اخراجات کے بوجھ کے بغیر صحت خدمات حاصل کرنے کے قابل بنایا ہے جو خاندانوں کی مالی حالت کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔

مرکزی وزیر نے بتایا کہ آیوشمان بھارت کے تحت تقریباً 11.5 کروڑ مستفیدین کا علاج کیا جا چکا ہے، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 1.6 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام نے بزرگ شہریوں سمیت خاندانوں کو ایسے طبی طریقہ علاج اور علاج کی سہولت حاصل کرنے کے قابل بنایا ہے، جن پر بصورت دیگر انہیں بھاری مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا تھا۔

پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی پریوجنا (پی ایم بی جے پی) کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ اس اقدام سے معیاری عام ادویات تک سستی قیمتوں پر رسائی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں 20,000 سے زیادہ جن اوشدھی مراکز قائم کیے جا چکے ہیں اور اس نیٹ ورک کو مزید وسعت دے کر تقریباً 25,000 مراکز تک پہنچانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس کے ساتھ ادویات کی اقسام میں اضافہ کرنے، ان کی بروقت دستیابی اور معیار کو یقینی بنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بعض کینسر کی ادویات پر دستیاب نمایاں بچت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ جن اوشدھی کے ذریعے شہریوں کو ہونے والی مجموعی بچت کا تخمینہ تقریباً 45,000 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔

جناب نڈا نے صحت خدمات پر اپنی جیب سے ہونے والے اخراجات کو کم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ صحت پر ہونے والے مجموعی اخراجات میں اپنی جیب سے کیے جانے والے اخراجات کا حصہ 2014 میں تقریباً 62 فیصد سے کم ہو کر اب تقریباً 43 فیصد رہ گیا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ خاندانوں پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔

مرکزی وزیر نے احتیاطی صحت خدمات، بیماریوں کی ابتدائی تشخیص اور علاج کے تسلسل کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے ٹیکہ کاری، ماں اور بچے کی صحت سے متعلق خدمات اور غیر متعدی بیماریوں کی جانچ کے نظام کو مضبوط بنانے کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بچپن سے ہی ٹیکہ کاری کا ریکارڈ رقمی نظام کے ذریعے رکھا جا رہا ہے اور مستفیدین اور خاندانوں سے مسلسل رابطہ رکھنے کے لیے ایسے انتظامات کیے گئے ہیں، تاکہ مقررہ ٹیکے بروقت لگائے جا سکیں۔

جناب نڈا نے کہا کہ عوامی صحت کے نظام کے ذریعے غیر متعدی بیماریوں کی جانچ اور ابتدائی تشخیص کو بھی مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور مختلف اقسام کے سرطان، جن میں منہ، بچہ دانی کے منہ اور چھاتی کا سرطان شامل ہے، کی جانچ کو اجاگر کیا اور کہا کہ جاری کوششوں کے تحت کروڑوں افراد کی جانچ کی جا چکی ہے۔

مریضوں کے تحفظ کے وسیع تر مفہوم پر زور دیتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ اسپتال آنے والے مریض اپنے ساتھ صرف بیماری ہی نہیں بلکہ تشویش، امید اور توقعات بھی لے کر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کارکنوں کا برتاؤ، جس میں بروقت معلومات فراہم کرنا، مناسب رہنمائی، اطمینان دلانا اور تعاون شامل ہے، مریض کے مجموعی تجربے کا ایک اہم حصہ ہے۔

جناب نڈا نے مریضوں کے تحفظ کے عالمی دن کے موقع پر مختلف اقدامات کے لیے اٹل بہاری واجپئی طبی علوم ادارہ اور ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اسپتال کو مبارکباد دی اور منظم جانچ، تربیت، مسلسل نگرانی اور ادارہ جاتی تجربات سے سیکھنے کے ذریعے معیار اور تحفظ کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوششیں ایسے صحت نظام کی تشکیل میں معاون ثابت ہوتی ہیں جس میں ہر مریض کے تجربے میں تحفظ، معیار، قابل استطاعت علاج اور وقار کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے محترمہ پنیا سلیلا سریواستو نے کہا کہ محفوظ اور معیاری علاج کو یقینی بنانے کے لیے اسپتال کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اٹل بہاری واجپئی طبی علوم ادارہ اور ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اسپتال نے قومی تصدیقی ادارہ برائے اسپتال و صحت خدمات کی منظوری حاصل کی ہے، جو مریضوں کے تحفظ اور علاج کے معیار سے متعلق مقررہ معیارات کی پابندی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسپتالوں میں صفائی صرف صحت کارکنوں کی ذمہ داری نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے لیے مریضوں، آنے والے افراد اور تیمارداروں کی فعال شرکت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’سوچھتا ہی سیوا‘ اور مریضوں کے تحفظکے تحفظ کا باہمی امتزاج صفائی، انفیکشن سے بچاؤ اور محفوظ صحت خدمات کے لیے اجتماعی ذمہ داری کو مزید مضبوط بنانے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔

محترمہ سریواستو نے ہر شہری کے لیے صحت خدمات کو قابل رسائی، سستی اور اعلی معیار کا بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے جاری کوششوں کو اجاگر کیا۔ گزشتہ سال شروع کی گئی ’صحت مند ناری، بااختیار پریوار‘ مہم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں 17 لاکھ سے زیادہ صحت کیمپ منعقد کیے گئے، جن میں 11 کروڑ سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی۔ انہوں نے آیوشمان آروگیہ مندروں، پردھان منتری قومی ڈائلاسس پروگرام، ٹیکہ کاری خدمات کی توسیع، پی ایم-اے بی ایچ آئی ایم، ای سنجیونی، پی ایم-جے اے وائی اور آیوشمان وای وندنا سمیت اہم اقدامات کو بھی اجاگر کیا، جو احتیاطی اور علاج پر مبنی صحت خدمات تک رسائی کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ انہوں نے علاج کی مجموعی لاگت کم کرنے میں سستی ادویات کی اہمیت پر بھی زور دیا اور پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی مراکز اور امرت دواخانوں، بشمول آر ایم ایل اسپتال میں واقع امرت دواخانے، کے کردار کو اجاگر کیا، جو سستی ادویات اور طبی پیوندوں تک رسائی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

 

مریض پر مرکوز صحت خدمات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے محکمہ ادویہ کے سکریٹری جناب منوج جوشی نے کہا کہ گزشتہ 10 سے 12 برسوں کے دوران مسلسل کوششوں کا مرکز مریضوں کے اطمینان کو بہتر بنانا اور معیاری صحت خدمات کو بالخصوص معاشی طور پر کمزور طبقات کے لیے زیادہ قابل رسائی بنانا رہا ہے۔ انہوں نے آیوشمان بھارت۔پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی۔پی ایم جے اے وائی) اور پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی پریوجنا (پی ایم بی جے پی) جیسے اقدامات کے اہم کردار کو اجاگر کیا، جن کے ذریعے مالی تحفظ کو مضبوط بنانے اور سستی ادویات تک رسائی بہتر بنانے کے ساتھ معیاری علاج کو زیادہ قابل رسائی اور سستا بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسپتالوں میں صفائی برقرار رکھنا اب بھی ایک اہم چیلنج ہے اور محفوظ و مریض پر مرکوز علاج کو یقینی بنانے کے لیے صفائی ستھرائی، پاکیزگی اور انفیکشن پر قابو پانے کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ، پروگرام کے دوران اٹل بہاری واجپئی طبی علوم ادارہ اور ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اسپتال کا معیار اور تحفظ سے متعلق کتابچہ بھی جاری کیا گیا۔ اس کتابچے میں صحت کارکنوں کو عملی اور یکساں طریقہ کار سے متعلق رہنمائی فراہم کی گئی ہے، تاکہ بہترین طریقہ کار کو اپنانے، علاج کے معیار کو بہتر بنانے اور اسپتال کے مختلف عملی شعبوں میں مریضوں کے تحفظ سے متعلق ضابطوں کی پابندی کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکے۔

تقریب کے دوران جناب نڈا نے پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (پی ایم جے اے وائی) اور جن اوشدھی پریوجنا کے مستفیدین سے بھی بات چیت کی۔

 

مریضوں کے تحفظ کیلئے حکومت کی کوششوں کے بارے میں

حکومت ادارہ جاتی مضبوطی، صلاحیت سازی، معلومات کے تبادلے، باہمی سیکھنے اور معیار میں مسلسل بہتری پر مرکوز مربوط طریقہ کار کے ذریعے مریضوں کے تحفظ کو مضبوط بنا رہی ہے۔ وزارت صحت و خاندانی بہبود کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کے تحت قومی مریض تحفظ سکریٹریٹ (این پی ایس ایس) ان کوششوں میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔ اس میں انڈیا پیشنٹ سیفٹی نیٹ ورک (آئی پی ایس این) بھی شامل ہے، جس میں 20 ایمس اور قومی اہمیت کے 5 ادارے (آئی این آئیز) شامل ہیں۔ یہ نیٹ ورک صحت اداروں کو اپنے تجربات بانٹنے، اچھے طریقہ کار کی نشاندہی اور تشہیر کرنے اور شواہد پر مبنی حل اور باہمی سیکھنے کے ذریعے مریضوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

ادارہ جاتی تجربات سے سیکھنے اور انہیں عملی جامہ پہنانے پر زور 12-11 ستمبر 2026 کو ایمس ناگپور میں منعقدہ ’مریضوں کی حفاظت سے متعلق قومی کانفرنس 2026‘میں بھی جھلکتا ہے ۔ این پی ایس ایس ، ڈی جی ایچ ایس اور ایم او ایچ ایف ڈبلیو کے اشتراک سے ایمس ناگپور کے زیر اہتمام دو روزہ کانفرنس میں ملک بھر کے میڈیکل کالجوں اور صحت کی دیکھ بھال کے اداروں کے 100 سے زیادہ فیکلٹی ماہرین اور 450 مندوبین نے شرکت کی ۔ مختلف ایمس اور دیگر اداروں کے سینئر نمائندوں کے ساتھ ساتھ آئی سی ایم آر ، این اے بی ایچ ، این اے بی ایل ، آیوش ، نیشنل ہیلتھ پروگرامز اور فارماکو ویجیلنس پروگرام آف انڈیا (پی وی پی آئی) کے ماہرین نے سائنسی مباحثوں میں حصہ لیا اور ادارہ جاتی اختراعات اور اچھے طریقوں کا اشتراک کیا ۔

مریضوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے پر قومی سطح کی توجہ کو قومی ایکشن پلان برائے مریضوں کا تحفظ (این اے پی پی ایس) 2030 کے ذریعے بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے، جسے این پی ایس ایس کے ذریعے تیار کیا جا رہا ہے۔ قومی مریض تحفظ نفاذی فریم ورک (این پی ایس آئی ایف) 2025-2018 کی بنیاد پر تیار کیے جانے والے مجوزہ فریم ورک کا مقصد صحت خدمات کے مختلف شعبوں میں مریضوں کے تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے ترجیحی شعبوں میں ادویات، جراحی، خون، طبی آلات، تجربہ گاہ اور تشخیصی خدمات، انفیکشن، ٹیکہ اور انجیکشن، صحت مراکز اور آیوش سے متعلق مریضوں کا تحفظ شامل ہے، جبکہ عملی تحقیق اور مریضوں، خاندانوں اور تیمارداروں کی شمولیت کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔

ادارہ جاتی سطح پر اس جامع نقطہ نظر کو اپناتے ہوئے اے بی وی آئی ایم ایس اور ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اسپتال نے ’’پیمائش ، ماسٹر ، دیکھ بھال: ہر سطح پر مریض کی حفاظت میں اضافہ‘‘ کے عنوان سے ایک نئی پہل شروع کی ہے ۔ ’ہر سطح پر مریض کی حفاظت کو بڑھائیں‘کے موضوع کے تحت ، ’ مریضوں کے تحفظ سے متعلق  عالمی دن‘ کے موقع پر پورے اسپتال میں ایک ماہ تک چلنے والی ’کلوزڈ لوپ آڈٹ‘ مہم چلائی گئی ۔ اس اقدام میں طبی اور انتظامی شعبوں کو ایک منظم تین مرحلوں کے عمل کے تحت شامل کیا گیا، جس میں بنیادی جانچ، تربیت کے ذریعے فوری اصلاحی اقدامات اور توثیقی جانچ شامل تھی۔ اس کا مقصد خامیوں کی نشاندہی، اصلاحی اقدامات اور مریضوں کے تحفظ سے متعلق طریقہ کار میں بہتری کی تصدیق کرنا تھا۔

مریضوں کے تحفظ پر توجہ کو ’سوچھتا ہی سیوا ابھیان‘ کے تحت انجام دی جانے والی سرگرمیوں سے بھی تقویت مل رہی ہے، جس سے مریضوں، خاندانوں اور صحت کارکنوں کے لئے محفوظ اور مریض دوست ماحول پیدا کرنے میں صفائی، حفظان صحت اور صحت مراکز کے مناسب رکھ رکھاؤ کی اہمیت مزید اجاگر ہوتی ہے۔

صلاحیت سازی کے لئے باقاعدہ کوششیں کی جا رہی ہیں جن میں ماسٹر ٹریننگ پروگرام ، صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد کی واقفیت اور مریضوں کی حفاظت کے لئے نوڈل ٹیمیں ، ویبینار ، ادارہ جاتی سطح کی بیداری اور تکنیکی مدد شامل ہیں ۔ ان کوششوں کا مقصد صلاحیت سازی ، حفاظت کے کلچر کو فروغ دینا اور مریضوں کو حفاظت سے متعلق واقعات سے سیکھنے میں مدد کرنا ہے ۔

حکومت کا وژن مریضوں کی حفاظت کو روزمرہ کی صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کی فراہمی ، ادارہ جاتی معیار میں بہتری اور صحت کی دیکھ بھال کی حکمرانی کا ایک لازمی حصہ بنانا ہے ۔ مریضوں کے تحفظ کے موقع پر وزارت نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، صحت اداروں، صحت پیشہ ور افراد، مریضوں، خاندانوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر مربوط اور سیکھنے پر مبنی مریضوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے اور مریض کے علاج کے پورے سفر کے دوران محفوظ، بروقت، مربوط اور معیاری صحت خدمات کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

**********

 

ش ح۔ ک ا ۔ش ب ن

U. No-3801

 


(ریلیز آئی ڈی: 2312184) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी