مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ٹی آر اے آئی نے ٹیکنالوجی پر مبنی نفاذ اور صارفین کے بہتر تحفظ کے ذریعے غیر مطلوبہ تجارتی مواصلات پر قابو پانے کیلئے ضابطے کو مزید مضبوط کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 SEP 2026 3:22PM by PIB Delhi

ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (ٹرائی) نے غیر مطلوب تجارتی مواصلات (یو سی سی) پر قابو پانے، صارفین کو اسپیم سے تحفظ فراہم کرنے اور غیر مطلوب تجارتی مواصلات بھیجنے کے لئے ٹیلی کام وسائل کے غلط استعمال کو روکنے کے مقصد سے ٹیلی کام کمرشل کمیونیکیشنز کسٹمر پریفرنس ریگولیشنز 2018(ٹی سی سی سی پی آر، 2018)، میں ترمیم کی ہے تاکہ ضابطہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

ٹرائی نے 13 مارچ 2026 کو ’’ڈرافٹ ٹیلی کام کمرشل کمیونیکیشن کسٹمر پریفرنس (تیسری ترمیم) ریگولیشنز، 2026‘‘ مشاورت کے لئے جاری کئے تھےتاکہ موجودہ ضابطہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے، نفاذ کے طریقہ کار کو بہتر بنانے اور غیر مطلوب تجارتی مواصلات کی روک تھام اور ضابطے سے متعلق ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ضروری اہم ضابطہ جاتی ترامیم پر متعلقہ فریقوں کی آرا حاصل کی جا سکیں۔ مشاورت میں کئی اہم امور پر توجہ مرکوز کی گئی، جن میں ضابطہ جاتی نفاذ میں معاونت کے لیے مصنوعی ذہانت/مشین لرننگ (اے آئی/ ایم ایل) پر مبنی مشتبہ غیر مطلوب تجارتی مواصلات کی شناخت، شکایات کی بنیاد پر کارروائی کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا، اداروں کے پاس موجود سابقہ رضامندیوں کو شامل کرنے کے لیے واضح رضامندی کے دائرہ کار کو وسیع کرنا، اپیل کا طریقہ کار وضع کرنا، پیغامات بھیجنے والوں اور ٹیلی مارکیٹرز کی جواب دہی کو مضبوط بنانا، ایپلی کیشن ٹو پرسن (اے2 پی) کالز کو ضابطے میں لانا، ہیڈرز اور مواد کے سانچوں کے غلط استعمال کے خلاف حفاظتی اقدامات کو مضبوط بنانا وغیرہ شامل ہیں۔

مسودہ ضوابط پر آرا اور جوابی آرا بالترتیب 19 اپریل 2026 اور 4 مئی 2026 تک موصول ہوئیں۔ متعلقہ فریقوں کے ساتھ اوپن ہاؤس ڈسکشن ( (او ایچ ڈی) 3 جون 2026 کو منعقد کیا گیا۔ متعلقہ فریقوں کی آرا پر غور کرنے اور تفصیلی تجزیہ کرنے کے بعد، اتھارٹی نے آج ٹیلی کام کمرشل کمیونیکیشن کسٹمر پریفرنس (تیسری ترمیم) ریگولیشنز، 2026 متعارف کرائے ہیں۔

ترمیمات کی نمایاں خصوصیات

(i) ضابطہ جاتی نفاذ میں مدد کے لئے مصنوعی ذہانت/مشین لرننگ پر مبنی مشتبہ غیر مطلوب تجارتی مواصلات کی شناخت

(الف) بڑے ٹیلی کام سروس فراہم کنندگان نے مشتبہ اسپیم مواصلات کی شناخت اور صارفین کو خبردار کرنے کے لیے پہلے ہی مصنوعی ذہانت/مشین لرننگ پر مبنی نظام نافذ کر دیے ہیں۔ اتھارٹی نے 27 فروری 2026 کو ٹی ایس پیز کو مشتبہ غیر مطلوب تجارتی مواصلات کے بارے میں مصنوعی ذہانت/مشین لرننگ پر مبنی معلومات کو مختلف ٹی ایس پیز کے درمیان شیئر کرنے اور مشتبہ غیر مطلوب تجارتی مواصلات بھیجنے والوں کی مزید جانچ کرنے کے لیے ایک ہدایت بھی جاری کی تھی۔

(ب) مذکورہ ہدایت کی دفعات کو ریگولیشن اے21 متعارف کرا کر ٹی سی سی سی پی آر، 2018 میں مناسب طور پر شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت ٹی ایس پیز کے لیے ایسے بھیجنے والوں کے سی ایل آئی  کی شناخت کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے جن کے غیر مطلوب تجارتی مواصلات بھیجنے کے لیے استعمال ہونے کا امکان زیادہ ہو، اور اس معلومات کو ٹی ایس پیز کے درمیان شیئر کرنا ہوگا۔

(ج) اگر کسی بھیجنے والے سے منسلک پانچ یا اس سے زیادہ سی ایل آئی کو 10 دن کی مدت کے اندر نشان زد کیا جاتا ہے تو رسائی فراہم کنندگان کی جانب سے مزید جانچ اور مرحلہ وار کارروائی شروع کی جائے گی، جس میں کے وائی سی کی دوبارہ تصدیق، فزیکل تصدیق، آؤٹ گوئنگ خدمات پر پابندی اور بار بار خلاف ورزی اور ٹیلی کام وسائل کے غلط استعمال کی صورت میں ٹیلی کام وسائل کا کنکشن منقطع کرنا شامل ہے۔

(د) تجارتی مواصلات کے لئے اہم خصوصی نمبرز کی سیریز، جن میں xx,1600xx 140 اور 1601xxسیریز شامل ہیں، وصول کنندگان کے لئے مشتبہ اسپیم کے طور پر نشان زد نہیں کی جائیں گی۔ اس سے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ضابطے کے تحت مخصوص سیریز سے آنے والے جائز تجارتی مواصلات اور سرکاری مواصلات نادانستہ طور پر نظر انداز نہ ہوں۔

(ii) ایپلی کیشن ٹو پرسن (اے 2  پی) کالز کا ضابطہ

(الف) ایپلی کیشن ٹو پرسن ( اے 2 پی) کالز بڑی تعداد میں تجارتی مواصلات کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے بڑی تعداد میں کالز کو خودکار طریقے سے اور وسیع پیمانے پر کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے ان کے ذریعے اسپیم کالز کیے جانے کا امکان موجود ہے۔

(ب) اسی مناسبت سے، ایسی کالز کو ضابطے میں لانے کے لیے ترامیم میں  اے2 پی کالز کی تعریف ایسی صوتی کالز کے طور پر کی گئی ہے جو کسی ایپلی کیشن، سافٹ ویئر نظام یا خودکار پلیٹ فارم کے ذریعے براہ راست انسانی ڈائلنگ کے بغیر شروع کی جاتی ہیں، جن میں خودکار ڈائلنگ، روبو کالز اور پہلے سے ریکارڈ شدہ یا مصنوعی آواز کی ٹیکنالوجی کا استعمال بھی شامل ہے۔ یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ  اے 2 پی کالز استعمال کرنے والا ہر ادارہ ایسی کالز کے لیے استعمال کیے جانے والے سی ایل آئی کی تفصیلات کے ساتھ اپنے ٹی ایس پی کو اس کے استعمال کے بارے میں پیشگی اطلاع دے گا۔ مطلوبہ پیشگی اطلاع کے بغیر کی جانے والی  اے2 پی کالز کو غیر مطلوب تجارتی مواصلات (یو سی سی) تصور کیا جائے گا۔

(ج) روک تھام کے مؤثر اقدام کے طور پر اے2 پی کالز کے لیے فی منٹ 0.05 روپے تک ٹرمینیشن چارج عائد کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے، جو ٹرمینیٹنگ ایکسس پرووائیڈر کی جانب سے اوریجنٹنگ ایکسس پرووائیڈر سے وصول کیا جائے گا۔

(د) اتھارٹی کی جانب سے ضابطے کے تحت تجارتی کالز کے لیے مخصوص کسی بھی نمبرنگ سیریز کے ذریعے کی جانے والی  اے 2 پی کالز اور اتھارٹی کی طرف سے مجاز کالز کو ٹرمینیشن چارج سے مستثنی قرار دیا گیا ہے۔

(iii) صارف کی جانب سے کی گئی استفسار کی بنیاد پر تجارتی مواصلات

(الف) صارف کی جانب سے اشیا، مصنوعات یا خدمات کے لیے بھیجنے والے سے کیے گئے استفسار کی بنیاد پر تجارتی مواصلات صرف ایسے استفسار کی تاریخ سے سات دن کی مدت تک صارف کو بھیجے جا سکیں گے۔

(ب) تاہم، اسپیم بھیجنے کے لیے اس شق کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ ایسا استفسار تحریری یا ڈیجیٹل ذریعے سے کیا جائے اور بھیجنے والے کے پاس اسے قابل تصدیق شکل میں محفوظ رکھا جائے۔

(ج) اس ترمیم کا بنیادی مقصد ای کامرس اور ای سروس پلیٹ فارمز کو سہولت فراہم کرنا ہے۔

(iv) صارفین کے لیے اپیل کا طریقہ کار متعارف

(الف) اب صارفین غیر مطلوب تجارتی مواصلات (یو سی سی) سے متعلق شکایات کے ازالے کے فیصلے کے خلاف اپیل کر سکیں گے۔ اپیل 15 دن کے اندر اپیلیٹ اتھارٹی کے سامنے دائر کی جا سکے گی۔

(ب) اپیلیٹ اتھارٹی ٹیلی کام کنزیومرز کمپلینٹ ریڈریسل (ٹی سی سی آر) ریگولیشنز، 2012 کے مطابق اپیلوں کا فیصلہ کرے گی۔

(ج) اپیل غیر مطلوب تجارتی مواصلات سے متعلق شکایات درج کرنے کے دستیاب کسی بھی ذریعے سے دائر کی جا سکے گی، یعنی ٹرائی ڈی این ڈی ایپ، ٹی ایس پی کی ایپ/پورٹل اور 1909 پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے، اس کے علاوہ ٹی سی سی آر آر، 2012 کے تحت مقرر کردہ ذرائع بھی دستیاب ہوں گے۔

(v) غیر مطلوب تجارتی مواصلات کے خلاف شکایت پر مبنی کارروائی کو مضبوط بنانا

(الف) موجودہ ضوابط کے تحت غیر مطلوب تجارتی مواصلات بھیجنے والے کے خلاف کارروائی شروع کرنے کے لیے 10 دن کی مدت میں 5 یا اس سے زیادہ منفرد شکایات کی حد مقرر ہے۔

(ب) غیر مطلوب تجارتی مواصلات بھیجنے والوں کی بروقت شناخت اور ان کے خلاف تیز تر کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے ترامیم میں یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ صارفین سے موصول ہونے والی شکایات کے اعداد و شمار کی تصدیق ان بھیجنے والوں سے متعلق سروس فراہم کنندہ کے مصنوعی ذہانت کے نظام سے حاصل شدہ اعداد و شمار کے ساتھ کی جائے، جن کے بارے میں زیادہ امکان ہو کہ وہ غیر مطلوب تجارتی مواصلات بھیج رہے ہیں۔

(ج) اگر 10 دن کی مدت میں 3 یا اس سے زیادہ شکایات موصول ہوتی ہیں اور متعلقہ بھیجنے والے کے سی ایل آئی کو بھی مصنوعی ذہانت/مشین لرننگ پر مبنی نظام کی جانب سے غیر مطلوب تجارتی مواصلات بھیجنے کے شبہے کے طور پر نشان زد کیا جاتا ہے تو بھیجنے والے کے خلاف کارروائی شروع کر دی جائے گی۔

(د) شکایات کے طریقہ کار کے تحت مقرر بعض مدتوں میں عملی طور پر درکار وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ترمیم کی گئی ہے۔

(vi) واضح رضامندی کے دائرہ کار کو وسیع کرنا

رضامندی کی تعریف میں توسیع کرتے ہوئے ان سابقہ رضامندیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو پہلے سے اداروں کے پاس موجود ہیں۔ اس ضابطہ جاتی نظام میں ترمیم کے ذریعے ایسی سابقہ رضامندیوں کو تسلیم کرنے اور انہیں ڈیجیٹل شکل دینے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ تاہم، سابقہ رضامندیوں کو صرف اسی صورت میں درست تصور کیا جائے گا جب وہ قابل تصدیق ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں اور بعد ازاں ٹی ایس پیز کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر رجسٹر کی گئی ہوں۔

(vii) ہیڈرز اور مواد کے سانچوں کے غلط استعمال کے خلاف اقدامات کو مضبوط بنانا

(الف) ہیڈرز یا مواد کے سانچوں کے غلط استعمال سے متعلق معاملات میں، اوریجنٹنگ ایکسس پرووائیڈر کو ایسے غلط استعمال کا علم ہونے کے چھ گھنٹے کے اندر غلط استعمال کیے جانے والے ہیڈرز یا مواد کے سانچوں کو معطل کرنا ہوگا اور مقررہ مدت کے اندر متعلقہ بھیجنے والے کو نوٹس جاری کرنا ہوگا۔

(ب) متعلقہ بھیجنے والے کو مزید غلط استعمال کی روک تھام کے لیے مقررہ اصلاحی اقدامات کرنا ہوں گے اور مناسب قانون نافذ کرنے والے ادارے کے پاس شکایت درج کرانی ہوگی۔ اگر غلط استعمال کسی ٹیلی مارکیٹر کی جانب سے کیا گیا ہو تو تمام ٹی ایس پیز پر اس کے تمام ٹیلی کام وسائل ایک سال کی مدت کے لیے منقطع کر دیے جائیں گے اور اسے بلیک لسٹ بھی کیا جائے گا۔

(viii) ایکسس پرووائیڈرز اور بھیجنے والوں/ٹیلی مارکیٹرز کے درمیان معاہدے کی ضروری شرائط

(الف) ضابطہ جاتی نظام کے تحت ٹی ایس پیز کے لیے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ بھیجنے والوں اور ٹیلی مارکیٹرز کی جانب سے ضابطہ جاتی دفعات کی تعمیل کو ان کے ساتھ کیے جانے والے معاہدوں میں شامل ذمہ داریوں کے ذریعے یقینی بنائیں۔ تاہم، یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ٹی ایس پیز اکثر ان اداروں کی جانب سے تعمیل یقینی بنانے کے لیے معاہدوں میں سخت شرائط عائد نہیں کرتے، جس کی بنیادی وجہ مسابقت سے متعلق مسائل ہیں۔

(ب) اسی مناسبت سے غیر مطلوب تجارتی مواصلات بھیجنے والے بھیجنے والوں اور ٹیلی مارکیٹرز کے خلاف زیادہ مؤثر کارروائی کے لیے ایک نئی شق متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت اتھارٹی ان ضروری شرائط کا تعین کر سکتی ہے جنہیں ایکسس پرووائیڈرز اور بھیجنے والوں/ٹیلی مارکیٹرز کے درمیان ہونے والے ان معاہدوں کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔

(ix) بھیجنے والوں کی درجہ بندی

بھیجنے والوں کی مختلف اقسام موجود ہیں، جن کی درجہ بندی کرتے وقت خدمات کی اہمیت، بھیجنے والے کا تعلق کس شعبے سے ہے، معیشت میں متعلقہ ادارے کی اہمیت، کارروائیوں کا پیمانہ، بھیجنے والے کی جانب سے ٹیلی کام وسائل کے استعمال کی حد اور بھیجنے والے کے ٹیلی کام وسائل کو معطل یا منقطع کرنے سے صارفین پر پڑنے والے ممکنہ اثرات جیسے عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ ایک نئی ضابطہ جاتی شق متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت اتھارٹی بھیجنے والوں کو مختلف زمروں میں تقسیم کر سکتی ہے اور ضوابط کی خلاف ورزی کی صورت میں ان زمروں کے لیے الگ الگ نفاذی اقدامات مقرر کر سکتی ہے۔

(x) کال مینجمنٹ ایپلی کیشنز کی جانب سے تمام کالز کو بلا امتیاز بلاک یا نشان زد کرنے پر پابندی

(الف) کال مینجمنٹ ایپلی کیشنز ( سی ایم اے) کو اتھارٹی یا مرکزی حکومت کی جانب سے تجارتی مواصلات کے لیے مخصوص نمبرنگ سیریز، جیسے سروس اور لین دین سے متعلق کالز کے لئے 1600xx/1601xx  اور ضابطے کے تحت تشہیری کالز کے لیے 140xxسیریز سے آنے والی کالز کو بلا امتیاز بلاک کرنے، فلٹر کرنے یا اسپیم کے طور پر نشان زد کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ضابطہ جاتی نظام میں موجود حفاظتی اقدامات کے بغیر ایسی نشان دہی سے حقیقی تجارتی مواصلات اور سرکاری مواصلات کو غلطی سے اسپیم قرار دیے جانے کا خطرہ ہے، حالانکہ یہ مواصلات صارفین کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ تاہم، انفرادی صارفین کو اپنے آلات پر کالز کو خود بلاک یا فلٹر کرنے کی مکمل آزادی حاصل رہے گی۔

(ب) اسپیم بھیجنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے اعداد و شمار کے وسیع تر مجموعے کو آسان بنانے کے لیے یہ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے کہ کوئی بھی کال مینجمنٹ ایپلی کیشن اپنے پلیٹ فارم پر صارفین کو اسپیم، جنک وغیرہ جیسے کسی بھی نام سے غیر مطلوب تجارتی مواصلات کی اطلاع دینے کی سہولت اس وقت تک فراہم نہیں کرے گی جب تک کہ وہ ایسی اطلاع ایکسس پرووائیڈرز کے زیر انتظام ڈی ایل ٹی پلیٹ فارم کو نہ بھیجے۔

 (xi) وی این او کے لئے ڈی ایل ٹی  پلیٹ فارم کے ساتھ ڈیجیٹل انٹرفیس

چونکہ ورچوئل نیٹ ورک آپریٹرز ( وی این او) بھی ضابطہ جاتی نظام کے تحت ایکسس پرووائیڈر ہیں، اس لیے نیٹ ورک سروس آپریٹر ( این ایس او) کے لیے لازم ہوگا کہ وہ  وی این او کو ڈی ایل ٹی  پلیٹ فارم اور دیگر ضروری نظاموں کے ساتھ حقیقی وقت میں کام کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ڈیجیٹل انٹرفیس فراہم کرے، تاکہ  وی این او ضوابط کے تحت ایکسس پرووائیڈر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں پوری کر سکے۔ اس سے  ڈی ایل ٹی پلیٹ فارم تک رسائی کے سلسلے میں  وی این او کو فی الحال درپیش عملی دشواری دور ہو جائے گی۔

ان ترامیم کا مقصد تجارتی مواصلات کے نظام میں صارفین کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانا، متعلقہ تمام فریقوں کی جواب دہی یقینی بنانا اور اسپیم بھیجنے والوں کی جانب سے ٹیلی کام وسائل کے غلط استعمال کے خلاف زیادہ مؤثر اور بروقت کارروائی کو ممکن بنانا ہے۔

مزید معلومات کے لیے ٹرائی کے مشیر (QoS-II) جناب دیپک شرما سے 011-20907760 پر یا ای میل [advqos@trai.gov.in](mailto:advqos@trai.gov.in) پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

**********

ش ح۔ ک ا ۔ش ب ن

U. No-3794


(ریلیز آئی ڈی: 2312113) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी