خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعتوں کی وزارت
’آشیرواد کا دیا‘ مستفیدین کے لیے امید اور خود انحصاری کی علامت
مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے تھانے میں 'سیوا سنکلپ ابھیان - سیوا دیوس' کے موقع پر مستفیدین سے بات چیت کی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 SEP 2026 10:15PM by PIB Delhi
فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز کی وزارت کے 'سیوا سنکلپ ابھیان- سیوا دیوس' اقدام کے تحت ڈسٹرکٹ کلکٹر آفس، تھانے کے 'نیوجن بھون' میں ‘آشیرواد کا دیا’ پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں کسانوں، ایف پی او کے ارکان، مستفید خواتین، صنعت کاروں، فوڈ پروسیسنگ یونٹوں کے نمائندوں اور متعلقہ محکمے کے افسران نے شرکت کی۔

اس پروگرام میں فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز کے مرکزی وزیر جناب چراغ پاسوان ، ممبر پارلیمنٹ جناب نریش ماسکے ، تھانے کے ڈپٹی میئر جناب کرشنا پاٹل کے ساتھ فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری جناب پریت پال سنگھ ، تھانے کے کلکٹر جناب کرشنا پنچال ، تھانے کی ضلع پریشد کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب رنجیت یادو ، تھانے کی زرعی پروسیسنگ اور منصوبہ بندی کے ڈائریکٹر جناب ریمن دیپ چودھری ، تھانے کے ضلع سپرنٹنڈنٹ زراعت اور محکمہ کے سینئر عہدیداروں نے شرکت کی ۔

اس تقریب کی اہم خصوصیت مرکزی وزیر جناب چراغ پاسوان کی 'پی ایم ایف ایم ای' 'پی ایم کے ایس وائی' اور 'پی ایل آئی' سمیت وزارت کی مختلف اسکیموں کے مستفیدین سے براہِ راست گفتگو تھی۔وزیر موصوف نے ان کے تجربات سنے اور یہ معلومات حاصل کیں کہ سرکاری امداد نے ان کے کاروباری سفر، روزگار اور پروجیکٹس کے ذریعے پیدا ہونے والے ملازمت کے نئے مواقع پر کیا مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔

فوڈ پروسیسنگ: ایک بڑا اور شاندار موقع
اس پروگرام میں فوڈ پروسیسنگ کے شعبے میں موجود بے پناہ امکانات کو بھی اجاگر کیا گیا۔ ایک وقت تھا جب بھارت کو غذائی پیداوار میں مشکلات کا سامنا تھا، لیکن آج ملک زرعی پیداوار کا ایک مضبوط اور متنوع مرکز بن چکا ہے، جس سے پروسیسنگ، تحفظ اور ویلیو ایڈیشن (قدر میں اضافے) کی وسیع راہیں کھلی ہیں۔
وقت کی ضرورت یہ ہے کہ فوڈ پروسیسنگ کے شعبے کو مزید فروغ دیا جائے اور ایک مضبوط و مربوط 'ویلیو چین' تیار کی جائے جو کسانوں، ایف پی او، صنعت کاروں، پروسیسرز، انڈسٹری اور منڈیوں کو ایک ساتھ جوڑے۔
دیہی اور شہری دونوں علاقوں سے تعلق رکھنے والے نئے صنعت کاروں کی بڑھتی ہوئی شرکت اس بدلتے ہوئے منظر نامے کی عکاسی کرتی ہے۔ مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد اب فوڈ پروسیسنگ کے یونٹ قائم کرنے اور ایسے برانڈز بنانے کے لیے آگے آ رہے ہیں جو 'برانڈ بھارت' کے جذبے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

‘آشیرواد کا دیا’ – امید کی علامت
پروگرام کی سب سے اہم پیش رفت "آشیرواد کا دیا" روشن کرنا تھا۔ یہ دیا مستفیدین کی زندگیوں میں امید، نئے مواقع، اعتماد اور خود انحصاری کا استعارہ تھا۔
یہ روشنی فوڈ پروسیسنگ کے پورے نظام کی اجتماعی طاقت کی عکاسی کرتی ہے،جہاں کسان معیاری خام مال فراہم کر رہے ہیں، ایف پی اوز مل کر کام کرنے کی قوت دے رہے ہیں، خواتین اپنی مہارتوں کو کاروبار میں بدل رہی ہیں، صنعت کار پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کر رہے ہیں اور صنعت سے وابستہ افراد ٹیکنالوجی، وسعت اور مارکیٹ کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔
اس موقع پر مستفیدین نے اپنے تجربات مشترک کیے اور بتایا کہ کس طرح سرکاری اسکیموں نے انہیں اپنے کاروبار کو وسعت دینے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور اقتصادی خود انحصاری کی طرف بڑھنے میں مدد کی ہے۔

مہاراشٹر کی خدمات کا اعتراف
مہاراشٹر نے فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز کی وزارت کے اقدامات کو نافذ کرنے اور اس شعبے میں کسانوں، ایف پی اوز ، خواتین اور صنعت کاروں کی شرکت کو مضبوط بنانے میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
جناب چراغ پاسوان نے مہاراشٹر کے مستفیدین سے بات چیت پر مسرت کا اظہار کیا اور ریاست کے کسانوں، صنعت کاروں اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کے موقع کو سراہا۔
اس پروگرام نے 'سیوا سنکلپ ابھیان - سیوا دیوس' کے بنیادی پیغام کا اعادہ کیاکہ عوامی خدمت کا حقیقی مقصد تب حاصل ہوتا ہے جب سرکاری اسکیموں کے ذریعے پیدا ہونے والے مواقع عام لوگوں تک پہنچیں اور کاروبار، روزگار، ویلیو ایڈیشن اور بہتر معیارِ زندگی میں تبدیل ہوں۔
اس طرح "آشیرواد کا دیا" ایک بڑے وژن کی علامت بن گیا۔ اور وہ یہ کہ ہندوستان کی زرعی طاقت کو عظیم تر قدر میں تبدیلی کیا جائے ، مضبوط کاروباری اداروں کی تشکیل ہو اور نئے مواقع پیدا کئے جائیں۔ ساتھ ہی ساتھ ملک بھر میں مزید خاندانوں تک صنعت کاری اور خود انحصاری کی روشنی پہچائی جائے۔

uno-3799
(ریلیز آئی ڈی: 2312108)
وزیٹر کاؤنٹر : 4