بجلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بمسٹیک انرجی سینٹر نے بجلی کے شعبے میں نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر پانچ روزہ صلاحیت سازی پروگرام کا انعقاد کیا


پروگرام میں بمسٹیک کے سات رکن ممالک کے شرکا نے تکنیکی صلاحیت سازی اور علم کے تبادلے کے لیے شرکت کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 SEP 2026 3:23PM by PIB Delhi

بمسٹیک انرجی سینٹر (بی ای سی) نے وزارت بجلی، حکومت ہند کے زیر اہتمام 14 سے 18 ستمبر 2026 تک بنگلورو میں ’’بجلی کے شعبے میں نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز (پیداوار، ترسیل، تقسیم اور آخری استعمال)‘‘ کے موضوع پر پانچ روزہ صلاحیت سازی پروگرام کا ہائبرڈ طریقے سے انعقاد کیا۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260918152436_136291.jpg

 

پروگرام کا افتتاح 14 ستمبر 2026 کو حکومت ہند کی وزارت بجلی کے جوائنٹ سکریٹری (ترسیل) جناب پنکج کمار کے ساتھ بمسٹیک انرجی سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور حکومت ہند کی مرکزی بجلی اتھارٹی (سی ای اے) کے چیئرپرسن جناب گھنشیام پرساد نے کیا۔

افتتاحی اجلاس میں سنٹرل پاور ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی پی آر آئی ) کی ڈائریکٹر جنرل محترمہ جے سری دیوی، سدرن ریجنل پاور کمیٹی (ایس آر پی سی) کے رکن سکریٹری جناب اسیت سنگھ، پاور گرڈ ایس آر ٹی ایس-II  کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناب ایم ایس ہیجب اور گرڈ انڈیا کے سدرن ریجنل لوڈ ڈسپیچ سینٹر (ایس آر ایل ڈی سی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناب ٹی سرینواس نے بھی شرکت کی۔

بھوٹان، بھارت، سری لنکا اور تھائی لینڈ کے شرکا نے از خود موجود رہ کر(فیزیکل) شرکت کی، جبکہ بنگلہ دیش، میانمار اور بمسٹیک سکریٹریٹ، ڈھاکہ نے آن لائن شرکت کی۔ پروگرام نے تیزی سے بدلتے ہوئے بجلی کے شعبے میں تکنیکی صلاحیت سازی، قومی تجربات کے تبادلے اور بہترین طریقہ کار کا اشتراک کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔

پروگرام میں بجلی کے شعبے میں ابھرتی ہوئی اہم ٹیکنالوجیز کا احاطہ کیا گیا، جن میں قابل تجدید توانائی، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (بی ای ایس ایس)، گرین ہائیڈروجن، کاربن کیپچر، یوٹیلائزیشن اینڈ اسٹوریج (سی سی یو ایس)، طویل مدتی توانائی ذخیرہ، اسمال ماڈیولر ری ایکٹرز (ایس ایم آرز)، اسمارٹ گرڈز، جدید گرڈ آپریشن ٹیکنالوجیز، بجلی کے نظام میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیٹا سینٹر کے لوڈ کے اثرات شامل ہیں۔ ایف اے سی ٹی ایس، ایچ ٹی ایل ایس کنڈکٹرز، ڈائنامک لائن ریٹنگ اور گرڈ فارمنگ کنورٹرز جیسی جدید ترسیلی ٹیکنالوجیز کے ساتھ ساتھ انڈیا انرجی اسٹیک کا بھی احاطہ کیا گیا۔

پروگرام میں کلاس روم سیشنز کے ساتھ بنگلورو اور اس کے آس پاس بجلی کے شعبے کی اہم تنصیبات کے تکنیکی اور صنعتی دورے بھی شامل تھے، جن میں 2500 میگاواٹ کا ایچ وی ڈی سی کولار پاور گرڈ اسٹیشن، اوہیوم انٹرنیشنل گرین ہائیڈروجن الیکٹرولائزر گیگا فیکٹری، پاور گرڈ کا آر ٹی اے ایم سی، ایس آر ایل ڈی سی/آر ای ایم سی کنٹرول رومز، سی پی آر آئی کی تجربہ گاہ کی سہولیات اور این پی ٹی آئی کا ہاٹ لائن ٹریننگ سینٹر (ایچ ایل ٹی سی) شامل ہیں۔

پروگرام کا اختتام 18 ستمبر 2026 کو سی ای اے کے چیف انجینئر جناب بھگوان سہائے بیروا کی موجودگی میں اختتامی اجلاس کے ساتھ ہوا۔ اجلاس میں اہم معلومات اور تجربات، مختلف ممالک کے نقطہ نظر اور شرکا کی آرا کا تبادلہ کیا گیا، جس کے بعد اسناد اور توصیفی اسناد پیش کی گئیں۔

یہ پروگرام بی ای سی کی مسلسل جاری صلاحیت سازی اور علم کے تبادلے کی ان کوششوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد بمسٹیک رکن ممالک کے درمیان علاقائی توانائی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس پروگرام نے بمسٹیک خطے میں بجلی کے نظام کی منصوبہ بندی، قابل تجدید توانائی کے انضمام، توانائی ذخیرہ کرنے، ترسیلی ٹیکنالوجی، علم کے تبادلے اور بجلی کی تجارت کے شعبوں میں مزید تعاون کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔

بمسٹیک انرجی سینٹر (بی ای سی) کے بارے میں

بی ای سی نے یکم اپریل 2025 کو بنگلورو میں کام شروع کیا اور یہ علاقائی توانائی تعاون کے لیے مرکز امتیاز کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ بمسٹیک (کثیر شعبہ جاتی اور تکنیکی تعاون کے لیے خلیج بنگال کا اقدام) کے رکن ممالک بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت، میانمار، نیپال، سری لنکا اور تھائی لینڈ کے درمیان پائیدار ترقی، توانائی تحفظ اور توانائی کے انضمام کو فروغ دیتا ہے۔

 

***

 

ش ح۔ش ت ۔ م الف

U. No- 3793


(ریلیز آئی ڈی: 2312037) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी