کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

تاجکستان میں ایس سی او کے اقتصادی اور بیرونی تجارتی امور کے وزرا ء کا 25واں اجلاس منعقد

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 SEP 2026 12:43PM by PIB Delhi

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے بیرونی اقتصادی اور تجارتی امور کے وزراء  کا 25واں اجلاس 17 ستمبر 2026 کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں جاری تعاون کا جائزہ لیا گیا اور ایس سی او کے دائرہ کار میں تجارتی و اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط کرنے کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بھارت کی جانب سے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب یشویر سنگھ نے ایس سی او میں موجود وسیع اقتصادی امکانات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس صلاحیت کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان باہمی تجارت میں اضافہ، تجارتی اخراجات میں کمی، مضبوط اور لچکدار سپلائی چین اور رابطہ کاری کو مزید بہتر بنانا ضروری ہے۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے بشکیک میں منعقدہ ایس سی او سربراہ اجلاس میں پیش کیے گئے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت نے سیکورٹی، رابطہ کاری اور مواقع کے تین ستونوں کو اجاگر کیا۔ بھارت نے ان تینوں ستونوں کی اقتصادی اہمیت پر زور دیتے ہوئے خاص طور پر سپلائی چین کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے، موثر اور قابل اعتماد رابطہ کاری کے نظام کو فروغ دینے اور مارکیٹ تک بہتر رسائی کے ذریعے کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

بھارت نے تجارت کو آسان بنانے اور ڈیجیٹلائزیشن کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے تجارت سے وابستہ اخراجات اور وقت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں بھارت نے کسٹمز کے طریقہ کار کو آسان بنانے، کاغذ کے بغیر تجارت اور دستاویزات کے الیکٹرانک تبادلے کے ساتھ ساتھ کثیر جہتی رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے اور سامان کی ترسیل کے وقت کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

بھارت نے ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان زرعی شعبے، اہم معدنیات، ادویہ سازی، مینوفیکچرنگ اور الیکٹرانکس سمیت اہم اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں سپلائی چین کو متنوع اور مضبوط بنانے کے لیے مزید تعاون کی بھی اپیل کی۔ توانائی کے تحفظ، قابل تجدید توانائی اور گرین ہائیڈروجن کے شعبوں میں باہمی تعاون کے امکانات کو بھی اجاگر کیا گیا۔

چھوٹے کاروباری اداروں کو علاقائی اور عالمی تجارت میں زیادہ موثر انداز میں شامل ہونے کے قابل بنانے کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے بھارت نے ڈیجیٹل ادائیگیوں، سرحد پار ادائیگیوں اور آسانی سے دستیاب تجارتی مالیاتی سہولیات ، خاص طور پرانتہائی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم) اور اسٹارٹ اپس کے لیے  اس کے کردار کو اجاگر کیا ۔ بھارت نے عالمی ویلیو چین میں ایس سی او کی معیشتوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کی بھی اپیل کی اور عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کو مرکز میں رکھتے ہوئے ایک کھلے، جامع اور قواعد پر مبنی کثیر جہتی تجارتی نظام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

وزرا نے ‘ایس سی او کے رکن ممالک کے بیرونی اقتصادی اور بیرونی تجارتی امور کے وزراء کا اعلامیہ’ منظور کیا۔

وزراء  نے‘ایس سی او کے رکن ممالک کے کثیر جہتی تجارتی و اقتصادی تعاون کے پروگرام پر عمل درآمد کے لیے 2026 سے 2030 تک کے ایکشن پلان’ پر اتفاق کیا، جسے ایس سی او کے رکن ممالک کے سربراہان حکومت (وزرائے اعظم) کی کونسل سے مزید منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

وزرا ءنے ‘تخلیقی معیشت کی ترقی سے متعلق ایس سی او کے رکن ممالک کے خصوصی ورکنگ گروپ کے ضوابط’ کی بھی منظوری دی۔

وزرا ء نے ایس سی او بزنس کونسل کے نمائندے کی جانب سے کونسل کی سرگرمیوں کے بارے میں فراہم کردہ معلومات کا بھی نوٹس لیا۔ اس کے علاوہ تاجکستان کی جانب سے ایس سی او کے اقتصادی تجزیاتی مراکز کے کنسورشیم کے کام کے بارے میں فراہم کردہ معلومات سے بھی آگاہی حاصل کی۔

وزرا ءنے بتایا کہ اگلا وزارتی اجلاس 2027 میں جمہوریہ ازبکستان میں منعقد ہوگا۔

********

ش ح۔ ع و۔ج ا

U-3781


(ریلیز آئی ڈی: 2311907) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी