صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
صحت و خاندانی بہبود کی وزارت نے این آئی ایچ ایف ڈبلیو میں مریضوں کے تحفظ کا عالمی دن2026 منایا، غیر متعدی امراض کی محفوظ دیکھ بھال پر توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا گیا
مریضوں کے تحفظ کے لیے معیار کی یقین دہانی کا منظم اور مقررہ مدت پر مبنی طریقہ کار ناگزیر ہے: محترمہ ارادھنا پٹنائک، ایڈیشنل سکریٹری و مشن ڈائریکٹر (این ایچ ایم)
غیر متعدی امراض کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے مریضوں کے تحفظ کو مضبوط بنانا انتہائی اہم: محترمہ پٹنائک
محفوظ اور معیاری صحت خدمات کے لیے اجتماعی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مریض کے قومی تحفظ کاعہد دلایا گیا
تکنیکی پروگرام میں غیر متعدی امراض کی محفوظ دیکھ بھال اور مریضوں کے تحفظ کے لیے ریاستوں کی قیادت میں کیے جانے والے اختراعی اقدامات کو اجاگر کیا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 SEP 2026 8:07AM by PIB Delhi
حکومت ہندکے تحت صحت و خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے نئی دہلی میں واقع این آئی ایچ ایف ڈبلیو آڈیٹوریم میں مریضوں کے تحفظ کا عالمی دن2026 منایا۔ اس سال کی تقریب کا موضوع ’’غیر متعدی امراض (این سی ڈی) کے لیے محفوظ نگہداشت‘‘ تھا۔ قومی سطح پر منعقد اس پروگرام میں غیر متعدی امراض کی نگہداشت کے پورے سلسلے میں مریضوں کے تحفظ اور نگہداشت کے معیار کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس موقع پر پالیسی سازوں، صحت خدمات کے شعبے کے رہنماؤں، عوامی صحت کے ماہرین، معالجین، معیار کے انتظام سے وابستہ ماہرین، ترقیاتی شراکت داروں اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صحت و خاندانی بہبود کی وزارت کی ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر (این ایچ ایم) محترمہ ارادھنا پٹنائک نے ملک بھر میں مریضوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے، نگہداشت کے معیار کو بہتر بنانے اور زیادہ محفوظ صحت نظام قائم کرنے کے حکومت ہند کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مریضوں کا تحفظ کسی ایک پروگرام یا محکمے کی ذمہ داری نہیں ہوسکتی بلکہ اسے پورے صحت نظام میں شامل کیا جانا ضروری ہے، خاص طور پر غیر متعدی امراض کی روک تھام، تشخیص، علاج اور طویل مدتی نگہداشت کے شعبوں میں۔
غیر متعدی امراض کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو اجاگر کرتے ہوئے محترمہ پٹنائک نے کہا کہ ہندوستان میں ہونے والی تمام اموات میں سے تقریباً 63 فیصد اموات غیر متعدی امراض کی وجہ سے ہوتی ہیں، جس کے باعث مریضوں کا تحفظ صحت خدمات کی فراہمی کا ایک اہم جزو بن جاتا ہے۔ عوامی صحت خدمات کے شعبے میں حالیہ کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اجاگر کیا کہ این ایف ایچ ایس-6 کے تحت رپورٹ کردہ اعداد و شمار کے مطابق 96 فیصد ٹیکہ کاری اور 90.6 فیصد ادارہ جاتی زچگیاں سرکاری صحت مراکز کے ذریعے انجام دی جارہی ہیں۔ انہوں نے صحت اداروں میں معیار اور تحفظ کے طریقہ کار کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا، بالخصوص مریضوں کو ایک مرکز سے دوسرے مرکز بھیجنے اور نگہداشت کے تسلسل کے حوالے سے، تاکہ مناسب خدمات تک بروقت رسائی اور صحت کے بہتر نتائج کو یقینی بنایا جاسکے۔
ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے معیار میں بہتری کی کوششوں کو تیز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے محترمہ پٹنائک نے مارچ 2027 تک آیوشمان آروگیہ مندر-ذیلی صحت مراکز (اے اے ایم-ایس ایچ سیز) کی 100 فیصد این کیو اے ایس سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کے لیے واضح لائحہ عمل اور عملی منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے بعد آیوشمان آروگیہ مندر-پرائمری ہیلتھ سینٹرز (اے اے ایم-پی ایچ سیز) کی سرٹیفیکیشن کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ معیار کی یقین دہانی کے لیے منظم اور مقررہ مدت پر مبنی طریقہ کار نگہداشت کی تمام سطحوں پر مریضوں کے تحفظ کے کلچر کو ادارہ جاتی شکل دینے میں انتہائی اہم ہوگا۔

افتتاحی اجلاس کے اختتام پر مریض کےقومی تحفظ کاعہد دلایا گیا، جس کے ذریعے ملک بھر میں زیادہ محفوظ نگہداشت کو یقینی بنانے اور صحت خدمات کی فراہمی کے معیار کو مضبوط بنانے کے لیے صحت خدمات سے وابستہ تمام فریقوں کے اجتماعی عزم کا اعادہ کیا گیا۔
اس کے بعد تکنیکی پروگرام میں ’’غیر متعدی امراض (این سی ڈی) کے لیے محفوظ نگہداشت‘‘ کے موضوع پر خصوصی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں ممتاز ماہرین نے شرکت کی اور غیر متعدی امراض کی نگہداشت کے پورے سلسلے میں مریضوں کے تحفظ سے متعلق اہم چیلنجوں اور ان سے نمٹنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ مباحثے میں غیر متعدی امراض کی نگہداشت کے دوران ہونے والے نقصانات کے بوجھ، این سی ڈی خدمات میں مریضوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے، مریضوں کے تحفظ کے لیے ڈیجیٹل صحت سے فائدہ اٹھانے، ہمہ وقت موجود دیگر امراض پر خصوصی توجہ کے ساتھ طبی نگہداشت کے مختلف مراحل میں محفوظ این سی ڈی نگہداشت کو یقینی بنانے اور این سی ڈی کی نگہداشت کے دوران ادویات کے محفوظ استعمال کو فروغ دینے جیسے موضوعات شامل تھے۔
اس کے بعد پروگرام میں ریاستوں میں مریضوں کے تحفظ سے متعلق اقدامات اور معیار میں بہتری کی کوششوں پر تبادلہ خیال کے ذریعے پالیسی کو عملی جامہ پہنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ شرکا نے ریاستوں کی جانب سے اختیار کی گئی اختراعی تدابیر اور بہترین طریقہ کار کا تبادلہ کیا، جن میں جھارکھنڈ کے بزرگ افراد میں ذیابیطس اورہائی بلڈ پریشر کی بیماری کی جامع جانچ کا نمونہ، کیرالہ کا غیر متعدی امراض کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے ’’ہردیَراگم‘‘ اقدام اور راجستھان کی ’’سیٹو‘‘ آن لائن ریفرل ایپلی کیشن شامل ہیں۔ ان تجربات سے صحت خدمات کی فراہمی کی مختلف سطحوں پر مریضوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے مقامی حالات کے مطابق طریقہ کار اختیار کرنے، معلومات اور تجربات کے تبادلے اور مؤثر طریقہ کار کو اپنانے کی اہمیت اجاگر ہوئی۔
ہندوستان نیشنل کوالٹی ایشورنس اسٹینڈرڈز (این کیو اے ایس) اور نیشنل پیشنٹ سیفٹی امپلی مینٹیشن فریم ورک جیسے اقدامات کے ذریعے معیار اور مریضوں کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی نظام کو بھی مضبوط بنا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں مریضوں کے تحفظ کا عالمی دن 2026 کا انعقاد مختلف متعلقہ فریقوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے، تجربات اور بہترین طریقہ کار کا تبادلہ کرنے اور صحت خدمات کی فراہمی کی تمام سطحوں پر مریضوں کے تحفظ کے کلچر کو مزید مضبوط بنانے کا ایک اہم موقع ثابت ہوا۔

قومی سطح پر منعقد اس تقریب سے حکومت ہند کے اس مسلسل عزم کی عکاسی ہوئی کہ نگہداشت کے معیار کو بہتر بنایا جائے اور مریضوں کے تحفظ کو عالمگیر صحت کوریج کے ایک لازمی جزو کے طور پر فروغ دیا جائے۔ تبادلہ خیال، معلومات اور تجربات کے اشتراک اور اجتماعی اقدامات کے ذریعے اس تقریب نے صحت نظام کو مزید مضبوط بنانے اور ’’زندگی بھر محفوظ نگہداشت‘‘ کے تصور کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس تقریب میں صحت و خاندانی بہبود کی وزارت اور شراکت دار اداروں کے سینئر افسران، جن میں وزارت صحت و خاندانی بہبود کے جوائنٹ سکریٹری (پالیسی) جناب سبن سی، این ایچ ایس آر سی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر (ڈاکٹر) پرگیا شرما، ڈائریکٹر (این ایچ ایم) جناب دیپک سونی، این آئی ایچ ایف ڈبلیو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ونود کمار پاترو اور این ایچ ایس آر سی کے مشیر (معیار و مریضوں کا تحفظ) ڈاکٹر راجیو پاتھنی شامل تھے، نے شرکت کی۔ ان کے علاوہ پالیسی سازوں، صحت خدمات کے شعبے کے رہنماؤں، تکنیکی ماہرین، ترقیاتی شراکت داروں اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
مریضوں کے تحفظ کے عالمی دن کے بارے میں
عالمی صحت اسمبلی کی جانب سے منظوری دیے جانے کے بعد ہر سال 17 ستمبر کو منایا جانے والا مریضوں کے تحفظ کا عالمی دن، محفوظ صحت خدمات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور اس سلسلے میں اقدامات کو فروغ دینے کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔ 2026 کا موضوع ’’غیر متعدی امراض (این سی ڈی) کے لیے محفوظ نگہداشت‘‘ تھا، جس میں غیر متعدی امراض کی نگہداشت کے پورے سلسلے کے دوران نقصانات کی روک تھام کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
*****
ش ح۔ ع ح۔ ن م
U-no-3760
(ریلیز آئی ڈی: 2311819)
وزیٹر کاؤنٹر : 4