وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

انڈین کوسٹ گارڈکمانڈرز کی 43 ویں کانفرنس: وزیر مملکت برائے دفاع نے انڈین کوسٹ گارڈپر زور دیا کہ وہ تیزی سے ہوتی ہوئی تکنیکی پیش رفت کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہوئے سمندری شعبے میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تیار رہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 SEP 2026 7:46PM by PIB Delhi

انڈین کوسٹ گارڈ کمانڈرز کی 43 ویں کانفرنس کا آغاز 17 ستمبر 2026 کو نئی دہلی میں ہوا۔ تین روزہ کانفرنس کے افتتاحی دن، وزیر مملکت برائے دفاعجناب سنجے سیٹھ نے انڈین کوسٹ گارڈ کے ڈائریکٹر جنرل پرمیش سیوامنی اور کوسٹ گارڈ کمانڈرز کے ساتھ قومی اور سمندری سلامتی سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اپنے خطاب میں، وزیر مملکت برائے دفاع نے ساحلی تحفظ کو یقینی بنا کر اور سمندر میں ہنگامی حالات کے دوران سب سے پہلے پہنچ کر قومیت سے قطع نظر قیمتی جانیں بچا کر سمندری مفادات کے تحفظ میںانڈین کوسٹ گارڈکے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے انڈین کوسٹ گارڈ پر زور دیا کہ وہ تیزی سے ہوتی ہوئی تکنیکی پیش رفت کے ساتھ قدم ملا کر چلتے ہوئے سمندری سلامتی کے ابھرتے ہوئے چیلنجوں کے لیے تیار رہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image002_20260917194745_b3d1e9.jpg

جنگ اور سلامتی کے چیلنجوں کی نوعیت میں تیزی سے آتی ہوئی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے، جناب سنجے سیٹھ نے نیٹ ورکس، سینسرز، سافٹ ویئر، ڈیٹا، مصنوعی ذہانت ، خودکار نظاموں، سائبر صلاحیتوں اور خلائی ٹیکنالوجیز کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیا۔ آپریشنل افادیت کو بڑھانے کے لیے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ انڈین کوسٹ گارڈکو محض صارف نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسٹارٹ اپس، صنعت،ڈی آر ڈی او اور تحقیقی اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کر کے ٹیکنالوجی کی مشترکہ تخلیق میں بھی حصہ لینا چاہیے۔

وزیر مملکت برائے دفاع نے مزید کہاکہ آتم نربھرتا (خود انحصاری) کا مطلب صرف بھارتیہ مصنوعات کی خریداری نہیں ہے؛ بلکہ اس کا مقصد بھارتیہچیلنجوں کے لیے حل تلاش کرنا اور ایسی صلاحیتیں پیدا کرنا ہے جو عالمی تقاضوں کو پورا کر سکیں۔ یہ میک ان انڈیا، میک فار دی ورلڈکے ہمارے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔

وزیر مملکت برائے دفاع نے انسانی بنیادوں پر امداد اور آفات سے نمٹنے کے آپریشنز میں انڈین کوسٹ گارڈ کے اہم کردار کو اجاگر کیا، جو سمندر میں لوگوں کی حفاظت اور بہبود میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمندری سلامتی کے لیے تیار کی گئی صلاحیتیں تلاش اور بچاؤ، طبی انخلاء، آفات کے دوران کارروائی اور آلودگی پر قابو پانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

جناب سنجے سیٹھ نے وزیر اعظمجناب نریندر مودی کےمہاساگر( خطوں میں سلامتی اور ترقی کے لیے باہمی اور جامع پیش رفت) کے وژن کے مطابق، ساحلی اورگرین واٹرز (ساحل کے قریب کم گہرے پانی) سے لے کر کھلے سمندروں اوربلیو واٹرز (گہرے سمندر) تک، ہر سطح پر ہندوستان کی سمندری صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے جدید پلیٹ فارمز، زیرِ آب ٹیکنالوجیز، بغیر پائلٹ کے نظام، طویل دورانیے تک نگرانی کی صلاحیتوں، سیٹلائٹ کے ذریعے سمندری حدود کی آگاہی اور محفوظ مواصلاتی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ جیسے جیسے بھارت کی سمندری ذمہ داریاں بڑھ رہی ہیں، ہماری صلاحیتوں میں بھی اسی مناسبت سے وسعت آنی چاہیے، تاکہ ہمارے ساحلوں سے لے کر وسیع تر سمندری حدود تک ہماری گرفت مضبوط رہے۔

کانفرنس کے دوران، انڈین کوسٹ گارڈ کے کمانڈرزچیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنی اورچیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن کے ساتھ بھی بات چیت کریں گے، جس سے سمندری تحفظ کے تمام پہلوؤں میں مختلف مسلح افواج کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ ملے گا۔ یہ بات چیت انڈین کوسٹ گارڈ کی ترقی، صلاحیتوں میں اضافے اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع کو مزید تقویت دے گی۔

کانفرنس میں ہونے والے غور و خوض سے انڈین کوسٹ گارڈکمانڈرز کو ایک بہترین پلیٹ فارم میسر آتا ہے جہاں وہ گزشتہ ایک سال کے دوران کی گئی آپریشنل تیاریوں، سازوسامان اور لاجسٹک معاونت، انسانی وسائل کی ترقی، تربیت اور انتظامی اقدامات کا جامع جائزہ لے سکیں۔ اس سے انہیں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور سمندری تحفظ کی پیچیدگیوں کے تناظر میں سمندری مفادات کے تحفظ کے لیے اہم سنگِ میل کی نشاندہی کرنے میں مدد ملتی ہے۔ کانفرنس کے دوران، کمانڈرز میک اِن انڈیا اقدام کے ذریعے مقامی سطح پر تیاری کو مضبوط بنانے والے جاری منصوبوں کا بھی جائزہ لیں گے، جو حکومت کے 'آتم نربھر بھارت کے وژن سے ہم آہنگ ہیں۔

***

(ش ح۔اص)

UR No 3754


(ریلیز آئی ڈی: 2311665) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी