محنت اور روزگار کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈاکٹر منسکھ منڈاویا نےپائیدار مستقبل کے لیے سماجی انصاف کے فروغ کی خاطر مشترکہ کوششوں پر زور دیا


معاشی ترقی اور سماجی پیش رفت ساتھ ساتھ ہونی چاہیے: عالمی اتحاد برائے سماجی انصاف کے سالانہ فورم 2026 میں ڈاکٹر منسکھ منڈاویا کا خطاب

مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ منڈاویا نے عالمی اتحاد برائے سماجی انصاف کے لیے تین ترجیحات پیش کیں

عالمی اتحاد برائے سماجی انصاف کے سالانہ فورم 2026 میں سماجی انصاف اور باوقار روزگار کو فروغ دینے کے لیے ایک جگہ جمع ہوئے عالمی شراکت دار ؛ بھارت نے مشترکہ صدارت سنبھالی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 SEP 2026 1:59PM by PIB Delhi

عالمی اتحاد برائے سماجی انصاف کا سالانہ فورم 2026، 16 اور 17 ستمبر 2026 کو ورچوئل طریقے سے منعقد کیا جارہا ہے۔ اس فورم میں حکومتوں، آجروں اور مزدوروں کی تنظیموں، بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں، ترقیاتی اداروں، نجی شعبے، تعلیمی شعبے اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جارہا ہے، تاکہ سماجی انصاف اور باوقار روزگار کے لیے تعاون کو مضبوط بنایا جاسکے اور اجتماعی اقدامات کو تیز کیا جاسکے۔ فورم کی افتتاحی تقریب میں محنت اور روزگار اور نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ منڈاویا، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے ڈائریکٹر جنرل جناب گلبرٹ ایف ہونگبو، انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف ایمپلائرز کی صدر محترمہ جیکولین موگو، بین الاقوامی ٹریڈ یونین کنفیڈریشن کے جنرل سکریٹری جناب لوک ٹرائنگل اور برازیل کے مزدور و روزگار کے وزیر جناب لوئز مارینہو نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ منڈاویا نے ایک زیادہ جامع، مضبوط اور پائیدار مستقبل کی تعمیر کے لیے سماجی انصاف کو تمام کوششوں کا مرکز بنانے کی خاطر اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔ وزیر نے کہا کہ عالمی برادری کا مشترکہ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ تعاون کو مواقع، ترقی کو مشترکہ خوشحالی اور سماجی انصاف کے عزم کو ٹھوس تبدیلی میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت بڑے پیمانے پر تبدیلی لانے کے اپنے تجربے اور روزگار کی دنیا کو مزید جامع بنانے کے عزم کے ساتھ اس فورم میں شرکت کر رہا ہے۔ معاشی ترقی اور سماجی پیش رفت کو ساتھ ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ترقی کے نتیجے میں باوقار روزگار کے مواقع پیدا ہونے چاہئے، ٹیکنالوجی کو شمولیت کو فروغ دینا چاہیے اور اختراع کو لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر منڈاویا نے کہا کہ بھارت ٹیکنالوجی، ہنرمندی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے کام کے مستقبل کے لیے تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کام کی بدلتی ہوئی دنیا میں ہنرمندی، روزگار کے حصول کی صلاحیت اور مزدوروں کی نقل و حرکت پر نئے سرے سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے بھارت، برازیل اور جرمنی میں پیشوں کی بین الاقوامی حوالہ جاتی درجہ بندی کے آزمائشی نفاذ کے لیے آئی ایل اوکے ساتھ بھارت کی شراکت داری کو اجاگر کیا، تاکہ بین الاقوامی سطح پر مزدوروں کی نقل و حرکت کو مزید آسان بنایا جاسکے۔ انہوں نے بھارت کی برکس صدارت کے تحت منظور کیے گئے نئی دلی اعلامیہ 2026 اور برکس کنیکٹ پہل کا بھی ذکر کیا، ساتھ ہی دور دراز روزگار کے لیے بین الاقوامی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اتفاق رائے کا حوالہ دیا، جس کے ذریعے عالمی جنوب کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مجازی مواقع پیدا کیے جاسکیں گے۔

بھارت کے اصلاحات پر مبنی نقطہ نظر کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ملک تبدیلی لانے والی اصلاحات، ہدفی فلاحی اقدامات اور ڈیجیٹل اختراع پر مسلسل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، تاکہ معاشی ترقی کے فوائد آخری فرد تک پہنچائے جاسکیں۔ انہوں نے 29 مرکزی مزدور قوانین کو چار جدید لیبر کوڈز میں یکجا کیے جانے کی جانب توجہ مبذول کرائی اور کہا کہ ان اصلاحات سے مزدوروں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ کاروباری اداروں کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت گِگ اور پلیٹ فارم مزدوروں کو قانونی پہچان  فراہم کرنے والے سرکردہ ممالک میں شامل ہوگیا ہے۔ڈاکٹر منڈاویا نے مزید سماجی تحفظ کے دائرے کو وسیع کرنے میں مسلسل اصلاحات اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے خدمات کی فراہمی کے کردار پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت میں سماجی تحفظ کا دائرہ 2015 میں 19 فیصد سے بڑھ کر 2026 میں 68.4 فیصد ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک ارب سے زیادہ افراد سماجی تحفظ کے نظام کے دائرے میں شامل ہوگئے ہیں۔

وزیر نے سماجی تحفظ کی خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنانے میں ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 32 کروڑ رجسٹرڈ غیر منظم شعبے کے مزدوروں کے ساتھ ای شرم پورٹل اپنی نوعیت کا دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل ڈیٹا بیس ہے اور یہ مزدوروں کو مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی فلاحی اسکیموں سے جوڑتا ہے۔ قومی کیریئر سروس (این سی ایس) کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم ملازمت تلاش کرنے والے افراد کو ملکی اور بین الاقوامی روزگار کے مواقع سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت نے این سی ایس کا نظام ماریشس کے ساتھ بھی شیئر کیا ہے۔

ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا کہ بھارت ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے، سماجی تحفظ، ہنرمندی اور روزگار کی خدمات سمیت مختلف شعبوں میں عالمی جنوب کے ممالک کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب تجربات کا اشتراک قومی سطح پر حاصل کی گئی کامیابیوں کو مشترکہ پیش رفت میں تبدیل کرنے میں مدد دے سکتا ہے اور کام کے مستقبل کی تشکیل اور سماجی انصاف کو آگے بڑھانے میں ساؤتھ-ساؤتھ تعاون کی آواز کو مضبوط بنانے کے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتحاد کے رابطہ گروپ کی شریک صدارت سنبھالنے کے بعد بھارت اتحاد کے ایک اہم مرحلے میں برازیل کی جانب سے فراہم کی گئی قیادت کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنا کردار ادا کرے گا۔

شریک صدر کی حیثیت سے ڈاکٹر مانڈویہ نے اتحاد کے لیے تین ترجیحات پیش کیں۔ پہلی ترجیح کے طور پر انہوں نے اجتماعی عہد و پیمان کو ملکی سطح پر عملی اقدامات میں تبدیل کرنے پر زور دیا، جس میں قومی ترجیحات اور حالات کو مدنظر رکھا جائے۔ دوسری ترجیح کے طور پر انہوں نے معلومات اور تجربات کے تبادلے کو مضبوط بنانے، تعاون کو مزید فروغ دینے اور سماجی انصاف کے ایجنڈے میں مزید کاروباری اداروں کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ تیسری ترجیح کے طور پر انہوں نے کہا کہ 2030 کے بعد ترقی کی سمت متعین کرنے والے فیصلوں میں سماجی انصاف کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ 400 سے زیادہ شراکت داروں کے ساتھ اتحاد میں اجتماعی طور پر منفرد طاقت موجود ہے، تاہم اس کا مقصد سب کے لیے ایک ہی راستہ مقرر کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ممالک اپنے مستقبل کے بارے میں جو فیصلے کریں، ان میں سماجی انصاف ایک لازمی جزو کے طور پر شامل رہے۔

ڈاکٹر منڈاویا نے عالمی اتحاد برائے سماجی انصاف کو بین الاقوامی تعاون، باہمی تجربات سے سیکھنے اور عملی اقدامات کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم بنانے کی خاطر تمام ارکان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا۔

 

عالمی اتحاد برائے سماجی انصاف کا قیام آئی ایل اونے 2023 میں کیا تھا۔ یہ ایک عالمی پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد مختلف فریقوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا اور باوقار روزگار اور سماجی انصاف کے لیے اجتماعی اقدامات کو تیز کرنا ہے۔ حکومتوں، آجر اور کارکن تنظیموں، بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں، ترقیاتی بینکوں، نجی شعبے، علمی اداروں اور سول سوسائٹی پر مشتمل 400 سے زائد شراکت داروں کے ساتھ یہ اتحاد سماجی انصاف کو آگے بڑھانے، مواقع کو وسعت دینے، مشترکہ خوشحالی کو فروغ دینے اور مضبوط معاشروں کی تشکیل میں تعاون کے لیے مربوط اور جامع طریقہ کار کو فروغ دینے کی کوشش کر تا ہے۔

عالمی اتحاد برائے سماجی انصاف کا سالانہ فورم 2026، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلی سطحی عام مباحثے سے قبل 16 اور 17 ستمبر 2026 کو ورچوئل طریقے سے منعقد کیا جارہا ہے۔ یہ فورم شراکت داروں کو اپنے تجربات اور حاصل شدہ اسباق کا تبادلہ کرنے، پیش رفت کا جائزہ لینے، تعاون کے مواقع کی نشاندہی کرنے اور مستقبل میں اجتماعی اقدامات کی سمت طے کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

 

********

) ش ح ۔ ش آ۔ ن ع)

U.No.3719


(ریلیز آئی ڈی: 2311546) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati