سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
بھارت کان کنی کے شعبے میں ٹیکنالوجی پر مبنی مسابقتی برتری حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
بھارت میں کان کنی اور دھاتوں کے شعبے کو ٹیکنالوجی، کارکردگی اور جدت طرازی سے تقویت فراہم کی جائے گی: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کان کنی اور دھاتوں کے شعبے میں ڈیجیٹلائزیشن، مصنوعی ذہانت، خودکاری اور ٹیکنالوجی کے انضمام سے متعلق ایف آئی سی سی آئی کی تیسری کانفرنس سے خطاب کیا
ٹیکنالوجی،معدنی وسائل سے دھاتوں اور پھر تیار مصنوعات تک مکمل ویلیو چین میں تبدیلی لائے گی: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
ایک لاکھ کروڑ روپے کی آر ڈی آئی اسکیم نجی شعبے میں تحقیق و ترقی اور ڈیپ ٹیک اختراع کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
پروٹوٹائپ اور پیٹنٹ سے تجارت کاری اور رفتار تک، بھارت کی تکنیکی کامیابی صنعتی قدر میں تبدیل ہوگی: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 SEP 2026 1:30PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنسز کےمرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) نیز وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلا کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ بھارت کان کنی اور دھاتوں کے شعبے میں ٹیکنالوجی پر مبنی مسابقتی برتری حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو کان کنی اور دھاتوں کے شعبے میں وسائل کی برتری سے آگے بڑھ کر ٹیکنالوجی پر مبنی مسابقتی صلاحیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے، جس کے لیے ارضیاتی کھوج اور کان کنی سے لے کر پروسیسنگ، نقل و حمل، ری سائیکلنگ اور مصنوعات کی تیاری تک مکمل ویلیو چین میں ٹیکنالوجی کو مربوط کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس شعبے کی مسابقتی صلاحیت کا انحصار مستقبل میں صرف اس بات پر نہیں ہوگا کہ کتنی معدنیات نکالی جاتی ہیں یا کتنی دھات تیار کی جاتی ہے، بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ بھارت اپنے ارضیاتی وسائل کو کتنی کارکردگی، تحفظ، پائیداری اور دانش مندی کے ساتھ زیادہ قدر والی، مضبوط اور دوبارہ استعمال پر مبنی مواد کی سپلائی چین میں تبدیل کرتا ہے۔ انہوں نے الگ الگ ٹیکنالوجی کے آزمائشی پروجیکٹوں سے آگے بڑھ کر مربوط، بڑے پیمانے پر قابل توسیع اور قابل اعتماد ٹیکنالوجی نظام اپنانے پر زور دیا، جو صنعتی پیمانے پر اس شعبے میں تبدیلی لا سکیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نئی دہلی کے ایف آئی سی سی آئی فیڈریشن ہاؤس میں ‘‘کان کنی اور دھاتوں کے شعبے میں ڈیجیٹلائزیشن، مصنوعی ذہانت، خودکاری اور ٹیکنالوجی کا انضمام: شعبے کی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ’’ کے موضوع پر ایف آئی سی سی آئی کی تیسری کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ دو روزہ کانفرنس میں پالیسی ساز، صنعت کے رہنما، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ادارے، اسٹارٹ اپس، محققین اور بین الاقوامی شراکت دار بھارت کی معدنی وسائل پر مبنی صنعتوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ بھارت میں کے پی ایم جی اس کانفرنس کا علمی شراکت دار ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت کا کان کنی اور دھاتوں کا شعبہ ایک اہم مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، کیونکہ ملک وکست بھارت 2047@کی جانب گامزن ہے۔ اس شعبے کا بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی کی منتقلی، مینوفیکچرنگ کی ترقی، خود کفالت اور اقتصادی مسابقت میں مرکزی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بنیادی ڈھانچے، گھریلو مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، اختراع اور سرمایہ کاری کی مدد سے ملک کی ترقی نے بڑے شعبوں میں ٹیکنالوجی پر مبنی توسیع کے لیے درکار پیمانے اور صلاحیتیں حاصل کی ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کان کنی اور دھاتوں کے شعبے میں مسابقت کا چیلنج تیزی سے بدل رہا ہے۔ معدنی ذخائر میں دھات کی مقدار میں کمی، زیادہ گہرائی میں موجود اور پیچیدہ ذخائر، توانائی اور نقل و حمل کی لاگت، اہم معدنیات کی سپلائی چین کا بعض مخصوص جغرافیائی علاقوں تک محدود ہونا، کاربن اخراج میں کمی کی ضروریات اور صارفین کی بدلتی توقعات ایک نئے ٹیکنالوجی پر مبنی طریقہ کار کی ضرورت پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس لیے ٹیکنالوجی کو محض الگ تھلگ سرمایہ کاری یا آزمائشی پروجیکٹوں کے مجموعے کے طور پر نہیں بلکہ معدنی وسائل سے دھاتوں اور پھر تیار مصنوعات تک مکمل ویلیو چین میں ایک اسٹریٹجک معاون کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز ارضیاتی، عملیاتی، آلات، عمل، توانائی، نقل و حمل اور بازار سے متعلق اعداد و شمار کو ایک جگہ جمع کرسکتی ہیں، جس سے زیادہ بہتر معلومات، پیش گوئی، تال میل اور خودکاری کے ذریعے زیادہ تیز اور درست فیصلے کرنا ممکن ہوگا۔ پروسیس ٹیکنالوجیز نکاسی اور بازیابی کے عمل کو بہتر بنا سکتی ہیں، کم درجے کی معدنیات اور باقیات سے بھی وسائل حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہیں، توانائی اور پانی کے استعمال کی شدت کم کرسکتی ہیں، کم کاربن اخراج کے ساتھ دھات سازی میں معاون ہوسکتی ہیں اور علیحدگی، صاف کرنے، جدید مواد اور ری سائیکلنگ کے شعبوں میں صلاحیتوں کو مضبوط بنا سکتی ہیں۔ اس طرح لاگت کم کرنے اور گھریلو و عالمی بازاروں میں بھارتی معدنیات اور دھاتوں کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے علیحدگی،صاف کرنے، جدید مواد، مقناطیس سازی، ری سائیکلنگ اور ان سے متعلق آلات، ہنرمندی اور دانشورانہ املاک کے شعبوں میں اندرون ملک صلاحیتیں پیدا کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو ٹیکنالوجیز پہلے ہی پختہ ہوچکی ہیں، انہیں استعمال میں لایا جائے اور بڑے پیمانے پر اپنایا جائے، جبکہ کم استعمال ہونے والے وسائل کے لیے پہلے عمل کی توثیق کی جائے اور اس کے بعد انہیں بڑے پیمانے پر استعمال میں لایا جائے۔ جہاں اسٹریٹجک صلاحیتیں ابھی تجارتی پیمانے پر دستیاب نہیں ہیں، وہاں بھارت کو انہیں خود تیار کرنا چاہیے یا گھریلو سطح پر معلومات اور مہارت کو فروغ دیتے ہوئے منتخب شراکت داری کرنی چاہیے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی جدید مواد، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، سائبر فزیکل نظام، سینسنگ، صاف توانائی، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، جغرافیائی معلوماتی ٹیکنالوجیز اور ڈیپ ٹیک کاروبار جیسے شعبوں میں سائنسی برتری کو صنعتی نتائج سے جوڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل مشن آن انٹر ڈسپلنری سائبر فزیکل سسٹمز کے تحت قائم کیے گئے 25 ٹیکنالوجی اختراعی مرکز ایسی ٹیکنالوجیز کو عملی شکل دینے، کاروباری سرگرمیوں اور صنعت کے ساتھ تعاون کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں، جو اسمارٹ کانوں، پلانٹس اور سپلائی چینز سے براہ راست متعلق ہیں۔
ایک لاکھ کروڑ روپے کی تحقیق، ترقی اور اختراع کی اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اسے نجی شعبے کی اعلی اثرات والی تحقیق و ترقی اور اسٹریٹجک ٹیکنالوجیز میں شمولیت کو فروغ دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم ٹیکنالوجی کی تیاری کی سطح4 اور اس سے اوپر کی سطح کے تبدیلی لانے والے پروجیکٹوں کو طویل مدتی مالی اعانت، اسٹارٹ اپس کے لیے ایکویٹی تعاون اور ڈیپ ٹیک فنڈنگ کے طریقہ کار کے ذریعے مدد فراہم کرسکتی ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی تبدیلی کے اگلے مرحلے کے لیے قومی مشنز، تحقیقی اداروں، صنعت کی ضروریات، اسٹارٹ اپس، آزمائشی سہولیات اور خطرہ مول لینے والے سرمائے کو ایک ساتھ لانے کی ضرورت ہے، تاکہ امید افزا ٹیکنالوجیز لیبارٹری سے آزمائشی مرحلے اور آزمائشی مرحلے سے صنعتی پیمانے تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پورے شعبے میں تبدیلی کے لیے قدر پر مرکوز ٹیکنالوجی کا استعمال، مضبوط ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ، صنعتی پیمانے پر جانچ اور عملی مظاہرہ، ہنرمند افرادی قوت اور حکومت، صنعت، تعلیمی اداروں اور اختراع کاروں کے درمیان مزید گہرا تعاون ضروری ہوگا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کان کنی اور دھاتوں کی صنعت پر زور دیا کہ وہ زیادہ قدر والے اہم عملی اور پیداواری چیلنجوں کی ایک مرکوز فہرست تیار کرے اور باہمی تعاون سے ٹیکنالوجی کی تیاری اور توثیق کے لیے ضروری سہولیات، اعداد و شمار اور متعلقہ شعبے کی مہارتیں قائم کرے۔ انہوں نے لیبارٹریوں، یونیورسٹیوں اور ٹیکنالوجی اختراعی مراکزکی بھی حوصلہ افزائی کی کہ وہ صنعت کی ضروریات کے ساتھ قریبی تال میل قائم کریں، جن میں کارکردگی کے تقاضے، لاگت کے اہداف، معیار کی جانچ کے اصول اور تجارتی سطح پر استعمال کے واضح راستے شامل ہیں۔
بھارتی حالات کے مطابق ٹیکنالوجی کے حل تیار کرنے پر زور دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اور اسٹارٹ اپس مختلف نوعیت کے ارضیاتی حالات، پہلے سے قائم پلانٹس، سخت ماحولیاتی حالات، مناسب لاگت، باہمی مطابقت اور بڑے پیمانے پر استعمال جیسے عوامل کو مدنظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اپنانے کی کامیابی کا اندازہ صرف پروٹوٹائپ، پیٹنٹ یا آزمائشی پروجیکٹوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایسی ٹیکنالوجیز کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے جنہیں باقاعدہ طور پر قابل استعمال قرار دیا گیا ہو، اپنایا گیا ہو، وسیع پیمانے پر دہرایا گیا ہو اور تجارتی شکل دی گئی ہو، ساتھ ہی معیشت، صنعتوں، ماحولیات، افرادی قوت اور مقامی برادریوں کے لیے پیدا ہونے والی قدر کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ‘‘ہمیں صرف کان کنی اور دھاتوں کی اگلے سلسلےکی ٹیکنالوجیز اپنانے پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ ہمارا مقصد بھارت میں، بھارت کے لیے اور دنیا کے لیے ٹیکنالوجیز تیار کرنا، ان کا عملی مظاہرہ کرنا اور انہیں بڑے پیمانے پر رائج کرنا ہونا چاہیے۔’’ انہوں نے کانفرنس کے ساتھ جاری کی گئی فکری رہنمائی پر مبنی رپورٹ کی اشاعت پر ایف آئی سی سی آئی اور کے پی ایم جی ان انڈیا کو بھی مبارک باد دی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آتم نربھر بھارت اور وکست بھارت2047 @ کے وژن سے ہم آہنگ کان کنی اور دھاتوں کا ایسا نظام تشکیل دینے کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور دیا جو ٹیکنالوجی کے اعتبار سے جدید، عالمی سطح پر مسابقتی اور ماحول کے تئیں ذمہ دار ہو۔



*****
ش ح۔ م ع - ف ر
U-no-3702
(ریلیز آئی ڈی: 2311378)
وزیٹر کاؤنٹر : 8