PIB Backgrounder
الیکٹرانکس پرزہ جات کی مینوفیکچرنگ اسکیم
بھارت کی الیکٹرانکس صنعت کی مضبوط بنیاد کی تعمیر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 SEP 2026 12:41PM by PIB Delhi
الیکٹرانکس کی فراہمی کے سلسلہ میں ہندوستان کو خود کفیل بنانے کے لیے ای سی ایم ایس
الیکٹرانکس جدید معیشت اور روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ یہ مواصلات، صحت، نقل و حمل، مالیات، مینوفیکچرنگ اور ڈجیٹل بنیادی ڈھانچے کو تقویت دیتے ہیں۔ اسمارٹ فونز اور گاڑیوں سے لے کر ٹیلی مواصلاتی نیٹ ورکس اور صنعتی نظام تک، الیکٹرانکس تکنیکی ترقی اور اقتصادی مسابقت کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اس لیے ایک مضبوط ملکی الیکٹرانکس نظام تکنیکی لچک، اقتصادی تحفظ اور قومی خود کفالت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
ہندوستان کے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ شعبے نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران نمایاں توسیع کی ہے۔ الیکٹرانکس کی پیداوار 2014-15 میں 1.9لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 2025-26 میں 13.11 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی مدت کے دوران الیکٹرانکس کی برآمدات 38,000کروڑ روپے سے زیادہ سے بڑھ کر 4.24 لاکھ کروڑ روپے ہو گئیں۔ اس مسلسل ترقی نے ہندوستان کے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے عزائم کے لیے ایک مضبوط بنیاد قائم کی ہے۔ اب ترجیح ملکی سطح پر پرزہ جات کی تیاری، قدر میں زیادہ اضافہ اور فراہمی کے سلسلہ میں مزید مضبوط لچک کے ذریعہ اس نظام کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

الیکٹرانکس پرزہ جات کی مینوفیکچرنگ اسکیم (ای سی ایم ایس) کو اس منتقلی کو آگے بڑھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کئی اہم پرزہ جات اور خام مال کے لیے ہندوستان اب بھی درآمدات پر منحصر ہے۔ ان میں پرنٹڈ سرکٹ بورڈز، کیمرا اور ڈسپلے ماڈیولز، کنکٹرز، کیپیسٹرز، لیتھیم آئن سیلز اور نایاب ارضی دھاتوں کے مقناطیس شامل ہیں۔ای سی ایم ایس کے تحت پرزہ جات، ذیلی اسمبلیوں، فراہمی کے سلسلہ سے متعلق مصنوعات اور متعلقہ پیداواری مشینری سمیت مختلف شعبوں میں ملکی مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد ملک میں قدر میں اضافے کو بڑھانا اور درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے۔ اس اسکیم کا ایک اور مقصد ہندوستان کے الیکٹرانکس کی فراہمی کے سلسلہ میں لچک اور مضبوطی کو بڑھانا ہے۔الیکٹرانکس کی قدر کے سلسلہ میں اندرونی سطح پر صلاحیتوں کو فروغ دے کرای سی ایم ایس کا مقصد ہندوستان کی مینوفیکچرنگ کی رفتار کو ایک خود کفیل اور عالمی سطح پر مسابقتی الیکٹرانکس نظام میں تبدیل کرنا ہے۔

سیمی کون 2026: ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر سسٹم کو فروغ دینے کی سمت میں اہم قدم

سیمی کنڈکٹرز جدید الیکٹرانک نظام کی بنیاد ہیں۔ اس لیے تکنیکی لچک، اقتصادی تحفظ اور قومی خود کفالت کے لیے ایک مضبوط سیمی کنڈکٹر نظام کی تعمیر ضروری ہے۔ اس اسٹریٹجک اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت ہند پالیسی تعاون، بنیادی ڈھانچے اور عالمی شراکت داریوں کے ذریعے سیمی کنڈکٹر نظام کو مضبوط بنا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں ’ سلیکون سے نظام تک: نظام کی تعمیر‘کے موضوع پر منعقد ہونے والے’سیمی کون انڈیا-2026‘کا افتتاح وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 17 ستمبر 2026 کو یشوبھومی، نئی دہلی میں کیا۔ 17 سے 19 ستمبر 2026 تک منعقد ہونے والی’سیمی کون انڈیا-2026‘ میں عالمی صنعت کے سرکردہ رہنما، پالیسی ساز، سرمایہ کار، ماہرین تعلیم اور اسٹارٹ اپس ایک جگہ جمع ہو رہے ہیں۔ یہ تقریب ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر سے متعلق عزائم کو آگے بڑھانے اور پوری قدر کے سلسلے میں اس نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ایجنڈا دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
ای سی ایم ایس کے تحت اب تک پیش رفت: پالیسی سے پیداوار تک
الیکٹرانکس پرزہ جات کی مینوفیکچرنگ اسکیم ایک مضبوط اور گہری بنیاد رکھنے والے ’سودیشی‘ الیکٹرانکس قدر کے سلسلے کی ترقی کو تیز کر رہی ہے۔ اس کا مقصد صرف اسمبلی سے آگے بڑھتے ہوئے اہم پرزہ جات اور ضروری خام مال کی ملکی سطح پر تیاری کو فروغ دینا ہے۔
ای سی ایم ایس کو 8 اپریل 2025 کو نوٹیفائی کیا گیا تھا۔ اسے ابتدائی طور پر 22,919 کروڑ روپے کی رقم کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔
اس اسکیم کی مدت چھ سال ہے، جس میں اختیاری طور پر ایک سال کی ابتدائی تیاری کی مدت شامل ہے۔
سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے مراعات پانچ سال تک دستیاب ہیں۔
مرکزی بجٹ 2026-27 میں ای سی ایم ایس کے لیے مختص رقم بڑھا کر 40,000 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔ اس اضافی رقم سے ملک میں الیکٹرانکس پرزہ جات کی مینوفیکچرنگ کو مزید گہرائی فراہم ہوگی۔
اگست 2026 تک 15 ریاستوں میں 106 منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔
ان منصوبوں میں الیکٹرانکس کے 30 شعبوں سے متعلق مصنوعات شامل ہیں اور ان کے لیے 69,548 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی منظوری دی گئی ہے۔

38 منظور شدہ پلانٹس میں پیداوار پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔ مزید 16 منصوبے تعمیر یا مشینری کی تنصیب کے جدید مراحل میں ہیں۔
منظور شدہ منصوبوں سے 5.34 لاکھ کروڑ روپے کی پیداوار متوقع ہے۔
ان منصوبوں سے 74,628 براہ راست اور 2.5 لاکھ بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی بھی توقع ہے۔
ای سی ایم ایس اہم الیکٹرانکس پرزہ جات اور مواد کے شعبے میں ملکی صلاحیت کو مضبوط بنا رہی ہے۔ متعدد مصنوعات کے زمروں میں پیداواری صلاحیت اب ملکی طلب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو گئی ہے۔
الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے حکومت کے اسٹریٹجک اقدامات
نیشنل پالیسی آن الیکٹرانکس (این پی ای 2019) 2019: اس کا بنیادی مقصد ہندوستان کو الیکٹرانکس سسٹم ڈیزائن اینڈ مینوفیکچرنگ (ای ایس ڈی ایم)کے عالمی مرکز کے طور پر قائم کرنا ہے۔ اس کے تحت بنیادی پرزہ جات کی تیاری اور عالمی سطح پر مسابقتی مینوفیکچرنگ کے لیے سازگار ماحول تیار کرنا شامل ہے۔
بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے لیے پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو اسکیم (پی ایل آئی): اہل ہدف شعبوں میں اضافی فروخت پر 4 فیصد سے 6 فیصد تک کارکردگی سے منسلک مراعات متعارف کرائی گئیں۔ اس کا مقصد ملکی الیکٹرانکس اور موبائل مینوفیکچرنگ کے پیمانے کو بڑھانا ہے۔
الیکٹرانکس پرزہ جات اور سیمی کنڈکٹرز کی مینوفیکچرنگ کے فروغ کی اسکیم (ایس پی ای سی ایس) اور ترمیم شدہ الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹرز (ای ایم سی 2.0): ایس پی ای سی ایس کے تحت الیکٹرانکس پرزہ جات، سیمی کنڈکٹر اور ڈسپلے کی تیاری، اے ٹی ایم پی (اسمبلی، ٹیسٹنگ، مارکنگ اور پیکیجنگ) یونٹس، خصوصی ذیلی اسمبلیوں اور پیداواری مشینری کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات پر 25 فیصد مراعات فراہم کی گئیں۔ ای سی ایم 2.0 کے تحت عالمی معیار کے مینوفیکچرنگ بنیادی ڈھانچے، مشترکہ سہولیات اور پلگ اینڈ پلے صلاحیت کو فروغ دیا گیا۔
آئی ٹی ہارڈویئر کے لیے پی ایل آئی: ملکی سطح پر مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے پیداوار سے منسلک مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔ پی ایل آئی 2.0 کے ذریعے اسی بنیاد کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے، تاکہ مینوفیکچرنگ کے نظام کو مستحکم کیا جا سکے، درآمدات پر انحصار کم ہو اور ہندوستان کو عالمی فراہمی کے سلسلہ کے ایک قابل اعتماد مرکز کے طور پر قائم کیا جا سکے۔
سیمی کون انڈیا پروگرام: 76,000 کروڑ روپے کے سیمی کون 1.0 پروگرام نے سیمی کنڈکٹر اور ڈسپلے مینوفیکچرنگ کے وسیع تر نظام کی بنیاد رکھی۔ یہ پروگرام فیب یونٹس، پیکیجنگ، ٹیسٹنگ، ڈیزائن اور متعلقہ صلاحیتوں کے لیے تعاون فراہم کرتے ہوئے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کو تقویت دیتا ہے۔ سیمی کون 2.0 کو جولائی 2026 میں 1,27,500 کروڑ روپے کی مجموعی رقم کے ساتھ منظوری دی گئی۔ اس کا مقصد ہندوستان کو عالمی سیمی کنڈکٹر مرکز کے طور پر وسعت دینا ہے۔
الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹرز (ای سی ایم) اسکیم: اس کے تحت گرین فیلڈ منصوبوں کے لیے منصوبے کی لاگت کے 50 فیصد تک مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ حد ہر 100 ایکڑ زمین کے لیے 50 کروڑ روپے ہے۔
مرحلہ وار مینوفیکچرنگ پروگرام (پی ایم پی): اس کے تحت سیلولر موبائل فونز اور ان کے اہم ذیلی اسمبلیوں میں ملکی سطح پر قدر میں اضافے کو بڑھانے کے لیے محصولات پر مبنی ایک منظم طریق کار قائم کیا گیا ہے۔
الیکٹرانکس ڈیولپمنٹ فنڈ (ای ڈی ایف): یہ ’فنڈ آف فنڈز‘ کے طور پر کام کرتا ہے اور وینچر فنڈز (ڈاٹر فنڈز) میں سرمایہ کاری کرتا ہے، تاکہ خطرے سے وابستہ سرمایہ فراہم کیا جا سکے اور ای ایس ڈی ایم اور آئی ٹی کے شعبوں میں مارکیٹ پر مبنی جدت، مصنوعات کے ڈیزائن اور اسٹارٹ اپس کی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
عالمی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ مرکز کی جانب پیش قدمی
الیکٹرانکس پرزہ جات کی مینوفیکچرنگ اسکیم ہندوستان کے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ سے متعلق عزائم کو سرمایہ کاری، پیداوار اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کرنے میں مدد کر رہی ہے۔ جیسے جیسے منصوبے منظوری سے تعمیر اور تجارتی پیداوار کے مراحل کی جانب بڑھ رہے ہیں، ای سی ایم ایس ملک کے مینوفیکچرنگ کے دائرے کو وسیع، ملکی سطح پر قدر میں اضافے کو مزید گہرا اور عالمی قدر کے سلسلوں کے ساتھ انضمام کو مضبوط بنا رہی ہے۔ الیکٹرانکس کی برآمدات پہلے ہی ایک اہم برآمداتی زمرے کے طور پر ابھر رہی ہیں، ایسے میں ہندوستان کا ہدف 2030 تک 500 ارب ڈالر (47.75 لاکھ کروڑ روپے) مالیت کے ملکی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ نظام اور 150 ارب ڈالر (14.33 لاکھ کروڑ روپے) کی الیکٹرانکس برآمدات حاصل کرنا ہے۔ اس سے عالمی سطح پر مسابقتی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ اور برآمداتی مرکز بننے کے ہندوستان کے عزم کو مزید تقویت ملتی ہے۔
حوالہ جات:
Ministry of Electronics and Information Technology:
PIB Backgrounders
Cabinet
Ministry of Commerce & Industry
**********
) ش ح – ظ ا- ش ہ ب )
U.No. 3696
(ریلیز آئی ڈی: 2311326)
وزیٹر کاؤنٹر : 7