جل شکتی وزارت
این ڈی ایس اے نے جھارکھنڈ میں ڈیم سیفٹی کی تیاریوں اور ڈیم سیفٹی ایکٹ کے نفاذ کا جائزہ لیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 SEP 2026 6:47PM by PIB Delhi
نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی (این ڈی ایس اے) کی ایک ٹیم نے، جس کی قیادت این ڈی ایس اے کے ممبر (انتظامیہ و مالیات) سوربھ اگروال نے کی، 8 ستمبر 2026 کو جھارکھنڈ حکومت کے محکمہ آبی وسائل کے سکریٹری کے ساتھ اجلاس کیا۔ ٹیم میں وزارت جل شکتی کے محکمہ آبی وسائل، دریاؤں کی ترقی اور گنگا احیا (آر ڈی اینڈ جی آر) کے سینئر جوائنٹ کمشنر منوج کمار اور این ڈی ایس اے کے ڈائریکٹر (تکنیکی) امیتابھ مینا شامل تھے۔ اجلاس میں ڈیم سیفٹی ایکٹ 2021 کے نفاذ اور ریاست میں ڈیم سیفٹی سے متعلق سرگرمیوں کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ریاستی ڈیم سیفٹی آرگنائزیشن (ایس ڈی ایس او) کے سربراہ اور جھارکھنڈ کے محکمہ آبی وسائل، محکمہ توانائی اور محکمہ پینے کے پانی و صفائی (ڈی ڈبلیو اینڈ ایس ڈی) کے تحت ڈیموں کے مالکان کے نمائندوں نے شرکت کی۔

جھارکھنڈ میں مخصوص ڈیموں کی جامع ڈیم سیفٹی تشخیص (سی ڈی ایس ای) کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ این ڈی ایس اے نے آزاد ماہرین کے پینل (آئی پی او ای) کی جلد تشکیل، ڈیموں کے دوروں کی بروقت تکمیل اور سی ڈی ایس ای رپورٹس اتھارٹی کو پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ریاست سے یہ بھی کہا گیا کہ مقررہ مدت کے اندر سی ڈی ایس ای مکمل کرنے کے لیے ہر ڈیم کے لحاظ سے ایک عملی منصوبہ تیار کرکے پیش کیا جائے۔
اجلاس میں ایمرجنسی عملی منصوبوں (ای اے پیز) اور آپریشن و دیکھ بھال (او اینڈ ایم) مینوئلز کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان کی بروقت تیاری اور بعد ازاں دھارما پورٹل پر اپ لوڈ کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ زمرہ دوم کے باندھوں کے معائنے کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا اور ایسے ڈیموں کی بحالی کے لیے مقررہ مدت کے مطابق عملی منصوبہ طلب کیا گیا۔

این ڈی ایس اے نے ڈیم سیفٹی کے لیے ریاست کے ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ اس کے تحت ریاستی ڈیم سیفٹی آرگنائزیشن (ایس ڈی ایس او) کو محض کمیٹی کی بنیاد پر چلانے کے بجائے ایک ذمہ دار ادارے کے طور پر ازسرنو تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ڈیم سیفٹی کے لیے الگ بجٹ ہیڈ کو فعال کرنے اور فنڈز کی مناسب تخصیص و مؤثر استعمال کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی۔ ریاست میں ڈیم سیفٹی کی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ڈیم مالکان اور ایس ڈی ایس او کے اہلکاروں کی استعداد کار بڑھانے کے پروگراموں کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
ڈیم سیفٹی ایکٹ 2021 کے تحت ریاستی مقننہ کے سامنے ایس ڈی ایس او کی رپورٹ بروقت پیش کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ محکمہ توانائی اور محکمہ پینے کے پانی و صفائی (ڈی ڈبلیو اینڈ ایس ڈی) کے نمائندوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے متعلقہ دائرہ اختیار میں ڈیم مالکان پر لاگو ڈیم سیفٹی ایکٹ 2021 کی دفعات کی مکمل تعمیل یقینی بنائیں۔
محکمہ توانائی کے تحت نلکاری باندھ (پتراتو) کے باندھ مالک کو خصوصی طور پر ہدایت دی گئی کہ وہ ڈیم سیفٹی یونٹ (ڈی ایس یو) تشکیل دے اور متعلقہ ڈیم سیفٹی ضوابط کے مطابق مانسون سے قبل اور مانسون کے بعد باندھ کا معائنہ یقینی بنائے۔
محکمہ آبی وسائل کے سکریٹری نے اتھارٹی کو یقین دلایا کہ ڈیم سیفٹی ایکٹ 2021 کے مقررہ مدت کے اندر نفاذ کے لیے ضروری کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے جھارکھنڈ کے ایس ڈی ایس او کے سربراہ کو ہدایت دی کہ سی ڈی ایس ای، ای اے پیز اور زمرہ دوم کے ڈیموں کی بحالی سے متعلق ہر ڈیم کے لحاظ سے عملی منصوبہ تیار کرکے این ڈی ایس اے کو پیش کیا جائے۔
میدانی سطح پر جائزے کے ایک حصے کے طور پر این ڈی ایس اے کی ٹیم نے 8 ستمبر 2026 کو نلکاری ڈیم اور 9 ستمبر 2026 کو محکمہ آبی وسائل کے تحت زمرہ دوم کے ڈیم لاترَاتو ڈیم کا دورہ کیا۔ ٹیم نے دونوں ڈیموں میں حفاظتی انتظامات اور تیاریوں کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران سامنے آنے والی خامیوں کو دور کرنے کے لیے متعلقہ ڈیم انچارجز کو ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔



اس جائزے سے ڈیم سیفٹی سے متعلق نظام کو مزید مضبوط بنانے، ڈیم سیفٹی ایکٹ 2021 کی تعمیل یقینی بنانے اور ملک میں باندھوں اور ان کے نشیبی علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کی حفاظت کے لیے بروقت احتیاطی اور بحالی کے اقدامات کو فروغ دینے کی جانب این ڈی ایس اے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی ہوتی ہے۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 3605)
(ریلیز آئی ڈی: 2310674)
وزیٹر کاؤنٹر : 5