قبائیلی امور کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

راجستھان کے 29 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں میں کمپیوٹر لیب و اسمارٹ کلاس روم کے قیام کے لیے این ایس ٹی ڈی ایف سی اور ایچ پی سی ایل کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط


ٹیکنالوجی سے لیس مربوط تعلیمی سہولیات سے ہر سال 10 ہزار سے زیادہ درج فہرست قبائل کے طلبہ کو فائدہ پہنچے گا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 15 SEP 2026 6:27PM by PIB Delhi

نیشنل شیڈیولڈ ٹرائبس فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس ٹی ڈی ایف سی) اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (ایچ پی سی ایل) نے راجستھان کے 11 اضلاع میں قائم 29 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں (ای ایم آر ایس) میں مربوط کمپیوٹر لیب اور اسمارٹ کلاس روم کی سہولیات قائم کرنے کے لیے مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔

مفاہمت نامے پر وزارت قبائلی امور کی سکریٹری محترمہ رنجنا چوپڑا، وزارت قبائلی امور کے جوائنٹ سکریٹری اور این ایس ٹی ڈی ایف سی کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر ٹی روموان پائٹے، وزارت قبائلی امور کے ڈپٹی سکریٹری گنیش ناگراجن اور دیگر سینئر افسران کی موجودگی میں دستخط کیے گئے۔ ایچ پی سی ایل کے وفد میں ڈائریکٹر (ہیومن ریسورسز) کے ایس شیٹی، سی جی ایم (ڈی سی او) پون کمار سہگل، سی جی ایم (سی ایس آر و پی آر سی سی) انوپم تیواری، منیجر (سی ایس آر) بھارگَو چوہان اور افسر (سی ایس آر) ساکشی دویدی شامل تھیں، جبکہ این ایس ٹی ڈی ایف سی کے وفد میں اے جی ایم (پروجیکٹس و سی ایس آر) بس میتا داس، چیف منیجر ہمانشو وشوکرما اور منیجر (پروجیکٹس و سی ایس آر) وکاس رنجن شامل تھے۔

ایچ پی سی ایل بورڈ نے اس پروجیکٹ کے لیے مجموعی طور پر 16.01 کروڑ روپے کے بجٹ کی منظوری دی ہے۔ مفاہمت نامے پر دستخط کی تاریخ سے چھ ماہ کے اندر پروجیکٹ مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔

اس پروجیکٹ کے تحت ہر اسکول میں 86 انچ کے انٹرایکٹو فلیٹ پینلز، پہلے سے نصب لائسنس یافتہ سافٹ ویئر، منتخب اوپن تعلیمی وسائل اور اسپیکرز و ویب کیمز سمیت آڈیو ویزول آلات سے لیس چار اسمارٹ کلاس روم قائم کیے جائیں گے۔ ہر اسکول میں ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز اور یو پی ایس بیک اپ کے ساتھ مکمل نیٹ ورک سے منسلک کمپیوٹر لیب بھی قائم کی جائے گی، جس میں اسٹرکچرڈ لین، ملٹی فنکشن پرنٹر، فرنیچر، ایئر کنڈیشننگ، برقی نظام کی تجدید اور حفاظتی نظام شامل ہوں گے۔

اس کے علاوہ ہر اسکول میں مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے مطالعاتی مواد سے پہلے سے لیس 10 ٹیبلٹس فراہم کیے جائیں گے۔ انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی بھی فراہم کی جائے گی، جس میں وائرنگ، تنصیب اور ایک سال کی سبسکرپشن شامل ہوگی۔

اس پروجیکٹ کے تحت آنے والے 29 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول الور، بانسواڑہ، باراں، ڈونگرپور، جے پور، کرولی، پرتاپ گڑھ، سوائی مادھوپور، سیروہی، ٹونک اور اودے پور اضلاع میں واقع ہیں۔ ان اسکولوں سے ہر سال 10 ہزار سے زیادہ درج فہرست قبائل کے طلبہ کو فائدہ پہنچے گا، جن میں لڑکیوں کی بھی مساوی نمائندگی ہوگی۔ اپنی منظور شدہ مکمل گنجائش پر یہ اسکول چھٹی سے بارہویں جماعت تک کے 13,920 طلبہ کو داخلہ دے سکتے ہیں، جن میں زیادہ تر طلبہ پہلی نسل کے ڈیجیٹل لرنرز ہوں گے۔

یہ پہل قومی تعلیمی پالیسی 2020 سے ہم آہنگ ہے، جس میں تدریس و تعلیم کے عمل میں ٹیکنالوجی کے انضمام، سب کے لیے ڈیجیٹل خواندگی اور مڈل مرحلے سے کمپیوٹیشنل تھنکنگ و کوڈنگ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ سماجی و اقتصادی طور پر پسماندہ طبقات، بشمول قبائلی بچوں، کے لیے ہدفی معاونت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

یہ پروجیکٹ محکمہ سرکاری کاروباری اداروں کی جانب سے مالی سال 2026-27 اور 2027-28 کے دوران مرکزی سرکاری کاروباری اداروں (سی پی ایس ایز) کی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) سرگرمیوں کے لیے مقرر کردہ مشترکہ موضوع ’’اختراعی ذریعہ معاش میں بہتری‘‘ سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزارت قبائلی امور کی سکریٹری نے تعلیم کے ذریعے کئی نسلوں تک ترقی کے مواقع پیدا کرنے میں اس کے تبدیلی لانے والے کردار کو اجاگر کیا۔ سکریٹری نے کہا کہ ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول (ای ایم آر ایس) قبائلی طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم اور مختلف شعبوں میں روزگار و کیریئر کے راستے ہموار کر رہے ہیں۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ایچ پی سی ایل کے تعاون سے شروع کیا گیا یہ اقدام ٹیکنالوجی تک رسائی اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع کو مزید مستحکم کرے گا۔

اس پروجیکٹ میں وزارت قبائلی امور کے ادارہ جاتی نظام سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ این ایس ٹی ڈی ایف سی پروجیکٹ کے نفاذ اور خریداری کی ذمہ داری سنبھالے گا، جبکہ نیشنل ایجوکیشن سوسائٹی فار ٹرائبل اسٹوڈنٹس (نیسٹ) تعلیمی توثیق اور کام کی تکرار روکنے کی ذمہ داری ادا کرے گی۔ ریاستی ای ایم آر ایس سوسائٹی اور اسکولوں کے پرنسپل مقامات کو پروجیکٹ کے لیے تیار رکھنے اور روزمرہ استعمال کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ہوں گے۔

سکریٹری نے اس پہل کی حمایت کرنے پر ایچ پی سی ایل اور وزارت پٹرولیم و قدرتی گیس کا شکریہ ادا کیا اور اس شراکت داری کو قبائلی بہبود کے مقصد کے لیے حکومت کے تمام متعلقہ اداروں کے مل کر کام کرنے کی ایک عمدہ مثال قرار دیا۔

***

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

U :3598


(ریلیز آئی ڈی: 2310640) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी