سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ایس ایچ آر ای وائی اے ایس-’شریس‘ نے ایس سی اور او بی سی طلبا کے لئے اعلیٰ تعلیم کے مواقع کو مزید مستحکم  کیا


اسکیم کے تحت مفت کوچنگ، اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم، بیرون ملک تعلیم اور تحقیقی فیلوشپ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے

سال  2014-15 سے 2025-26 تک اس کے چار اجزا کے تحت 3,509.39 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جس سے 1.18 لاکھ سے زیادہ ایس سی اور او بی سی طلبا مستفید ہوئے: ڈاکٹر ویرندر کمار

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 15 SEP 2026 4:44PM by PIB Delhi

مرکزی حکومت اسکالرشپس فار ہائر ایجوکیشن فار ینگ اچیورز اسکیم (ایس ایچ آر ای وائی اے ایس) کے ذریعے درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) سے تعلق رکھنے والے طلبا کو تعلیمی طور پر بااختیار بنانے کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے۔

امور سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ویرندر کمار نے کہا کہ 2014-15 سے 2025-26 تک ایس ایچ آر ای وائی اے ایس  کے چار بڑے اجزا کے تحت مجموعی طور پر تقریباً 3,509.39 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مدت کے دوران ان اجزا کے تحت مستفید ہونے والے طلبا کی مجموعی تعداد 1,18,248 رہی۔

مرکزی وزیر موصوف  نے کہا کہ یہ اسکیم مالی رکاوٹوں کو کم کرنے اور تعلیمی و پیشہ ورانہ مواقع تک رسائی بہتر بنانے کے مقصد سے مختلف ہدف پر مبنی اقدامات کو یکجا کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے اہم اجزا میں مسابقتی امتحانات کے لیے مفت کوچنگ، اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے مالی امداد، بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے تعاون اور اعلیٰ سطحی تحقیق کے لیے فیلوشپ شامل ہیں۔

ڈاکٹر کمار نے بتایا کہ مفت کوچنگ کے جزو کے تحت معاشی طور پر کمزور ایس سی اور او بی سی طلبا کو مسابقتی اور پیشہ ورانہ امتحانات کی معیاری تیاری کے لیے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پہل کا مقصد اہل طلبا کو معروف تعلیمی اداروں میں داخلہ کے لیے مقابلہ کرنے اور سرکاری و نجی شعبے میں روزگار کے مواقع حاصل کرنے کے قابل بنانا ہے۔

ڈاکٹر کمار نے بتایا کہ سال  2014-15 سے 2025-26 کے دوران اس جزو کے تحت تقریباً 145.10 کروڑ روپے خرچ کیے گئے اور مجموعی طور پر 23,208 طلبا مستفید ہوئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2024-25 میں 17.68 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جس سے 2,136 طلبا کو فائدہ پہنچا۔ ڈاکٹر کمار نے کہا کہ 2025-26 کے دوران 9.87 کروڑ روپے خرچ کیے گئے اور 854 مستفیدین کو اس کے دائرے میں لایا گیا۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ وزارت کے ٹاپ کلاس ایجوکیشن جزو کے تحت ملک بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے ہونہار درج فہرست ذات (ایس سی) کے طلبا کو مدد فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی امداد کے ذریعے اہل طلبا کو معیاری اعلیٰ تعلیم کے اخراجات پورے کرنے اور اپنی معاشی صورتحال کی وجہ سے کسی رکاوٹ کے بغیر پیشہ ورانہ اور تعلیمی پروگراموں کی تعلیم حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

ڈاکٹر کمار نے مزید بتایا کہ 2014-15 سے 2025-26 تک اس جزو کے تحت تقریباً 703.44 کروڑ روپے خرچ کیے گئے اور مجموعی طور پر 35,237 مستفیدین رہے۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ اخراجات 2014-15 میں 1,568 مستفیدین کے لیے 19.37 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2025-26 میں 4,742 مستفیدین کے لیے 117.19 کروڑ روپے ہوگئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2025-26 کے دوران ریکارڈ کیا گیا خرچ اس پوری مدت میں سب سے زیادہ رہا۔

ڈاکٹر کمار نے نیشنل اوورسیز اسکالرشپ اسکیم (این او ایس) کو ایک اہم تبدیلی لانے والی اسکیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے اہل درج فہرست ذات (ایس سی) کے طلبا کو بیرون ملک معروف تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم سماجی طور پر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبا کے لیے بین الاقوامی تعلیمی تجربات اور اعلیٰ تعلیمی مواقع تک رسائی کو وسعت دیتی ہے۔

مرکزی وزیر نے بتایا کہ 2014-15 سے 2025-26 تک کے انتخابی برسوں کے دوران اس اسکیم کے تحت تقریباً 461.57 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس مدت کے دوران 764 مستفیدین اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک گئے، جن کی تعداد 2014-15 میں 20 سے بڑھ کر 2023-24 میں سب سے زیادہ 114 ہوگئی۔ اس کے بعد 2024-25 میں 80 مستفیدین بیرون ملک گئے، جبکہ 2025-26 میں 67 مستفیدین کی اطلاع دی گئی۔ مرکزی وزیر نے مزید بتایا کہ 2025-26 میں اس جزو کے تحت 54.89 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ نیشنل فیلوشپ فار ایس سی اسٹوڈنٹس (این ایف ایس سی) کے تحت اعلیٰ تعلیم اور تحقیقی پروگراموں میں مصروف درج فہرست ذات (ایس سی) کے اسکالرز کو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیلوشپ اعلیٰ سطحی تعلیمی تحقیق میں شرکت کو فروغ دیتی ہے اور اسکالرز کو تدریس، تحقیق اور علم پر مبنی دیگر شعبوں میں اپنا کیریئر بنانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

مرکزی وزیر نے بتایا کہ 2014-15 سے 2025-26 تک این ایف ایس سی کے تحت تقریباً 2,199.28 کروڑ روپے خرچ کیے گئے اور مجموعی طور پر 59,039 مستفیدین رہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2025-26 کے دوران اخراجات بڑھ کر 213.45 کروڑ روپے ہوگئے، جس سے 4,218 اسکالرز مستفید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ 2024-25 کے مقابلے میں اضافہ ہے، جب 4,143 مستفیدین کے لیے 209.50 کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ اپنے چار بڑے اجزا کے ذریعے ایس ایچ آر ای وائی اے ایس-’شریس‘مسابقتی امتحانات کی تیاری اور اعلیٰ تعلیمی اداروں تک رسائی سے لے کر بیرون ملک تعلیم اور اعلیٰ سطحی تحقیق تک تعلیمی معاونت کا ایک مسلسل سلسلہ فراہم کرتی ہے۔ یہ اسکیم معیاری تعلیم تک مساوی رسائی کو فروغ دینے اور سماجی طور پر پسماندہ برادریوں کے نوجوان ہونہار طلبا کو ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ خواہشات کو پورا کرنے کے قابل بنانے کے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

***

 ش ح – ظ الف –  ن ع

UR No. 3591


(ریلیز آئی ڈی: 2310596) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी