سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
کچرا جمع کرنے والے مزدور سے سوچھتا ادیمی تک: باوقار اور خود کفیل زندگی کی جانب بالمالا ملّی کا سفر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 SEP 2026 4:20PM by PIB Delhi
محدود آمدنی، سماجی طور پر الگ تھلگ رہنا اور تعلیمی مواقع کی کمی معاشی طور پر پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والے صفائی کارکنوں کے لیے محفوظ مستقبل بنانے کے امکانات کو محدود کرسکتی ہے۔ بروقت مالی معاونت اور مشینی صفائی کے آلات تک رسائی ایسے کمزور روزگار کو زیادہ محفوظ اور پائیدار آمدنی کے ذرائع میں تبدیل کرنے میں مدد کرسکتی ہے۔
نمستے اسکیم کے سوچھتا ادیمی یوجنا (ایس یو وائی) جزو کے تحت فراہم کی جانے والی معاونت کے مثبت اثرات کی مثال پیش کرتے ہوئے 30 سالہ بالمالا ملی، جو درج فہرست قبائلی برادری سے تعلق رکھتے ہیں، زیادہ معاشی استحکام اور باوقار زندگی کی جانب آگے بڑھے ہیں۔ پانچ افراد پر مشتمل ایک گروپ کے مشترکہ منصوبے کے تحت انہیں تینوں کام جیٹنگ، گرابنگ اور راڈنگ کرنے والی مشین خریدنے کے لیے مالی معاونت فراہم کی گئی، جس سے ان کے ساتھ ساتھ گروپ کے دیگر ارکان کے لیے بھی آمدنی کا ایک اضافی ذریعہ پیدا ہوا۔
جناب ملی گزشتہ دس برس سے آندھرا پردیش میں گنٹور میونسپل کارپوریشن کے ساتھ کچرا چننے کا کام کر رہے تھے۔ وہ ہفتے میں چھ دن کام کرتے تھے اور روزانہ تقریباً 150 سے 200 روپے کماتے تھے۔
غربت کے باعث جناب ملی اسکول نہیں جا سکے۔ ان کے والدین انتہائی غریب تھے اور وہ کم عمری میں ہی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کے بجائے اپنے والدین کے ساتھ کچرا چننے کے کام میں ہاتھ بٹانے لگے تھے۔ شہری کچی آبادی میں رہنے والے درج فہرست قبائلی برادری کے ایک ناخواندہ فرد کی حیثیت سے انہیں سماجی امتیاز، محرومی اور ضروری سہولیات و خدمات تک محدود رسائی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
ان کی اہلیہ گھریلو خاتون ہیں اور اس جوڑے کے تین بچے ہیں، جو ابتدائی جماعتوں میں زیر تعلیم ہیں۔ خاندان کے مشکل سماجی و معاشی حالات کے باوجود جناب ملی کی خواہش تھی کہ وہ معاشی طور پر خود کفیل بنیں اور اپنے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرتے ہوئے ان کے لیے ایک بہتر مستقبل یقینی بنائیں۔
مورخہ 19 جون 2023 کو نیشنل صفائی کرمچاریز فائنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس کے ایف ڈی سی) نے ایس یو وائی کے تحت جناب ملی اور چار دیگر افراد پر مشتمل گروپ کے مشترکہ منصوبے کے لیے مالی معاونت فراہم کی۔ اس معاونت سے گروپ کو مشینی صفائی کے کام کے لیے تھری اِن ون جیٹنگ، گرابنگ اور راڈنگ مشین خریدنے میں مدد ملی۔
اس پروجیکٹ کی مجموعی لاگت 49,40,710 روپے تھی۔ اس کے لیے 30,80,530 روپے کا قرض اور 18,60,180 روپے کی پیشگی سرمایہ سبسڈی فراہم کی گئی۔ مشین تک رسائی نے گروپ کے ارکان کے لیے روزگار کے مواقع میں اضافہ کیا اور انہیں زیادہ محفوظ اور موثر مشینی طریقوں کے ذریعے صفائی کے کام انجام دینے کے قابل بنایا۔
معاونت حاصل کرنے سے پہلے جناب ملی کچرا چننے کے کام سے تقریباً 8,000 روپے ماہانہ کماتے تھے۔ تھری اِن ون مشین حاصل کرنے کے بعد انہیں ہر ماہ مزید 10,000 روپے کی آمدنی ہونے لگی، جس سے ان کی مجموعی ماہانہ آمدنی بڑھ کر تقریباً 18,000 روپے ہوگئی۔

آمدنی میں اضافے سے جناب ملی اب گھریلو اخراجات زیادہ آسانی سے پورے کر پا رہے ہیں، اپنے بچوں کی تعلیم میں تعاون کر رہے ہیں اور ان معاشی مشکلات کا سامنا کرنے میں بھی کامیاب ہو رہے ہیں جن سے پہلے ان کا خاندان متاثر ہوتا تھا۔ اس اقدام سے ان کے روزگار کو مضبوطی ملی ہے اور انہیں زیادہ مستحکم اور باوقار زندگی گزارنے میں مدد حاصل ہوئی ہے۔
جناب ملی کا سفر ظاہر کرتا ہے کہ مالی معاونت، اجتماعی کاروبار اور مشینی صفائی کے آلات صفائی کارکنوں کے روزگار کو زیادہ محفوظ بنانے میں کس طرح مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ کم اجرت پر کچرا چننے کے کام پر انحصار کرنے سے لے کر وہ اب ایک ایسے گروپ کے کاروبار کا حصہ بن گئے ہیں جہاں آمدنی کے بہتر مواقع اور اپنے خاندان کے مستقبل کے حوالے سے زیادہ اعتماد حاصل ہوا ہے۔
معاونت کے بارے میں بات کرتے ہوئے جناب ملی نے کہا، “اس معاونت سے میری آمدنی بڑھانے اور اپنے بچوں کو بہتر تعلیم اور زیادہ محفوظ مستقبل فراہم کرنے میں مدد ملی ہے۔ اب مجھے اپنے خاندان کی بہتر کفالت کرنے اور باوقار زندگی گزارنے کے حوالے سے زیادہ اعتماد محسوس ہوتا ہے۔”
آج وہ معاشی خود انحصاری کی جانب آگے بڑھ رہے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں کہ ان کے بچوں کو وہ تعلیم اور مواقع حاصل ہوں جو غربت کے باعث انہیں نہیں مل سکے۔ ان کی پیش رفت نمستے اسکیم کے سوچھتا ادیمی یوجنا (ایس یو وائی) جزو کے اس اہم کردار کی عکاسی کرتی ہے جو صفائی کارکنوں کے لیے تحفظ، وقار اور پائیدار روزگار کو فروغ دینے میں ادا کیا جا رہا ہے۔
***
ش ح۔ت ف ۔ ا ک م
U No. 3585
(ریلیز آئی ڈی: 2310591)
وزیٹر کاؤنٹر : 6