وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
حکومت نے ملک بھر میں ڈیری بنیادی ڈھانچے، مویشیوں کی ترقی اور دودھ کی فراہمی کو مضبوط کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 JUL 2026 4:49PM by PIB Delhi
حکومت ہند نے آج لوک سبھا میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے دودھ کی پروسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے، مویشیوں کی ترقی، چارے کی دستیابی اور منڈی تک رسائی میں مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے ڈیری اور مویشی پروری کے شعبوں کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
دودھ کی مناسب قیمت ملنے سے متعلق خدشات کا جواب دیتے ہوئے حکومت نے ایوان کو بتایا کہ مویشی پروری اور دودھ کی صنعت کے محکمے کو ایسی کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ دودھ کی پروسیسنگ یا کولڈ چین کی ناکافی سہولیات کی وجہ سے کسانوں کو دودھ کی مناسب قیمت نہیں مل پا رہی ہے۔ دودھ کی خریداری کی قیمتیں موجودہ بازار کی صورت حال کے مطابق ڈیری کوآپریٹیو اداروں اور نجی ڈیری کمپنیوں کی جانب سے طے کی جاتی ہیں۔
ملک بھر میں ڈیری بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے محکمہ دو اہم اسکیمیں نافذ کر رہا ہے:
- دودھ کی صنعت کی ترقی کا قومی پروگرام (این پی ڈی ڈی )
- مویشی پروری بنیادی ڈھانچہ ترقیاتی فنڈ (اے ایچ آئی ڈی ایف)
دودھ کی صنعتوں کی ترقی کے لیے چلائے جارہےقومی پروگرام کے تحت مدھیہ پردیش کے بھنڈ اور دتیا اضلاع کو دودھ کی خریداری کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ حکومت نے درج ذیل اقدامات کی منظوری دی ہے:
- بھنڈ ضلع میں 3,000 لیٹر گنجائش والے ایک بلک ملک کولر کی تنصیب۔
- بھنڈ میں 34 اور دتیا میں 14 ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیز(ڈی سی ایسز)میں دودھ جمع کرنے کا بنیادی ڈھانچہ قائم کرنا۔
حکومت نے یہ بھی بتایا کہ مویشی پروری بنیادی ڈھانچہ ترقیاتی فنڈ(اے ایچ آئی ڈی ایف)اسکیم کے تحت ان اضلاع سے کسی منصوبے کی تجویز موصول نہیں ہوئی ہے۔
مویشیوں کی خوراک اور چارے کی بڑھتی ہوئی لاگت سے نمٹنے کے لیے حکومت نے قومی مویشی مشن(این ایل ایم)کے جاری نفاذ کو اجاگر کیا۔ اس مشن کے تحت:
- 1.62 لاکھ ٹن چارے کے بیج تیار کیے گئے ہیں۔
- خوراک اور چارے سے متعلق 204 کاروباری یونٹس کو منظوری دی گئی ہے۔
- مقامی سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور مویشی پالنے والے کسانوں کے لیے پیداواری لاگت کم کرنے کے مقصد سے 19 ریاستوں میں چارے پر مرکوز 100 کسان پروڈیوسر تنظیمیں (ایف پی اوز)قائم کی گئی ہیں۔
قومی دارالحکومت میں دودھ کی فراہمی کے بارے میں حکومت نے بتایا کہ قومی ڈیری منصوبہ مرحلہ اول کے تحت کرائے گئے‘‘بھارت میں دودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات کی مانگ کے مطالعے’’ کے مطابق، دہلی میں دودھ کی مانگ 2019 میں 111 لاکھ لیٹر یومی(ایل ایل پی ڈی) تھی، جو 2030 تک بڑھ کر 173.5 لاکھ لیٹر یومیہ ہونے کا اندازہ ہے۔
دہلی میں دودھ کی موجودہ مانگ مدر ڈیری، جی سی ایم ایم ایف (امول)، دہلی ملک اسکیم(ڈی ایم ایس)، کومفیڈ(سی او ایم ایف ای ڈی)، کرناٹک ملک فیڈریشن(کے ایم ایف) اور نجی ڈیریوں کے ذریعے پوری کی جا رہی ہے۔ یہ تمام ادارے بھارتی غذائی تحفظ اور معیارات اتھارٹی(ایف ایس ایس اے آئی) کی جانب سے مقرر کردہ غذائی تحفظ کے معیارات کی پابندی کرتے ہیں۔ حکومت نے بتایا کہ فی الحال اضافی اقدامات کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ موجودہ سپلائی انتظامات مانگ کو مناسب طور پر پورا کر رہے ہیں۔
قومی مویشی ترقیاتی فریم ورک کی مجوزہ تشکیل سے متعلق ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے حکومت نے واضح کیا کہ آئین کے تحت مویشی پروری ریاستی موضوع ہے اور مویشیوں کی ترقی سے متعلق جامع قومی قانون بنانے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔
تاہم، حکومت نے زور دیا کہ وہ راشٹریہ گوکل مشن(آر جی ایم)، قومی مویشی مشن(این ایل ایم) مویشی صحت اور بیماریوں پر قابو پانے کا پروگرام(ایل ایچ ڈی سی پی)، قومی پروگرام برائے ڈیری ترقی (این پی ڈی ڈی )اور مویشی پروری بنیادی ڈھانچہ ترقیاتی فنڈ(اے ایچ آئی ڈی ایف)جیسی اہم اسکیموں کے ذریعے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی مسلسل مدد کر رہی ہے۔
حکومت نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس شعبے کی مضبوط کارکردگی کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا:
- دودھ کی پیداوار 15-2014 میں 146.31 ملین ٹن سے بڑھ کر 25-2024 میں 248.87 ملین ٹن ہو گئی ہے، جو 70 فیصد اضافے کی نمائندگی کرتی ہے۔
- اسی مدت کے دوران انڈوں کی پیداوار 78.48 ارب سے بڑھ کر 149.11 ارب ہو گئی ہے، جو 90 فیصد اضافہ ہے۔
برآمدات کو مزید فروغ دینے اور مویشیوں کی شناخت و نگرانی کو بہتر بنانے کے لیے محکمہ نے نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ(این ڈی ڈی بی)کے تعاون سے ‘‘بھارت پشو دھن’’ ڈیٹا بیس تیار کیا ہے، جو مویشیوں کے لیے منفرد 12 ہندسوں کی ٹیگ آئی ڈی پر مبنی ہے۔ حکومت اے ایچ آئی ڈی ایف اور این ایل ایم کے ذریعے سرمایہ کاری کو بھی فروغ دے رہی ہے، جبکہ مویشی صحت اور بیماریوں پر قابو پانے کے پروگرام کے تحت بیماریوں سے پاک زون قائم کرنے اور بھارتی مویشی مصنوعات کی برآمد کے مواقع بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکومت نے ڈیری بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے، مویشیوں کی پیداواری صلاحیت بہتر بنانے، ویلیو چین کو مضبوط کرنے، کسانوں کی مدد کرنے، غذائی تحفظ یقینی بنانے اور بھارت کے ڈیری و مویشی پروری کے شعبے کی عالمی مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
***
ش ح۔ع و ۔ م ذ
UR. No. 3574
(ریلیز آئی ڈی: 2310446)
وزیٹر کاؤنٹر : 2