قومی انسانی حقوق کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

این ایچ آر سی، انڈیا نے ستمبر 2026 کے لیے دو ہفتے پر مشتمل آن لائن مختصر مدتی انٹرن شپ پروگرام کا آغاز کیا


ایک ہزار سے زائد درخواست دہندگان میں سے مختلف تعلیمی پس منظر رکھنے والے یونیورسٹی سطح کے 100 طلبہ کا انتخاب کیا گیا

چیئرپرسن جسٹس وی راما سبرامنیمین نے انٹرن کو تاکید کی کہ وہ انٹرن شپ میں شامل ہونے کے مقصد پر غور کریں تاکہ سیکھنے کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے

رکن جسٹس (ڈاکٹر) بدیوت رنجن سارنگی نے کہا کہ انسانی حقوق کی حقیقت اور جوہر کو سمجھنا انٹرن کے لیے زندگی میں مددگار ثابت ہوگا

رکن وجیا بھارتی سائیانی نے انٹرن سے کہا کہ وہ قانون کی نظریاتی سمجھ سے آگے بڑھیں اور نچلی سطح پر حساسیت کے ساتھ مشاہدہ کریں، سنیں، سوال کریں، تجزیہ کریں اور عمل کریں

سکریٹری جنرل جناب پیوش گوئل نے انسانی حقوق کو ایک وسیع اور باریک نکات پر مشتمل شعبہ قرار دیتے ہوئے انٹرن کو اس کے متنوع پہلوؤں کو سمجھنے کی تاکید کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 SEP 2026 7:56PM by PIB Delhi

قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی)، بھارت کے یونیورسٹی طلبہ کے لیے ستمبر 2026 کے دو ہفتے پر مشتمل آن لائن مختصر مدتی انٹرن شپ پروگرام کا آج نئی دہلی کے مانو ادھیکار بھون میں آغاز ہوا۔ این ایچ آر سی، بھارت کے چیئرپرسن جسٹس وی راما سبرامنیمین نے پروگرام کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر این ایچ آر سی، بھارت کے اراکین جسٹس (ڈاکٹر) بدیوت رنجن سارنگی اور محترمہ وجیا بھارتی سائیانی، سکریٹری جنرل جناب پیوش گوئل، جوائنٹ سکریٹری محترمہ سائیڈنگ پوئی چھک چھواک اور ڈپٹی سکریٹری محترمہ وینیتھا اوٹاپرکل کَلڈا بھی موجود تھیں۔ اس پروگرام میں مختلف تعلیمی پس منظر رکھنے والے کل 100 طلبہ شرکت کر رہے ہیں، جن کا انتخاب ایک ہزار سے زائد درخواست دہندگان میں سے کیا گیا ہے۔

alt

انٹرن سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس وی راما سبرامنیمین نے کہا کہ وہ انٹرن شپ میں شامل ہونے کے مقصد پر غور کریں تاکہ اس کے ذریعے حاصل ہونے والے سیکھنے کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام اس وقت اپنے مقصد کو حاصل کرے گا جب انٹرن انسانی حقوق کے نقطۂ نظر سے معاشرے کو دیکھنا سیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی خبر کی مختلف تشریحات ہو سکتی ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ علم اور بیداری کی اہمیت کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ یہی کسی صورت حال کو باخبر انداز میں سمجھنے اور معاشرے میں بامعنی کردار ادا کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

alt

این ایچ آر سی، بھارت کے رکن جسٹس (ڈاکٹر) بدیوت رنجن سارنگی نے کہا کہ انسانی حقوق کی حقیقت اور جوہر کو سمجھنا انٹرن کے لیے زندگی میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ انٹرن کے پاس علم موجود ہے، تاہم زندگی کے ہر مرحلے پر انسانی حقوق کی اقدار کو بامعنی طور پر بروئے کار لانے کے لیے عملی تجربہ حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔

این ایچ آر سی، بھارت کی رکن محترمہ وجیا بھارتی سائیانی نے اس بات پر زور دیا کہ ہر فرد کو وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے انٹرن کو تاکید کی کہ وہ قانون کی نظریاتی سمجھ سے آگے بڑھیں اور نچلی سطح پر حساسیت کے ساتھ مشاہدہ کریں، سنیں، سوال کریں، تجزیہ کریں اور عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، مساوات، آزادی اور اخوت کو عملی زندگی کی اقدار بننا چاہیے اور یہ محض آئین کی تمہید میں درج الفاظ بن کر نہیں رہنے چاہئیں۔ انہوں نے انٹرن کو قانون کے ساتھ ساتھ لوگوں سے بھی سیکھنے کی ترغیب دی۔

این ایچ آر سی، بھارت کے سکریٹری جنرل جناب پیوش گوئل نے انسانی حقوق کو ایک وسیع اور باریک نکات پر مشتمل شعبہ قرار دیتے ہوئے انٹرن سے کہا کہ وہ اس کے متنوع پہلوؤں کو سمجھیں، اجتماعی طور پر کام کریں اور انسانی وقار کے استحکام میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے ان کے لیے کامیاب اور بامقصد انٹرن شپ کی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

این ایچ آر سی، بھارت کی جوائنٹ سکریٹری محترمہ سائیڈنگ پوئی چھک چھواک نے دو ہفتے پر مشتمل پروگرام کا جائزہ پیش کیا، جس میں 20 ممتاز مقررین کے تقریباً 30 لیکچر شامل ہوں گے۔ ان مقررین میں اعلیٰ سرکاری عہدیداران، ماہرین تعلیم، سول سوسائٹی کے نمائندگان، انسانی حقوق کے محافظین، این ایچ آر سی کے افسران، بین الاقوامی اداروں کے نمائندگان اور متعلقہ موضوعات کے ماہرین شامل ہیں۔ انٹرنز پولیس اسٹیشن، تہاڑ جیل وغیرہ جیسے مقامات کے ورچوئل دورے بھی کریں گے تاکہ ان کے کام کاج اور درپیش چیلنجوں کو سمجھ سکیں۔

alt

                                               ********

ش ح۔ ف ش ع

                                                                                                                                       U: 3448


(ریلیز آئی ڈی: 2310294) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी