قومی انسانی حقوق کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

قومی انسانی حقوق کمیشن، بھارت کا انسانی حقوق پر مبنی پانچواں آئی ٹیک ایگزیکٹو کیپیسٹی بلڈنگ پروگرام، جو گلوبل ساؤتھ کے قومی انسانی حقوق کے اداروں کے اعلیٰ حکام کے لیے وزارتِ خارجہ کے اشتراک سے منعقد کیا جا رہا ہے، نئی دہلی میں شروع ہو گیا ہے


چھ روزہ پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن، بھارت کے چیئرپرسن، جسٹس شری وی راماسبرامنیم نے کہا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں بدلتی ہوئی سماجی اقدار انسانی حقوق کے لیے سنگین چنوتیاں پیدا کر رہی ہیں

انہوں نے ایسی ابھرتی ہوئی تکنالوجیوں پر روشنی ڈالی جو موت کے بعد زندگی کے حق، بھول جانے کے حق یا ڈیٹا مٹانے کے حق پر سوالات اٹھا رہی ہیں، جو انسانی زندگی کے لیے چنوتیاں اور ممکنہ فوائد دونوں پیش کرتی ہیں

اس پس منظر میں، نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن، بھارت کی جانب سے شروع کیے گئے انسانی حقوق پر مبنی 'آئی ٹیک' کیپیسٹی بلڈنگ پروگرام جیسے پلیٹ فارمز انتہائی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 SEP 2026 8:23PM by PIB Delhi

قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی)، بھارت کی جانب سے وزارتِ خارجہ (ایم ای اے) کے تعاون سے گلوبل ساؤتھ کے قومی انسانی حقوق کے اداروں (این ایچ آر آئیز) کے لیے منعقد کیا جانے والا پانچواں انڈین ٹیکنیکل اینڈ اکنامک کوآپریشن (آئی ٹیک) ایگزیکٹو کیپیسٹی بلڈنگ پروگرام آج نئی دہلی میں شروع ہو گیا۔

گلوبل ساؤتھ کے 14 ممالک کے قومی انسانی حقوق کے اداروں کے تقریباً 38 شرکاء اس پروگرام میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان شریک ممالک میں الجزائر، چلی، ایکواڈور، ایتھوپیا، انڈونیشیا، قازقستان، کینیا، کرغزستان، ملائیشیا، عمان، ساموا، جنوبی افریقہ، تاجکستان اور زمبابوے شامل ہیں۔

قومی انسانی حقوق کمیشن، بھارت کے چیئرپرسن جسٹس وی راماسبرامنیم نے اپنے افتتاحی خطاب میں شریک ممالک کے ساتھ بھارت کے دیرینہ اور بہترین تعلقات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد معلومات کا تبادلہ کرنا اور انسانی معاشرے کی بہتری کے لیے اس کا اطلاق کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت میں انسانی فلاح و بہبود کے مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے اعلیٰ اور نیک خیالات کو فروغ دینے اور انہیں دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے کی ایک طویل روایت موجود ہے۔

alt

اس تناظر میں، انہوں نے قدیم بھارتی روایات کا حوالہ دیا جو رگ وید اور یجروید کے تیتریہ اپنشد میں ملتی ہیں۔ انہوں نے 'زینیا' کے نام سے مشہور قدیم یونانی تصور کا بھی حوالہ دیا، جو میزبانوں پر اپنے مہمانوں کا احترام کرنے اور مہمانوں پر اپنے علم کو بانٹنے کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔

چیئرپرسن نے شریک ممالک میں انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے موجود مختلف آئینی ڈھانچوں کا اعتراف کیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ شرکاء اس پروگرام کو معلوماتی، جامع اور بامقصد پائیں گے، اور نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن، بھارت کے ساتھ ایک مستقل تعلق قائم کرتے ہوئے کمیشن کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔

alt

بعد میں، افتتاح کے بعد پہلے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے، جسٹس راماسبرامنیم نے کہا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں بدلتی ہوئی سماجی اقدار انسانی حقوق کے لیے سنگین چنوتیاں پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ گزشتہ 100 برسوں کے دوران، خاندان کا بنیادی تصور نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے، یہاں تک کہ اب یہ سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا خاندان کا مطلب صرف ایک مرد اور ایک عورت ہی ہے۔

انہوں نے تیسری اور چوتھی نسل کے حقوق اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز بشمول سنتھیٹک ٹیکنالوجی، انڈسٹریل ٹیکنالوجی، جینوم ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی وجہ سے انسانی حقوق کو درپیش چنوتیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ جسٹس راماسبرامنیم نے نوٹ کیا کہ موت کے بعد زندگی کے حق، بھول جانے کے حق یا ڈیٹا مٹانے کے حق سے متعلق سوالات پر انسانی زندگی کے لیے چنوتیوں اور ممکنہ فوائد دونوں کے طور پر بحث کی جا رہی ہے۔

alt

سڈنی میں قائم بین الاقوامی تھنک ٹینک، 'انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس' کے 2025  کے گلوبل پیس انڈیکس کا حوالہ دیتے ہوئے، چیئرپرسن نے کہا کہ دنیا کے 78  ممالک اس وقت اپنی سرحدوں سے باہر مسلح تنازعات میں مصروف ہیں۔ ان تنازعات کے نتیجے میں انسانی تہذیب اور عالمی معیشت کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے تقریباً 122 ملین افراد پناہ گزینوں یا اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کے طور پر دربدر ہوئے اور عالمی معیشت کو اندازاً 20  ٹریلین ڈالرز کا نقصان پہنچا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسی تناظر میں انسانی حقوق کے اصل معنی اور اہمیت کو سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسی پس منظر میں، نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن، بھارت کی جانب سے شروع کیے گئے 'آئی ٹیک' صلاحیت سازی پروگرام جیسے پلیٹ فارموں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

افتتاحی سیشن کے دوران، نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن، بھارت کے رکن جسٹس (ڈاکٹر) بیدیوت رنجن سارنگی نے اس صلاحیت سازی کے پروگرام کے معنی اور مقصد پر گہرائی سے غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے دوستی اور تعاون کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بین الاقوامی برادری ایک نازک دور سے گزر رہی ہے، اور امن و مکالمے کے جذبے کو برقرار رکھنے کی ضرورت کا اعادہ کیا۔

alt

مختلف ممالک کے نمائندوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے، انہوں نے نوٹ کیا کہ اس طرح کے باہمی روابط وسیع تر افہام و تفہیم اور تعاون کے لیے ایک حوصلہ افزا پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے دنیا کے لیے مل جل کر کام کرنے اور اسے مزید بہتر بنانے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا، اور ایک پرامن اور ہم آہنگ مستقبل کے لیے امید کا اظہار کیا۔

نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن، بھارت کی رکن محترمہ وجیا بھارتی سایانی نے 'وسودھیو کٹمبکم'  یعنی "پوری دنیا ایک کنبہ ہے" کے فلسفے کا حوالہ دیا، جو تمام شرکاء کو ایک لڑی میں پروتا ہے ۔ بھارت کی وسعت اور تنوع پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے نوٹ کیا کہ یہ ملک اپنی کثیر آبادی، 22  سرکاری زبانوں، متنوع مذہبی روایات اور اپنی 28 ریاستوں اور 8 مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں پھیلے ہوئے مختلف رسم و رواج اور تہواروں کے باوجود کثرت میں وحدت کی ثقافت کی بدولت متحد اور مستحکم ہے ۔

alt

انہوں نے مختلف نقطہ ہائے نظر کے احترام پر زور دیا اور کمزور طبقات کے تحفظ اور ہر فرد کے وقار کو پائیدار تہذیبی اقدار کے طور پر برقرار رکھنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہمدردی، جوابدہی اور مساوات کمیشن کے رہنما اصول ہیں، جو ہر فرد کے حقوق کے محافظ کے طور پر اس کے کردار کو متعین کرتے ہیں۔

نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن، بھارت کے سیکرٹری جنرل جناب پیوش گوئل نے پروگرام کے اس پانچویں ایڈیشن میں شرکت کرنے والے 14 قومی انسانی حقوق کے اداروں کے چیئرپرسنز، مندوبین اور نمائندوں کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے 2023 میں اپنے پہلے ایڈیشن کے بعد سے آئی ٹیک پہل قدمی کی مستقل ترقی پر روشنی ڈالی اور نوٹ کیا کہ گزشتہ برسوں کے فیڈ بیک کی بنیاد پر اس میں مسلسل بہتری لائی گئی ہے تاکہ اسے شریک اداروں کے لیے مزید مفید اور کارآمد بنایا جا سکے۔

alt

انہوں نے پروگرام کے عملی طریقہ کار پر روشنی ڈالی، جس میں لیکچرز، موضوعاتی سیشنز، باہمی مباحثے، ماہرینِ مضامین کی پریزنٹیشنز، ممالک کی پیشکشیں اور فیلڈ وزٹس شامل ہیں۔ انہوں نے مندوبین کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ مختلف قانونی ڈھانچوں کے تحت کام کرنے والے اداروں کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ماہرینِ مضامین اور ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ خیال کریں۔

alt

نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن، بھارت کے جوائنٹ سیکرٹری جناب سمیر کمار نے تمام شرکاء کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہا اور یہ واضح کیا کہ 'آئی ٹیک' پروگرام صرف صلاحیتوں میں اضافے کا ذریعہ ہی نہیں ہے، بلکہ یہ گلوبل ساؤتھ کے قومی انسانی حقوق کے اداروں کے درمیان دوستی، پیشہ ورانہ تبادلے اور مستقل شراکت داری کی ایک بنیاد ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف ادارہ جاتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے ساتھیوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنا مشترکہ مقاصد تلاش کرنے اور ایک دوسرے کے اداروں کو مضبوط بنانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔

alt

نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن، بھارت کی جوائنٹ سیکرٹری محترمہ سائڈنگ پوئی چھاکچھوک کی جانب سے پیش کیے گئے کلماتِ تشکر میں، اس پروگرام کے انعقاد کے لیے وزارتِ خارجہ سے ملنے والے تعاون اور تمام مندوبین کی مشترکہ شرکت کا گرمجوشی سے اعتراف کیا گیا۔

alt

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:3450


(ریلیز آئی ڈی: 2310279) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English