شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت نے اسکالرشپس اور ڈیجیٹل اصلاحات کے ذریعے تعلیمی بااختیاری کو مستحکم کیا


مالی سال 2014-15 سے مالی سال 2025-26 کے دوران ایس سی طلباء کے لیے پری میٹرک اسکالرشپ کے تحت 4,893.03 کروڑ روپے اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کے تحت 46,581.54 کروڑ روپے جاری کیے گئے

ڈی بی ٹی، آدھار پر مبنی تصدیق اور ڈیجیٹل تصدیق سے شفافیت اور اسکالرشپ کی فراہمی مستحکم ہوئی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 SEP 2026 7:15PM by PIB Delhi

سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کے سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کے محکمے نے درج فہرست ذاتوں (ایس سیز)، دیگر پسماندہ طبقات (او بی سیز)، معاشی طور پر پسماندہ طبقات (ای بی سیز) اور غیر اطلاع یافتہ، خانہ بدوش اور نیم خانہ بدوش قبائل (ڈی این ٹیز) کے لیے تعلیم تک مساوی رسائی کو مستحکم کرنے کے مقصد سے ہدف پر مبنی اقدامات کیے ہیں۔

سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کے سکریٹری جناب سدھانش پنت نے کہا کہ محکمہ تعلیمی تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے معاونت فراہم کر رہا ہے اور اسکالرشپ، رہائشی بنیادی ڈھانچے، بیرونِ ملک تعلیم کے لیے مالی امداد، فیلوشپ، کوچنگ اقدامات اور ڈیجیٹل اصلاحات کے ذریعے سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات کے لیے مالی رکاوٹوں کو کم کر رہا ہے۔

جناب پنت نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد معیاری تعلیمی اداروں تک رسائی کو بہتر بنانا اور تعلیم کے مختلف مراحل میں طلباء کی معاونت کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسکالرشپ کی شفاف فراہمی، مستفیدین کی تصدیق اور براہِ راست فوائد کی منتقلی (ڈی بی ٹی) سے فعال نظام پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔

سکریٹری نے بتایا کہ درج فہرست ذاتوں اور دیگر کے لیے پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم ایک مرکزی اسپانسر شدہ اسکیم ہے، جس کا مقصد خواندگی کو فروغ دینا، اسکول چھوڑنے کی شرح کو کم کرنا اور میٹرک سے قبل کی سطح پر تعلیم کا تسلسل یقینی بنانا ہے۔ یہ اسکیم درج فہرست ذاتوں سے تعلق رکھنے والے بچوں اور غیر صحت بخش اور پرخطر پیشوں میں مصروف والدین یا سرپرستوں کے بچوں کی مدد کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہدف پر مبنی مالی امداد کے ذریعے یہ اسکیم تعلیمی شمولیت کو مستحکم کرتی ہے اور پسماندہ پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلباء کو اپنی اسکولی تعلیم جاری رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

جناب پنت نے بتایا کہ مالی سال 2014-15 سے مالی سال 2025-26 کے دوران اس اسکیم کے تحت 4,893.03 کروڑ روپے کی مرکزی امداد جاری کی گئی، جس کے تحت اس مدت کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 299.66 لاکھ سالانہ مستفیدین رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صرف مالی سال 2025-26 کے دوران 562.36 کروڑ روپے جاری کیے گئے، جس سے 26.79 لاکھ طلباء مستفید ہوئے۔

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ درج فہرست ذاتوں کے طلباء کے لیے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم ایک مرکزی اسپانسر شدہ اہم پہل ہے، سکریٹری نے کہا کہ یہ اسکیم معاشی طور پر پسماندہ درج فہرست ذاتوں کے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کے درمیان اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اسکیم کا مقصد ثانوی تعلیم کے بعد درپیش مالی رکاوٹوں کو کم کرنا، طلباء کو تعلیم میں برقرار رکھنے کو مستحکم کرنا اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ایس سی طلباء کے مجموعی شرحِ داخلہ کو بڑھانا ہے۔

سکریٹری نے مزید بتایا کہ مالی سال 2014-15 سے مالی سال 2025-26 کے دوران اسکیم کے تحت 46,581.54 کروڑ روپے کی مرکزی امداد جاری کی گئی، جس سے اس مدت کے دوران مجموعی طور پر 612.98 لاکھ سالانہ مستفید ہوئے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران 6,186.95 کروڑ روپے کی مرکزی امداد جاری کی گئی، جس سے 47.53 لاکھ طلباء مستفید ہوئے۔

ڈیجیٹل اصلاحات شفافیت اور مستفید ہونے والوں کی تصدیق کو مستحکم  کرتی ہیں

شفافیت اور تصدیق کو مستحکم کرنے کے لیے ڈیجیٹل اصلاحات کی وضاحت کرتے ہوئے جناب پنت نے کہا کہ مالی سال 2021-22 سے محکمہ نے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم کو ڈی بی ٹی پر مبنی فریم ورک میں تبدیل کر دیا ہے، جس سے مستفیدین کے آدھار سے منسلک بینک کھاتوں میں اسکالرشپ کی رقم براہِ راست منتقل کرنے میں سہولت فراہم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اصلاح سے جواب دہی مستحکم ہوئی ہے، تاخیر اور رساؤ میں کمی آئی ہے اور آخری سرے تک اسکالرشپ کی فراہمی بہتر ہوئی ہے۔

سکریٹری نے مزید کہا کہ محکمہ نے بائیو میٹرک تصدیق اور مستفیدین و عہدیداروں کی ای-کے وائی سی پر مبنی تصدیق کے ساتھ ساتھ جعلی اور نقل مستفیدین کی شناخت اور انہیں ختم کرنے کے لیے ڈی ڈپلیکیشن میکانزم متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجی لاکر اور اے پی آئی سی ای ٹی یو (اے پی آئی سیٹو )کے ساتھ انضمام سرٹیفکیٹ اور دستاویزات کی ڈیجیٹل تصدیق میں سہولت فراہم کرتا ہے۔

جناب پنت نے بتایا کہ مختلف اسکیموں اور تعلیمی سالوں میں مستفیدین کا سراغ رکھنے کے لیے ون ٹائم رجسٹریشن متعارف کرائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی ایس ایچ ای، یو ڈی آئی ایس ای، این سی وی ٹی اور ایس سی وی ٹی ڈیٹا بیس کے ساتھ انضمام سے اداروں اور طلباء کے ریکارڈ کی توثیق میں مدد ملتی ہے، جبکہ کثیر سطحی جانچ تضادات اور نقل کو کم کرنے میں معاون ہے۔

سکریٹری نے کہا کہ یو آئی ڈی اے آئی، این پی سی آئی اور پی ایف ایم ایس کے ساتھ روابط اسکالرشپ کی بلارکاوٹ پروسیسنگ اور براہِ راست تقسیم میں مزید مدد کرتے ہیں۔ یہ روابط مستفیدین کی تصدیق کو مستحکم کرتے ہیں، فنڈ کے بہاؤ کے انتظام کو بہتر بناتے ہیں اور اسکالرشپ کی فراہمی کے زیادہ شفاف اور جواب دہ نظام کو فروغ دیتے ہیں۔

سکریٹری نے امید ظاہر کی کہ مسلسل مالی امداد اور ٹیکنالوجی سے چلنے والی اصلاحات کے ذریعے محکمہ پسماندہ طبقات کے لیے تعلیمی مواقع کو مستحکم کرتا رہے گا اور طلباء کو اپنی تعلیم جاری رکھنے اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی حاصل کرنے میں مدد فراہم کرتا رہے گا۔

*****

UR-3446

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2310269) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी