عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈاک ملازمین کی تنظیموں نے انڈیا پوسٹ کو ’نئی شکل دینے‘ پر حکومت کو سراہا، وزیر اعظم مودی کا اسے جدید اور شہریوں پر مرکوز خدمات کے نیٹ ورک میں تبدیل کرنے پر شکریہ ادا کیا


ڈاک ملازمین کی تنظیموں نے ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے ساتھ خدمات کی فراہمی، ملازمین کے مسائل اور انڈیا پوسٹ کی مستقبل میں توسیع پر تبادلہ ٔخیال کیا

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے انڈیا پوسٹ کے ملک گیر نیٹ ورک کو آخری سرے تک عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے ایک اہم اثاثہ قرار دیا

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ انڈیا پوسٹ کے بڑھتے ہوئے سروس نیٹ ورک سے حکومت اور شہریوں کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 SEP 2026 4:54PM by PIB Delhi

محکمہ ڈاک کی تمام ہندوستانی ملازمین کی تنظیموں کے نمائندوں نے انڈیا پوسٹ کو ’نئی شکل دینے‘ پر حکومت کی ستائش کی اور اسے جدید اور شہریوں پر مرکوز خدمات کے نیٹ ورک میں تبدیل کرنے پر وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان تبدیلیوں سے انڈیا پوسٹ کا کردار نمایاں طور پر وسیع ہوا ہے اور ملک بھر کے لوگوں تک شہریوں پر مرکوز مختلف خدمات کی رسائی آسان ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج انڈیا پوسٹ صرف روایتی ڈاک کی ترسیل تک محدود نہیں ہے، بلکہ تیز تر ڈاک ترسیل، آدھار سے متعلق سہولیات، پین اور پاسپورٹ سیوا خدمات، گھر تک بینکاری خدمات اور ڈیجیٹل پنشن خدمات نے عوامی خدمات کی فراہمی میں اس کے کردار کو مزید مضبوط کیا ہے۔

محکمہ ڈاک کی تمام ہندوستانی ملازمین کی تنظیموں کے نمائندوں کے ایک وفد نے آج نئی دہلی کے کرتویہ بھون میں سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات کی۔ وفد نے ڈاک خدمات میں ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ملازمین، ملازمین کی تنظیموں اور پنشنروں سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔

بات چیت کے دوران نمائندوں نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران انڈیا پوسٹ کی خدمات کے دائرہ کار میں ہونے والی توسیع کا ذکر کیا، جس میں متعلقہ خدمات کے تحت 24 گھنٹے کے اندر ڈاک کی ترسیل، آدھار سے متعلق خدمات اور ڈاک کے نیٹ ورک کے ذریعے پین اور پاسپورٹ سیوا کی سہولیات کی دستیابی شامل ہے۔ انہوں نے خاص طور پر دیہی علاقوں میں لوگوں کو گھر کی دہلیز پر بینکاری اور مالیاتی خدمات فراہم کرنے میں انڈیا پوسٹ کے بڑھتے ہوئے کردار کا بھی ذکر کیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ انڈیا پوسٹ میں آنے والی تبدیلی ڈاکیے کے بدلتے ہوئے کردار سے بھی ظاہر ہوتی ہے، جو آج تیزی سے بینکاری اور دیگر ضروری خدمات براہ راست شہریوں تک پہنچا رہا ہے۔ روایتی خط کی ترسیل سے آگے بڑھتے ہوئے ڈاک کا نیٹ ورک اب مالیاتی اور شہری خدمات کی فراہمی کے ایک وسیع پلیٹ فارم میں تبدیل ہو گیا ہے، جس کی وسیع رسائی سرکاری خدمات اور عوام کے درمیان آخری سرے تک رابطے کا ایک اہم ذریعہ بن رہی ہے۔

وزیر نے کہا کہ انڈیا پوسٹ پیمنٹس بینک اور گھر کی دہلیز پر بینکاری خدمات کے دائرہ کار میں توسیع سے ڈاک کے نیٹ ورک کو گاؤں اور گھر گھر تک مالیاتی خدمات پہنچانے میں مدد ملی ہے، جس سے شہریوں کے لیے اپنے گھروں کے قریب بینکاری سہولیات حاصل کرنا آسان ہوا ہے۔ ڈاک کے نیٹ ورک نے پنشنروں کے لیے ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ جیسی خدمات کو بھی وسعت دی ہے، جس سے پنشن سے متعلق ضروری خدمات تک رسائی مزید آسان اور سہل ہوئی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کووڈ-19 عالمی وبا کے دوران ڈاک ملازمین کے اہم کردار کو بھی یاد کیا، جب ملک گیر لاک ڈاؤن کے باوجود ڈاک کے نیٹ ورک نے ضروری خدمات کی فراہمی جاری رکھی۔ ڈاک ملازمین نے شہریوں کے گھروں تک بینکاری خدمات اور نقد رقم پہنچانے میں مدد کی، جبکہ ڈاک کی گاڑیوں اور بنیادی ڈھانچے کو ضروری طبی سامان اور حفاظتی اشیا کی ترسیل اور نقل و حرکت کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔

وزیر نے کہا کہ محکمہ ڈاک کا ملک بھر میں پھیلا وسیع نیٹ ورک عوامی خدمات کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے اور اسے سرکاری پروگراموں، شہریوں تک رسائی اور آخری سرے تک خدمات کی فراہمی کے لیے مزید وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وفد نے بھی عوامی خدمات کی فراہمی اور سرکاری اقدامات کے لیے ڈاک کے نیٹ ورک کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی کوششوں میں تعاون کرنے کی اپنی خواہش ظاہر کی۔

بات چیت کے دوران وفد نے ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے سامنے ڈاک ملازمین سے متعلق خدمات اور تنظیمی امور رکھے، جن میں ملازمین کی تنظیموں کی توثیق اور منظوری، محکمہ جاتی فورمز میں نمائندگی، پنشنروں سے متعلق امور اور کچھ عرصے سے زیر التوا خدمات سے متعلق معاملات شامل تھے۔

وفد نے ملازمین کی بعض زمروں اور ملازمت سے متعلق مراعات کے معاملات بھی اٹھائے۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ جن معاملات پر غور و خوض ضروری ہے، ان پر متعلقہ انتظامی طریقہ کار کے تحت، نافذ العمل قواعد و ضوابط کے ساتھ ساتھ قانونی اور مالی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے غور کیا جائے گا۔

بات چیت کے دوران ڈاک کے نیٹ ورک کے ذریعے شہریوں پر مرکوز خدمات کی فراہمی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت اور سرکاری اقدامات کے لیے اس کی ملک بھر میں وسیع رسائی کا مؤثر استعمال کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفد نے ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا بات چیت کے لیے وقت دینے اور نمائندوں کو اپنے خدمات سے متعلق امور حکومت کے سامنے رکھنے کا موقع فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260914165716_5e8dbf.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image002_20260914165728_888ad5.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image003_20260914165740_88eb70.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image004_20260914165750_e694a6.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image005_20260914165807_944c48.jpg

***

ش ح۔ع و    ۔ ع د                                                 

U-No. 3432


(ریلیز آئی ڈی: 2310193) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी