سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

تدریس سے تحقیقی کامیابی تک: این ایف ایس سی کے ساتھ مِدھیلا رادھاکرشنن کا سفر

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 SEP 2026 5:11PM by PIB Delhi

نیشنل فیلوشپ فار شیڈیولڈ کاسٹ اسٹوڈنٹس (این ایف ایس سی) مالی رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند طلبہ کو ڈاکٹریٹ کی تعلیم جاری رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

محترمہ مِدھیلا رادھاکرشنن کا سفر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس فیلوشپ سے ملنے والی مدد نے انہیں داخلہ لینے، تحقیق پر توجہ مرکوز کرنے اور ایک استاد اور محقق کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے میں کس طرح مدد کی۔

محترمہ مِدھیلا رادھاکرشنن کیرالہ کے تھریسور ضلع سے تعلق رکھنے والی 30 سالہ اسکالر ہیں اور این ایف ایس سی کے تحت ملنے والی مدد سے پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔

وہ اس وقت اپنی ڈاکٹریٹ کی تعلیم کے چوتھے سال میں ہیں اور اس دوران اسکوپس میں شامل جرائد میں ان کے چار تحقیقی مقالے شائع ہو چکے ہیں، جن میں دو کیو 1 اور دو کیو 2 زمرے کے جرائد میں شائع ہوئے ہیں۔

کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کام کرتے ہوئے ان میں تحقیق کو آگے بڑھانے کی خواہش پیدا ہوئی۔ طلبہ کی رہنمائی کے دوران انہیں محسوس ہوا کہ ان کے سوالات کے بہتر جواب دینے اور ان کے تحقیقی منصوبوں میں زیادہ مؤثر طریقے سے مدد کرنے کے لیے اپنے تحقیقی علم کو مزید وسیع کرنا ضروری ہے۔ اسی تجربے نے انہیں ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی۔

تاہم، اس خواہش کو حقیقت میں بدلنے کے لیے مالی مدد کی ضرورت تھی۔ نئی ملازمت شروع کرنے کی وجہ سے کالج سے ملنے والی ان کی تنخواہ کم تھی اور اس سے وہ اپنی ڈاکٹریٹ کی تعلیم کے اخراجات خود پورے نہیں کر سکتی تھیں۔ اگرچہ ان کا خاندان مالی طور پر مستحکم تھا، لیکن پوسٹ گریجویشن مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اپنے اخراجات کے لیے خاندان پر انحصار نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ان کی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے امیدواروں کے لیے فیلوشپ حاصل کرنا ضروری تھا، اس لیے داخلے کے لیے مالی مدد انتہائی اہم تھی۔ 2020 میں این ایف ایس سی فیلوشپ ملنے سے ان کے لیے آگے بڑھنے کی راہ ہموار ہوئی۔ مِدھیلا نے 2022 میں پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلہ لیا اور اسی سال جون سے فیلوشپ کے تحت مالی مدد ملنا شروع ہوئی۔

فیلوشپ، مکان کا کرایہ الاؤنس (ایچ آر اے) اور دیگر اخراجات کے لیے مالی مدد کے ذریعے این ایف ایس سی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی تعلیم سے متعلق اخراجات پورے کرنے میں مدد دی ہے۔ ان کے مطابق انہیں سینئر ریسرچ فیلوشپ کے تحت 42,000 روپے اور ایچ آر اے کے طور پر 8,400 روپے ملتے ہیں۔ مسلسل مالی مدد کی وجہ سے وہ مالی دباؤ کے بغیر اپنی تحقیق پر توجہ مرکوز کر پاتی ہیں اور اپنی تحقیق میں شامل شرکا کو معاوضہ بھی دے پاتی ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260914171217_6230ee.jpg

اسکوپس میں شامل جرائد میں ان کے چار تحقیقی مقالوں کی اشاعت ان کے جاری ڈاکٹریٹ کے سفر میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ فیلوشپ ان کے لیے مسلسل حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنی ہوئی ہے اور اس نے اس تحقیقی مہارت کو فروغ دینے کی کوششوں میں ان کی مدد کی ہے، جس نے انہیں پی ایچ ڈی کرنے کی ترغیب دی تھی۔

مدد اور تعاون کے بارے میں محترمہ مِدھیلا رادھاکرشنن نے کہا، ’’این ایف ایس سی کی مدد سے مجھے پی ایچ ڈی کی تعلیم جاری رکھنے اور مالی دباؤ کے بغیر تحقیق پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملی۔‘‘

مِدھیلا رادھاکرشنن کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ این ایف ایس سی کی مدد کس طرح تحقیق کے خواہش مند افراد کو مالی مشکلات اور داخلے کی رکاوٹوں پر قابو پانے، ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کرنے اور تدریس و علمی میدان میں اپنے کردار کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوئی ہے۔

***

 

 

ش ح۔ع و    ۔ ع د                                                 

U-No. 3433


(ریلیز آئی ڈی: 2310184) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Kannada