سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 پارلیمانی سوال: حکومت کی تیار کردہ ٹیکنالوجی کی تجارت کاری اور منتقلی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 JUL 2026 4:39PM by PIB Delhi

حکومت نے سرکاری تجربہ گاہوں اور تحقیقی اداروں کے ذریعے تیار کی گئی ٹیکنالوجی کو تجارتی طور پر بروئے کار لانے کے لیے کئی ادارہ جاتی اور قومی سطح کے نظام قائم کیے ہیں۔ محکمہ سائنسی و صنعتی تحقیق کے تحت نیشنل ریسرچ ڈیولپمنٹ کارپوریشن(این آر ڈی سی)ٹیکنالوجی کے لائسنس، منتقلی، صنعت کے ساتھ شراکت داری اور اسٹارٹ اپس کی معاونت کے لیے ایک اہم ادارہ ہے۔ این آر ڈی سی نے 5,100 سے زائد کاروباری افراد کو ٹیکنالوجی کے لائسنس فراہم کیے ہیں اور 2,100 سے زیادہ دانشورانہ املاک(آئی پی ایس) درخواستیں دائر کرنے میں معاونت کی ہے۔ اس کے علاوہ پیٹنٹ حاصل کرنے، فزیبلٹی اسٹڈیز، پروٹوٹائپ تیار کرنے، پائلٹ پلانٹس اور دیگر ممالک کو ٹیکنالوجی برآمد کرنے میں بھی معاونت فراہم کی ہے۔ کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (سی ایس آئی آر)کی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور علمی ذخیرے کے استعمال سے متعلق رہنما خطوط اس کی ماتحت تجربہ گاہوں میں ٹیکنالوجی کو تجارتی شکل دینے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ محکمہ بایوٹیکنالوجی(ڈی بی ٹی) کی جانب سے جاری کردہ آئی پی گائیڈ لائنز 2023 میں اس کے تحقیقی اداروں کے ذریعے تیار کی گئی ٹیکنالوجی کو تجارتی شکل دینے کے لیے ایک نظام فراہم کیا گیا ہے۔ دانشورانہ املاک کی مکمل ملکیت متعلقہ اداروں کے پاس ہوتی ہے اور ادارہ جاتی آئی پی کمیٹیوں کی ہدایات کے مطابق خصوصی اور غیر خصوصی، دونوں طریقوں سے ادارہ جاتی آئی پی نظام کے ذریعے ان کا لائسنس دیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ سی ایس آئی آر کے بزنس ڈیولپمنٹ گروپس(بی ڈی جیز)، انکیوبیشن مراکز اور ٹیکنیکل ریسرچ سینٹرز(ٹی آر سیز) جیسے ادارہ جاتی نظام تحقیقاتی اداروں، سرمایہ کاروں اور صنعت کے درمیان ٹیکنالوجی کو تجارتی شکل دینے کے لیے تعاون قائم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ بورڈ (ٹی ڈی بی)مقامی طور پر تیار کردہ ٹیکنالوجی کو تجارتی شکل دینے کے لیے ایکویٹی یا دیگر طریقوں سے مالی معاونت فراہم کرتا رہا ہے۔

محکمہ بایوٹیکنالوجی کے تحت بایوٹیکنالوجی انڈسٹریل ریسرچ اسسٹنس کونسل(بی آئی آر اے سی)نے نیشنل بایوفارما مشن کے تحت ٹیکنالوجی کی منتقلی کے سات دفاتر(ٹی ٹی اوز) پر مشتمل ملک گیر نیٹ ورک قائم کیا ہے، جس کا مقصد تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان روابط اور دانشورانہ املاک و ٹیکنالوجی کی منتقلی کے انتظام کو مضبوط بنانا ہے۔ بی آئی آر اے سی نے 25 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بایوٹیکنالوجی کے 94 انکیوبیشن اور پری انکیوبیشن مراکز بھی قائم کیے ہیں۔ این آر ڈی سی نے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور دانشورانہ املاک کی درخواستیں دائر کرنے میں معاونت کے لیے پونے، گوہاٹی اور بھوبنیشور میں رابطہ مراکز قائم کیے ہیں۔ حکومت کی معاونت سے چلنے والے انکیوبیشن مراکز رہنمائی، رعایتی نرخوں پر جانچ اور تیاری کی سہولیات، ایکویٹی سے منسلک مالی معاونت اور ٹیکنالوجی کی تیاری کی سطح (ٹی آر ایل) کے جائزے کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ این آر ڈی سی کا انکیوبیشن مرکز اسٹارٹ اپس کو جامع رہنمائی فراہم کرنے اور ان کی ترقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی نے محققین کو اداروں، تجربہ گاہوں اور صنعت سے جوڑنے کے لیے 22 ٹیکنالوجی انیبلنگ سینٹرز (ٹی ای سیز)قائم کیے ہیں۔ اس کے علاوہ چند آئی آئی ٹیز میں بھی انکیوبیشن مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

سی ایس آئی آرکی تجربہ گاہوں اور محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی اور محکمہ بایوٹیکنالوجی کے تحت خود مختار اداروں نے نئے مواد، توانائی، صحت، طبی علوم، زرعی ٹیکنالوجی وغیرہ کے شعبوں میں متعدد ٹیکنالوجیز تیار کی ہیں اور انہیں صنعتوں تک پہنچایا ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران سی ایس آئی آرکی ، ڈی بی ٹی اور ڈی ایس ٹی کی تجربہ گاہوں اور اداروں کے ذریعے تیار، لائسنس یافتہ، منتقل اور تجارتی طور پر استعمال کی گئی ٹیکنالوجیز کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

تنظیم

سال

لائسنس یافتہ/ تیار شدہ ٹیکنالوجیز کی تعداد

تجارت کاری شدہ /منتقل شدہ ٹیکنالوجیز کی تعداد

 

سی ایس آئی آر

2025

233

249

2024

181

144

2023

293

59

 

ڈی بی ٹی

2025

24

12

2024

71

6

2023

25

0

 

ڈی ایس ٹی

2025

63

19

2024

62

12

2023

60

5

گزشتہ تین برسوں کے دوران سی ایس آئی آر نے ٹیکنالوجی کے لائسنس کے ذریعے 148 اسٹارٹ اپس کے قیام میں معاونت کی، جس سے 142.67 لاکھ روپے کی رائلٹی/پریمیم آمدنی حاصل ہوئی، 246.60 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی اور تقریباً 7,200 افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔ اسی طرح ڈی بی ٹی کے خود مختار اداروں نے بایومینوفیکچرنگ، صحت عامہ، زرعی ٹیکنالوجی اور طبی آلات و تشخیص کے شعبوں میں 34 اسٹارٹ اپس کے قیام میں معاونت کی۔ این آر ڈی سی نے بھی ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ، توثیق اور تجارت کاری (ٹی ڈی وی سی) پروگرام کے تحت 13 اسٹارٹ اپس کی معاونت کی۔

گزشتہ تین برسوں کے دوران این آر ڈی سی کی جانب سے جاری کیے گئے لائسنس اور حاصل ہونے والی آمدنی کی تفصیلات ذیل میں دی گئی ہیں:

سال

2023-24

2024-25

2025-26

جاری کردہ لائسنس کی تعداد / تجارت کاری شدہ ٹیکنالوجیز کی تعداد

42

36

28

ٹیکنالوجیز کی لائسنسنگ  سےاپ فرنٹ چارجز (پریمیا)

104.71لاکھ روپے

 230.21 لاکھ روپے

123.85 لاکھ روپے

رائلٹی کی آمدنی

324.11 لاکھ روپے

81.60 لاکھ روپے

93.20 لاکھ روپے

حکومت ہند کے پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر کے دفتر نے غیر اسٹریٹجک شعبوں میں مرکزی طور پر مالی اعانت حاصل کرنے والی تحقیق و ترقی کی تنظیموں کی کارکردگی کا 2022 اور 2025 میں دو مرتبہ جائزہ لیا ہے۔ اس جائزے میں سرکاری مالی اعانت سے چلنے والی تحقیق و ترقی کی تنظیموں کے لیے دانشورانہ املاک کی تخلیق اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو اختراعی کارکردگی کے اشاریوں کے طور پر شامل کیا گیا۔

یہ معلومات سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر مملکت برائے وزیر اعظم کا دفتر، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن، جوہری توانائی اور خلاء، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دیں۔

*****

 (ش ح ۔اک۔م ذ)

U. No.3415


(ریلیز آئی ڈی: 2310071) وزیٹر کاؤنٹر : 3
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी